انتخابی ایکشن ری پلے 2023


9 مئی 2023 کی اشتعال انگیز مہم جوئی کے بعد تحریک انصاف کے سیاسی میدان سے پاؤں اکھڑ چکے ہیں۔ پارٹی تاش کے پتوں کی طرح بکھر کر ٹکڑوں میں بٹتی جا رہی ہے۔ بظاہر پی ٹی آئی کا تنظیمی ڈھانچہ زمین بوس ہو چکا ہے اور پارٹی عوام میں دن بدن اپنا اثر کھوتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ کارکنوں کی مایوسی اور قیادت سے اکتاہٹ میں روز افزوں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پنجاب میں پی ٹی آئی ریت کا گھروندہ ثابت ہوئی۔ چند گنے چنے چہروں کے علاوہ پنجاب میں پی ٹی آئی کے نمایاں لیڈروں اور الیکشن الیکٹیبلز کو ترین و علیم نے اپنی پناہ میں لے کر نئی سیاسی جماعت بنا ڈالی۔ نہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بچی، نہ کور کمیٹی اور نہ مرکزی کمیٹی کا وجود باقی رہا۔ صوبائی، علاقائی، ضلعی اور شہری تنظیموں اور قیادت کا نام و نشان نظر نہیں آ رہا۔ عمران خان کی ایک آواز پر حقیقی آزادی چھیننے کے لئے خون کا آخری قطرہ بہانے کے بلند و بانگ دعوے کرنے والے جذباتی کارکنوں نے جان کی امان پا کر خاموشی اختیار کر لی۔

پی ٹی آئی سیاسی میدان میں عملاً کہیں نظر نہیں آ رہی اور سوشل میڈیا کو پارٹی تنظیم کا متبادل سمجھ لیا گیا ہے۔ پارٹی کے چیئرمین عمران خان سوشل میڈیا پر تقاریر کر کے دل کو تسلی دے لیتے ہیں کہ ان کا عوام سے رابطہ بحال ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر تقاریر سے پی ٹی آئی اپنا وجود برقرار رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ در اصل پی ٹی آئی ایک سیاسی جماعت کی بجائے ایک یو ٹیوب چینل کی شکل اختیار کر چکی ہے اور عمران خان ایک یو ٹیوب وی لاگر بن گئے ہیں۔ سوشل میڈیا کے بل بوتے پر عوام سے رابطہ رکھنے والی پی ٹی آئی کسی قسم کا جلسہ، جلوس، ریلی نکالنے یا پارٹی کے خلاف ریاستی کریک ڈاؤن پر کسی قسم کا احتجاج کرنے کی طاقت سے محروم ہو چکی ہے۔ 9 مئی سے قبل عمران خان احتجاج کی کال دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے تھے۔ اقتدار سے محرومی کے بعد عمران خان نے بیسیوں جلسے کیے، بیسیوں جلوس اور احتجاجی ریلیوں کی کالیں دیں۔ مگر 9 مئی کے بعد عمران خان جلسہ جلوس کا ذکر کرنا شاید بھول چکے ہیں۔ کارکنوں کو احتجاجی کال پر سڑکوں پر نکالنے کی دھمکیاں دینے سے بھی اجتناب کر رہے ہیں۔ وہ صرف سوشل میڈیا پر دندناتے پھرتے نظر آتے ہیں۔

دوبارہ اقتدار کے سنگھاسن کے مزے لوٹنے کے لئے مقتدرہ کی مدد کو پکارتے پکارتے عمران خان عالم طیش میں اسی سے ٹکرا کر اوندھے منہ جا گرے اور مقتدرہ کے ہاتھوں مانگا تانگا سیاسی مال و متاع بھی لٹا بیٹھے۔ 9 مئی کی لا حاصل مہم جوئی نے عمران خان کو مقتدرہ کے ایسے چہرے سے متعارف کرایا جو ان کے وہم و گمان میں نہ ہو گا۔ اقتدار کے گلچھرے اڑانے والے عمران خان کے با اعتماد اور قریب ترین ساتھی دھڑوں کی شکل میں یا ایک ایک کر کے عمران کا ساتھ چھوڑ رہے ہیں۔ 9 مئی کی مہم جوئی کے رد عمل میں ریاست نے پی ٹی آئی اور عمران خان کو آہنی ہاتھوں سے نپٹنا شروع کیا جس نے پی ٹی آئی کی کمر توڑ ڈالی۔ مقبولیت کے زعم میں مدہوش تنہا بیٹھے بے بسی کے عالم میں عمران خان پی ٹی آئی کے لٹنے کا تماشا دیکھتے رہ گئے۔ عمران خان کو مشکل وقت میں داغ مفارقت دینے والے ان کے سابقہ ساتھی پی ٹی آئی کی تباہی کا واحد ذمہ دار عمران خان غیر سیاسی اور جذباتی فیصلوں کو گردانتے ہیں۔ جن میں نمایاں قومی اسمبلی سے اراکین کے استعفے، پنجاب اور کے پی کی صوبائی اسمبلیوں کا خاتمہ کرنا اور سب سے بڑھ کر 9 مئی کی اشتعال انگیز احتجاجی کال دینا ہیں۔ پی ٹی آئی میں بچے کچھے چند راہنما دبے لفظوں میں وہی کچھ کہہ رہے ہیں جو پارٹی چھوڑ جانے والوں نے عمران خان کے متعلق کہا ہے۔

