دنیا میں اتنے سارے مذاہب کیوں ہیں؟


اس دنیا میں زیادہ تر لوگوں کے لیے زندگی کا سب سے مقدس پہلو ایمان ہے۔ ایمان لوگوں کے درمیان تعلقات، ان کی خواہشات اور ان کے فلسفہ زندگی کی وضاحت کرتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے لیے، ایمان کو بعد کی زندگی میں جنت کا پاسپورٹ سمجھا جاتا ہے۔

ایمان کی بنیاد عقیدہ ہے۔ تقریباً تمام بڑے مذاہب کی جڑیں ہزاروں سال پہلے ہونے والے واقعات سے جڑی ہوئی ہیں۔ تمام مذاہب ان عقائد پر مبنی ہیں جن کی کوئی عقلی بنیاد نہیں ہے۔ ہزاروں سال پرانی مذہبی روایات مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بالکل مختلف ہو سکتی ہیں۔ مسلمان اور یہودی، جو کہ دنیا کی ایک چوتھائی آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں، ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ دوسری طرف، مسیحی، جو دنیا کی آبادی کا تقریباً تیس فیصد حصہ ہیں، تثلیث پر یقین رکھتے ہیں، اور مسیح کو خدا کا بیٹا قرار دیتے ہیں۔

کون صحیح ہے؟
اور کون طے کرے گا کہ کون سیدھی راہ پر ہے؟
ایک خاص مذہب کے زیادہ تر پیروکار دوسرے مذہب کے ماننے والوں کو کافر سمجھتے ہیں۔

تاہم، عقیدے اور مذہب کا سب سے دلچسپ پہلو یہ ہے کہ انسان کے ایمان کا تعین کسی معروضی حقیقت سے نہیں ہوتا، بلکہ وہ جس معاشرے میں پیدا ہوتا ہے، اس سے ہوتا ہے۔ یہ بات تقریباً طے ہے کہ ہندو خاندان میں پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہو کر ہندو ہو گا۔ اور مسلمان گھرانے میں پیدا ہونے والا بچہ بڑا ہو کر مسلمان ہو گا۔

فرض کریں کہ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے دو فرد پڑوسی ہیں، ایک ہندو اور دوسرا مسلمان۔ بعض حالات میں، جیسے تقسیم ہند کے وقت، یہ دونوں خونی دشمن ہو سکتے ہیں، یہاں تک کہ مذہب کے نام پر ایک دوسرے کی جان لینے کو تیار ہوں گے۔

مسلمانوں کے مطابق، ہندو موت کے بعد کی زندگی میں جہنم میں ابدی زندگی گزاریں گے، کیا صرف اس لیے کہ وہ غلط گھر میں پیدا ہوئے؟

سوال یہ ہے کہ کیا کسی بھی مذہب کے اعتقادی نظام میں اس صورت حال کی وضاحت کی جا سکتی ہے؟

تمام مذاہب عالمگیریت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک مذہبی قوانین ابدی اور آفاقی ہیں۔ اس کے باوجود اس دنیا میں مختلف مذاہب کا کردار اور ان کی تقسیم مکمل طور پر مقامی نظر اتی ہے۔ بعض علاقوں پر ایک مذہب کا غلبہ ہے اور بعض پر دوسرے کا۔

یہ صورت حال صرف مختلف مذاہب سے وابستہ نہیں ہے، بلکہ ان کا تعلق کسی مذہب کے مختلف فرقوں سے بھی ہو سکتا ہے۔ شیعہ خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کو سنی کے طور پر پروان چڑھتے یا کیتھولک خاندان میں پیدا ہونے والے بچے کو پروٹسٹنٹ کے طور پر پروان چڑھتے دیکھنا ایک انوکھا اور نادر واقعہ ہو گا۔

ایک مخصوص معاشرہ کسی خاص مذہب کو کیوں اپناتا ہے؟ اس کا کسی معروضی سچائی سے کیا کوئی تعلق ہے؟ یہ اہم سوالات ہیں۔

