میڈیائی ذرائع۔ مثبت و منفی پہلو



دورِ حاضر میں انسانی ایجادات اور ذہنی تنوّع میں شب و روز تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ یہ تبدیلیاں جہاں سماجی و معاشرتی رہن سہن اور بودوباش پر اثر انداز ہو رہی ہیں وہیں انسانی اذہان پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی ہیں۔ آج کا انسان سو سال پہلے کے انسان سے کہیں زیادہ سہل پسند نظر آتا ہے۔ اس سہل پسندی اور ذہنی آسودگی کی بنیادی وجہ صد سالہ قبل کے وسائل کے مقابلہ میں حالیہ آسائش و سہولیات کی بروقت فراہمی ہے۔

انسان جس سماج میں پروان چڑھتا ہے وہاں کے حالات و واقعات اس کے قلب و اذہان پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ ان حالات و واقعات کی تقریری یا عملی سرگرمیاں جہاں اس کے ذہن پر نقش چھوڑتی ہیں وہیں اس کی جسمانی ساخت پر بھی مثبت و منفی دھارے دیکھنے کو ملتے ہیں۔

دورِ جدید میں دنیائے عالم میں آئے روز رونما ہونے والے واقعات کا سماج پر اثرات مرتب کرنا کوئی انہونی بات نہیں، لیکن اہم سوال یہ ہے کہ ان حالات و واقعات کی رسائی کے اہم ذرائع کون کون سے ہیں؟ یہ ذرائع کس قدر قابلِ اعتبار ہیں؟ ان ذرائع کا استعمال سماج اور با الخصوص نوجوان نسل کس پیرائے میں کر رہی ہے؟ اور ان ذرائع کے مثبت و منفی پہلو کون کون سے ہیں؟

اکیسویں صدی کا انسان ہر ہر لمحہ دنیا سے خود کو باخبر رکھتا ہے۔ یہ آگاہی اس کو ذہنی وسعت اور قلبی آسودگی کے ساتھ ساتھ جسمانی ترقی کے لیے بھی سامان بہم پہنچاتی ہے۔ ہر چڑھتے سورج کی کرنیں اپنے ساتھ اس انسان کے در پر کاغذ کا اک ٹکڑا پہنچاتی ہیں جس میں پچھلے دن کی دنیاوی سرگرمیاں نقش ہوتی ہیں۔ دوپہر کو سورج سر آتے ہی یہی اخبار کا ٹکڑا نئے مضامین کی فہرست لیے نمودار ہوتا ہے اور یوں ”پرنٹ میڈیا“ کی شکل میں انسان کے پاس روزانہ یا ہفتہ و ماہوار خبروں کا سٹاک پہنچتا رہتا ہے۔

اِسی ذہنی تسکین و ہر لمحہ باخبر رہنے کے لیے ”الیکٹرانک میڈیا“ کا کردار بھی انتہائی نمایاں ہے۔ صبح و شام میڈیائی خبروں، تبصروں پر مبنی بے لاگ گفتگو کا ایک ایسا سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ انسانی دماغ بعض مرتبہ ان خبروں کو سو فیصد حقائق سمجھ کر نتائج کا بھیانک پلندا تیار کر لیتا ہے یوں ذہنی تھکاوٹ اس کا مقدر ٹھہرتی ہے۔

جدید سائنسی آلات کی فراوانی کے ساتھ وقت کی قلّت کے سبب ”سوشل میڈیا“ کا استعمال اول الذکر دونوں میڈیائی ذرائع سے کہیں زیادہ ہے۔ نوجوان نسل سوشل میڈیا کے ذرائع سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ خود کو باخبر بھی رکھتی ہے۔ یہ پلیٹ فارم جہاں نشریاتی ادارے کا کام کر رہا ہے وہیں اس پلیٹ فارم سے نوجوان نسل کی تخلیقی و تعمیری سرگرمیاں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ نمایاں اذہان کی تخلیقی و پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی جھلک کے ساتھ ساتھ تخریبی و منفی سرگرمیاں بھی اس پلیٹ فارم سے دیکھنے کو ملتی ہیں۔

ذکر کردہ تینوں ذرائع بلاشبہ غیر معمولی اہمیت کے حامل ہیں لیکن بدقسمتی سے قابلِ اعتبار اور مستند نہیں ہیں۔ پرنٹ میڈیا حالات کی نزاکت کو سامنے رکھتے ہوئے اپنے ہائی ٹیگ کے چکر میں حقائق پر پردہ ڈال کر بے بنیاد مواد کی اشاعت پر زیادہ توجہ دیتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا کسی بھی واقعہ کی دھندلی تصویر دکھا کر غیر اہم کو اہم ترین گردانتا ہے جبکہ بنیادی و اہم مسائل کو اکثر و بیشتر پسِ پشت ڈال دیتا ہے۔ سوشل میڈیا پر ہر دوسرے لمحہ بے بنیاد، من گھڑت اور غیر اخلاقی مواد شائع ہوتا رہتا ہے۔ یوں تمام میڈیائی کردار مشکوک اور ناقابل اعتبار ہو کر رہ جاتا ہے۔

ہمارے سماج میں شعور و آگہی کا گراف متوسط سے بھی نیچے ہونے کے سبب میڈیا کا مثبت استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔ اس کی ایک وجہ تو خود ان ذرائع کا مشکوک کردار ہے جس کا پہلے ذکر ہو چکا لیکن ہماری نوجوان نسل اس کردار کو مزید دھندلا گرداب بنانے میں بخوبی کردار نبھا رہی ہے۔ کسی بھی خبر اور اس سے جڑی کہانی کی اصل علّت و سبب پرکھنے کے بجائے سطحی تصویر دیکھ کر نتائج اخذ کیے جاتے ہیں۔ بغیر سوچے سمجھے جذباتی و ہیجانی کیفیت غالب رہتی ہے۔ مذہبی و غیر مذہبی مواد با الخصوص سیاسی نقطہ نظر کو دلکش فریم میں قید کر کے دوسروں کے اذہان پر نقش کرانا ہمارا خاصہ بن گیا ہے۔ شخصیت پرستی اور اَنا کا بُت توڑنے کے بجائے مرمّت کیا جاتا ہے۔ اس بُت پر لگے دھبوں کے دھندلے نقوش مٹانے کے بجائے خوشنما پھولوں کی مانند مزید منقش کیے جاتے ہیں۔

آج ضرورت اس امر کی ہے کہ سماج با الخصوص نوجوان نسل اس قدر باشعور ہو کہ وہ میڈیا کے منفی و گھناوٴنے کردار سے خود کو بچا سکے۔ دور جدید کے تقاضوں سے واقفیت رکھتے ہوئے اپنا مثبت کردار ادا کر سکے۔ کسی بھی ہیجانی و مشکل میں میڈیائی تصویر دیکھ کر جذباتیت کے گھوڑے پر سوار ہوئے بغیر حالات و واقعات کی درست جانچ پڑتال کی صلاحیت رکھتا ہو۔ شخصیت پرستی و اندھی تقلید کے بجائے وسیع النظری اور حقائق کی درست نشاندہی کی صلاحیت از حد ضروری ہے۔ یوں ہمارے سماجی اور معاشرتی ضروریات کے تعیین میں ہماری ذہنی و جسمانی سرگرمیوں کا مثبت پہلو دیکھنے کو ملے گا جس سے سماج کو فائدہ اور انسانیت کی ترقی کو بامِ عروج ملے گا۔

Facebook Comments HS