قرض کی مے مل ہی گئی آخر!
ایک سفید پوش گھرانے میں دن بھر کے کام نمٹانے کے بعد سب لاؤنج میں اکٹھے ہوتے ہیں۔ اہل خانہ رات کا کھانا ٹی۔ وی لاؤنج میں رکھی کھانے کی میز پر اکٹھے کھاتے اور مختلف موضوعات پر اظہار خیال کرتے ہیں۔ کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس وقت ہم سب سے زیادہ کس چیز سے خوف زدہ ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں بحیثیت قوم قرضے پہ قرضہ ملا جا رہا ہے مگر کیا ہم اس کی ادائیگی کر پائیں گے۔ اس وقت ہمیں سعودی عرب سے 2 ارب ڈالر موصول ہو گئے ہیں۔
لیکن سوچنے کی بات ہے کہ آخر کب تک ہم قرض کی مے پیتے رہیں گے۔ جب تک ہم فاقوں میں مستیاں کرتے رہیں گے؟ بیٹا بولا: ”آخر کو ہمارا بھکاری پنا کب ختم ہو گا؟ آئی۔ ایم۔ ایف پروگرام میں ہم پہلے ہی 22 مرتبہ جا چکے ہیں۔ اس ملک کی سب سے بڑی مشکل معیشت اور امن و امان کا انقلاب ہے۔ ابا بولے :“ میرے نزدیک ہر ملک کا کوئی نہ کوئی دشمن ملک ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ہم خود ہی اپنے دشمن ہیں۔ ہم اپنے ملک کے بے پناہ وسائل کو بروئے کار لانے سے کیوں ہچکچاتے ہیں۔
ہمارے وزیر اعظم جب بھی کسی اور ملک میں جاتے ہیں تو ان لوگوں کے تاثرات ہوتے ہیں کہ لو جی آ گئے پھر سے قرض مانگنے۔ ”ماں کہنے لگی:“ ہمارے بچپن میں پاکستان ایک زرعی ملک کی حیثیت سے پہچانا جاتا تھا۔ اخباروں میں خبریں شائع ہوتی تھیں کہ پاکستان گندم میں خود کفیل ہو گیا۔ ہم فخر محسوس کرتے تھے۔ مگر اب زرخیز زمینوں کو اینٹیں اور سیمنٹ کھا گیا۔ ”بیٹی نے کہا۔ :“ آخر ہمیں ان قرضوں سے چھوٹ کیوں نہیں ملتی۔ ہم اپنے سود اور اصل قرض کو وقت پر ادا کرنے کی الجھن کو سلجھا کیوں نہیں لیتے۔
شاید ہم اس کی طلب ہی نہیں رکھتے۔ جب طلب ہوتی ہے تو چاہے ناک سے لکیریں ہی کیوں نہ رگڑنی پڑیں مل ہی جاتی ہے آخر ”۔ ابا نے ٹھنڈی آہ بھری اور پھر کہا: جب ہم نے اپنا گھر بینک میں گروی رکھوایا تھا۔ قرض لیا تھا تو اگر میں ادا کرنے سے قاصر رہتا تو بینک ہمارا یہ گھر ہتھیا لیتا۔ اسی طرح ہمارا پاکستان بھی ہمارا گھر ہے۔ جو کام ہمارے لیے ٹھیک نہیں ہمارے ملک کے لیے کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے۔ “ ابا! ہمارا ہمسایہ ملک بھی تو ہمارے ساتھ ہی آزاد ہوا تھا۔
وہ ہم سے آگے نکل گیا۔ مگر ہماری سیاسی پارٹیاں ہمیشہ ذاتی مفادات کی بنا پر منقسم ہی رہیں۔ ہم نے نہ تو بیروزگاری کا خاتمہ کیا اور نہ ہی مہنگائی کا ۔ سب لوگ ملک چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں بہت سے نوجوان تو جا چکے ہیں۔ ”بیٹا اپنے خیالات کو لفظوں میں ڈھال رہا تھا۔“ ملک تو محنت کی بنا پر خوش حال ہوتے ہیں۔ لیپ ٹاپ تقسیم ہونے سے کیا تبدیلی آئے گی۔ نوجوانوں کے لیے نوکریوں کا بندوبست ہونا چاہیے محنت اور میرٹ کی تو کمی نہیں ہم لوگوں میں۔
