اغوا شدہ افسر کا مبینہ بیان اور رانا ثنا اللہ کا جوش و خروش
تحریک انصاف کے چئیر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے ایک ایسے بیان پر سیاسی طوفان اٹھایا گیا ہے جس کی سرکاری طور سے تصدیق نہیں کی گئی۔ وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے پہلے ایک پریس کانفرنس میں اسے عمران خان کا ’سنگین جرم‘ قرار دیا اور اب ایک بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم نے سائفر کیس میں وفاقی تحقیقاتی ادارے کے ساتھ تعاون نہ کیا تو انہیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔
حکومت اور بطور خاص رانا ثنا اللہ کی یہ خواہش تو ہرگز خفیہ نہیں ہے کہ وہ عمران خان کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ابھی تک یا تو عمران خان کو گرفتار کرنے کے لئے حکومت کے پاس کوئی ایسی قانونی بنیاد موجود نہیں ہے یا اس میں سیاسی حوصلہ کی کمی ہے کہ سابق وزیر اعظم کے خلاف بلند بانگ دعوے کرنے، متعدد جرائم کا مرتکب قرار دینے اور قانون کے دائرے میں لانے کے دعوے کرنے کے باوجود ابھی تک انہیں گرفتار نہیں کیا جا سکا۔ عمران خان کے خلاف درجنوں مقدمات قائم کیے گئے ہیں اور بیشتر میں انہیں عدالتوں سے ضمانت ملی ہوئی ہے۔ اب یہ واضح ہو رہا ہے کہ عمران خان کی گرفتاری اور انہیں کسی طریقے سے سیاست سے باہر رکھنے کی کوششوں کا کسی قانون شکنی سے تو کوئی خاص تعلق نہیں ہے لیکن ایسا کرنا حکومت کی سیاسی ضرورت ضرور ہے۔ البتہ شہباز شریف کی حکومت میں اس حوالے سے انتہائی قدم اٹھانے کا حوصلہ بھی نہیں ہے۔
سانحہ 9 مئی کے بعد تحریک انصاف میں وسیع پیمانے پر توڑ پھوڑ ہوئی ہے۔ درجنوں لیڈر پارٹی سے علیحدگی اختیار کرچکے ہیں۔ جہانگیر ترین اور پرویز خٹک کی سربراہی میں دو سیاسی پارٹیاں ’استحکام پاکستان پارٹی‘ اور ’پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرنز بھی وجود میں آ چکی ہیں لیکن عمران خان ابھی تک موجودہ حکومت اور دیگر سیاسی قوتوں کے لئے اہم ترین چیلنج بنے ہوئے ہیں۔ اس چیلنج کا سیاسی طور سے مقابلہ کرنے کی بجائے، حکومت کی خواہش ہے کہ کسی طرح عدالتی کارروائی کے ذریعے انہیں نا اہل قرار دلوا دیا جائے یا ان کا معاملہ فوجی عدالت کے سپرد ہو جائے تاکہ عمران خان کی سیاست کا قلع قمع ہو سکے۔ ابھی تک تو یہ بیل منڈھے نہیں چڑھ سکی۔
کرپشن، دہشت گردی، توشہ خانہ کیس کے علاوہ اب سائفر کے معاملہ کو بنیاد بنا کر عمران خان کے خلاف قانونی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رانا ثنا اللہ بیان بازی کی حد تک اس حوالے سے بہت مستعد ہیں اور ان کی پریس ٹاک یا بیانات پر غور کیا جائے تو یہی ظاہر ہو گا کہ عمران خان ہی ملک کا سب سے بڑا قانون شکن ہے اور اسے جیل بھیجے بغیر ملک ترقی کی شاہراہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ حالانکہ تمام تجزیہ نگار اور عالمی ادارے مسلسل متنبہ کر رہے ہیں کہ ملک میں سیاسی درجہ حرارت کم کرنے اور وسیع تر آہنگی پیدا کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ملکی معیشت کی بحالی کا کام کیا جا سکے۔ رانا ثنا اللہ کے بیانات پر نگاہ ڈالی جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ حکومت ایسے کسی مشورہ کو خاطر میں لانے پر آمادہ نہیں ہے اور اقتدار کے آخری دن تک یہ کوشش کی جاتی رہے گی کہ کسی طرح عمران خان کو کسی معاملہ میں گرفتار کر لیا جائے تاکہ وہ انتخابات کے دوران جیل ہی میں بند ہوں۔
