نواز شریف کا دورہ متحدہ عرب امارات و سعودی عرب

گزشتہ ہفتہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کی متحدہ عرب امارت آمد اور بعد ازاں سعودی عرب روانگی سے پاکستان میں سیاسی حلقوں میں کھلبلی مچ گئی پاکستان سے 5 ہزار کلومیٹر دور پڑوسی ملک متحدہ عرب امارات میں اچانک نواز شریف کے دورہ سے جہاں طرح طرح کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئی ہیں۔ وہاں سے سعودی عرب روانگی سے قیاس آرائیوں کو مزید تقویت ملی ہے۔ نواز شریف کے دوبئی پہنچنے کے بعد اگلے روز آصف علی زرداری بھی متحدہ عرب امارات پہنچ گئے نواز شریف کو دورہ متحدہ عرب امارات کے دوران دیے گئے سرکاری پروٹوکول سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس دورے کو سرکاری سطح پر اہمیت دی جا رہی ہے۔
نواز شریف کا دورہ اس لحاظ سے غیر معمولی نوعیت کا حامل ہے کہ پاکستان میں عام انتخابات کے انعقاد سے تین ماہ قبل ان کی اچانک متحدہ عرب امارات آمد ہوئی ہے اگرچہ متحدہ عرب امارات میں قیام کے دوران ان کی کسی اعلیٰ شخصیت سے ملاقات کی کوئی خبر منظر عام پر آئی اور نہ ہی نواز شریف سے آصف علی زرداری کی ملاقات کی خبر کی تفصیلات جاری کی گئیں بلکہ ملاقات بارے میں دونوں اطراف نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ دوبئی میں ہونے والی ”سیاست کاری و سفارت کاری“ کے پاکستان کی سیاست پر اثرات کے پیش نظر ملاقات کو خفیہ رکھا گیا لہذا نواز شریف کی دوبئی آمد سے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کے دورے کا مقصد متحدہ عرب امارات کے تاجروں اور صنعت کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی ترغیب دینا ہے۔
پاکستان میں پی ڈی ایم حکومت کے اہم پارٹنر مولانا فضل الرحمن نے بھی دوبئی ملاقاتوں کے بارے ”سن گن“ ہو نے بعد ان کی جانب شدید رد عمل آ گیا ان سے بالا ہی بالا نگران سیٹ اپ، نشستوں کی تقسیم اور عام انتخابات کے بعد صدر اور وزیر اعظم کے مناصب کی بندر بانٹ کی خبروں نے مولانا فضل الرحمن کو مضطرب کر دیا انہوں نے اعتماد لئے بغیر اہم فیصلے کرنے پر تشویش کا اظہار کیا مولانا فضل الرحمنٰ کی پریس کانفرنس نے کام کر دکھایا وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں بلوا لیا وزیر اعظم نے مولانا فضل الرحمن نے ملاقاتوں کے حوالے سے مطمئن کرنے کی کوشش کی تاہم مولانا فضل الرحمن مستقبل کے سیاسی نقشہ پر نواز شریف سے بات چیت کرنے پر مصر ہیں اور وہ ان کو ”کھری کھری“ سنانا چاہتے ہیں لیکن شہباز شریف نے انہیں بڑی حد تک رام کر لیا ہے۔
اس لئے یہ بات وقتی طور دب گئی ہے۔
مریم نواز بھی نواز شریف سے ملاقات کے دوبئی پہنچ گئی ہیں۔ نواز شریف دوبئی میں ہفتہ عشرہ قیام کے بعد جدہ چلے گئے ہیں۔ جہاں ان کی سعودی ولی عہد محمد بن سلطان اور دیگر سعودی حکام سے ملاقاتوں کا امکان ہے۔ نواز شریف رمضان المبارک آخری عشرے کے دوران بھی سعودی عرب کا دورہ کر چکے ہیں۔ سعودی عرب میں قیام کے دوران ان کو سرکاری طور پروٹوکول دیا گیا ان کی ولی عہد محمد بن سلیمان سے ملاقات کا بڑا چرچا سنا گیا ملاقات کے بعد بتایا گیا تھا کہ نواز شریف کچھ دنوں بعد دوبارہ سعودی عرب آئیں گے۔
نواز شریف اور مریم نواز کی سعودی حکام سے ملاقاتوں کی کوئی خبر تو منظر عام پر نہیں آئی البتہ اس دوران سعودی عرب کی طرف سے 2 ارب ڈالر کا تحفہ پاکستان کو موصول ہو گیا پاکستان پر ایٹمی دھماکوں کی وجہ سے معاشی پابندیاں عائد ہوں یا پاکستان مالی مشکلات کا شکار ہو سعودی عرب ہر مشکل وقت میں پاکستان کی مالی امداد کے لئے تیار کھڑا نظر آیا ہے۔ ویسے تو پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان 75 سال سے سے لازوال دوستی قائم ہے۔ اس پورے عرصے کے دوران یمن میں پاکستانی افواج بھجوانے کے معاملہ پر دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں کچھ ماہ کے لئے سرد مہری آئی تھی۔ اسی طرح سابق وزیر اعظم عمران خان کے طرز عمل نے شہزادہ محمد بن سلیمان کو نالاں کر دیا تھا چونکہ دونوں ملکوں کے درمیان ریاستی سطح پر قائم ہیں۔ لہذا سابق وزیر اعظم کے ذاتی طرز عمل کی وجہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بگاڑ نہ آیا۔
