بھینگی چڑیل اور اندھا بھوت (ڈرامہ)
”چار نانوشتہ اور غیر معین کردار ایک اسٹیج پر جو اترتی ہوئی باڑھ کی طرح آہستہ آہستہ گھلتا مٹتا جا رہا ہے، یا کسی گرد آلود کینوس پر مسلط پرچھائیاں۔“
کردار
1۔ انور: 32 سالہ شاعر اور ناول نگار، عذرا کے شوہر
2۔ عذرا: 30 سالہ شاعرہ اور نثر نگار
3۔ نبیل: 25 سالہ شاعر اور نقاد
4۔ ثانیہ: 27 سالہ شاعرہ اور کال گرل
پہلا منظر
”فینٹم آڈیٹوریم۔ اسٹیج پر رنگ برنگی مکڑیاں دیواروں پر رنگ برنگے جالے بنانے میں مصروف۔ یوں لگ رہا ہے جیسے بڑے بڑے پردے خود کو رنگین دھاگوں سے بار بار بن رہے ہیں۔ چار رنگ کی روشنیاں۔ کم نیلی، زیادہ نیلی، کم سیاہ، زیادہ سیاہ۔ چار رنگ کے اندھیرے۔ زیادہ سیاہ، کم سیاہ، زیادہ نیلے، کم نیلے۔ ایک چہار دست بھوت چار کرسیاں لایا۔ ایک چہار پا چڑیل نے انہیں اوندھا کر دیا۔ ایک سر کٹے نے ساؤنڈ سسٹم چیک کیا۔ ایک آواز گونجی: لے آؤ! چار اڑن قالین اسٹیج پر اترے۔ ایک قالین پر عذرا، دوسرے پر ثانیہ، تیسرے پر انور، چوتھے پر نبیل! چاروں اوندھی کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ وہی آواز: سب آجائیں! ۔ ہال بھر گیا۔ وہ آواز: میک اپ! ایک چڑیل چار ہاتھوں سے چاروں کا میک اپ کر کے چلی گئی۔ عذرا بوڑھی پچھل پیری، نبیل اندھا بھوت، ثانیہ چھوٹی آنکھوں والی شکاری چڑیل اور انور بیمار سرکٹا!“
وہی آواز: ہم چھلاوا میموریل ادبی میلے میں مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ ہماری میک اپ آرٹسٹ نے انہیں ہماری شکل کا بنا دیا ہے۔ یہ بہروپ یا اصلی روپ انسانوں کے لیے زیادہ دیر تک قابل برداشت نہیں ہوتا۔ اس لیے جلدی کرنی چاہیے۔
”اسٹیج پر بیٹھے چاروں مہمان ایک دوسرے کو دیکھ کر کہہ رہے ہیں : بالکل یہی!“
وہی آواز: معزز مہمانوں سے پہلا سوال۔ آپ نے ہمارا ادب پڑھا ہے؟
انور: جی پڑھا ہے۔
عذرا: پڑھا تو نہیں لیکن لکھا ہے۔
نبیل: پڑھا نہیں، سنا ہے۔
ثانیہ: میری دلچسپی ادب سے نہیں، ادیب بلکہ ادیبوں سے ہے۔
وہی آواز: ہمارے یہاں ایک بحث چل رہی ہے۔ تخلیقی عمل کیا ہوتا ہے؟
انور: ہماری طرف سے اس سوال کا جواب ثانیہ دیں گی۔ (ثانیہ سے ) کہو!
عذرا (غرا کر) :لیکن یہ جواب میری طرف سے نہیں ہو گا!
نبیل (انور کو گھورتے ہوئے ) : میری طرف سے بھی نہیں!
وہی آواز: ٹھیک ہے۔ جی ثانیہ!
ثانیہ: تخلیقی عمل کے لیے کچھ چیزیں لازمی ہیں۔ اندھیرا، اسپرنگ میٹریس۔ اور۔
نبیل: اور کم از کم پچاس منٹ۔
عذرا (دانت پیستے ہوئے زیر لب) :حرام زادی!
انور (عذرا کو دیکھتے ہوئے ) : نبیل جھوٹ بول رہا ہے!
ثانیہ (اٹھلا کر) :نہیں، نبیل سچ بول رہا ہے!
عذرا (انور کے کان میں ) : تمھیں تو میں دیکھ لوں گی!
”ہال میں موجود مجمع نعرے لگا رہا ہے۔ ثانیہ، ثانیہ!“
وہی آواز: آپ کی فرمائش پوری ہو گی۔ بیٹھ جائیں، بیٹھ جائیں!
