وسطی یورپ میں آسٹریا اور پرشیا (متحدہ جرمنی کا پیشرو ) کا عروج

30 سال جرمنی جنگ ( 1618 تا 1648 ) کے بعد ہونے والے ویسٹ فلایا امن معاہدہ ( 1648 ) کی اگلی دہائیوں میں یورپ کی سیاسی صورت حال کافی تبدیل ہو گئی تھی
اسپین، ہرتگال۔ نیدر لینڈ، پولینڈ، وینس، سویڈن، مختلف باہمی لڑائیوں کے باعث طاقتور حیثیت میں نہیں رہے تھے مغربی جانب انگلینڈ، اور فرانس کے علاوہ مشرقی یورپ میں روس مضبوط طاقت تھی۔ فرانس اور روس کے درمیانی خطہ ( وسطی یورپ) میں 1 ) مقدس رومن سلطنت، 2 ) عثمانیہ سلطنت اور 3 ) پولینڈ کی بادشاہت کے زیر حکمرانی تھا۔ مگر بدلتے حالات میں ان تینوں حکمرانوں کی طاقت اور اثر زوال پذیر ہوگیا تھا۔
پولینڈ کا بادشاہ وہاں کے امراء پر انحصار ہونے کے باعث بہت کم اختیار رکھتا تھا۔
جبکہ ”سلطنت عثمانیہ“ جمود کا شکار ہو گیا تھا۔ اور اپنے مشرقی یورپ کے مقبوضات میں ”ہنگری“ اور ”ٹرانسیلونیا“ اس کے تسلط سے نکل گئے تھے
” مقدس رومن سلطنت“ کا اقتدار بھی عملاً بیشتر نام کی حد تک رہ گیا تھا۔ ویسٹ فلایا معاہدہ کے تحت سلطنت میں شامل 300 سے زیادہ جرمن ریاستوں کو کافی خودمختاری مل گئی تھی جرمنی شہزادوں کو یکجا کر سکنی والی۔ مقدس رومن سلطنت کی حیثیت برائے نام رہ گئی۔ تاہم سلطنت کے بقیہ علاقوں پر آسٹریا کا تسلط مضبوط تھا
آسٹریا کے ”ہیسبرگ شاہی“ خاندان نے اگرچہ 30 سالہ جنگ کے بعد ویسٹ فلایا امن معاہدہ کے تحت بعض علاقے کھو دیے تھے تاہم اس کے باوجود وہ مقدس رومن سلطنت کی ایک اہم ریاست تھی۔ اس کا شاہی خاندان ”ہیسبرگ“ یورپ میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا تھا، 1400 سے مقدس رومن سلطنت کے بیشتر شہنشاہ ہیسبرگ خاندان کے ہوتے تھے۔ صدی کے اگلی دہائیوں میں آسٹریا نے بیشتر ”ہنگری“ کے علاوہ ”بوہمیا“ کی بادشاہت پر موثر کنٹرول حاصل کر لیا تھا۔
اپنے ماتحت تینوں علاقوں (آسٹریا، ہنگری اور بوہمیا) کے حکمران اشرافیہ کو مختلف طریقوں سے کیتھولک بنا دیا۔ آسٹریا کی علاقائی تسلط کی راہ میں بڑی رکاوٹ ”عثمانی ترک“ تھے جنہوں نے 1683 میں ”ویانا“ کا ایک بار پھر محاصرہ کیا۔ تاہم آسٹریا نے مختلف اتحادیوں / طبقات کی مدد سے ترکوں کو نہ صرف ناکام کرایا بلکہ اس سے پورا ”ہنگری“ اور ”ٹرانسیلونیا“ کے علاوہ ”کروشیا“ کے کئی حصے چھین لئے۔
1699 میں ”کارلوز“ ( Karlowitz) معاہدے کے تحت ”ترک“ ان علاقوں پر آسٹریا کا حق حکومت تسلیم کر گئے۔ یوں 18 ویں صدی کی ابتدا سے انگلینڈ، ، فرانس اور روس کی طرح ”ہیسبرگ شاہی“ آسٹریا اور اس کی فاتح فوج یورپ میں پاور پالٹیکس کے بڑے اکھاڑے کی ایک بڑی طاقت بنا
