بیانیوں کی جنگ میں ہارتا ہوا سچ


کوئی وقت تھا امریکہ نے بیانیہ بنایا کہ صدام حسین عراق میں کیمیکل ہتھیار بنا رہا ہے جس سے کہ پورے اقوام۔ عالم کے امن اور سلامتی کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ پھر ہم نے دیکھا شروع شروع میں ماہرین کی پوری ٹیمیں ہوتی جو عراق جاتی انسپیکشن کرتیں اور پھر بڑے بڑے افلاطون تبصرے اور تجزیے کرتے آخر بیانیہ جیت گیا سچ ہار گیا۔ آج تک کوئی ایک کیمیکل ہتھیار نظر آیا نہ کسی نے پوچھنے کی زحمت کی، بس نظر آ رہا ہے تو کھنڈر بنا عراق اور لاکھوں عراقیوں کی بے نام و نشان قبریں۔ اسی طرح کے بیانیے شام کہ لیے بنے، لیبیا کے لیے بنے افغانستان کہ لیے بنے اپنے پیچھے کئی لاشیں، تباہی اور بربادی چھوڑ گئے لیکن سچ؟

آج کل ہمارے دور میں ایک بیانیہ بہت ہی شاندار طریقے سے بیچا جا رہا ہے جسے ”ہائپر نیشنل ازم“ کہتے ہیں۔ یہ دراصل ایک قوم میں بے جا خوش فہمیوں اور خود کو بے جا برتری کہ احساس میں مبتلا کر کہ ایک متعصبانہ روش کو فروغ دینے کا بیانیہ ہے ترکی میں اردگان، امریکہ میں ٹرمپ اور انڈیا میں مودی صاحب یہ بیانیہ بہت بہترین انداز میں اپنے لوگوں کو فروخت کر چکے ہیں۔ اس بیانیے نے اوپر بیان کیے گئے ملکوں کی سماجی سیاسی اور معاشی اقدار کو تباہ و برباد کر دیا لیکن اس کے باوجود اس بیانیے کہ شکار کسی اور کی بات سننے کو تیار ہیں نہ ہی اپنی ہٹ دھرمی سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کو تیار ہیں

ہمارے ہاں عمران خان نیازی صاحب نے بھی یہی بیانیہ فروخت کیا۔ ملک کا دیوالیہ نکل گیا لیکن نیازی صاحب چین، سعودی یو این او جا کر ان کو لیکچرر دیا کرتے تھے۔ بیانیے کی اس جنگ میں ہمارے ہاں بھی بہت زیادہ نقصان سچ کوہی ہوا۔ کسی کو یاد نہیں کہ ایک سچ یہ بھی ہے کہ سعودی اور یو ای ای کہ حکمران ہمارے دوست ہوا کرتے تھے لیکن ہم نے ملائیشیا جا کر ان کے خلاف ایک محاذ بنانے کی کوشش کی اور اپنے دیرینہ مددگاروں کو ہمیشہ کہ لیے ناراض کر دیا لیکن بیانیوں کی چکا چوند میں سچ کو کون دیکھنا گوارا کرتا ہے

اس بیانیے کے پیچھے ایک سچ یہ بھی مارا گیا کہ چین کو ہم نے سی پیک کے معاملے پر ناراض کر دیا۔ اور بیانیے کے شکار لوگ کبھی پوچھنے کی ہمت نہ کر پائیں گے کہ چین کو ناراض کرنے کہ پیچھے کیا تک تھی اور اس قومی نقصان کا ازالہ کون کرے گا۔

یہ بھی ہم بھول گئے کہ جو بائیڈن کا ہمارے نیازی صاحب کو کال کرنا نہ کرنا ایک خالص سفارت معاملہ تھا لیکن ہم نے اس کو عوامی فورمز پر طنز کہ طور پر امریکہ کی جیسے چڑ بنا دی اور اس طرح بائیڈن انتظامیہ کو ناراض کر دیا۔ اس بیانیے کی جنگ میں ایک سچ یہ بھی شہید ہوا کہ امریکہ کو ہم نے بغیر کسی یقین دہانیوں کہ افغانستان سے انخلا کا راستہ دے دیا جس سے ہم شدید مسائل کا شکار ہوئے اور آج تک ہیں

عمران نیازی کہ فروخت کیے گئے ہائپر نیشنل ازم کی بدولت سیاسی سماجی اقتصادی طور پر پاکستان تنہا رہ گیا طویل مدتی معاشی اصلاحات تو ہماری ترجیحات کبھی نہیں رہیں لیکن جہاں جہاں سے امداد مل جایا کرتی تھی انہوں نے آگے کا راستہ دکھایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ بین الاقوامی تنہائی سے نکلنے کہ لیے ہمارے شبر زیدی جیسے ارسطوؤں کہ پاس ایک آئی ایم ایف ہی واحد حل کہ طور پر موجود تھا اس حقیقت کہ باوجود بھی کہ آئی ایم ایف کہ پروگراموں سے دنیا میں ایک بھی معیشت ایسی نہیں جس نے ترقی کی ہو۔

نیازی کا بیانیہ جیت گیا اس کے پیرو کار کسی کو کچھ ماننے کو تیار نہیں اگر نیازی نہیں تو ملک اور ملکی ادارے کچھ بھی نہیں ہائپر نیشنل ازم کے اس بیانیے نے سماج کو تقسیم در تقسیم کی آخری نہج تک پہنچا دیا بیانیہ پھر جیت کیا لیکن سچ؟

Facebook Comments HS