9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے متعدد راہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف آرمی ایکٹ، دہشت گردی اور دیگر سنجیدہ فوجداری دفعات کے تحت مقدمات درج ہو چکے ہیں۔ بیسیوں کی تعداد میں کارکن ابھی تک گرفتار ہیں جبکہ سینکڑوں ضمانتوں پر رہائی پا چکے ہیں۔ عمران خان کے خلاف آئے روز نئے مقدموں کی بھرمار ہو رہی ہے۔ میڈیا پر عمران خان اور ان کی پارٹی شجرہ ممنوعہ بنا دی گئی ہے۔ عمران خان کو نا اہل قرار دے کر اور گرفتار کر کے انتخابی عمل سے باہر رکھنے کی منصوبہ بندی کے چرچے زبان زد عام ہیں۔ کہنے والے کوئی عار محسوس نہیں کر رہے کہ پی ٹی آئی کو پنجاب اور کے پی کے میں قومی اور صوبائی الیکشنوں میں جیتنے والے امیدوار ڈھونڈنے میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان میں پی ٹی آئی کا وجود پہلے سے برائے نام ہے۔ اس طرح پی ٹی آئی کو کے پی کے اور پنجاب کے چند علاقوں تک محدود کر دیا جائے گا۔ یہ کہ عمران خان کو الیکشن عمل سے دور رکھ کر پی ٹی آئی کو انتخابی نتائج میں چوتھے یا پانچویں نمبر کی پارٹی بنا دیا جائے گا۔ در اصل یہ آئندہ پانچ برسوں کے دوران اکہتر سالہ عمران خان کو سیاسی عمل سے باہر رکھنا اور ان کے سیاسی اثر و رسوخ کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دینے کی کوشش ہو گی۔ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ساتھ ہونے والے برتاؤ کو مکافات عمل کہا جا رہا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کو ویسے ہی سلوک کا حق دار ٹھہرایا جا رہا ہے جو عمران خان نے مقتدرہ اور عدلیہ کے ساتھ سازش کر کے نواز شریف اور مسلم لیگ نون کے ساتھ روا رکھا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ عمران خان اور اس کے ساتھیوں کے ساتھ وہی برتاؤ کیا جا رہا ہے جو انہوں نے اپنے دور حکومت میں اپنے سیاسی مخالفین کے ساتھ کیا تھا۔

بیان کردہ پس منظر میں چند ہفتوں کے اندر ممکنہ ملی انتخابات کا بگل بجنے والا ہے۔ اگست میں شہباز اتحادی حکومت اختتام پذیر ہو گی تو وفاق میں ایک نگران حکومت قائم ہو جائے گی۔ اسی طرح سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں اگست میں آئینی مدت مکمل کر لیں گئیں۔ ان دونوں صوبوں میں بھی نگران حکومتیں قائم ہو جائیں گی۔ جبکہ پنجاب اور کے پی کے کی اسمبلیوں کو آئینی مدت کی تکمیل سے قبل ختم کیا جا چکا ہے اور وہاں پر پہلے سے ہی نگران سیٹ اپ کام کر رہا ہے۔ وفاقی اور صوبائی نگران حکومتوں کے قیام کا مقصد آئینی تقاضوں کے مطابق ملک میں منصفانہ اور شفاف الیکشن منعقد کرانا ہوتا ہے۔

