پوسٹ ٹروتھ پالیٹکس… جھوٹ کا طوفان!


مشہور فلسفی مائیکل فوکالٹ "سچائی کو مدِمقابل نظاموں Competing systems کے مابین ایک مقابلے کے طور پر دیکھتا ہے، وہ کہتا ہے کہ سچ کیا ہے؟ کا تعین وہی نظام کرے گا جو غالب ہو, وہ نہ جو ٹھیک ہوں۔” سچائی اور حقائق تک رسائی ہمیشہ سے مشکل رہا ہے جبکہ پرانے زمانے میں ناممکن حد تک مشکل تھا اور صرف حکمران طبقے اور چند با اثر اشخاص کو امتیاز حاصل تھا۔ اس کے برعکس اس میڈیائی دور میں سچ تک رسائی مشکل نہیں بلکہ آسان ہے۔
یہ ایک آفاقی سچائی ہے کہ دنیا میں وہی بات سچ مانا جاتا ہے جو طاقتور بولتا ہے۔ مغلوب معاشروں/نظاموں کا سچ اور حق نہ تسلیم کی جاتی نہ مانی جاتی ہے۔ غالب اقوام/قوتیں جدید دور کے جدید آلات اور ان کو استعمال کرنے کا ہنر اور فن رکھتی ہیں۔ وہ منظم اور مربوط طریقے سے مخصوص عادات، آراء، بیانیے اور جھوٹ کا شعوری اور ذہین ہیرا پھیری/پیوند کاری اس طرح کرتا ہے کہ عام لوگ آسانی سے اس کے جال میں پھنس جاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اپنی جھوٹ کو سچ منوانے کیلئے اپنے مخالف سے زیادہ با اثر اور طاقتور ہونا ضروری ہے۔
یہ پوسٹ ٹروتھ ہی ہے جس میں جھوٹ، فریب، فیک نیوز اور پروپیگنڈے کے طوفان میں حقائق بہہ کر گم ہو کر رہ گئے۔ Post-Truth کے اس دور میں ٹھوس شواہد اور معروضی حقائق پر بھروسہ کرنے کے بجائے لوگ اپنے احساسات، جذبات، تعصبات، نظریات، عقائد اور آراء کی طرف جھکے اور راغب ہوتے ہیں۔ انہیں سچ اور حق وہی لگتا ہے جو ان کے خواہش اور جذبات کی عکاسی کرتا ہوں، جو ان کے نظریات اور خیالات سے ہم آہنگ اور ان کے مفاد میں ہوں۔ سیاست دان اقتدار کے حصول اور حکومت میں رہنے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔ امیج بلڈنگ کیلئے سازشی تھیوریز بناتے ہیں، جھوٹے خواب دکھاتے ہیں، سیاسی مباحثوں میں اشتعال انگیز، غیر اخلاقی اور متنازعہ جملوں کا ٹیکنیکل استعمال کرتا ہیں جو سامنے والے کے جذبات اور مخصوص ردعمل کو بھڑکاتے ہیں۔
"پوسٹ ٹروتھ” کا لفظ سب سے پہلے ایک امریکی ڈرامہ نگار "اسٹیو ٹیسگ” نے 1992 میں ایک مضمون میں استعمال کیا تھا۔ آکسفورڈ والوں کے مطابق پوسٹ ٹروتھ ایک ایسی رائے/نقطہ نظر کا نام ہے جو ٹھوس حقائق کی بجائے جذبات اور ذاتی پسند و ناپسند کی بنیاد پر قائم ہوں، جس سے ٹھوس حقائق ہار جائے یا رائے عامہ کی تشکیل میں کم اثر انداز ہوتے ہوں۔ اسٹیو ٹیسنگ نے اس لفظ کا استعمال کچھ اور تناظر میں کیا تھا جبکہ آکسفورڈ نے 2016 میں نہ صرف اسے ورلڈ آف دہ ائیر قرار دیا بلکہ موجودہ تناظر میں اس کے مفہوم کی وضاحت کی۔
رالف کییز نے 2004ء میں "The Post-Truth Era: Dishonesty and Deception in Contemporary Life” کے نام سے ایک کتاب لکھی، وہ لکھتے ہیں کہ عصری زندگی میں بے ایمانی اور دھوکہ موثر ہتھیار اور زندگی کا جدید طریقہ بن گیا ہے۔ جہاں کبھی سچ اور جھوٹ کے درمیان ایک واضح لکیر ہوا کرتی تھی، اب ایسا نہیں ہے۔ پوسٹ ٹروتھ کے دور میں سچ اور جھوٹ کے علاؤہ مبہم بیانات کی ایک تیسری قسم ہے، جسے پرکشش سچ کہا جا سکتا ہے۔ اسے نیو ٹروتھ، سافٹ ٹروتھ اور مصنوعی سچ بھی کہا جاسکتا ہے۔ مزید لکھتے ہیں کہ امریکی معاشرہ (جبکہ آج کی تناظر میں دیکھا جائے تو ہر معاشرہ) اوپر سے نیچے تک دھوکے اور فریب کی لپیٹ میں آگیا ہے۔ عوامی گفتگو، میڈیا، کاروبار، ادب، اکیڈمیا اور سیاست سمیت زندگی بھر کے مشغولیات کی نوعیت پر اس کے اثرات گہرے ہیں۔ پوسٹ ٹروتھ کے دور میں دوسروں کو دھوکہ دینا ایک چیلنج، کھیل اور عادت بن چکا ہے۔
