عمران خان اور موجودہ صورت حال
عمران خان اور اس کی سیاست پر کوئی رائے دینے سے قبل ہم اپنی اصولی پوزیشن واضح کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔ کیونکہ ان دنوں یہ بہت حساس معاملہ ہے۔ تحریر کے دوران لفظوں کا ذرا سا جھول بڑا ابہام پیدا کر سکتا ہے۔ ہماری اصولی پوزیشن یہ ہے کہ ہم نے اپنی ساری سیاسی زندگی میں اسٹیبلشمنٹ خواہ وہ ملٹری ہو یا سول، کی سویلین زندگی میں سیاسی، معاشی، معاشرتی مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ہے۔ وہ مداخلت خواہ آج ہو یا کل۔ ہم نے بائیں بازو کے سیاسی کارکن ہونے کے ناتے سویلین بورژوا سیاسی اشرافیہ کے سوشو اکنامک پروگرام کی بھی ہمیشہ نفی کی ہے۔ خواہ عمران خان ہوں، PDM یا دیگر۔ یہ تمام کے تمام فری مارکیٹ کے نمائندے ہیں۔
اب آتے ہیں پاکستان کی موجودہ سیاسی صورتحال کی طرف۔ پاکستان کی 76 سالہ زندگی میں ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جب سول، ملٹری، عدالتی اسٹیبلشمنٹ نے سویلین سیاسی، معاشی، معاشرتی زندگی میں مداخلت نہ کی ہو۔ آج کا موضوع اس تفصیل کا متقاضی نہیں ہے۔ متعدد بار اس پہلو پر لکھ اور بول چکے ہیں۔ کبھی پیپلز پارٹی اور کبھی نون لیگ اسٹیبلشمنٹ کی پسندیدہ رہی ہیں۔ جونہی میثاق جمہوریت سائن ہوا، اسٹیبلشمنٹ نے سنجیدگی سے عمران پراجیکٹ پر کام شروع کر دیا۔ عمران خان بھی خوشی خوشی ان کی گود میں بیٹھ گئے۔ پھر جو کچھ ہوا اسے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ عمران خان کے تمام سلوگن سکھایا پڑھایا آموختہ تھے۔ جو کہ سب کو پڑھایا جاتا ہے۔ وہ کرپشن سے لے کر ہر طرح کے۔ ہم یہ کبھی نہیں کہتے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ کرپٹ نہیں رہی یا نہیں ہے۔ بالکل کرپشن میں ان کے ہاتھ بھی لتھڑے ہوئے ہیں۔ لیکن ان سے کہیں زیادہ سول ملٹری، عدالتی بیوروکریسی خود اس گند میں ڈوبی ہوئی ہے۔ لیکن وہ مقدس گائے ہے۔ ان پر سوال نہیں اٹھایا جا سکتا۔
یہاں ایک اور سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ عمران پراجیکٹ اتنی جلدی فیل کیوں ہو گیا۔ اب کچھ باتیں ہم اپنے ذاتی مشاہدات کی بنا پر کریں گے۔ ان کے غلط ہونے کا بھی اتنا ہی امکان ہے جتنا صحیح ہونے کا۔ Eric Hobsbawm کہتا ہے۔ ہم عصر تاریخ پر لکھنا مشکل ترین کام ہے۔ ذرا پیچھے چلتے ہیں۔ جب نواز شریف کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس وقت تک ہم سیاسی طور پر بالغ ہو چکے تھے۔ نواز شریف اوسط درجے کی تعلیم و تربیت کا مالک تھا۔ بے نظیر بھٹو اس کے تضحیک آمیز لطیفے سنایا کرتی تھیں۔ یہاں ہمارا ذاتی خیال ذرا مختلف ہے۔ ممکن ہے جب اسے لانچ کیا گیا۔ تو ایسی ہی صورت ہو۔ لیکن ہمارے نقطہ نظر کے مطابق اس نے بہت تیزی سے سیاسی حرکیات کا علم حاصل کیا۔ 1983 سے 1993 تک وہ اسٹیبلشمنٹ کے سہارے پر رہا۔ 1993 سے وہ سیاسی آزادی کی طرف چل پڑا۔ اس کا یہ بھی مطلب نہیں کہ اس کے بعد نواز شریف نے اسٹیبلشمنٹ سے سمجھوتے نہیں کیے۔ لیکن کچھ اپنی بھی منواتا رہا۔ ہم اس کی تفصیل میں جائے بغیر کہنا یہ چاہتے ہیں کہ اوسط درجے کی ذہانت رکھنے والے نواز شریف نے جس کے بے نظیر لطیفے سنانا کرتی تھیں۔ بہت تیزی سے سیکھا۔ دیکھیں وہ ضیا الحق سے شروع ہوا۔ 1991 میں جب سوویت یونین ٹوٹا۔ سرد جنگ کا خاتمہ ہوا۔ اس نے فوری طور پر اپنے آپ کو ملٹری اسٹیبلشمنٹ سے دور کرنا شروع کر دیا۔ اسے مستقبل کا انٹرنیشنل منظر سمجھ آ گیا۔ حتیٰ کہ اعجاز الحق کو بھی اپنی سٹیج سے غائب کر دیا۔ بے شک آپ اسے نمائشی اقدام ہی سمجھیں۔ وہ بھارت سے تجارتی، سفارتی تعلقات کے موقف پر اس وقت بھی قائم رہا۔ جب فوج انڈیا کا نام سننا بھی گوارا نہ کرتی تھی۔ تین دفعہ اپنی حکومت گنوا لی۔ وہ ان باتوں کے دور رس سیاسی اثرات دیکھتا تھا۔ پاکستان میں دو تجارتی فریق ہیں۔ ملٹری اور سول۔ ملٹری کاروباری مصوبوں کو سول کے مقابلے میں بہت سے ٹیکس اور دیگر تجارتی رعایات حاصل ہیں۔ بدیں وجہ سول کاروباری طبقہ ملٹری کا مقابلہ نہیں کر پا رہا۔ نواز شریف جہاں انڈیا سے تجارتی تعلقات میں سول کاروباری طبقے کے تجارتی مفادات کی نگہبانی کر کے خاص طور پر پنجاب کے کاروباری طبقہ کی سیاسی حمایت حاصل کرتا تھا۔ وہاں ہم خود بھی ہمسایوں بشمول انڈیا سے تجارتی، سفارتی تعلقات کی بہتری میں جنگی بجٹ میں کمی، فرقہ واریت، بنیاد پرستی میں کمی اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی بالادستی چیلنج ہوتی دیکھتے ہیں۔ یہی وہ تضاد ہے جو نواز شریف اور ملٹری کے درمیان جاری رہا۔ اب صورت حال بدلتی دکھائی دیتی ہے۔ خود ملٹری Geo politics سے Geo Economics کی طرف شفٹ لیتی ہوئی نظر آتی ہے۔ ہم اس پر بعد میں الگ کچھ لکھیں گے۔ پہلے بھی لکھ چکے ہیں۔ لیکن اس وقت اپنی تحریر کے یک طرفہ جھکاؤ سے احتیاط کر رہے ہیں۔
بات شروع ہوئی تھی عمران خان اور موجودہ سیاسی صورت حال سے۔ ہمارے خیال میں عمران دور کے معاشی انہدام، جس کی تفصیل کی یہاں نہ ضرورت ہے، نہ گنجائش۔ دوسرا عمران خان نے خود کچھ سیکھنے کی بجائے اپنی ساری سیاست اسٹیبلشمنٹ کے سپرد کردی۔ سب کچھ فیض حمید پر چھوڑ دیا۔ سارے انڈے ایک ہی ٹوکری میں ڈال دیے۔ ہمیں لگتا ہے اس میں سیکھنے کی صلاحیت بھی نہیں ہے۔ اسے نہیں پتہ کہ اس کی پارٹی میں لڑائی کی کتنی صلاحیت ہے۔ کب کتنی بات کرنی ہے۔ اس ملک میں اسٹیبلشمنٹ کی کیا طاقت ہے۔ سوائے ایک بات کے کہ سیاسی قوتوں کے قریب نہیں جانا۔ یہ اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔ ہمارے خیال میں اقتدار میں آنے کے بعد اگر وہ سیاسی قوتوں کے ساتھ وہ نہ کرتا جو کیا، تو شاید اسے آج خود یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ عدم اعتماد کے بعد قومی اسمبلی سے باہر آ جانا۔ صوبائی اسمبلیاں توڑ دینا۔ موجودہ حکومت کے لیے نعمت ثابت ہوا۔ خارجہ پالیسی میں وہ فاش غلطیاں کیں کہ خدا کی پناہ۔ دونوں عالمی بلاکس کا اعتماد کھو دیا۔ یہ موضوع خود سے ایک علیحدہ کالم کے طور پر بات کا متقاضی ہے۔ ہاں نواز شریف نے بھی سعودیوں کے کہنے پر یمن میں فوجیں بھیجنے سے انکار کر دیا تھا۔ مشرق وسطی میں فریق بننے کے انکار پر نہ صرف پاکستان کے وزیراعظم کی تقریر روک دی۔ بلکہ ٹرمپ کی موجودگی میں ٹیبل نمبر 1 پر راحیل شریف کو تو جگہ ملی۔ لیکن پاکستان کے وزیراعظم کی کرسی تک نہ لگائی گئی۔ ان اقدامات کی اس نے سزا بھی بھگتی۔ لیکن یہ سب فیصلے پاکستان کے دور رس مفاد میں تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ اس ساری گفتگو میں کچھ سوالات تشنہ رہ گئے ہیں۔ جن کا ہم نے ذکر بھی کیا ہے۔ امید ہے جلد مزید بات کریں گے۔
کھیلنے والے اگر کھیل سے واقف ہوتے
اتنا آساں تو کبھی کھیل نہ ہارا جاتا
عابد حسین عابد


