میثاق پاکستان۔ وقت کی اہم ضرورت


میں نے اس موضوع پر مختلف اوقات میں لکھا ہے۔ میثاق جمہوریت کے بعد آج کل تپتے صحراؤں میں میثاق معیشت کی باز گشت سنائی دیتی رہی ہے۔ میرا خیال ہے لگے ہاتھوں میثاق پاکستان بھی کر ڈالیں اور کرنے والے اپنے آپ اور اپنی نسلوں کے لیے کوئی منا سب سزا بھی تجویز کر ڈالیں۔ انعام و اکرام کی بہاریں تو وہ پہلے سمیٹ چکے۔ پاسبان سینٹ کی منظوری کا بل اس کی ایک مختصر سی جھلک ہے، جس سے کم از کم یہ چیز تو ثابت ہوتی ہے کہ مملکت خداداد کے فیصلہ سازوں کے لئے میثاق پاکستان کرنا اور اس پر عمل کرنا کچھ بھی مشکل نہیں۔ بالخصوص اس وقت جب آئی ایم ایف اپنے تیز دھار آلہ قتل سمیت موت کا سامان لئے ہماری گر دنوں پر پھیرنے کے لئے ہر لمحہ ہمارے سامنے مو جود ہے۔ اب جب کہ آئی ایم ایف سے معاہدہ ہو گیا اور کیا غضب ہوا کہ پورے نو ماہ اب ہم آئی ایم ایف کے لئے نو گو ایریا ہو گئے۔

نو ماہ کے اس عمل کے بعد جو نو مولود اس وقت دنیا میں آنکھ کھو لے گا، وہ کیا دیکھے گا؟ کیا ہی اچھا ہو کہ اس کا نتیجہ میثاق پاکستان ہو۔ سینٹ کے چیئرمین نے جس پیار اور محبت سے اپنے اور آنے والوں کے لیے سوائے تجہیز و تکفین کے، ہر چیز کا بند و بست پاکستان کے لبالب بھرے خزانوں سے کیا ہے، کچھ اس جذبے کے تحت تمام حاکم و محکوم حلقوں کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کے لئے ایک قرار داد پیش کریں جس میں فیصلہ ہو جائے کہ 2050 تک حکمران جو بھی آئے پاکستان آگے بڑھتا رہے۔

اس دنیا میں رہنے کا ایک ہی اصول ہے اور وہ ہے استحکام۔ سیاسی اور معاشی استحکام۔ جو قومیں اس سے دور ہیں ان کو کچل دیا جائے گا۔ کائنات کے رب کو سست لوگ پسند نہیں۔ ہم بحیثیت قوم اس وقت اخلاق، معاش، سیاست اور سماج کے نیچے سے درج اول پر بڑی کامیابی سے براجمان ہیں۔ ہماری حیثیت اس وقت یہ ہے کہ اگر شلوار کا کپڑا پو را کرتے ہیں تو پیٹ ننگا ہو تا ہے اور پیٹ چھپاتے ہیں تو شلوار اتار لی جاتی ہے اور پھر یہ آئی ایم ایف کے لاکر میں غیر معینہ مدت تک چھپا دی جاتی ہے۔

ان تمام مسائل کا ایک ہی حل ہے ہم اپنا ایک معیار بنا لیں۔ سیاسی، معاشی، عسکری، تعلیمی، سماجی معیار۔ ان شعبوں سے جڑے ہم سب اسی ہمسائے سے سبق سیکھیں جو اب ہمیں تھپڑ مارنا بھی وقت کا ضیاع سمجھتا ہے اور آنے والے وقت کا ادراک کریں۔ کیا وقت آیا ہے پاکستان پر کہ اس کا وزیر اعظم ایک ارب ڈالر کے لئے در بدر ہے ان حالات کا ذمہ دار جہاں قاسم کے ابو ہو سکتے ہیں وہاں ابو کو اس مقام بے فیض پر لانے والوں کو بھی اپنی سوچ پر نظر ثانی کر نی پڑے گی۔

مودی کو اگر آج امریکہ میں پذیرائی ملی تو اس کے چائے خانے کی وجہ سے نہیں، چائے خانہ کی سوچ سے نکلنے کی وجہ سے ملی ہے۔ اس کی جیب کے چار پیسوں کی وجہ سے ملی ہے، جمہوریت کی تشکیل کی وجہ سے ملی ہے، اسی ہندوستان کے بطن سے نکلنے والے دو جڑواں بچے، مشرقی اور مغربی پاکستان ہیں۔ مشرقی پاکستان نے حقیقی معنوں میں سب سے پہلے پاکستان کی سوچ پر عمل کیا تو اس کی جیب میں بھی بھاری بھاری بھر کم ہو گئی ہے۔ ہم کب سو چیں گے!

وقت نے ثابت کیا کہ پاکستان کے حکمرانوں کی شلواریں حالات گرا دیتے ہیں اور نتیجہ کے طور پر پاکستان کی شلوار آئی ایم ایف کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ اب یہی وقت ہے ہم اپنے آپ کو سنبھال لیں ورنہ ہم رزق شب بنتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS