نگران سیٹ اپ اور اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی
یہ 2020 کی بات ہے جب بلوچستان میں جام کمال خان کی حکومت، موجودہ وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو سپیکر صوبائی اسمبلی تھے، تب جمعیت العلما اسلام اور بلوچستان نیشنل پارٹی آج کی طرح ”فرینڈلی“ نہیں بلکہ حقیقی اپوزیشن جماعتیں تھیں، تب صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایک حکومتی رکن نے اپوزیشن لیڈر پر ان کی ٹوپی کو لے کر ایک نامناسب جملہ کسا۔ جس پر ایوان میں خوب شور شرابا ہوا، اپوزیشن اراکین نے ایجنڈے کی کاپیاں پھاڑیں، واک آؤٹ کیا اور اس دوران سپیکر نے غیر پارلیمانی الفاظ ایوان کی کارروائی سے حذف کرا دیے۔
اپوزیشن لیڈر سے متعلق اے این پی کے رکن ملک نعیم بازئی کے ریمارکس نامناسب تھے لیکن اس وقت جب اراکین ایک دوسرے سے لڑ رہے تھے اور اسمبلی کے میڈیا ہال میں موجود صحافی اور آفیشل گیلری میں بیٹھے افسران اس صورتحال سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ اس وقت ”اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی“ کو لے کر میرے ذہن میں ایک پوری فلم چلنے لگی۔ میری مراد اس ٹوپی سے ہے جو اپوزیشن کی اکثریتی جماعت کے پارلیمانی لیڈر کے حصے میں آتی ہے اور جس کے فوائد ہی فوائد ہوا کرتے ہیں وزیر نہ ہوتے ہوئے بھی وزیر جیسا پروٹوکول، اسمبلی سیکرٹریٹ میں ایک پورا چیمبر، ماتحت عملہ، بیت المال کے روپے پیسوں کا بے دریغ استعمال، بجٹ میں من چاہی سکیموں کی شمولیت، اے سیز، ایکسیئن، ایس ڈوز اور کنٹریکٹرز کی ”سلامیاں“ اور سب سے بڑھ کر آئینی تقاضے کے تحت نگران سیٹ اپ کے لئے لازم قرار دی گئی مشاورت۔ لہٰذا اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی بہت باکمال اور دودھ دینے والی گائے ہوا کرتی ہے۔ راجہ ریاض اور حلیم عادل شیخ یا مرکز اور سندھ کے معاملات کا مجھے نہیں پتہ میں فقط بلوچستان کے تناظر میں بات کروں گا۔
تقریباً ہر زبان کے نثری اور فوک ادب میں اڑنے والی جائے نماز، سلیمانی ٹوپی، زنبیل اور اس جیسی دیگر دیو مالائی چیزوں کا ذکر ہم میں سے اکثر نے پڑھا اور سنا ہو گا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ یہ اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی بھی اسی نوعیت کی کوئی شے ہے۔
ان دنوں چونکہ حکومت کے خاتمے اور اسمبلیوں کی تحلیل کا معاملہ درپیش ہے اس لئے اپوزیشن لیڈر کی ”ٹوپی“ کی وقعت و حیثیت مزید بڑھ گئی ہے۔ ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے قبل سابق دور میں یہ ٹوپی جمعیت ہی کے پارلیمانی لیڈر مولانا عبدالواسع کے سر پر تھی لیکن مولانا عبدالواسع کو اس ٹوپی کے فوائد و ثمرات سمیٹنے کا موقع نہیں مل سکا کیونکہ نگران سیٹ اپ کی تشکیل کی نوبت آنے سے قبل ہی ان ہاؤس تبدیلی ہوئی، نواب ثنا اللہ زہری رخصت ہوئے میر عبدالقدوس بزنجو وزیراعلیٰ بلوچستان بنے تو پشتونخوا ملی عوامی پارٹی نیشنل پارٹی کو لے کر اپوزیشن میں آ گئی اور عبدالرحیم زیارتوال اپوزیشن لیڈر بن گئے۔ اپوزیشن لیڈر کی ٹوپی زیارتوال نے آخری دنوں میں پہنی اور حسن اتفاق کہ جس وقت میں انہوں نے یہ ٹوپی پہنی اس کی ویلیو غیر معمولی تھی۔
اٹھارہویں آئینی ترمیم کے نتیجے میں جہاں صوبوں کو اختیارات ملے اور بہت سی دیگر ترامیم ہوئیں، وہاں اٹھارہویں ترمیم کے تحت ایک اہم فیصلہ یہ ہوا کہ آئندہ اسمبلی کی تحلیل یا مدت مکمل ہونے پر جانے والے قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف مل کر نگران وزیراعلیٰ کا تقرر کریں گے۔