ایک سوال فطری طور پر پیدا ہوتا ہے : یہ مختلف مذاہب کہاں سے آتے ہیں؟ کوئی مسلمان کیوں ہے اور کوئی عیسائی کیوں ہے؟

تاریخی واقعات، بعض اوقات جنگ کا نتیجہ، اس بات کی وضاحت کر سکتے ہیں کہ دنیا کے ایک مخصوص خطہ اور کچھ ممالک میں ایک خاص مذہب کا غلبہ کیوں ہے۔ یہاں کچھ مثالیں ہیں۔

32 عیسوی میں (مسیحی عقیدے کے مطابق) مسیح کی صلیب پر موت کے بعد ، ان کے پیروکاروں کو رومی سلطنت کے اندر ظلم و ستم کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ سلسلہ تقریباً 300 سال تک جاری رہا۔ پھر 319 ء میں شہنشاہ کانسٹنٹائن اور اس کی با اثر ماں ہیلینا نے عیسائیت اختیار کر لی۔ اس تبدیلی کے ساتھ ہی پورے یورپ نے عیسائیت کو سرکاری مذہب کے طور پر اپنا لیا۔ اس تبدیلی کے ساتھ کوئی انفرادی یا الہامی سوچ وابستہ نہیں تھی۔ شہنشاہ کا مذہب، جس کے بارے میں کچھ بھی الہی نہیں تھا، کو عام آدمی نے آنکھیں بند کر کے اپنا لیا تھا۔ اس طرح عیسائیت یورپ کا ایک بڑا مذہب بن گئی، جو وقت کے ساتھ دنیا کے سب سے بڑے مذہب میں تبدیل ہو گئی۔

شاید سب سے حیرت انگیز مثال برطانیہ کی ہے جس نے سولہویں صدی میں کیتھولک عقیدے کو ترک کر کے ایک نیا اینگلیکن چرچ قائم کیا، ، جہاں بادشاہ کو خدائی اختیار حاصل ہے، ۔ اینگلیکن چرچ کی پیدائش اور اس کا وجود اس بنیاد پر ہے کہ پوپ نے کنگ ہنری کو ہسپانوی شہزادی کیتھرین آف آراگون سے اپنی شادی منسوخ کر نے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا تھا، اور 1533 میں اسے میری این بولین سے شادی کرنے کی اجازت نہیں دی۔ نتیجتاً کنگ ہنری نے پوپ اور کیتھولک عقیدے سے علیحدگی اختیار کر لی، اور ہسپانوی شہزادی کو طلاق دے کر اپنی پسند کی عورت سے شادی کر لی۔ راتوں رات برطانیہ کی آبادی کیتھولک عقیدہ چھوڑ کر اینگلیکن بن گئی۔ حیرت انگیز طور پر ہمسایہ ملک آئرلینڈ کیتھولک رہا کیونکہ کنگ ہنری کی بادشاہت صرف برطانیہ تک محدود تھی۔ یہ ایک دلچسپ مثال ہے کہ کس طرح ایک بادشاہ کی دنیاوی، حتیٰ کہ جسمانی خواہشات، کو پورا کرنے کے لیے ایک نیا مذہب وجود میں آ گیا۔

مسلم ممالک عمر بن خطاب کی خلافت کے دوران قادسیہ (نومبر 636 ) اور یرموک (اگست 636 ) کی مشہور جنگوں میں تاریخی طور پر قابل ذکر فتوحات سے اپنے مذہبی عقائد کا پتہ لگا سکتے ہیں۔ فارس، شام اور مصر کی فتوحات نے اسلامی سلطنت کو مشرق وسطیٰ کے ایک بڑے حصے تک پھیلا دیا۔ ان ممالک کے رہنے والوں نے اسلام قبول کر لیا اور ان لوگوں کی اولاد آج بھی اسی عقیدے پر قائم ہے۔ اس طور موجودہ پاکستان سے شمالی افریقہ تک اور بحر اوقیانوس کے ساحلوں تک پھیلے ہوئے اس خطے کا اسلامی کردار آج بھی جاری ہے۔

