مرحبا! بیت المقدس سے مہمان آئے ہیں
گزشتہ دنوں فلسطین فاؤنڈیشن کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر صابر ابو مریم کی کال موصول ہوئی، اس میں انہوں نے کہا کہ فلسطین سے کچھ مہمان آئے ہیں، میں چاہتا ہوں کہ آپ بھی ان کی میزبانی کریں۔ میں نے جواب کیا دینا تھا، بیت المقدس سے آئے مہمانوں کو مرحبا کہنے کے لئے دیدہ و دل فرش راہ کر لیے۔ گزشتہ دنوں ہمارے دفتر میں ڈاکٹر صابر ابو مریم کے ہمراہ شیخ ادیب یاسر جی صدر مجلس علماء فلسطین اور شیخ یوسف عباس سیکرٹری جنرل مہم برائے حق واپسی فلسطین تھے۔
نوجوان صحافیوں کے ہمراہ ہم نے ان کا استقبال کیا، وقت کے دامن میں گنجائش کم اور ہمارے ذہنوں میں سوالات بہت زیادہ تھے، وہی سوال جو ہر پاکستانی کا سوال ہے اسی سے ابتداء ہوئی کہ پاکستان کی جانب سے اسرائیل کو تسلیم کرنے سے متعلق اہل فلسطین کیا سوچتے ہیں اس پر شیخ ادیب یاسر جی نے کہا کہ فلسطین کے لوگ کبھی کسی حکومت کی جانب نہیں دیکھتے وہ عوام کی جانب دیکھتے ہیں، پاکستان کی عوام اور بالخصوص نوجوان ایسا ہونے نہیں دیں گے اور ہمیں یقین ہے کہ پاکستان اسرائیل کو کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے اسلامی نوجوان فلسطین کے حوالے سے فکرمند ہیں اور وہ بات کرنا چاہتے ہیں، اسی طرح ہم نے محسوس کیا ہے کہ پاکستانی نوجوان کے جذبات بھی فلسطین کے لئے لبریز ہیں، شیخ صاحب نے کہا کہ موجودہ دور میں آواز اٹھانا بھی جہاد ہے ہم سمجھتے ہیں فلسطین میں اسرائیل کے خلاف سربکف فلسطینی اور پاکستان میں سوشل میڈیا پر فلسطین کے لئے آواز اٹھانے والے پاکستانی ایک جیسا فریضہ سرانجام دے رہے ہیں، گو کہ بہت سے سوشل میڈیا کی ویب سائٹس اسرائیل کی مرہون منت ہیں جس میں فیس بک سرفہرست ہے لیکن میڈیا کے علاوہ کچھ سوشل ویب سائٹس ایسی بھی ہیں جن پر فلسطین کی بات ہو سکتی ہے جیسا کہ آپ ٹویٹر پر کھل کر بات کر سکتے ہیں، الغرض شیخ ادیب یاسر جی پاکستانی نوجوانوں سے یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اہل فلسطین کے لئے بھرپور آواز اٹھائیں، شیخ عباس یوسف سے ان کی تحریک سے متعلق پوچھا گیا تو انہوں نے بتایا کہ ہمارا مشن ہمارے Logo پر واضح ہے، جس میں ایک چابی ہے، یہ چابی علامت ہے جب اہل فلسطین کو گھروں سے نکالا گیا تھا تو وہ تالے لگا کر آئے تھے، اور بعض نے اپنے جانوروں کو ایک ہفتے کا چارا ڈالا تھا انہیں یہ امید تھی کہ وہ 7، 8 دن میں واپس آ جائیں گے، آج بھی فلسطینی بزرگ ماؤں نے وہ چابیاں سنبھال کر رکھی ہیں کہ وہ جلد اپنے گھروں کو لوٹیں گے، چابی کے ساتھ لوگو میں فلسطین کا نقشہ ہے، نقشے سے واضح ہے کہ بحر سے نہر تک سارا فلسطین ہمارا ہے اور ہم ایک انچ بھی کسی کو دینے کو تیار نہیں ہیں۔
مسئلہ فلسطین سے متعلق شیخ ادیب یاسر جی نے مزید کہا کہ پوری دنیا کے مسلمانوں کا مسئلہ ہے صرف فلسطین کے رہنے والوں کا نہیں، انہوں نے کہا کہ قبلہ اؤل کی حرمت و اہمیت واضح ہے اور ظلم کے خلاف کھڑا ہونا ہمارے فرائض میں شامل ہے، جیسا کہ نماز فرض ہے آپ چھوڑ نہیں سکتے بالکل اسی طرح ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کی حمایت اور ظلم کے خلاف آواز اٹھانا فرائض کے درجے میں ہے۔ پاکستان میں موجود سیاسی ہلچل اور سیاسی قائدین کی جانب سے ایک دوسرے کو یہودی ایجنٹ کہنے کی رسم عام ہے، اس حوالے سے وہ کہتے ہیں کہ پاکستان کی حکومتوں کی جانب سے اور اپوزیشن کی جانب سے بھی گاہے بگاہے فلسطین کے حق میں بیانات آتے رہتے ہیں جن کا ہم خیرمقدم کرتے ہیں، لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان کی ریاست قائداعظم محمد علی جناح رحمۃ اللہ علیہ اور علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ کے نظریات پر قائم ہے۔
قائد اعظم کی فلسطین کے حوالے سے پالیسی دو ٹوک اور واضح تھی اور وہی دو ٹوک اور واضح پالیسی پاکستانی کے کسی بھی سیاست دان اور عوام الناس کے سامنے ہونی چاہیے۔ ہم اپنے فلسطینی مہمانوں کے سامنے ادب کی تصویر بنے لیکن سرتا پا سوال تھے، پاکستانیوں اور فلسطینیوں کے درمیان عوام سے عوام کی سطح پر ایسے رابطے بحال رہنے چاہیے۔ نشست کے آخر میں فلسطین سے یکجہتی کی علامت سمجھے جانے والے خاص مفلر انہوں نے پیش کیے اور ہمارے دفتر کے لئے فلسطین کا نقشہ پیش کیا، یہ تحفے ہمیشہ ہمیں عزیز رہیں گے اور ہم فلسطین کی آزادی کے لئے اپنے حصے کی آواز اٹھاتے رہیں گے۔


