جنوبی ایشیا کی متخب نظمیں اور یاسمین حمید



آپ کسی کتاب کی سرسری ورق گردانی کریں اور اچانک کوئی ایسی نظم سامنے آ جائے جو من و عن آپ کے گرد و پیش کے احوال سے میل کھاتی ہو تو یقیناً آپ چونک جائیں گے۔ ذرا نظم ملاحظہ کیجیے :

میں اس وقت کیا کر رہا تھا
جب سب کہہ رہے تھے ’زندہ باد‘ ؟
میں بھی کہہ رہا تھا ’زندہ باد‘
اور خوفزدہ تھا،
دوسروں کی طرح
میں اس وقت کیا کر رہا تھا
جب سب کہہ رہے تھے
’عزیز میرا دشمن ہے؟‘
میں نے بھی کہا تھا
’عزیز میرا دشمن ہے‘
میں اس وقت کیا کر رہا تھا
جب سب کہہ رہے تھے
’اپنا منہ مت کھولو‘
میں نے بھی کہا تھا
’اپنا منہ مت کھلولو‘
وہی کہو
’جو باقی سب کہتے ہیں‘
’زندہ باد‘ کے نعرے رک گئے ہیں
عزیز قتل ہو گیا ہے
منہ بند کر دیے گئے ہیں
سراسیمہ و حیران، ہر کوئی پوچھتا ہے
’یہ کیسے ہوا؟‘
جیسے باقی سب پوچھتے ہیں
ویسے ہی میں پوچھتا ہوں
’یہ کیسے ہوا؟‘

’طریق کار‘ کے عنوان سے ہندی زبان میں تحریر کی گئی یہ ہندوستان سے شری کانت ورما کی ایسی مختصر نظم تھی، جس میں ہجوم کی نفسیات اور حالات کے جبر کو بڑی مہارت سے سمو دیا گیا ہے۔

محترمہ یاسمین حمید صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ”جنوبی ایشیاء کی منتخب نظمیں“ ایسی کتاب ہے جو یہ سوچنے پر مجبور کر دیتی ہے کہ بسا اوقات انسان جن حالات و مسائل کا شکار ہوتا ہے وہ علاقوں، خطوں اور سرحدوں کی حدود سے ماورا ہوتے ہیں۔ پھر ہم جنوبی ایشیا کے باشندے تو کئی طرح کے احساسات، جذبات اور معاملات کے حوالے سے بالکل ایک دوسرے جیسے ہیں۔ بالکل ایسے جیسے فہمیدہ ریاض صاحبہ نے ہندوستان میں اپنی ایک نظم میں کہا تھا: ”تم بالکل ہم جیسے نکلے۔“

محترمہ یاسمین حمید صاحبہ ہماری بہت سلجھی ہوئی، باذوق، ذہین ادیبہ اور باصلاحیت حساس شاعرہ ہیں۔ اپنی متعدد تخلیقی و تنقیدی صلاحیتوں کے بل پر انھوں نے پاکستان کے کئی اہم اداروں میں اپنی خدمات سر انجام دی ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے جنوبی ایشیا کے دو بڑی زبانوں، دراویدی اور ہند آریائی کے سلسلوں سے سے وجود میں آنے والی منتخب سولہ زبانوں مثلاً ہندی، اڑیا، بنگالی، آسامی، پنجابی، تامل، تیلگو، ڈوگری، سنہالی، کنٹر، گجراتی، مراٹھی، ملیالم، منی، نیپالی اور انگریزی کے انسٹھ منتخب شعراء کی ایک سو چار منتخب نظموں کے انگریزی سے اردو تراجم شامل کیے ہیں۔

درحقیقت جنوبی ایشیا کی دھرتی کا باہمی اشتراک وہ بنیادی وصف ہے، جس کی بدولت ان تمام نظموں کا تہذیبی مزاج، احساسات و جذبات، ان خطوں کے علاقائی و مذہبی تفاوت اور سرحدی حد بندیوں کے باوجود ایک دوسرے سے مماثل معلوم ہوتے ہیں۔ بیسویں صدی اور اس کے بعد کے انسان کی ترجمانی کرتی ان نظموں کا یہ ترجمہ رواں، سہل اور دل پذیر ہے۔