رانا ثنا اللہ خان کو محسوس ہوتا ہے کہ سائفر ایک ایسا ہی معاملہ ہے جس میں عمران خان کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ اور آئینی خلاف ورزی جیسے سنگین الزامات میں سزا دلوائی جا سکتی ہے۔ اسی لئے اعظم خان کا مبینہ بیان سامنے آنے کے بعد ان کا جوش و خروش فزوں تر ہو گیا ہے اور وہ کسی بھی وقت عمران خان کی گرفتاری کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ حالانکہ ابھی تک اعظم خان کے بیان کی نہ تو تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی ضلعی عدالتوں میں اس کا ریکارڈ تلاش کیا جا سکا ہے۔ روزنامہ ڈان کی اطلاع کے مطابق کسی جوڈیشل مجسٹریٹ نے یہ بیان ریکارڈ نہیں کیا۔ یہ ممکن ہے کہ کسی ایگزیکٹو مجسٹریٹ نے ایسا کوئی بیان ریکارڈ کیا ہو لیکن ضلعی عدلیہ کے پاس ابھی اس بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اعظم خان کے وکیل قاسم ودود نے وضاحت کی ہے کہ ان کے مدعی ایک ماہ غائب رہنے کے بعد گھر واپس آئے ہیں۔ ان کی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ خود سے منسوب بیان پر کوئی تبصرہ کرسکیں۔
اعظم خان 22 گریڈ کے اعلیٰ سرکاری افسر ہیں۔ وہ سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد منظور ہونے تک ان کے پرنسپل سیکرٹری کے طور پر خدمات سرانجام دیتے رہے تھے۔ تاہم گزشتہ روز ان سے منسوب ایک بیان سوشل میڈیا پر سامنے آیا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ عمران خان نے سائفر مراسلے کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے ارادہ کیا تھا۔ اس مبینہ بیان کے مطابق ’8 مارچ 2022 کو فارن سیکرٹری نے اعظم خان سے رابطہ کیا اور انہیں امریکہ سے آنے والے سائفر کے بارے میں بتایا۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اس حوالے سے پہلے ہی وزیر اعظم کو مطلع کرچکے تھے۔ بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سائفر دیکھنے کے بعد عمران خان خوشی سے نہال ہو گئے اور ایک امریکی غلطی کی بنیاد پر اینٹی اسٹبلشمنٹ بیانیہ بنانے کا قصد کیا۔ بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ عمران خان نے سائفر اپنے پاس رکھ لیا۔ اگلے روز اعظم خان نے سائفر واپس مانگا تو عمران خان نے انہیں بتایا کہ وہ ان سے گم ہو گیا ہے۔ بار بار کہنے پر بھی عمران خان نے سائفر واپس نہیں کیا۔ بیان کے مطابق سابق پرنسپل سیکرٹری نے اپنے باس کو مشورہ دیا تھا کہ سائفر ایک خفیہ دستاویز ہے، اس لئے اس کے مندرجات عام نہ کیے جائیں‘ ۔
یہ بیان سامنے آنے کے بعد وزیر داخلہ یا کسی دوسرے سرکاری ذرائع نے عوام کو یہ معلومات فراہم کرنے کی کوشش تو نہیں کی کہ اس خبر کی حقیقت کیا ہے جو افواہ کے طور پر سوشل میڈیا سے ہوتی ہوئی اب غیر مصدقہ خبر کے طور پر مین اسٹریم میڈیا میں رپورٹ ہو رہی ہے۔ اگر ایسا کوئی بیان ایک اعلیٰ سرکاری افسر نے قانونی تقاضوں کے مطابق ریکارڈ کروایا ہے تو کیا وجہ ہے کہ اسے غیر مصدقہ طور سے سوشل میڈیا کے ذریعے تو پھیلایا جا رہا ہے لیکن اس پر کوئی سرکاری بیان یا معلومات سامنے نہیں آئیں۔ رانا ثنا اللہ نے البتہ پریس کانفرنس منعقد کر کے سائفر کے حوالے سے عمران خان پر الزام تراشی کا سلسلہ شروع کر دیا اور انہیں ریاست کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب بھی قرار دیا۔ البتہ وزیر داخلہ کو اس حقیقت سے کوئی پریشانی لاحق نہیں تھی کہ بائیس گریڈ کے جس اعلیٰ افسر کے جس مبینہ بیان پر یہ سارا افسانہ گھڑا جا رہا ہے، اس کی گمشدگی کے بارے میں حکومت کا کیا موقف ہے۔