”شور ختم ہو گیا۔“
وہی آواز: مس ثانیہ! برا تو نہیں لگا؟
ثانیہ: میں تو تخلیقی عمل میں انقلاب آتا دیکھ رہی ہوں!
”عذرا اٹھ جاتی ہے۔ انور کو کان سے اور نبیل کو بالوں سے پکڑ کر کھڑا کر دیتی ہے۔ انتظامیہ کا ایک بھوت عذرا کے پاؤں پڑ جاتا ہے۔ عذرا، انور کو بالوں سے اور نبیل کو کان سے پکڑ کر بٹھا دیتی ہے۔“
وہی آواز: میڈم عذرا۔ بس 15 منٹ! بہت شکریہ۔
ثانیہ: نبیل کی تو ایسی تیسی کرتی ہوں ابھی، یہیں!
نبیل: یہاں تو بہت روشنی ہے!
وہ آواز: مس ثانیہ! ہمارے پاس دس منٹ ہیں! پلیز۔
ثانیہ: یہ تو کچھ بھی نہیں۔ آپ نے نبیل کی بات نہیں سنی تھی؟
وہی آواز: آپ کسی انقلاب کی بات کر رہی تھیں؟
ثانیہ: اچھا تو وہ۔
وہی آواز: جی وہی۔ وقت کم ہے۔ پلیز!
ثانیہ: وہ۔ وہ، ہاں۔ تخلیقی عمل، مشترکہ۔
”ہال میں شور اٹھا۔ جلدی، جلدی!“
ثانیہ: ہاں ہاں، جلدی بہت جلدی!
وہی آواز: مس ثانیہ! پلیز۔
ثانیہ: ہاں جی، تخلیقی عمل۔ میری۔ نہیں ہماری اور آپ کی پارٹنرشپ سے آئے گا وہ انقلاب!
”تالیاں اور نعرے۔ تالی تالی۔ ثانیہ۔ تالی تالی۔ انقلاب۔ تالی تالی۔ ثانیہ۔“
وہی آواز: گریٹ آئیڈیا! تخلیقی تجربے کی ساخت ہی بدل جائے گی۔ نئے احساسات، نئے خیالات، نئے لفظ، نئے معنی۔ گریٹ!
ثانیہ (بے زاری سے ) : ادب کو بیچ میں لانا ضروری نہیں ہے۔
وہی آواز: اچھا۔ نیا وجود، نیا شعور۔
ثانیہ (بات کاٹتے ہوئے ) : نیا جسم، نئی پیاس، نیا پانی!
وہی آواز: مس ثانیہ، آپ کا سمبلزم بہت گہرا ہے!
ثانیہ: کیونکہ میں بہت گہری ہوں!
وہی آواز: اجازت دیں تو آپ کے ایک سابق شوہر کی مدد حاصل کر لوں؟
ثانیہ: کون سا؟ نبیل؟
وہی آواز: جی۔ نبیل صاحب آپ کی گہرائی سے واقف ہیں۔
ثانیہ (غصے سے ) : خود غرض، کنجوس، کنگلا۔
وہی آواز: میں سمجھا نہیں مس ثانیہ!
ثانیہ: یہ ظالم، یہ لالچی۔ سارے موتی خود نکالنا چاہتا تھا۔ میری گہرائی میں اکیلے تیراکی۔
”ہال میں ہنگامہ۔ ثانیہ کا دشمن مردہ باد، لعنت لعنت لعنت، ظالم نبیل پہ لعنت، ثانیہ کا دشمن مردہ باد۔“
نبیل (چھت کی طرف منہ کر کے ) : جناب! میں خود کو خطرے میں محسوس کر رہا ہوں۔
وہی آواز: مجھے افسوس ہے مسٹر نبیل! آج کا سیشن ختم۔ کل اسٹیج پر اکیلی مس ثانیہ ہوں گی۔ اپنے پسندیدہ اسپرنگ میٹریس پر۔
دوسرا منظر
”انور کا چھوٹا سا ڈرائنگ روم۔ میلا سا قالین۔ اس پر پلاسٹک کی دو کرسیاں اور روئی کا ایک گدا۔ انور اور عذرا کرسیوں پر بیٹھ گئے۔ نبیل ڈر ڈر کے تھک چکا ہے۔ وہ گدے پر لیٹ گیا۔ ثانیہ باتھ روم میں ہے۔ عذرا غصے سے کھول رہی ہے۔ انور اکتانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نبیل ناخن چبا رہا ہے۔ سب کی آنکھیں بند ہیں۔ ثانیہ گیلا منہ لیے آتی ہے۔ نبیل کے پیٹ پر ٹھوڑی رکھ کر اپنے پیٹ کے بل لیٹ جاتی ہے۔ نبیل کی آواز سے پہلے عذرا کی آنکھ کھلتی ہے، پھر انور کی۔ عذرا، ’حرام زادی‘ کہتی ہے اور فلیٹ کے دوسرے کمرے میں چلی جاتی ہے۔ ثانیہ گھوم کر چت ہو جاتی ہے اور ایک زہریلی ہنسی ہنستی ہے۔“
ثانیہ: حرام زادی۔ آہ، حرام زادی! کتنی آگ ہے اس لفظ میں۔
نبیل : کم از کم منہ تو پونچھ لیتیں۔
ثانیہ: مجھے گیلا رہنا اچھا لگتا ہے۔
”انور اپنی گردن، چہرہ اور سر ٹٹولتا ہے اور اداس ہو جاتا ہے۔ یہی عمل ترتیب بدل کے کرتا ہے اور زیادہ اداس ہو جاتا ہے۔“
انور (خود کلامی) : پھر سے آدمی۔ عذرا کا شوہر!
