نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی خوش آئند ٹویٹ
پاکستان کے نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے ایک ٹویٹ کے ذریعے احمدیہ جماعت سے تعلق رکھنے والے پاکستانی شہریوں کے خلاف اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ
Ahmadiyyas are citizens of Pakistan and are entitled to protection by the Govt۔ Open vandalism against their homes, graveyards and businesses must be stopped by the district administration۔ No one has the authority to perpetuate violence against any citizen with impunity۔
یہ ایک خوش آئند ٹویٹ ہے جس میں نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق نے احمدی پاکستانی شہریوں کے ساتھ حکومتی اداروں کے منفی رویوں کی نشاندہی کرتے ہوئے ان کے تحفظ کے آئینی حق کو تسلیم کیا ہے۔ دیر آید درست آید، دیکھنا یہ ہے کہ اس پر عمل درآمد کیسے اور کب ہوتا ہے؟ مناسب ہو گا اگر ٹویٹ سے آگے جاکر باقاعدہ نوٹیفیکشن تمام اداروں کو بھیجا جائے تاکہ جملہ امور پر موثر طریق سے عمل درآمد ممکن ہو سکے۔ (یاد رہے کہ نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق (این سی ایچ آر) پارلیمنٹ کے ایک ایکٹ کے تحت قائم ہوا تھا اور ایک خود مختار ادارہ ہے ) ۔ این سی ایچ آر کی ٹویٹ کے حوالے سے اداروں کو مزید یہ بھی بتانے کی ضرورت ہے کہ تشدد پسند گروہوں کے بہت جلد دباؤ میں آنے کی بجائے ریاست کی رٹ اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا بھی ان کی اولین ذمہ داری ہے جو بانی پاکستان نے ان کو سونپی ہے۔ اس حوالے سے بانی پاکستان کی وہ تاریخ ساز تقریر راہنمائی کے لئے موجود ہے جس میں قائد اعظم نے امن و قیام کی ذمہ داری کو ریاست کا پہلا فرض قرار دیا تھا۔ فرمایا کہ پہلی بات جو میں کہنا چاہوں گا وہ یہ ہے اور بلاشبہ آپ مجھ سے اتفاق کریں گے کہ ایک حکومت کا پہلا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ امن و امان برقرار رکھے تاکہ مملکت اپنے عوام کی جان و مال اور ان کے مذہبی عقائد کو مکمل تحفظ دے سکے (تقریر 11 اگست 1947۔ پہلی دستور ساز اسمبلی سے بطور قائد ایوان خطاب) ۔
ایک کروڑ کے لگ بھگ پاکستانی بیرون ممالک میں مقیم ہیں اور ان کو کہیں بھی مسلسل عدم تحفظ کے مسائل کا سامنا نہیں ہوا۔ تمام جمہوری ممالک کی حکومتیں اپنے ہاں مقیم سبھی شہریوں کو یکساں تحفظ فراہم کرتی ہیں اور آج کے دور کا یونیورسل جمہوری اصول اور قانون بھی یہی ہے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں ایسا نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کی جمہوری حکومتیں اور انسانی حقوق کے ادارے پاکستان کے اندر ایسی خبروں کو تشویش اور فکر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ یہ حقیقت بھی مسلمہ ہے کہ اس جماعت سے تعلق رکھنے والی متعدد عالمی شخصیات نے اپنی اہلیت و قابلیت کی بدولت ایسی شہرت حاصل کر رکھی ہے کہ آج تک کسی اور پاکستانی کو نہیں مل ہو سکی۔ پاکستان کے اندر اندر اگر تمام شہریوں کو یکساں تحفظ دیا جائے تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ خود پاکستان کو ہو گا۔ پاکستان کے ارباب اقتدار کو موجودہ ملکی سیاسی و معاشی حالات اور پڑوسی ممالک کی تیز رفتار ترقی کو دیکھتے ہوئے فکرمندی سے سوچنا ہو گا کہ پاکستان کے اندر یونہی کب تک ہوتا رہے گا؟ آج کا دور معاشی و اقتصادی برتری کا دور ہے۔ اس قسم کی جانبداری سے نہ ماضی میں کوئی مثبت نتیجہ نکلا اور نہ مستقبل میں کوئی فائدہ پہنچے گا۔ اندرونی استحکام کے لئے ریاست کی رٹ کو یقینی بنانا ہی ہو گا۔
نیشنل کمیشن کی ٹویٹ سے مزید یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ کمیشن نے بالآخر اس حقیقت کو تسلیم کر لیا ہے کہ حکومتی ضلعی ادارے احمدی شہریوں کو وہ تحفظ فراہم نہیں کر رہے جو ان کا آئینی و قانونی حق ہے۔ یہ سمجھنا غلط نہ ہو گا کہ یہ ٹویٹ آئین کے آرٹیکل 20 کی طرف توجہ دلاتی ہے جس میں تمام پاکستانی شہریوں کی مذہبی آزادی دینے کا لکھا ہوا ہے۔ ہمارے ہاں قانون پر عمل درآمد کی حالت تو ویسے ہی انتہائی ناگفتہ بہ ہو چکی ہے اگر کوئی اقلیتی فرد خاص طور پر احمدی جماعت سے تعلق رکھنے والا کوئی شہری کسی جھوٹے مذہبی مقدمے کی زد میں آ جائے تو اس کی قانونی کارروائی اور تحفظ دونوں ہی خطرے میں گھر جاتے ہیں۔
اسی طرح کی ایک نئی لہر چند ہفتے قبل عید الا ضحی کے موقع پر دیکھنے میں آئی جب عید الاضحی کے موقع پر پاکستان بھر میں احمدیوں کو مخالفین کے دباؤ پر نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ مقدمات درج کیے گئے اور گرفتاریاں کی گئیں اور ملکی و عالمی ذرائع ابلاغ اور پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق (HRCP) نے ان کارروائیوں پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو دور حاضر کے تقاضوں اور عدل کے منافی قرار دیا ہے کیونکہ پولیس نے چار دیواری کے تقدس کو روندتے ہوئے غیر قانونی کارروائیاں کی ہیں جو بلاشبہ ایک سوالیہ نشان ہیں۔ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق مختلف اضلاع میں 13 احمدیوں کے خلاف 6 مقدمات درج کیے گئے اور 7 احمدیوں کو گرفتار کیا گیا۔ 10 قربانی کے جانوروں کو پولیس زبردستی ساتھ لے گئی۔ 5 احمدی گھروں کی پولیس نے غیر قانونی طریقے سے تلاشی لی اور گھروں سے گوشت اٹھا کر لے گئی۔ 11 مقامات پر احمدیوں کو ہراساں کیا اور جبر کے ساتھ 28 شورٹی بانڈز احمدیوں سے لئے گئے۔ انسانی حقوق کی رپورٹس اور دیگر خبروں سے پتہ چلتا ہے کہ انہی شقوں کی آڑ میں ایسی ایسی حرکتیں کی جاتی ہیں جو توہین عدالت کے زمرے میں آتی ہیں لیکن ان کا مناسب نوٹس نہیں لیا جاتا۔ مثال کے طور پر عدالتوں میں زیر سماعت مقدمات کے مواقع پر کمرہ عدالت کے باہر کارکنوں کو اکٹھا کر کے نعرے بازی کر کے جج پر دباؤ ڈالا جاتا ہے تاکہ مقدمہ کو طول ملے اور بغیر عدالتی کارروائی کے جیلوں میں رہیں۔ اسی طرح پولیس اہلکاروں کو بھی دباؤ میں رکھا جاتا ہے۔ اب ایسی کارروائیوں کو کون سا مذہب، کون سا قانون جائز قرار دے گا؟ لیکن یہ سلسلہ دہائیوں سے جاری ہے۔ اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی ٹویٹ میں کیا گیا ہے۔