کئی نظموں کا موضوعاتی حوالے سے تنوع حیران کن اور فکری حوالے سے زرخیزی ہمیں چونکائے بنا نہیں رہ سکتی۔ ذرا بنگلہ زبان سے نونیتا دیب سین کی نظم ’جنگل کہانی‘ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

ماں، جنگل میں میرا وقت پورا ہوا
اب جنگل میرے اندر رہتا ہے

بقاء و فنا کے حقیقی بھید و اسرار سے پر یہ نظمیں چاہے کسی بھی خطے کے شاعر نے کہی ہوں، ان کی جذباتی حسیت ایک سی ہے۔ بالکل ایسے جیسے دنیا کے کسی بھی علاقے میں رہنے والا شخص موت اور فنا کو ایک ہی طرز سے دیکھتا ہے۔ اس حوالے سے آسامی زبان میں تحریر کی گئی ہرن بھٹا چاریہ کی نظم بے مثال کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

موت سے کون جھگڑتا ہے
موت کی لطیف موجودگی میں
زندگی کا گیت پوری سچائی سے سنائی دیتا ہے

جب کہ تامل زبان میں لکھی گئی سندر راما کی نظم ’زندگی‘ کا یہ حصہ دیکھیے، جس میں بقاء و فنا کی کیفیت کا ادراک کیسے انوکھے باشعور طریقے سے کیا گیا ہے۔

تم کئی بار مرے
اور زندہ رہے
میں مسلسل زندہ رہتے ہوئے
فنا ہو گیا

درد و کرب میں ڈوبی یہ نظمیں انسان کے وجود اور اس کے ثبات کا بھرپور اعتراف تو ہیں ہی، مگر ساتھ ہی ساتھ انسانی زندگی میں رشتوں کی ڈوری پھسلنے کے سبب فنا ہوتے بچپن، لڑکپن اور جوانی کا نوحہ بھی ہیں۔ حساس رشتوں کا حقیقی کرب یہاں جابجا دکھائی دیتا ہے۔ گجراتی زبان میں تحریر کی گئی غلام محمد شیخ کی نظم ’باپ، خواب میں‘ کا ذرا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

وہ بچپن جسے اپنے تئیں
میں نے اپنی ہتھیلی میں تھام رکھا تھا
ابھی ابھی کہیں، بستر سے نیچے گر گیا ہے

یہ نظمیں جن کا خمیر ہندوستان کی مقامی تہذیبی و اساطیری فضا سے اٹھایا گیا ہے، کئی جگہوں پر قدیم اساطیر کو انوکھے فکری انداز میں پیش کرتی ہیں۔ جیسے کنٹر زبان میں ایچ ایس شیو پرکاش کی نظم ’امباپالی‘ 500 قبل از مسیح کی ریاست ویشالی کی اس ڈیرے دار طوائف کے گرد گھومتی ہے جس نے گوتم سے نروان حاصل کیا اور بعد میں اپنا سب دھن دان کر دیا۔ ذرا یہ اشعار دیکھیے :

مہاتما بودھ، فقیروں کے بادشاہ کو
بہترین یوگی کو
تمہارے سامنے
اپنے خالی پن کا کشکول پھیلانا چاہیے
قیدیوں کے لیے نہیں
قید خانوں کے لیے
غلاموں کے لیے نہیں
غلاموں کے مالکوں کے لیے
ویشالی کے لیے نہیں
تمہارے لیے
بلکہ تمہارے ایثار کے لیے

اپنی بنت و اساس میں تاریخ و تہذیب کا تسلسل لیے یہ نظمیں مقامیت کی حدود سے ماورائیت اور آفاقیت کا ایسا رنگ لیے ہوئے ہیں، جہاں دنیا بھر کے لوگوں کی دعائیں بھی ایک جیسی معلوم ہوتی ہیں۔ انگریزی زبان میں تحریر کی گئی کیکی این دارووالا کی نظم ’ممبئی کی دعائیں‘ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