اعظم خان 15 جون کو اپنے گھر سے باہر گئے تھے پھر واپس نہیں آئے۔ اسلام آباد پولیس کے پاس ان کے اغوا کا مقدمہ بھی درج کروایا گیا تھا اور ان کی بازیابی کے لئے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن بھی دائر کی گئی تھی جو ابھی تک زیر التوا ہے۔ بدھ کو سائفر کے حوالے سے عمران خان پر الزامات عائد کرنے والا مبینہ بیان سامنے آنے کے بعد اعظم خان بھی اپنے گھر واپس آ گئے۔ وفاقی حکومت اور قانون کی عملداری کے معاملات دیکھنے والے وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ ایک اعلیٰ سرکاری افسر کے یوں غائب ہو جانے پر مہر بہ لب رہے۔ حالانکہ اگر دارالحکومت میں ایک اعلیٰ سرکاری افسر محفوظ نہیں ہے تو عام شہریوں کو کیسے ان کی سلامتی کی ضمانت دی جا سکتی ہے۔ لیکن وہی وزیر داخلہ پر اسرار طور سے غائب رہنے والے اس افسر کے بیان پر عمران خان کے خلاف سنگین قانونی اور سیاسی مقدمہ قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اعظم خان کی گمشدگی اور ایک بیان کے جلو میں ان کی اچانک واپسی عمران خان کی کسی مبینہ قانون شکنی سے زیادہ حکومت اور ریاستی اداروں کے ماورائے قانون ہتھکنڈوں کی کہانی بیان کرتی ہے۔ کسی شخص کو اچانک اٹھا کر اس سے مرضی کا بیان حاصل کرنے کا طریقہ ایک شرمناک واردات ہے لیکن ملک میں قانون نافذ کرنے والے اور انصاف فراہم کرنے والے سب ادارے اس پر پراسرار خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ ایسے ملک میں کیوں کر انصاف کی امید کی جا سکتی ہے اور کیسے مانا جاسکتا ہے کہ یہ نظام واقعی حقائق کی بنیاد پر کسی شخص کے قصور وار یا بے قصور ہونے کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
گزشتہ سال عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد سامنے آنے سے ذرا پہلے امریکہ میں پاکستانی سفیر سے ایک اعلیٰ امریکی عہدیدار نے پاک امریکہ تعلقات کے بارے میں کچھ باتیں کی تھیں جنہیں متعلقہ سفیر نے ضابطہ کے مطابق ایک سائفر مراسلہ کے ذریعے وزارت خارجہ کو مطلع کر دیا تھا۔ عمران خان نے اپنے اقتدار کو لاحق خطرے سے نمٹنے کے لئے تحریک عدم اعتماد کو امریکی سازش قرار دیا۔ اقتدار سے محروم ہونے کے بعد اس بیانیہ میں شدت پیدا کی گئی اور دعویٰ کیا کہ ملکی اسٹبلشمنٹ نے امریکی خواہش پر ان کی حکومت کے خلاف سازش کی تھی۔ ان الزامات کا کوئی ثبوت نہ تو عمران خان نے پیش کیا ہے اور نہ ہی سرکاری سطح پر اس معاملہ کی تحقیقات کر کے حقیقت سے عوام کو آگاہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ البتہ ایک بار پھر حکومت اور عمران خان دونوں سائفر کی بنیاد پر سیاست کرنے اور ایک دوسرے پر الزام تراشی کا اہتمام کر رہے ہیں۔
عمران خان نے اعظم خان کا مبینہ بیان سامنے آنے پر اسے ماننے سے انکار کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ ’میں وہ ساری غیر سنسر شدہ معلومات سامنے لاؤں گا کہ کیسے ایک حکومت کا تختہ الٹنے کی سازش کی گئی۔ میں یقین دلاتا ہوں کہ یہ معلومات ٹیلی ویژن پر کسی ڈرامہ سے زیادہ دلچسپ ہوں گی‘ ۔ الزام اور جوابی الزام تراشی کی اس مہم میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ملک کے اعلیٰ ترین سیاسی لیڈر سیاسی ہیجان برقرار رکھنے کے لئے کوئی بھی ہتھکنڈا اختیار کر سکتے ہیں اور کسی بھی جھوٹ کا سہارا لے سکتے ہیں۔ یہ رویہ ملک میں جمہوریت کا راستہ ہی کھوٹا نہیں کرتا بلکہ معاشی تباہی کو براہ راست دعوت دینے کے مترادف ہے۔