مندرجہ بالا تمام مثالوں میں، کسی معاشرے یا ملک کے اندر کسی خاص عقیدے کو اپنانا ایک سوچا سمجھا عمل نظر نہیں آتا۔ دنیا کے مختلف حصوں میں مختلف عقائد کی موجودگی کی وجوہات دنیاوی ہیں اور ان کو خدائی مداخلت کے بجائے تاریخی حادثات سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔

ایک بڑی تعجب کی بات ہے کہ اپنے مذہب کی انتہائی متزلزل اور تاریخ کی دھندلی روایات کے باوجود، مختلف عقائد کے لوگ ایک خود پسندانہ رویہ اپناتے ہوئے دوسرے عقائد کے پیروکاروں کو کافر قرار دیتے ہیں، اور قیامت کے دن ان کا مقدر جہنم میں ایک ابدی زندگی قرار دیتے ہیں۔

غور کرنے کے لیے ایک اور اہم نکتہ ہے۔

زیادہ تر مذاہب کی بنیاد ایسے خدا پر ہے جو تمام تر قوت کا مالک ہے اور جس نے اس کائنات میں ہر چیز کو تخلیق کیا ہے۔ اس نے اس دنیا میں تمام انسانوں کو زندگی عطا کی۔ ایک خدا جس کی یہ صفات ہوں، وہ لوگوں کے منتخب گروہ کا خدا نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسا ہرگز نہیں ہو سکتا کہ مخصوص عقائد کے حامل لوگوں کو پسند کرے اور ان کو جنت کی بشارت دے اور دوسرے سب افراد کو ناپسند کرے یا نفرت کے قابل سمجھے۔ وہ تو سب کا خدا ہے۔ وہ مختلف مذاہب کا سرچشمہ نہیں ہو سکتا۔ وہ ہر روح کا خالق ہے اور اس طرح ان کی فلاح و بہبود کا ذمہ دار ہے۔

مذہب کی بنیاد پر معاشروں اور ممالک کی تقسیم خدا سے وابستہ صفات کے بالکل خلاف ہے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عیسائیوں کے نزدیک امریکی، جو تقریباً تمام عیسائی ہیں، صحیح راستے پر ہوں، جبکہ چین میں رہنے والا ہر شخص کافر ہو؟

اگر خدا موجود ہے تو ہر ذی روح کی اس تک رسائی ایک جیسی ہونی چاہیے۔ یہ سمجھنا مشکل ہے کہ تاریخی حادثات کے نتیجے میں کچھ کو تو اس کی ہدایت پہنچ جائے اور باقی سب اس سے محروم رہ جائیں۔ کچھ صوفیوں کو تو وہ اپنا جلوہ دکھا دے اور باقی اس کی موجودگی سے بھی بے خبر رہیں۔

یہ بحث بہت سے بنیادی سوالات کی طرف لے جاتی ہے :
کیا دنیا میں رائج مذاہب انسانوں کی تخلیق ہیں یا وہ خدا کی عطا کردہ سچائی کی نمائندگی کرتے ہیں؟
کیا مذہب کسی معاشرے کی صرف سماجی اقدار کی نمائندگی کرتا ہے، یا یہ ایک معروضی سچائی کا مظہر ہے؟
انسانوں کے پاس اپنے ایمان کی سچائی کا کیا ثبوت ہے؟
وہ اپنے آپ کو کیسے باور کرائیں کہ وہ صحیح راستے پر ہیں؟

Facebook Comments HS

ڈاکٹر سہیل زبیری

ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس  کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔

suhail-zubairy has 93 posts and counting.See all posts by suhail-zubairy

One thought on “دنیا میں اتنے سارے مذاہب کیوں ہیں؟

  • 03/12/2023 at 9:58 صبح
    Permalink

    اس تحریر کو پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ھے کہ ڈاکٹر صاحب صرف سائنسی موضوعات پر ہی سلیس اور عام فہم انداز میں بات کرنے کا ملکہ نہیں رکھتے بلکہ سماجی اور فلسفیانہ موضوع کو بھی اسی خوبصورتی اور مہارت سے نبھانے کا ہنررکھتے ھیں۔
    بہت عمدہ اور واضح خیالات ۔۔۔

Comments are closed.