غموں کی فیکٹریاں : ایکسٹینشن لیڈ

تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا
مجموعہ خیال ابھی فرد فرد تھا
غم کی حقیقت و ماہیت پر اویس قرنی صاحب نے ڈسکشن کے لحاظ سے پوچھا تھا تو ذہن میں کچھ باتیں منتشر تھیں جنہیں غور و فکر اور کچھ مطالعے سے مرتکز کیا جو پیش خدمت ہے۔ پہلی بات مصدقہ ہے کہ یہ کائنات وجود و عدم سے مرکب ہے۔ طبعی لحاظ سے بھی، صفات و کمالات کے لحاظ سے بھی اور ہر گوشہ ہائے کائنات کے زاویہ نظر سے۔ عربی کا بھی مقولہ ہے کہ ہر چیز اپنے تضاد سے پہچانی جاتی ہے۔ دن رات، غم خوشی، صحت، بیماری وغیرہ وغیرہ۔
اسی سے کائنات میں توازن قائم ہے۔ کشش و دفع کی قوت اس پر بہت ناقابل تردید ثبوت ہے۔ سائنس میں دیکھیں تو سینکڑوں مثالیں ہیں الیکٹران پروٹان کے باہمی تعاون سے ایٹم کام کرتے رہتے ہیں۔ اس تمہیدی گفتگو سے یہ اسٹیج سیٹ کرنے کا موقع ملا ہے کہ جب کائنات میں ہر چیز ہر لحاظ سے وجود و عدم سے مرکب ہے تو انسان کی طبعی ماہیت کے اجزاء ترکیبی میں بھی یہ ہی ہاتھ کارفرما ہے۔ یہ تضاد اس کی جبلت میں انسٹال کر دیا گیا ہے۔
جب اس کی طبعی خصوصیات کو عدم سے وجود دیا گیا ہے تو وجود کی حیثیت عارضی قرار پاتی ہے جب کہ عدم لامحدود ہے۔ اس کو وجود اس لیے دیا گیا ہے کہ وجود کے لیے قبول استعداد کی ریکوائرمنٹس پوری کر چکا تھا جس طرح مخصوص نیوٹری اینٹس سے سیمن سازی ہوتے ہوئے ایک حیاتیاتی عمل سے گزر کر جب ایک نومولود دنیا میں آتا ہے اور آہستہ آہستہ اپنی ضروریات و خواہشات کی آسودگی کے لیے اپنے آپ کو قبول استعداد کا اعتراف کروانے کا کہتا ہے تو حسب استعداد کثیر الجہتی ڈوز پاکر نشو و ارتقاء کو جاری رکھتا ہے۔
مطلب یہ کہ عدم سے وجود پانے کے لیے اس نے قبول استعداد ثابت کی اور اللہ نے پوری کر دی۔ اب انسان کی طبعی ساخت پر آتا ہوں اور کہہ رہا تھا کہ طبعی خصوصیات اس میں ودیعت کر دی گئی ہیں اور اچھی بری چیزیں اب وجود و عدم سے مرکب ہو کر ایک دوسرے پر سبقت پانے کے لیے باہم دست و گریباں ہیں۔ تنازع البقاء کا اصول کارفرما ہے
Survival of the fittest.
