پھولوں کی آرزو میں
کسی بھی سیاسی جماعت سے تعلق کی بنیاد اس کا جذبۂ حب الوطنی ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں معاملہ مگر یکسر مختلف کہ ہم نے ایسے بت پال رکھے ہیں جن پر ہم اپنی عقیدتوں اور محبتوں کے پھول نچھاور کرتے رہتے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کو تیار ہی نہیں ہوتے کہ ہمارے رہنماء سے کوئی خطا بھی سرزد ہو سکتی ہے حالانکہ سوائے انبیاء کے معصوم عن الخطاء کوئی بھی نہیں ہوتا۔ یہاں ہر کسی کا اپنا اپنا ممدوح، اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ۔ تحریک انصاف کے چیئرمین کے ساتھ جذبات کی یہ رو باقی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے فزوں تر کہ وہ اپنے ممدوح کے بارے میں حرف تنقید برداشت ہی نہیں کرتے۔
لاڈلے کے سیاسی سفر پر اگر نظر ڈالی جائے تو ابتدا سے انتہا تک غلطیوں کے انبار نظر آئیں گے جن سے ہر دور میں صرف نظر کیا جاتا رہا اور آج بھی صورت حال وہی۔ 2014 ء کے دھرنے میں زورآور اس کی پشت پر تھے اس لیے سول نافرمانی کے باوجود کوئی اس کا بال بھی بیکا نہ کر سکا۔ 2018 ء کے عام انتخابات میں انہی زور آوروں نے لاڈلے کو قوم پر مسلط کر کے کھل کھیلنے کا موقع فراہم کیا۔ جب وہ اقتدار میں آیا تو پاکستان دنیا کی 24 ویں اکانومی تھا اور جب گیا تو 47 ویں۔
اس نے اپنے دور میں پاکستان کے 70 سالوں میں لیے گئے قرضے کا 75 فیصد حاصل کیا اور لگائی ایک اینٹ بھی نہیں۔ جب زور آوروں کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو وہ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار آئین کے عین مطابق نیوٹرل ہو گئے۔ جوں ہی زور آوروں نے اسے گود سے اتارا تو اعلیٰ عدلیہ نے آگے بڑھ کر گود لے لیا۔ جب اس کے پاؤں کے نیچے سے زمین کھسکنے لگی تو اس نے کہا ”اگر مجھے نکالا گیا تو میں اور زیادہ خطرے ناک ہو جاؤں گا“ ۔ ”خطرے ناک“ تو 2014 ء میں بھی تھا اور 9 مئی 2023 ء میں بھی۔ وجہ صرف اور صرف ایک کہ 2014 ء میں اسٹیبلشمنٹ اس کی پشت پر تھی اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد عدلیہ نے اس کے حق میں ایسے فیصلے کیے جن پر تاریخ عدل حیراں۔
یہ عدلیہ کی شہ ہی تو ہے کہ لاڈلا اپنے خلاف دائر کیسز کو جوتے کی نوک پر نہیں رکھتا۔ نیب بلاتی ہے تو وہ وی لاگ کرنے بیٹھ جاتا ہے اور ایف آئی اے بلاتی ہے تو وہ خطاب میں مصروف ہو جاتا ہے ۔ اگر بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری ہوتے ہیں تو وہ ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ میں پہنچ جاتا ہے۔ چشم فلک نے یہ عجب نظارہ کب دیکھا تھا کہ دھڑادھڑ اس کی کبھی حفاظتی ضمانتیں اور کبھی راہداری ضمانتیں منظور ہوتی چلی جاتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ اس کی عدم موجودگی میں بھی ضمانتیں منظور ہوتی ہیں اور ایک ہی وقت میں 15 کیسز کی اکٹھی ضمانت بھی۔
طرفہ تماشا یہ کہ اس کی تو ان کیسز میں بھی ضمانت منظور ہوجاتی ہے جو ابھی دائر بھی نہیں ہوئے۔ توشہ خانہ کیس کی 28 سماعتیں ہو چکیں لیکن وہ لاڈلا ہی کیا جو عدالت کے سامنے پیش ہو کر صفائی پیش کرے۔ توشہ خانہ کیس کے ایڈیشنل سیشن جج ہمایوں دلاور نے وارننگ دی کہ اگر لاڈلا پیش نہ ہوا تو اس کے بلا ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کر دیے جائیں گے لیکن پھر اگلے ہی دن اس کی حاضری سے استثنا کی درخواست بھی منظور کر لی۔ توشہ خانہ اور القادر ٹرسٹ ایسے ”اوپن اینڈ شٹ“ کیسز ہیں جن سے لاڈلا کسی صورت بچ نہیں سکتا اور ”ماں کے جیسی“ عدالت اگر چاہے بھی تو ان کیسز کو ختم نہیں کر سکتی۔ توشہ خانہ کیس میں الیکشن کمیشن اسے نا اہل قرار دے چکا ہے اور بجائے اس کے کہ لاڈلا اس کیس کا سامنا کرتا وہ کبھی ہوئی کورٹ اور کبھی سپریم کورٹ کی پناہ میں چلا جاتا ہے کیونکہ اسے یقین کہ سپریم کورٹ کی پناہ میں آنے کے بعد کوئی اس کی طرف میلی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتا۔