اسپین جو ”ہیسبرگ شاہی“ خاندان کے ایک دوسری شاخ کے تحت تھا۔ 1700 میں اس کے بادشاہ کی موت کے بعد وہاں 1702 سے 1714 تک جانشینی کا مسئلہ ایک بڑی یورپی جنگ کا باعث ہوا۔ جس میں آسٹریا، برطانیہ اور نیدر لینڈ کی متحد افواج نے فرانس کو شکست دی۔ آسٹریا اگرچہ اسپین کا تخت تو حاصل نہ کر سکا مگر اس کو مغربی یورپ میں کالونی ( موجودہ بلجیئم) اور اٹلی میں کئی علاقے بشمول ”میلان“ مل گئے اور یورپی سیاست میں اہم حیثیت حاصل کر لی
اس جنگ میں ”برطانیہ“ اور ’نیدر لینڈ ”نے فرانس کے ( عزائم کو لگام لگا دی۔ جس سے برطانیہ کا بحیثیت عالمی طاقت ابھرنے کا آغاز ہوا۔ )
اسی دور میں مغربی یورپ کے انگلینڈ اور وسطی یورپ کے آسٹریا کو شمالی یورپ میں اپنی اتھارٹی کو مستحکم کرنے کی کاوشوں میں ایک نئی ابھرتی طاقت ”پرشیا“ کا سامنا کرنا پڑا۔
پرشیا کا ظہور۔ @
پس منظر #۔ شمالی جرمنی میں واقع ”برینڈن برگ“ مارچ (سرحدی علاقہ) مقدس رومن سلطنت کے ابتدائی ریاستوں یا راجداہنیوں میں سے ایک تھا۔ جو 1156 سے ”برینڈن برگ مارگریویٹ“ کی حیثیت سے معرض وجود آیا۔ مارچیز (سرحدی صوبوں ) کا نگران اور دفاع کرنے والے فوجی کمانڈرز ”مارگریو“ (Margrave (کہلاتے تھے اور اسی مناسبت سے سرحدی ریاستوں کی حکومت کو ”مارگریویٹ“ کہا جاتا تھا
1356 میں شہنشاہ ”چارلس چہارم“ نے برینڈن برگ کے مارگریو کو سلطنت کے شہنشاہ کے انتحاب میں حصہ لینے کا مستقل حق دے کر ”الیکٹر“ بنا دیا 1415 سے ”برینڈن برگ“ کی حکمرانی ”ہوہن زوران خاندان“ (Hohenzollerbs) کو دی گئی۔ یہ شاہی خاندان عرصے سے شمالی جرمنی کے علاقے کا دعویدار رہا تھا۔ ”ہوہن زوران“ حکمرانوں نے 1577 سے اپنا علاقہ بڑھانے شروع کیے۔ اور اگلی صدی کی دوسری دہائی میں 1614 کو رائن لینڈ میں ”کلویس کی ڈچی (ڈیوک ڈم ) اور 1618 میں“ پرشیا ”کی ڈچی (بحیرہ بالٹک کے جنوب مشرقی ساحل پر مقدس رومن سلطنت سے باہر“ پولینڈ ”میں واقع جرمن خطہ) کے علاوہ چند دوسرے علاقوں پرکچھ وراثت کے نام پر اور کچھ جارحیت کے تحت کنٹرول حاصل کر لیا۔
اس کے حکمرانوں میں سب سے زیادہ“ جارح فریڈریک ولیم ”( 1640 تا 1688 ) تھا ’جو“ گریٹ الیکٹر ”کے نام سے پکارا جاتا تھا) ۔ اس نے مضبوط فوج کی تشکیل سے“ برینڈن برگ پرشیا ”کو شمالی جرمنی ریاستوں میں طاقتور ریاست بنا دیا اور اہنے دارالحکومت“ برلن ”کو قلعہ بند کیا۔ اس نے مختلف موقعوں پر فرانس، سویڈن، نیدرلینڈ اور پولینڈ سے اتحاد کر کے اپنی فوجی خدمات کے عوض رقم یا کچھ زمینیں حاصل کرتا رہا۔ یوں“ پرشیا ”کو وسیع اور مستحکم ریاست بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