دنیا میں سب سے زیادہ جھوٹ طاقتور اور حکمران طبقے/قوموں نے بولا ہے۔ سید منور حسن رح نے دہائی پہلے کہا تھا کہ صدر جارج بش اس صدی کا سب سے بڑا جھوٹا تھا اور ان کی تہذیب سب سے جھوٹی تہذیب ہے۔ سنٹر فار پبلک انٹیگریٹی (Center for Public Integrity) کی 2008 کے ایک جائزہ رپورٹ کے مطابق "9/11 کے بعد کے دو سالوں میں صدر بش اور سات دیگر اعلیٰ امریکی حکام نے عراق سے لاحق خطرے کے بارے میں کل 935 جھوٹے بیانات دئیے۔”
سوال یہ ہے کہ اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا گیا اور پھر بار بار کیوں دہرایا گیا؟ دراصل یہ پوسٹ ٹروتھ پالیٹکس کا سٹریٹجی ہے کہ جھوٹ بولا کرو اور اسے بار بار دہرایا کرو۔ اس طرح وہ لوگوں کے ذہن میں جگہ بناتے ہیں اور ایسے ذہن پر نقش ہو جاتے ہے کہ پھر لوگ ان پر سچ کا یقین کرنے لگتا ہے۔ امریکہ نے میڈیا کا بھرپور استعمال کرکے دو سالوں میں جھوٹے بیانیے کے ذریعے عراق پر حملے کا جواز تیار کیا۔ امریکی عوام، دنیا اور حتیٰ کہ ایران بھی مان گئے اور 2003 میں عراق پر حملہ کرکے وہاں سب کچھ برباد کرکے رکھ دیا۔ عراق جنگ کے جواز کے لیے گھڑا گیا جھوٹا بیانہ اور ہر چیز بہت جلد صریح جھوٹ ثابت ہوئی۔ آخر کار سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اقرار کرنا پڑا کہ "عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار WMDs نہیں تھے۔”
جمہوری معاشروں میں طاقت کا سرچشمہ عوام مانا جاتا ہے۔ خصوصاً ایسی سماجوں میں سیاستدان عوامی سپورٹ کے حصول کے لیے ہر وہ کام کرتے ہیں جو ان کے اقتدار اور طاقت کے حصول کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اصول، اخلاقیات اور قدروں کو پامال کرتے ہیں۔ حقائق کو مسخ کرتے ہیں، لوگوں کا ذہنی اور نفسیاتی استحصال کرتے ہیں اور ایک خاص قسم کی آراء بناتے ہے۔ اس طرح لوگ اپنے لیڈر کی ہر بات پر یقین کرلیتے ہیں حتی کہ اگر وہ کہتا ہے کہ "اگر میں الیکشن نہیں جیت پایا، تو سمجھ لینا کہ اس میں بے ایمانی/دھاندلی ہوئی ہے۔” اس طرح جھوٹے بیانیے کی بدولت سیاستدان صورت حال کو اپنی مٹی میں کرکے اپنی خواہشات اور مفادات کی تکمیل کرتے ہیں۔
امریکہ اور یورپ کی شروع کی گئی ٹوٹل "وار آن ٹیرر” بالکل جھوٹ، پروپیگنڈے اور انتقام پر مبنی تھا۔ بریگزیٹ بھی پوسٹ ٹروتھ پالیٹکس کی ایک کڑی ہے۔ ٹرمپ کی امریکہ میک گریٹ اگین والی سلوگن بھی مابعد سچائی کی سیاست کا ایک حصہ ہے۔ مزید برآں، عمران خان کا اقتدار کے حصول کے لیے بیانیہ تیار کرنے سے لے کر جلسوں کی انعقاد اور انتظامات، ہیجان پیدا کرنے والی زبان، میڈیا اسٹریٹجی، واقعات اور حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اور اپنی فالوورز بڑھانے اور مطمئن رکھنے کے لیے اپنی شخصیت/پارٹی کی امیج بلڈنگ کرنا ان کی سیاست کا انداز اور مرکزی اوصاف اور پوسٹ ٹروتھ پالیٹکس کی بہترین عکاسی کرتا ہیں۔
سیاست ہوں یا عام زندگی، سچ اور جھوٹ کا ہمیشہ سے ٹاکرا رہا ہے۔ سیاست میں جھوٹ کا پلہ ہمیشہ بھاری رہا ہے۔ یہ بات صحیح نہیں کہ سیاسی فوائد کے حصول کے لئے جھوٹ کا سہارا لینا، جذبات کا استعمال اور جعلی معلومات کا پھیلاؤ جدید میڈیا کی وجہ سے ایک نیا معاملہ ہے۔ان مظاہر کی نئی پن اور جدت وہ آسانی ہے جو معلومات کو وسیع پیمانے پر پھیلاتی ہے۔ جھوٹ، پروپیگنڈا، الفاظ اور مختلف اعشاریوں کی ہیرا پھیری اتنا پرانا ہے جتنا سیاست۔ میڈیا بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تاہم، میڈیا اور ٹیکنالوجی معاشرے سے الگ نہیں ہیں۔ وہ معاشرے اور سیاست کی تشکیل کرتے ہیں اور معاشرے اور سیاست کی شکل میں ان کی تشکیل ہوتی ہے۔ ہم کہہ سکتے ہیں کہ سیاست اور معاشرے کی ایک خصوصیت جو ٹیکنالوجی کے ذریعہ بڑھ گئی ہے۔
Facebook Comments HS