سانحہ 9 مئی تباہیوں اور بربادیوں کی ایسی المناک داستان ہے جس کی نظیر پاکستان کی 75 سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ وہی دن ہے جب لاڈلے کو گرفتار کیا گیا اور سپریم کورٹ کی اس سے والہانہ عشق کی داستان رقم ہوئی۔ اسے انتہائی احترام اور پورے پروٹوکول کے ساتھ سپریم کورٹ کے ججز گیٹ سے لایا گیا۔ کسی ملزم کو ججز گیٹ سے لانے کی یہ پہلی نظیر ہے۔ سپریم کورٹ آمد کے بعد چیف جسٹس محترم عمرعطا بندیال نے ”گڈ ٹو سی یو“ کہتے ہوئے اس کا استقبال کیا۔
پھر چیف صاحب نے فرمایا کہ وہ واپس پولیس لائنز گیسٹ ہاؤس میں جائے، وہاں گپ شپ کے لیے آٹھ دس بندے بلائے اور اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ جا کر اپنی ضمانت کروا لے۔ چیف صاحب نے لاڈلے کو سانحہ 9 مئی کی مذمت کرنے کے لیے بھی کہا لیکن لاڈلا مذمت کی بجائے طرح دے گیا۔ سپریم کورٹ سے واپسی پر لاڈلے کو ”وش یو گڈ لک“ کہتے ہوئے چیف جسٹس صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اگلے دن اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچنے تک لاڈلا سپریم کورٹ کی تحویل میں ہے اور اسلام آباد پولیس لاڈلے کی سکیورٹی کی ذمہ دار۔
ایڈووکیٹ شاہ خاور نے کہا ”میں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں کسی ملزم کو ایسا ریلیف ملتے ہوئے نہیں دیکھا کہ ملزم کو رہا بھی کیا جائے اور ساتھ ہی ساتھ حفاظتی تحویل میں بھی رکھا جائے“ ۔ یہ بھی غالباً پاکستان کی تاریخ عدل کی پہلی مثال ہے کہ ادھر احتساب عدالت ملزم کا ریمانڈ منظور کرتی ہے اور ادھر اعلیٰ ترین عدلیہ اپنی محبتوں کے پھول نچھاور کرتی ہے۔ ایسے میں ہماری عدلیہ 130 ویں درجے کی مستحق بھی نظر نہیں آتی۔
اب ذرا اسرائیلی محبت کا اقوام متحدہ میں لاڈلے کے لیے اظہار محبت ملاحظہ ہو۔ اسرائیلی نمائندے نے لاڈلے کے حق میں جو جذباتی خطاب کیا وہ پوری قوم کے لیے لمحۂ فکریہ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ لاڈلے کو پاکستان پر مسلط کرنا عالمی لابی کے پلان کا حصہ تھا۔ معروف سکالر ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید تو بہت پہلے اس کی طرف اشارہ کر چکے تھے لیکن کوئی بھی اہل فکر و نظر اس پر یقین کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اب وفاقی وزیر ماحولیات شیری رحمٰن اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا االلہ تاڑنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے برملا کہہ دیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے اسرائیل اور بھارت سے تانے بانے جڑے ہیں۔
وفاقی وزیر توانائی خرم دستگیر نے پریس کانفرنس میں کہا ”اسرائیل کی تاریخ فلسطینیوں کے خون سے لکھی گئی ہے اس لیے اسے انسانیت کا درس نہیں دینا چاہیے“ ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس معاملے کی اعلیٰ سطحی انکوائری ہونی چاہیے کیونکہ اگر یہ سچ ہے تو پھر واقعی لاڈلا تباہیوں کی داستانیں رقم کرنے آیا تھا۔ ایسی صورت میں یہ طے کرنا ہو گا کہ میر جعفر و صادق کون ہے؟
مجھے کل بھی یقین تھا اور آج بھی ہے کہ لاڈلے کے پیروکار اس کے دکھائے گئے سہانے سپنوں کی وجہ سے اس کے گرد پروانہ وار اکٹھے ہوئے اور اب سب سے زیادہ مایوس بھی وہی ہوں گے کیونکہ ان کے سارے خواب چکناچور ہو گئے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کہہ رہے ہوں کہ
ہم راہرو سمجھ کے جسے پوجتے رہے
اس نے ہماری راہ میں کانٹے بچھائے ہیں
کانٹوں سے دل لگائیں نہ اب ہم تو کیا کریں
پھولوں کی آرزو میں بڑے زخم کھائے ہیں