اے میرے خالق!
مجھے قند میں گھلی نفرتوں
کے درمیان رکھ
بجائے زہریلی محبتوں کے
جو کبھی نہیں مرتیں
۔
ہمارے جاگتے خواب ہمارے پاس رہنے دے مالک
چاہے وہ تیرے بارے میں نہ ہوں
بلکہ ان چیزوں کے خواب ہوں
جن سے تو نے ہمیں محروم رکھا ہے

مصنوعی ذہانت کے ہوش ربا جلووں اور ایجادات کی چکاچوند میں گھری مصنوعیت کی شکار دنیا، جو ریاکاری، حیلہ سازی اور مقابلہ بازی کے سبب نفرت، دکھ، درد، تکالیف اور آزمائشوں میں گھر چکی ہے، اس صورتحال پر تیلگو زبان میں تحریر کی گئی اجنتا کی نظم ’کمپیوٹر کی تصویریں‘ احساس کا حقیقی تاثر لیے ہوئے ہے۔

تم آگ سے گفتگو کر رہے ہو!
یہ دنیا سوانگوں سے بھری ہوئی ہے
نقاب پوش، ایک چہرے پر دوسرا پہنے
الفاظ، تصورات سب نقلی
اصلی، بناوٹ میں پوشیدہ!

تاہم محبت کا وہ حقیقی جذبہ اور احساس جو اس کائنات کی تکمیل کرتا ہے اور انسانیت پر اعتماد کرنا سکھاتا ہے، جو خطوں اور علاقوں کی تحدید سے ماورا ہے، یہ نظمیں اسی فطری احساس کو بار ہا تھامتی نظر آتی ہیں۔ ملیالم زبان میں تحریر کی گئی سگاتھما کماری کی نظم بارش کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

ہم محض دو ذرے ہیں
نظارہ کرتے ہوئے
ہمارے دلوں کی مسرت میں کلیاں مسکاتی ہیں
اور ہماری روحوں میں مور کے پنکھ

کیا عجب ہے کہ اس کائنات میں ازل سے خیر اور شر کے باہمی تصادم میں، خیر کا حقیقی ادراک رکھنے والے عاجز و حقیر انسان سے بڑی غیبی صفات کی حامل کوئی اور ہستی ہمیں اس سیارے سے پرے کہیں دکھائی نہیں دیتی۔ نیپالی زبان میں تحریر کیے گئے ایسے اچھوتے خیالات پر مبنی مادھو گھمرے کی نظم ’الوہی انسان کی طرح‘ کا یہ حصہ ملاحظہ کیجیے :

ستارے کی آنکھ سے دنیا کا نظارہ
میری بینائی کو شکست دیتا ہے
کلی پر کرن کا رنگ میرے قلم کو ہیچ کرتا ہے
میں ناپید سے جنت تخلیق کرنے کی کوشش کرتا ہوں
اور پھر بھی مجھے انسان سے بڑھ کر غیبی صفات کی حامل
کوئی شے نظر نہیں آتی!

جنوبی ایشیاء کی جغرافیائی و علاقائی سرحدی حد بندیوں کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے، انسانیت کو ایک مسلک کے دھارے میں جوڑتی یہ دلگداز نظمیں یاسمین حمید صاحب کے عمدہ ذوق، حسن انتخاب اور شستہ و با سلیقہ ترجمہ نگاری کی صفات کا پتہ دیتی ہیں۔

اردو زبان کو ایسے غائر فکری، با معنی اور عمدہ تہذیبی تراجم کا تحفہ دینے پر محترمہ یاسمین حمید صاحبہ اور ناشرین کتاب بک کارنر جہلم کے محترم گگن شاہد صاحب اور امر شاہد صاحب کو اس اہم کتاب کو ایسے دیدہ زیب سرورق اور عمدہ طباعت کے ساتھ شائع کرنے پر دلی مبارکباد!

Facebook Comments HS