یعنی وجود میں جو خوشی، اطمینان، نعمتیں، زندگی، مسکراہٹ، صحت، آسودگی، رکھی گئی ہیں جو وجود ہونے کی حیثیت میں ہیں یعنی جب تک وجود میں ان کی برقراری کے لیے عدم سے ( غم، آہ و بقا، عدم صحت، ناآسودگی و بے سکونی) رسہ کشی جاری رہے گی تب تک یہ عدمی نسبتیں جو قوسین میں بند کی ہیں وجودی نسبتوں کے بھاری پتھر کے نیچے دبی رہتی ہیں : لہذا یہ جو مصائب آتے ہیں غم، عدم صحت، بے اطمینانی وغیرہ یہ اوپر سے یا باہر سے نہیں آتے ہیں بلکہ انسانی جبلت کی پسلی سے ہی پیدا ہوتے ہیں۔
کیونکہ عدمی نسبتیں ( عدم صحت، غم وغیرہ یا جو بھی اس رینج میں آتا ہے ) وجودی نسبتیں ( نعمت، خوشی زندگی یا جو بھی اس رینج میں آتا ہے ) پر بھاری ہو جاتی ہیں۔ حدیث میں بھی آتا ہے کہ آدم کے پیکر خاکی پر انتالیس دن غم کا کہنا برسایا گیا ایک دن خوشی۔ خلاصہ کلام یہ ہے کہ وجود عارضی ہے اور عدمی اثرات گاہ گاہ اپنا ہاتھ صاف کرتے رہتے ہیں لہذا وجودی چیزوں کا قیام عارضی ہے۔ جب ہم کہتے ہیں فلاں مر گیا ہے، غم آ گیا ہے، بے سکونی ہو گئی ہے تو دراصل یہ کوئی چیز ختم نہیں ہوتی ہے بلکہ وجودی حیثیت عدمی ٹینک کے ٹائروں کے نیچے آ کر کچل مسل کر تکوینی مصائب کا سگنل آن کرتی ہیں۔
یہ تکونی مصائب ہیں۔ لہذا غم کی نفسی کیفیت جو بھی ہو کہ انسان ذہنی طور پر اذیت یا منقبض جذبات پر ہوتا ہے اس کی حقیقت واضح کر دی ہے کہ یہ عدمی نسبت ہے۔ جب واپس صحت آتی ہے تو عدمی نسبت ( عدم صحت) والی غائب ہو جاتی ہے۔ پھر اگر کوئی شکوہ خدا سے مصیبت یا غم پر کرتا ہے تو یہ نری جہالت ہے کہ اس کا سبب طبعی جبلت میں وجودی نسبتوں کے عدمی وزن کے نیچے تمہاری بے اعتدالیوں سے دب جانا ہے۔ پھر کوئی یہ کہے کہ بھئی کیا ہوتا اگر صرف خوشی ہی ہوتی جو وجودی کیفیت ہے غم نہ ہوتا جو عدمی کیفیت ہے تو عرض ہے اس طرح آپ پر وجود و عدم سے مرکب کسی چیز کی حقیقت واضح میں ہوتی اور یہ اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے کہ ہر چیز کو تخلیق کے بعد ان نے کھل کر اپنے جوہروں سے کھیلنے کا موقع دیا ہے کیونکہ ان جوہروں نے قبول وجود کی استعداد ثابت کر کے وجود پایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہاتھ باندھ کر کشتی میں بھیج دیا جائے۔ اب آگ پیدا کی تو جلانے اور گرمانے کی فیچر انسٹال نہ کی ہوتی تو کیا آگ کو کھل کر کھیلنے کا موقع ملا؟ یہ تو پھر نا انصافی ہو گئی۔ وہ بات یاد آئی انگلش شاعر ٹینیسن کی کہ بھی یہ کیسی زندگی ہوئی کہ
To rust unburnished , and not use in shine .
( تلوار کو زنگ لگتے چھوڑ جانا اور استعمال سے دھار ٹیسٹ نہ کرنا، استعمال نہ کر کے دشمن سے ہار کھانا)
یعنی بغیر اپنے ودیعت کردہ جملہ استعداد کے ثابت کیے فنا ہو جانا اور وہ بھی جب استعداد دینے والی ذات ہو۔ ہر ہر چیز کو اس کی ساخت و پرداخت کے لحاظ سے ایک سانچہ دے دیا گیا ہے جس سے وہی اعمال صادر ہوتے ہیں۔
دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت
روئیں گے ہم ہزار بار کوئی ہمیں ستائے کیوں
اب رونا جس وجود کی کیفیت اور فیچر تھی اس سے یہ توقع کرنا ہی قرین انصاف ہے ناکہ پتھروں اور اینٹوں سے۔
لہذا حق تعالیٰ کا یہ بہت بڑا احسان ہے کہ ہر چیز کو کھل کر حسب استعداد کھیلنے کا موقع دیا ہے۔ یہ اب انسان تک ہے کہ وسائل سے کیسے مستفید ہوتے ہوئے ان کے وجودی نسبتوں کو اپنے حق میں کرتا ہے۔ لہذا یہ سب تکونی مصائب ہیں غم خوشی اس پر رونا دھونا اور اللہ سے شکوہ کرنا درست نہیں ہے۔ یہ سب صورت نوعیہ کے مصادر ہیں۔ پھر یہ بھی سمجھنا چاہیے کہ وجود ایک طرح کا مجاز ہی ہے اور معدوم وسیع جہات سے مزین۔ لہذا وہ پکا ٹھکا ہے یہ عارضی اور کچا ہے۔