ثانیہ (انور سے ) : کبھی تو آدمی بن جایا کرو۔
انور (خوش ہو کر) : اچھا تو آدمی نہیں بنا میں!
ثانیہ: ہونہہ۔ تم سر کٹے ہی رہو گے!
انور: اور۔ تمھیں سر کٹے پسند ہیں!
ثانیہ (کروٹ لے کر نبیل کو گدگدی کرتے ہوئے ) : نہیں، دم کٹے!
انور (منہ بنا کر) : عجیب بات ہے۔
ثانیہ: مایوسی گناہ ہے۔ ثانیہ کے لیے سب چونیاں اٹھنیاں ایک ہیں!
”انور چیخ چیخ کر ہنسنے لگا۔ عذرا پھنکارتی ہوئی واپس آ گئی۔ انور کی کرسی الٹ کر ثانیہ پر اچھلنے اور نبیل کو کچلنے لگی۔ ثانیہ نے آسن بدلا۔ عذرا، انور پر گرنے تک حیران رہی۔ گر چکنے کے بعد رونے لگی۔ انور کے سر پر گومڑ بن گیا۔“
انور (گومڑ کو سہلاتے ہوئے ) : سر کٹوں کو ان مسائل کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔
عذرا: حرام زادی اپنا تخلیقی عمل کر آئی ہے۔
”عذرا کے بے ہوش ہوتے ہی نبیل فلیٹ سے نکل جاتا ہے۔“
انور: مٹاپے کا یہی نقصان ہے!
ثانیہ: مجھے حرام زادی سننا اچھا لگتا ہے۔ مگر یہ تو بے ہوش ہو گئی!
انور: یہ بے ہوش ہو گئی۔ اور میں ہوش میں آ گیا۔
ثانیہ: ارے یہ نبیل کہاں بھاگ گیا؟ کمینہ، مطلبی۔
انور (مفکرانہ انداز سے ) : طلاق نامہ سنبھال کر رکھنا!
ثانیہ: ہاں ہاں۔ میں نے تو اس کی کاپیاں بھی کروا لی ہیں۔ اگلے شوہروں کے لیے!
انور (تائید میں سر ہلاتے ہوئے ) : بالکل۔ نبیل کا ہینڈ رائٹنگ بہت خوبصورت ہے۔
ثانیہ : یہ خوب صورتی ہی تو سب سے بڑا مسئلہ ہے!
انور: اس نے طلاق کیوں دے دی؟ اور وہ بھی ایسی خوش نویسی کے ساتھ۔
ثانیہ: اسے لکھنا اچھا لگتا ہے۔
انور: تم نے اس کے بچے بھی تو مار دیے!
ثانیہ (ہنستے ہوئے ) : اس کے۔ تمھارا مطلب ہے اس کے۔ نبیل کے بچے؟
انور: اور تمھارے بھی۔
ثانیہ (سنجیدہ ہو کر) : دیکھو انور! میں نہ قاتل ہوں نہ مقتول! سمجھے؟
انور: تمھاری باتیں کون سمجھ سکتا ہے!
ثانیہ: کوئی بچہ نہ مرا نہ مارا!
”عذرا کو ہوش آ چکا ہے لیکن وہ آنکھیں نہیں کھول رہی۔“
انور: رات زیادہ ہو گئی ہے۔ اب جاؤ!