30 سالہ جرمنی جنگ کے بعد 1648 کے ویسٹ فلایا امن معاہدہ کے تحت“ برینڈن برگ ”کی ابھرتی پروٹسٹنٹ ریاست نے“ پومرانیا ”“ ہولبریسٹ ”،“ کامین ”اور“ میندن ”جیسے کئی اہم علاقے حاصل کر لیے۔ 1688 میں“ فریڈریک ولیم کے بعد اس کا بیٹا فریڈریک سوم ( 1688 تا 1613 ) کے نام سے حکمران بنا۔ ”پرشیا“ میں حاصل کردہ علاقے مقدس رومن سلطنت کے احاطے سے باہر تھے یوں 1701 میں اس نے ”پرشیا“ کی بادشاہ کی حیثیت سے اپنی تاج پوشی کر کے ”فریڈریک اول“ کا خطاب اختیار کر ”پرشیا“ کی الگ بادشاہت قائم کردی۔ برینڈن برگ اس بادشاہت کا اہم اور مرکزی حصہ رہا۔ تاہم اس کے ساتھ منفرد فارمولے کے تحت یہ مقدس رومن شہنشاہ کا بھی وفادار ٹھہرایا گیا۔ اور یوں الیکٹر کا خطاب بھی برقرار رکھا۔ اور اس کے بعد (ہوہن زوران ”شاہی خاندان کا تمام علاقہ“ برینڈن برگ ”سمیت“ پرشیا ”کے نام سے پکارے جانے لگا۔
”فریڈریک اول ( کے بعد اس کے بیٹے“ فریڈریک ولیم اول ”۔ ( 1713 تا 1740 ) نے ساری توجہ اپنی فوجی طاقت بڑھانے پر مرکوز رکھی۔ فوجی افسروں کو صرف جنکرز ( جاگیردار طبقے ) سے لیا جاتا تھا“ پرشیا ”کی اسی عسکریت کے باعث یہ قول بن گیا کہ“ پرشیا فوج رکھنی والی ریاست نہیں بلکہ ایسی فوج ہے جو ایک ریاست رکھتی ہے ”
18 ویں صدی میں ”پرشیا“ اتنی اہم طاقت بن گیا تھا کہ آسٹریا کی تخت نشینی کی جنگ ( 1740 تا 1748 ) میں آسٹریا کو ہزیمتوں سے دو چار کر کے اس کو ”سلیشیا“ پر دعوی سے دستبردار کرا کر ”پرشیا“ میں شامل کیا۔ اسی طرح یورپ کی سات سالہ مشہور جنگ ( 1756 تا 1763 ) کا ابتدائی محرک بنا۔ اور اسی جنگ کے دوران بھی آسٹریا کی قیمت پر اپنے علاقوں کو توسیع دی۔
1815 کے ”کانگریس آف ویانا“ میں مقدس رومن سلطنت (جو 1806 میں نیپولین بونا پارٹ نے تحلیل کیا تھا) کے متبادل کے طور پر وسطی یورپ کی 39 خودمختار جرمن ریاستوں پر مشتمل کنفیڈریشن تشکیل دی گئی تھی۔ جس کو اگرچہ آسٹریا کے ماتحت رکھا گیا۔ مگر ”پرشیا“ کو یہ بالادستی منظور نہ تھی۔ یوں کنفیڈریشن کے ان دونوں طاقتور ریاستوں کے درمیان کشمکش ہوتی رہی۔ 1866 میں ”پرشیا“ کا سات ہفتوں کی جنگ میں آسٹریا سلطنت کو شکست دینے سے کنفیڈریشن تحلیل ہو گئی اور اگلے چند سالوں کے دوران ”پرشیا“ کی کاوشوں اور قیادت کے تحت 1871 میں جرمن ریاستوں کی یکجائی عمل میں آ کر متحدہ جرمنی کی مضبوط سلطنت قائم ہو گئی۔ اور اگلی دہائیوں میں جرمنی صنعتی اور فوجی لحاظ سے براعظم یورپ کا سب سے طاقتور ملک بن گیا تھا۔ جس سے خطرے کے پیش نظر یورپ کی دوسری طاقتیں فرانس، برطانیہ آستریا اور روس وغیرہ مختلف اتحاد اور معاہدے کرتے رہے۔ 20 ویں صدی میں برپا ہونی والی دو عظیم جنگوں میں جرمنی صف اول کا فریق رہا۔