آئین کے آرٹیکل دو سو چوبیس کی شق دو سے چار کے مطابق قائد ایوان اور قائد حزب اختلاف تین روز کے اندر نگران وزیراعلیٰ کے لئے کسی ایک نام پر اتفاق کریں گے ( مروج طریق کار یہ ہے کہ دونوں جانب سے تین تین نام رکھے جاتے ہیں ) تین روز میں اگر یہ دونوں شخصیات متفق نہیں ہوتیں تو سپیکر ایک پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے گا حکومت اور اپوزیشن کے تین تین اراکین یعنی چھ رکنی پارلیمانی کمیٹی بھی اگر نگران وزیراعلیٰ کے لئے کسی ایک نام پر متفق نہیں ہوتی تو معاملہ الیکشن کمیشن کے پاس چلا جاتا ہے جو دو دنوں میں بھیجے گئے ناموں میں کسی ایک کا تقرر بطور نگران وزیراعلیٰ کر دیتا ہے۔ 2018 میں عبدالقدوس بزنجو اور عبدالرحیم زیارتوال کسی نام پر متفق نہیں ہوئے وہاں سے پارلیمانی کمیٹی اور پارلیمانی کمیٹی سے یہ معاملہ الیکشن کمیشن میں گیا تو الیکشن کمیشن نے میر علا الدین مری کا تقرر بطور نگران وزیراعلیٰ کر دیا۔ علا الدین مری معروف سیاستدان نہیں تاہم بڑے بزنس مین ہیں۔
اب حال کی بات کرتے ہیں قائد ایوان پھر سے میر عبدالقدوس بزنجو ہیں اور اپوزیشن لیڈر ہیں ملک سکندر خان ایڈووکیٹ۔ دو روز قبل وزیراعلیٰ نے اراکین اسمبلی کے اعزاز میں عشائیہ دیا جس میں وزیراعلیٰ نے متحدہ اپوزیشن کے اراکین سے الگ ملاقات بھی کی تاہم اپوزیشن لیڈر ملک سکندر کوئٹہ سے باہر ہونے کی بنا پر اس ملاقات میں شریک نہیں ہوئے البتہ شنید میں ہے کہ اس اجلاس میں ابتدائی طور پر یہی طے پایا ہے کہ 2018 والا کام نہیں کیا جائے گا۔ کوشش یہ کی جائے گی کہ معاملہ الیکشن کمیشن تو درکنار، سپیکر کے پاس بھی نہ جائے اور لیڈر آف دی ہاؤس اور لیڈر آف دی اپوزیشن کی باہمی مشاورت کے پہلے سٹیج پر ہی کسی ایک نام پر اتفاق کر لیا جائے۔ بلوچستان کی موجودہ اسمبلی کی آئینی مدت 12 اگست کی رات پوری ہو رہی ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اگست کے پہلے ہفتے تک تمام معاملات طے کرلئے جائیں گے۔ ان دنوں بلوچستان میں وہی سابقہ روایات پھر سے دہرائی جانے لگی ہیں۔ اخبارات میں بیانات آرہے ہیں کہ ”فلاں کو نگران وزیراعلیٰ“ بنایا جائے، سوشل میڈیا پر مرد و خواتین شخصیات کے لئے ”توجہ دلاؤ“ مہم جا رہی ہے کسی کی پیشہ ورانہ خدمات گنوائی جا رہی ہیں کسی کی سیاسی اور سماجی خدمات، حتیٰ کہ ایسے بھی صاحبان ہیں جو سوشل میڈیا پر خود اپنی آئی ڈی اور اپنے نام سے اپنے لئے لاحاصل لابنگ کر رہے ہیں کہ کسی طرح نگران سیٹ اپ کا حصہ بنیں۔
اس طرح کے مواقع پر عام طور پر میڈیا پر رپورٹ ہونے والی خبریں غلط ہی ثابت ہوتی ہیں کیونکہ جن کا تقرر کرنا ہوتا ہے ان کا نام اس طرح کی فضول مہمات میں کہیں شامل نہیں ہوتا۔ دو ہزار اٹھارہ میں علا الدین مری اور ان سے پہلے 2013 میں نواب غوث بخش باروزئی کا تقرر اس کی بین مثال ہے ( نواب غوث بخش باروزئی کا نام اس بار بھی زیر غور ہے) فی الحال بلوچستان عوامی پارٹی کے متعدد رہنما اپنے ”پیاروں“ کے لئے لابنگ کر رہے ہیں صادق سنجرانی کے چھوٹے بھائی میر اعجاز سنجرانی، ملک عنایت اللہ کاسی، سردار اسد مینگل، سینیٹر کہدہ بابر، منیر بادینی اور بہروز ریکی کے ناموں کی صدائے بازگشت جاری ہے لیکن یہ سب ابھی غیر مصدقہ یا ہو سکتا ہے کہ کہیں سے صحافیوں کو فیڈ شدہ خبریں ہوں۔ اردو نیوز کے زین الدین نے اس حوالے سے ایک سٹوری کی ہے جس میں انہوں وزیراعلیٰ بزنجو کے قریب سمجھے جانے والے سینئر صحافی عرفان سعید کا تجزیہ بھی لیا ہے۔ عرفان سعید کے بقول ”عبدالقدوس بزنجو اور سردار اختر مینگل کے درمیان رابطہ بھی ہوا ہے ایسی کئی شخصیات موجود ہیں جو بزنجو اور مینگل سے قریبی تعلقات رکھتے ہیں اور ایسی ہی کسی شخصیت کو ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ایسی صورت میں حزب اختلاف کی سب سے بڑی جماعت جمعیت علما اسلام کو راضی کرنے کے لیے ان کی پسند کی وزارتیں دی جائیں گی“