امید ہے میں اپنا موقف واضح کرنے میں کلیئر ہو چکا ہوں۔ اس بحث کی ایکسٹینشن لیڈ وسیع ہے لہذا آگے بھی جانا پڑے گا اور اس سے آگے چلیں تو ہمیں جو معاشروں میں مسائل سماجی، سیاسی، معاشی سطح پر نظر آتے ہیں یہ کیوں ہیں؟ یہ انسان کے اختیاری ہیں۔ پہلے صرف طبعی خصوصیات کے اندر رہ کر طبعی جبلتوں کی حقیقت واضح کی ؛ اب انسان کو جو دیگر عقلی صفات دی ہیں اس پر بھی عرض ہے۔ لہذا یہ سب مسائل اس لیے ہیں کہ عقل کا ہاتھ یہاں کام کر رہا ہوتا ہے جب آپ نا اہل لوگوں کو آگے لائیں گے تو حضور کی حدیث کے مطابق یہ قیامت تو ہوگی۔
عقلی بے اعتدالیوں اور غلط استعمال سے ہی ہوتی دنیا میں استعماریت پھیلی ہے اور انسان بے بس و مجبور ہے۔ انسان کو یہ خصوصیات دے کر بھی بہت وسیع میدان دیا ہے کھلنے کا۔ دیکھیں جب وہ عقل کا بے دریغ اور انسانیت کے مجموعی مفاد میں کام نہیں کرتی تو شیطان کی تو ایک طے شدہ لائن ہے گمراہ والی، یہ شیطان سے بھی آگے گزر کر تباہی کرتا ہے۔ جب عقلی اعتدال پر رہتا ہے تو فرشتوں سے آگے چلا جاتا ہے کہ اس میں تصرف و تاثر کی قابلیت بہت زیادہ مقدار میں ہے۔
ہر دو صورتوں میں ایٹمی ریکٹر بن کر نتائج دیتا ہے۔ اس کی یہ پرابلمیٹک کیفیت تبدیل نہیں ہو سکتی جب تک بقول قرآن مجید اپنی حالت خود تبدیل نہ کرے۔ لہذا عقلی لحاظ سے بھی دین اسلام برہان ہے۔ نص قطعی کسی شخص کی ذہنی پیداوار نہیں ہے ان پر جو لوگ صحابہ عمل پیرا ہوئے تو دنیا خوشحالی سے بھر گئی۔ سیاسی امن ہوا۔ جب لوگ اس سے ہٹ کر عقل کل بنے تو دنیا میں سرمایہ داری دیکھیں کیا کسی گل کھلا رہی ہے۔ یہ اختیاری مصائب اپنے ہاتھ کے ہیں
ظھر الفساد فی البر والبخر۔ اس سے اگلے مصائب جو تعزیری نوعیت کے ہیں وہ تشریعی قوانین سے انحراف ہے۔ اس پر غضب الٰہی ضرور ہوتا ہے۔ جو زلزلوں اور سیلابوں میں جانور بہتے ہیں یا وسائل ضائع ہوتے ہیں تو دہریے خفا ہوتے ہیں کہ یہ اللہ نے معصوم جانوروں کا کیا قصور تھا؟ بات یہ ہے کہ یہ وسائل تھے جو انہوں کے فائدے کے لیے تھے جب انحراف ہوا تھا وبال جان بن گئے۔ قارون کی مثال دلیل ہے۔ پھر اس سے آگے طوفان تعزیر میں اچھے برے سب اس لپیٹ میں آتے ہیں۔
ایسا کیوں ہے؟ اس لیے کہ جس طرح نروس سسٹم میں کسی عضو کو تکلیف ہو تو پورا جسم بے چین ہوتا ہے تو کائناتی نروس سسٹم کی مشترکہ لیڈ سے سب کی چھترول ہوتی ہے کہ جو اچھے تو انھیں رفع مصیبت کے لیے کام کرنا چاہیے تھا۔ اب آخری گزارش یہ ہے کہ جب دعا کی جاتی ہے تو قبول و ناقبول کی جو بات ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان جب دعا سے بلا کو ٹالنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ دعا کے دو پہلوؤں کی جانکاری ضرور حاصل کرے ایک طلب ہے دوسری طلب کی عملداری میں لانے کے پراسس کے لیے مسلسل کوشش ہے۔ یہ معمولی چیز نہیں ہے لیکن طوالت کے پیش نظر محدود کر دیا ہے۔ صرف دو باتیں ہوں گی غالب کا شعر ہے
جان تم پر نثار کرتا ہوں
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے؟
شعر اس لیے لکھا کہ علامہ اقبال کے مطابق ایک ریاضی دان بھی لامتناہی سیٹ کو قابو نہیں کر سکتا ہے یہ شاعر ایک لائن میں بھی کر سکتا ہے۔ لہذا شعر میں بے پناہ معنی کی انفنٹی ہے۔

