سرکاری ہسپتال کے مسائل متعلق
لنگر تقسیم کرنی والی ٹرالی آئی تو خواتین و حضرات تیز گام بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ٹرالی ندارد ایک دم سے حصار ٹوٹا تقریباً افراد کے ہاتھ میں ان کو ان کا رزق نصیب تھما دیا گیا تھا۔ پھر سے تمام افراد اپنی اپنی مقبوضہ جگہوں پر جم گئے گویا اس وقت کی بہت بڑی تسخیر کے ساتھ ان کے چہروں پر بشاشت کے اثرات نمودار تھے۔ احاطہ ہسپتال میں جس کو جو جگہ ملی سبزہ، سیمنٹ سے پختہ فرش یا پھر اینٹوں اور پتھروں سے پیوست فرش سبھی نے جیسے ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
اس ہجوم میں اکثریت کی ترجیحات میں شامل تھا کہ جہاں برقی تختہ لگا ہو یا پنکھا وہ جگہ ان کے قبضے میں آ جائے تاکہ حرارت سے بھی بچا جا سکے اور موبائل فون کو فعال رکھنے کے لیے حرارت بھی میسر آ سکے۔ راقم الحروف اس سارے منظر کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ چہروں کو پڑھنے کی بھر پور سعی میں تھا۔ پریشانی، الجھن، قنوطیت، بے بسی، تھکاوٹ جیسے اثرات نمایاں تھے جنہیں پڑھنے کے لیے کسی خاص ہنر کی نہیں بلکہ تھوڑے سے احساس کی ضرورت تھی۔
بے بسی مجبوری اور معاشی پستی کے عکاس یہ چہرے لواحقین اور ان میں سے اکثریت والدین کا کردار نبھانے آئے ہوتے ہیں بہت سارے قارئین کے لیے مذکور بالا بیان جملہ معترضہ کا درجہ اختیار کر جائے گا کہ والدین کا کردار نہیں ذمہ داری اور فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولادوں کی مناسب دیکھ بھال میں ان کے درد کا درماں بھی ہوں۔ بہرحال اس جھمیلے سے فرار پکڑتے اور آمدم برسر مطلب راقم جس پختہ بینچ پر بیٹھا طبقاتی نظام پر پختگی سے سر کھپا رہا تھا وہیں بالکل پاؤں کی سیدھ میں چار سے پانچ فٹ کے فاصلے پر ایک خاتون دو مرد اور دو بچے چٹائی بچھائے کھانے پر ہاتھ صاف کر رہے تھے۔
مذکورہ بالا کے چہروں پر خوشی جھلک رہی تھی شاید انہیں ہسپتال سے خلاصی کی نوید مل چکی تھی۔ مفت علاج کرانے اور من و سلوی سے مستفید ہونے والا یہ خاندان پلک جھپکتے ہی دو عدد موبائل فون سے محروم ہو گئے۔ ہاں! البتہ چارجر کی لٹکتی تاریں ان کا منہ چڑا رہی تھیں یوں دس یوم کی طوالت پر محیط ان کا قیام جس کے شب و روز انہوں مفت علاج، قیام و طعام کے ساتھ گزارے اور ہسپتال سے اخراج سے قبل دو موبائل جن کی مالیت بالترتیب چالیس اور پچاس ہزار تھی گنوا کر انہوں نے ہسپتال میں ملنے والی سہولیات کی قیمت چکا دی۔
احوال مزید جانیے ایک شیر خوار بچی کے لیے اس کے سادہ لوح لواحقین نے خون کا بندوبست کیا جس کی مقدار پانچ سو ایم ایل تھی جراحت سے ایک روز قبل فریج وہ خون پی گئی۔ ہسپتال میں ایک اور فریج بھی تھی جو دودھ پی جاتی تھی نصف لٹر فی گھنٹے کے حساب سے دودھ پینے کی صلاحیت رکھنے والی یہ فریج باقی ماندہ دودھ کو ٹھنڈک پہنچا کر مفت سہولت پہنچانے کا بھر پور انداز میں فریضہ سرانجام دے رہی تھی۔ یہ فریج اشیا خورد و نوش کھانے کی بھی صلاحیت رکھتی ہے۔
ہاں اگر آپ کا نصیب بھی ان میں شامل ہے تو آپ کا حق کبھی تلف نہیں ہو گا اور آپ کا حصہ آپ کو ضرور ملے گا اس کے لیے آپ کو بے اعتنائی اور تاخیر سے بچنا لازم ہے۔ اگر آپ نے صدقہ اتارنا ہو تو حقدار کے لیے آپ کو سرگرداں نہیں ہونا پڑتا بلکہ آپ کے آس پاس انتہائی معتبرانہ اور موثر انداز میں صدقہ خیرات کے طلبگار آپ کو قائل کر لیں گے ان میں اکثریت ہسپتال کے ہرکارے ہی ہوتے ہیں۔ یہ سہولیات بھی آپ کو مفت علاج کے ساتھ ساتھ یہاں میسر ہوں گی تو پھر اور کیا چاہیے۔
آپ پر اعتماد ہو کر جائیں کہ آپ بھیک، صدقہ، خیرات یا احسان لے کر سرکاری ہسپتال میں مفت علاج کرانے نہیں جا رہے۔ بلکہ ہسپتال سے باہر جون جون سی اشیا آپ کو باآسانی سستے داموں میسر آئیں گی وہ ہسپتال میں دوگنا قیمت پر ملیں گی۔ یہ وہ ٹیکے ہیں جو آپ کے مریض کو نہیں لواحقین کو لگتے ہیں جنہیں آپ ”مفتا ٹیکہ“ کے نام سے منسوب کر سکتے ہیں۔ باقی مریضوں کو جو ٹیکے لگتے ہیں ان کی الگ قیمت ہے جو فی الوقت بیان نہیں کی جا سکتی۔