نواز شریف کے دور حکومت میں پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان گہرے دوستانہ تعلقات قائم رہے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دوستانہ تعلقات کی وجہ سے ملک کے نئے وزیر اعظم اور آرمی چیف ایک آدھ بار کی بجائے سب سے پہلے سعودی عرب جانے کو ترجیح دیتے رہے ہیں۔ پاکستان میں آئینی و سیاسی بحران ہو یا حکومت کے خلاف تحریک چلائی جا رہی ہو سعودی عرب کے سفیر کی ”دوستانہ مداخلت“ کا حکومت اور اپوزیشن دونوں نے خیرمقدم کیا ہے۔
ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف تحریک میں پاکستان میں سعودی سفیر نے ”ثالث“ کا کردار ادا کیا 23 سال قبل سعودی عرب ہی نواز شریف کو جنرل پرویز مشرف کی دستبرد سے بچا کر اپنے پاس لے گیا تو جنرل پرویز نواز شریف کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکا شریف خاندان 5 سال تک سعودی حکومت کا ”مہمان خاص“ رہا جب 10 دسمبر 2000 ء کو جنرل پرویز مشرف نے شریف خاندان کو ”جلاوطن“ کیا تو جدہ ائر پورٹ پر نواز شریف کا ریڈ کارپٹ استقبال کیا گیا انہیں شاہی مہمان کا درجہ حاصل تھا جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو سعودی حکومت کے حوالے کیا تھا لیکن جس طرح سربراہ مملکت کے طور پر نواز شریف کا استقبال کیا گیا اس سے اسلام آباد کے حکومتی حلقوں میں خاصی پریشانی پائی جاتی تھی۔
28 مئی 1998 ء کو ایٹمی دھماکوں کے بعد پاکستان پر پوری دنیا نے معاشی پابندیاں عائد کر دیں تو سعودی عرب ہی تھا جس نے نواز شریف دور میں 1.8 بلین ڈالر ”موخر ادائیگی“ کی مد میں پاکستان کو مفت تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا جو بعد ازاں نواز شریف کی جلاوطنی کے دوران بھی جاری رہا مجھے سعودی عرب میں پاکستانی سفارت خانہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے بتایا تھا جنرل پرویز مشرف نے سعودی عرب میں نواز شریف کی پذیرائی بارے میں تحقیقات کرائی تو انہیں بتایا گیا کہ ”شاہ فہد نے شریف خاندان کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں شاہ فہد کے خاندان کے افراد شریک ہوئے سعودی حکمران کی طرف سے کسی غیر ملکی مہمان کو اتنی عزت نہیں دی گئی جتنی نواز شریف کو دی گئی اسی طرح نواز شریف نے کسی افریقی ملک کے دورے پر جاتے ہوئے جدہ میں سٹاپ اوور کیا تو شاہ فہد سے خصوصی ملاقات کی اس موقع شاہ فہد نے ان سے واپسی کا پروگرام پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ استنبول رکتے ہوئے اسلام آباد واپس چلے جائیں گے لیکن شاہ فہد نے کہا کہ میں جہاز ترکی بھجوا کر آپ کو جدہ لے آؤں گا۔ لہذا آپ مجھے واپسی پر بھی ملتے جائیں۔ شاہ فہد کے اصرار پر نواز شریف کو اپنا واپسی کا شیڈول تبدیل کرنا پڑا“
جب محترمہ بے نظیر بھٹو 2007 ء میں خود ساختہ جلاوطنی ختم کر کے پاکستان واپس آئیں تو لیول پلیئنگ گراؤنڈ دینے کے لئے سعودی عرب نے مداخلت کر کے نواز شریف کو بھی پاکستان واپس آنے کی اجازت دلوا دی اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نواز شریف اور سعودی حکمران کے درمیان کس قدر قریبی تعلقات ہیں۔ نواز شریف عمران خان کی حکومت میں گئے تو علاج کے لئے لیکن پھر برطانیہ رک گئے اب وہ عام انتخابات کے قریب وطن واپس آنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب آئے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے۔ آئندہ چند دنوں میں ”سفارت کاری اور سیاست کاری“ کے نتیجے میں نواز شریف پاکستان واپس آنے کی تاریخ کا اعلان کر دیں۔