دوسری جانب ملک میں افواہ ساز فیکٹریوں میں بر وقت الیکشن کے انعقاد پر شک و شبہے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ افواہیں زیر گردش ہیں کہ شہباز اتحادی حکومت کے خاتمے کے بعد نگران سیٹ اپ آئین میں مقرر کردہ مدت کے اندر انتخابات نہیں کرا سکے گا۔ افواہوں کے مطابق مقتدرہ کی پشت پناہی سے نگران سیٹ اپ کے طول پکڑنے کے امکانات ہیں۔ جو کہ چھ ماہ سے دو سال پر محیط ہو سکتے ہیں۔ گردشی افواہوں سے سرف نظر کرنا مشکل تو ہے مگر افواہوں کو جیسے تیسے تسلیم کرنا بھی آسان نہیں ہوتا۔ ملک کی سب قابل ذکر سیاسی جماعتوں جن میں پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن، تحریک انصاف، اے این پی، جے یو آئی، اور قوم پرست جماعتوں نے بر وقت انتخابات کے انعقاد پر زود دیا ہے۔ یاد رہے کہ آئی ایم ایف، یورپی یونین اور امریکہ بھی کھلے عام پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد پر دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔ انہوں نے آئینی حدود میں منصفانہ اور شفاف الیکشنوں کے انعقاد پر امید کا اظہار کیا ہے۔ اندرونی اور بیرونی حقائق کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئینی مدت میں انتخابات نہ کرائے جانے کی صورت میں پیدا ہونے والے سیاسی عدم استحکام اور معاشی بحران کا تنہا مقابلہ کرنا مقتدرہ کے بس سے باہر ہو گا۔

آج کے حالات میں سوال بروقت الیکشن منعقد ہونے کا نہیں۔ سوال فری، فیئر، منصفانہ اور شفاف الیکشن کے انعقاد کا ہے۔ سوال الیکشن کے عمل کے دوران سب سیاسی جماعتوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ فراہم کرنے کے لئے ماحول فراہم کرنے کا ہے۔ سوال قبل از الیکشن دھاندلی سے پرہیز یعنی الیکشن سے قبل الیکشن انجیئنرنگ اور مینیجمنٹ نہ کرنے کا ہے۔ سوال ڈیپ سٹیٹ یعنی ایجنسیوں، صوبائی اور وفاقی اداروں اور نگران حکومتوں کا حقیقی معنوں میں غیر جانبدارانہ کردار ادا کرنے کا ہے۔ سوال یہ بھی ہے کہ کیا الیکشن میں حصہ لینے والی تمام سیاسی جماعتوں کو الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا پر اظہار رائے کا آئینی و قانونی حق دیا جائے گا۔ یہ سوال بھی اٹھا یا جا سکتا ہے کہ کیا الیکشن کمیشن آف پاکستان اتنا با اختیار اور طاقتور ادارہ بن چکا ہے کہ وہ ہر قسم کی دھاندلی سے پاک الیکشن کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پاکستان میں ماضی کے الیکشنوں کی روشنی میں مندرجہ بالا سوالات کے جوابات کچھ زیادہ حوصلہ افزا نہیں ملیں گے۔ یاد رہے پاکستان میں انتخابات کی تاریخ جھرلو اور دھاندلی زدہ انتخابی نتائج سے عبارت رہی ہے۔ ریاستی اداروں کی سیاسی اور انتخابی عمل میں ننگی مداخلت کی داستانوں کی گونج ملک کے ہر گلی کوچے میں سنائی دیتی ہے۔ پرانے مائنس ون فارمولے پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ پری الیکشن مینیجمنٹ اور انجیئنرنگ بڑے زور شور سے جاری ہے۔ الیکشن آنے تک پی ٹی آئی کا اثر و رسوخ محدود ہو تا لگ رہا ہے۔ میڈیا مینج ہو رہا ہے۔ سب پارٹیوں کو لیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کی نشانیاں نظر آ رہی ہیں۔ ہر قسم کے تجزیہ کار بڑے وثوق سے کہہ رہے ہیں کہ عمران خان اور پی ٹی آئی کے ایوان اقتدار میں پہنچنے کے امکانات تقریباً ختم ہو چکے ہیں۔ یہ حیران کن بات نہیں کہ موجودہ نفرت انگیز اور مخاصمانہ سیاسی کشمکش کے ماحول میں ممکنہ انتخابات کے متوقع نتائج پر ابھی سے پیش گوئیاں شروع ہو چکی ہیں۔ الیکشن اکتوبر یا نومبر 2023 میں ہوں۔ یہ 2018 والے الیکشن کا ایکشن ری پلے ہی ہو گا۔ نواز شریف اور آصف زرداری کو سیاسی میدان سے نکالتے نکالتے عمران خان سیاسی میدان سے خارج ہونے کے راستے کے مسافر بن گئے۔

 

Facebook Comments HS