اعتبار توڑنے کی سزا


ہر انسان کے اندر ایک نو گو ایریا ہوتا ہے۔ جہاں اس کے اس کی روح کے گھاؤ، پچھتاوے اور غم بے آب و گیاہ کٹے پھٹتے پڑے ہوتے ہیں۔ ہر آدمی اپنے لا شعور کی اس وادی میں قدم رکھنے سے کتراتا ہے اور وہاں جانے کی کسی کو اجازت نہیں دیتا۔ ہمارے دکھ، اور ہر طرح کے ذہنی امراض کی زیادہ تر وجوہات کا سراغ لا شعور کی کھوج میں مل سکتا ہے لیکن یہ تھراپسٹ کے لیے بھی اتنا ہی تکلیف دہ ہوتا ہے، جتنا کہ مریض کے لیے۔ میں جب بھی اپنے مریضوں سے ہسٹری لیتا ہوں، وہ اخیر چند سوالات پر آب دیدہ ہو جاتے ہیں، جو یقیناً میرے قلم کی رو بھی متلاطم کر دیتی ہے۔ زندہ اجسام جن کی نبض ڈھونڈتے ان کے دلوں کے افسردہ نغمے بھی کانوں میں پڑ جاتے ہیں۔ پردے کے اس پار دیکھنے کا کس کو یارا ہے۔

بعض دفعہ ہلکی سی کوتاہی ڈاکٹر کے لیے کسی روگ سے کم نہیں ہوتی، جن کا کوئی گواہ بھی نہیں ہوتا۔ مہذب دنیا میں تو ان کے لیے بھی سپورٹ گروپس ہوتے ہیں۔ میں آپ کو چند مثالیں دینا چا ہوں گا، اس نے بتایا گھڑی جب بھی سوا دس بجاتی ہے، دل کی دھڑکنیں متغیر ہو جاتی ہیں، یا یہ کے اولاد نہیں، خاوند نے گھر سے نکال دیا، بے یار و مدد گار وارڈ میں آئے پڑے ہیں۔ میں نے ایک مریضہ دیکھی جس کی بہو اپنے شیر خوار بچے کے ساتھ ساس کے کینسر کا علاج کرا رہی تھی۔

باقی لوگ جانے کہاں تھے۔ یا وہ بڑھیا جو بھوک میں اپنے بچوں کو دیکھتی اور وہ پلاؤ صفحہ چٹ کر کے بڑھیا سے بیزار منہ بنائے بیٹھے تھے۔ کیسے ساتھ نبھانے والے اپنے پیاروں کو شہر بہ شہر لمبے، تکلیف دہ علاج کے لیے، زندگی کے آخری لمحات میں اکیلا نہیں چھوڑتے۔ ایسے میں بندہ آنسو پونچھے یا چھپائے، کچھ سمجھ نہیں آتا۔ انسانی تعلقات کثیر جہتی ہوتے ہیں۔ انہیں کسی سیٹ پیٹرن پر لاگو کرنا بھی ممکن نہیں۔ لیکن کانچ سے نازک آبگینے بعض دفعہ ٹوٹ بھی جاتے ہیں۔

ہمیں کسی بھی ایسے جذباتی ٹروما کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مجھے کسی نے بچپن میں سمجھایا کہ جو چیزیں اپنی ہوں، انہیں چوری نہیں کرتے، اور نہ اپنی چیز پر ڈاکا ڈالتے ہیں، انہیں تو بس محسوس کرتے ہیں چاہے ہمارے اپنے دنیا کے کسی کونے میں بھی ہوں، وہاں ایک تار عنکبوت سا رابطہ برقرار رہتا ہے۔ پھر کسی ثبوت کی چنداں ضرورت نہیں رہتی۔ لیکن کیا کہ آپ کسی ایسے رشتے کے تار غلطی سے توڑ بیٹھے ہیں۔ ایسے میں سیلف اسٹیم کو زندہ رکھنا کتنا کٹھن ہو سکتا ہے۔ جہاں آپ نے اپنا اعتبار توڑ دیا۔

گھروں میں، قریبی رشتوں میں ایسی دل خراش دراڑیں پڑ جاتی ہیں، لوگ ایک دوسرے سے ملنا تو درکنار، دیکھنا چھوڑ دیتے ہیں، اور کوئی ایک فریق دوسرے کو جذباتی ٹارچر کرتا رہتا ہے۔ یہ اولاد اور والدین میں بھی ہو سکتا ہے، اور بہن بھائیوں میں بھی۔ اور بعض دفعہ کوئی ٹاکسک شخص زندگی میں ایک لازم اکائی بن جاتا ہے جو آپ کو ڈس ڈس کر بے حال کر دیتا ہے۔ آپ چاہ کر بھی خود کو یا اپنے عزیز کو بچا نہیں سکتے۔

ایسے میں کیا کیا جائے۔ کیا انسان خود کو ، یا دوسرے انسان کو معاف کر سکتا ہے۔ یعنی سارے دکھوں، زیادتیوں کے با وجود معاف کر دینا۔ اور اپنے دل کے گھاؤ، وقت کے سپرد کر دینا۔ پھر پت جھڑ کی طرح بالوں میں سفیدی آئی، جلد بد نما گئی، یا حسن جوانی ڈھل گئی، انسان ایک ایسی فیز میں داخل ہو جاتا ہے، جہاں جسم کی چنداں ضرورت نہیں رہتی، گلے شکوے مدھم پڑ جاتے ہیں، گھاؤ سکار بن کر پژمردہ ہو جاتے ہیں اور انسانی روح کر قرار آ جاتا ہے۔ وہ دن آنے سے پہلے خود کو معاف کر دیں، لا شعور کا ظلمت کدہ نخلستان بن جائے گا۔ آزما کر دیکھ لیں۔

اب میرا عشق دھمالوں سے کہیں آگے ہے
اب ضروری ہے کہ میں وجد میں لاؤں تجھ کو
تو نہیں مانتا مٹی کا دھواں ہو جانا
میں ابھی رقص کروں، ہو کے دکھاؤں تجھ کو