ثانیہ: عذرا کو ہوش میں آنے دو۔ حرام زادی سن کر چلی جاؤں گی۔
”عذرا کے منہ سے بے اختیار حرام زادی نکل گیا۔ اسے آنکھیں کھولنی پڑیں۔“
انور (بہت زیادہ گھبرا کر) : عذرا تم ٹھیک تو نہیں ہو گئیں؟
”ثانیہ، عذرا کا سر دبانے لگی۔“
ثانیہ: کہو عذرا، میری پیاری عذرا، کہتی جاؤ۔
عذرا (غصے سے ) : حرام زادی۔ (سکون سے ) حرام زادی۔ (پیار سے ) حرام زادی۔
تیسرا منظر
”ثانیہ کا گھر۔ کھانے کی میز پر انور، عذرا اور ثانیہ۔“
ثانیہ: دیکھ لیا!
عذرا: ایک تو تم صاف بات نہیں کرتیں۔ کیا دیکھ لیا؟
ثانیہ: وہ بے حس، سفاک، آوارہ۔ نہیں آیا!
انور: چھوڑو۔ کیسا رہا بھوتوں کا میلہ؟
ثانیہ: جب میں نے کہہ دیا کہ کوئی بچہ نہیں مرا۔ تو پھر نہ آنے کی وجہ؟
عذرا (گھبرا کر) : بھئی، ڈراؤنی باتیں نہ کرو! ہم انسان ہیں۔
انور: یہی تو المیہ ہے کہ ہم انسان ہیں۔
ثانیہ: مجھے شاید لمبی مدت تک بھوتوں میں رہنا پڑے۔
عذرا (خوف سے لرزتے ہوئے ) : تم پھر واپس تو نہیں آؤ گی؟
ثانیہ: اگر بھوت کام کے نکلے تو نہیں آؤں گی۔
انور: نبیل کو بتا کے جانا!
ثانیہ: ہر گز نہیں! پہلے بھی نبیل کو بس میرا آنا پتا چلتا تھا۔ جانا نہیں۔
انور: ٹھیک ہے۔ لیکن اس کے بچے۔
ثانیہ: میں اسی طرف آ رہی تھی۔
عذرا: مگر تم تو جا رہی تھیں؟
ثانیہ: آؤں گی تو جاؤں گی۔
”ثانیہ کا بھائی آ کر اطلاع دیتا ہے کہ آج کا کلائنٹ آ چکا ہے۔“
ثانیہ: آدمی ہے یا بھوت؟
ثانیہ کا بھائی: پتا نہیں۔
عذرا: ٹھہرو میں دیکھتی ہوں۔
”عذرا جاتی ہے۔ فوراً واپس آ جاتی ہے۔“
عذرا: میں کہتی ہوں وہ بھوت ہی تھا۔
انور: تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟
عذرا: آدمی ہوتا تو مجھے دیکھ کر اتنی تیزی سے نہ بھاگتا۔
ثانیہ: نہیں عذرا۔ بھوت بھاگتے نہیں ہیں، اڑتے ہیں!
انور (ثانیہ سے ) : تم کچھ کہنے لگی تھیں؟
ثانیہ: میں نے ہر بچہ اکیلے جنا ہے۔ سب سے چھپا کر!
عذرا: اے لو، یہ کیا بات ہوئی!
ثانیہ: میرا ہر بچہ اپنے باپ پر جاتا ہے۔
عذرا (جھنجھلا کر) : ارے اس میں تمھاری کیا انفرادیت ہے۔
ثانیہ: جس کا ہوتا ہے، اسے دے آتی ہوں!
انور: لیکن نبیل کو تو۔
ثانیہ: اس معاملے میں کبھی کسی کا حق نہیں مارا۔ اور نہ ماروں گی!
انور: پھر بھی نبیل کو تو۔
ثانیہ: کلائنٹ بھاگ گیا ہے۔ مجھے کچھ اور نہیں کہنا!
انور (بے بسی سے ) : تمھاری مرضی!
”عذرا نے اپنی ایک نظم سنائی۔ ثانیہ نے ایک کا غذ انور کو دیا۔“
ثانیہ: پڑھ سکتے ہو تو سنا دو!
انور (کاغذ پر نظر جمائے ہوئے ) : لیکن یہ تو گورمکھی میں ہے۔
ثانیہ: چلو پھر اسی کو دے دینا!
”گھنٹی بجی۔ عذرا پھر اٹھنے لگی۔ ثانیہ نے روک دیا۔“
ثانیہ: میں جانتی ہوں۔ یہ اڑنے والا ہے، بھاگنے والا نہیں۔
”ثانیہ نے انور سے صرف ہاتھ ملایا۔ عذرا کو گلے سے لگایا، ماتھا چوما، گالی دی اور روتے ہوئے الگ ہو گئی۔“
عذرا: حرام زادی!
ثانیہ: وہاں یہی نام رکھ لوں گی۔ خدا حافظ!



یہ کیا بکواس ہے