”ابا کہنے لگے بات ہوتے ہوتے کہاں سے کہاں پہنچ گئی ہے۔ بینکوں کے قرضے لینے اور دینے کے لیے ہمیں بین الاقوامی مالیات کے اسرار و رموز پڑھنے اور سمجھنے ہوں گے۔ سوچنا ہو گا کہ مغربی ممالک کے بینک آخر کو غریب ملکوں کو قرضے کیوں دیتے ہیں۔ جب تک غریب ملک میں قرضے دینا بدستور ایک بہترین عمل سمجھا جاتا رہے گا ہم کاروباری گردش میں ہی پھنسے رہیں گے۔ دوسرے ممالک کی فراخدلانہ اور امداد پر تشکر ہی بجا لاتے رہیں گے۔
کوئی کسی کو بغیر مفاد کے قرضہ کیوں دے گا؟ کیا ہم قرض حسنہ لیتے ہیں؟ نہیں ایسا بھی نہیں ہے۔ کیا حاصل کی گئی قرض کی مے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر مضبوط ہوں گے۔ جب آئی۔ ایم۔ ایف سے ہمارا معاہد نہیں ہو پا رہا تھا تو ہم فقیرانہ نگاہوں سے دوسرے دوست ملکوں کی طرف دیکھ رہے تھے۔ دنیا ہمیں مانگنے والے اور ذلیل حد تک بیکار قوم کی حیثیت سے دیکھتی ہے۔“ ۔ ”ہم اپنے ملک کے وسائل کو کب استعمال میں لائیں گے؟
ہم کئی بلین ڈالروں کے مقروض ہیں۔ آئی۔ ایم۔ ایف نے ہمیں خطیر قرضوں کے چنگل میں پھنسایا ہوا ہے۔“ ابا بولے : ”دیکھا میں کہتا تھا کہ آئی۔ ایم۔ ایف ہمیں نا دہندہ قرار نہیں دے سکتا کیونکہ بین الاقوامی بینکاری کے اسرار و رموز یہی کہتے ہیں۔ وہ اس لیے کہ اگر انہوں نے ہمیں قرض نہ دیا تو پھر ہم روس یا چین کی طرف پلٹ جائیں گے دیگر غریب ممالک بھی پھر کبھی آئی۔ ایم۔ ایف کا رخ نہیں کریں گے اور ان کی سخاوت کی شہرت تباہ و برباد ہو جائے گی۔
“ کیا آئی۔ ایم۔ ایف کے قرضے سے پاکستان کو معیشت کو تقویت ملے گی۔ قرضہ سرمایہ کاروں اور دیگر مالیاتی اداروں کے اعتماد کا سبب بن جائے گا۔ کیا اب ہمارا ملک بہتری کی طرف چل پڑے گا اور درجہ بندی کے لحاظ سے اوپری سطح پر آ جائے گا ”۔ بیٹی نے سوال کیا۔ ابا بیزاری سے بولے :“ کیا احمقانہ سوال ہے ابھی تو عشق کے بہت سے اور امتحان باقی ہیں۔ اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ہمیں اس کے لیے چھوٹی، درمیانی اور بڑی سطح پر فیکٹریاں لگانی ہوں گی۔
زرعی زمینوں سے لینڈ مافیا کو ملک بدر کرنا ہو گا تاکہ دہقان پھل پھول سکیں ”۔“ آخر ہم کب خود انحصاری کی طرف دوڑ لگائیں گے ”۔ بیٹا کہنے لگا:“ اب تو الیکشن کا بھی ہلکا ہلکا دھواں سا اٹھنے لگا ہے مگر سیاستدان بھی ایسے امیدواروں پر پیسہ لگائیں گے جن سے مطلوبہ نتائج حاصل کر سکیں ”۔ لیکن جب تک صنعت کاری کا شعبہ متحرک نہیں ہو گا نہ تو قوت خرید میں اضافہ ہو گا اور نہ ہی اشیا کی کھپت میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان کی 66 % نوجوانوں کی آبادی کو روز گار چاہیے۔
صرف قومی سیمیناروں سے یہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ نوجوانوں کے ہاتھوں میں موبائلوں کی جگہ مختلف شعبوں کے کاموں کی کھرپیاں ہونی چاہئیں تاکہ وہ اپنی بنجر زمین کی گڑائی کر کے اسے سر سبز و شاداب بنا سکیں۔ انسانیت کے مطابق چرند، پرند اور کیڑوں کو بھی گزند نہ پہنچایا جائے ہم تو انسان ہیں۔ کیا ہماری اگلی نسلیں بھی قرض ہی کی مے پیتی رہیں گی۔ نہیں! ہمیں صنعتی انقلاب لانا ہو گا۔


