پاکستان اور بھارت: رواداری کی ضرورت
بھارت میں پاکستان دشمنی اور پاکستان میں بھارت دشمنی کا تماشا لگا کر عوام کے ایک بڑے گروہ کے جذبات کو اپیل کیا جاتا ہے۔ لیکن بھارت میں اب صورتحال کچھ مختلف ہے۔ ہم نے تو اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ مخصوص ہی دفاع کے لیے کر رکھا ہے۔ ظاہر ہے یہ بھی ایک لولی پاپ ہے۔ لیکن ہمارے جنگی ذہنوں کو ان چیزوں سے کوئی مسئلہ نہیں۔ ہمیں بھارتیوں کے وہ مظالم بھی پہاڑ لگتے ہیں جو کبھی کبھار ایک آدھ فرد پر رونما ہوتے ہیں۔ لیکن ہم نے جو بطور اجتماعی ان کے ساتھ کیا اور مزید موقع ملنے پر کرتے اور کرنے کا سوچ رہے ہیں وہ ہمیں رائی کے برابر لگتا ہے۔
یہ بات محض بات دوغلے پن کی ہے! ہندوستان پر آٹھویں صدی سے لے کر بیسویں صدی تک غیر ملکی حکمران قابض رہے۔ تقریباً مسلمانوں نے ہزار سال حکومت کی۔ 1857 کی جنگ کے بعد مسلمانوں کا اقتدار کمزور ہوا اور اس کے بعد 1757 سے لے کر 1947 تک برطانوی سامراجی قابض رہا۔ اس دوران انگریزوں کو چھوڑئیے اپنے اقتدار میں ہم مسلمانوں نے ہندوؤں کے ساتھ کیا کم امتیازی سلوک روا رکھا۔ ان کی عبادت خانوں تک کو ہم لوٹ کر لے گئے!
وہ اپنی ہی دھرتی پر رہنے کے لیے ہمیں جزیہ دیا کرتے تھے۔ جب پاکستان بن گیا تو قائداعظم نے جوگندر ناتھ منڈل کو وزیر قانون بنایا۔ منڈل نے 8 اکتوبر 1950 کو مایوسی کی حالت میں استعفیٰ دیا۔ منڈل نے اپنے استعفیٰ میں بنگال میں سینکڑوں دلتوں کی، پاکستانی فورسز اور مسلم لیگی کارکنوں کے ہاتھوں ہلاکتوں کے کئی واقعات پیش کیے۔ جس کا کوئی سدباب نہ کیا گیا۔ انھوں نے ایک گاؤں میں رونما ہونے والے ایک واقعے کا بھی ذکر کیا جس میں تصادم کے دوران ’ایک مسلمان ہلاک ہو گیا تھا جس کے بدلے میں مقامی پولیس اور ایک مسلم تنظیم‘ انصار ’کی مدد سے شودر دلتوں کے گاؤں کے گاؤں لوٹ لیے گئے۔
منڈل نے 1947 سے 1950 تک اقلیتوں کے ساتھ ہونے والے دیگر امتیازات کا بھی ذکر کیا اور پھر اسی کشمکش اور مایوسی کی حالت میں 1950 میں انڈیا کی ریاست بنگال منتقل ہو گئے! یعنی کہ ہماری بنیاد ہی اس قسم کے گھٹیا رویوں سے ہوئی، اور عمارت تو کھڑی ہی ساری بنیادوں پر ہوتی ہے۔ ہماری بنیادیں ہی کھوکھلی ہیں۔ اب ہندوستان کو دیکھیے۔ میں یہاں کوئی ہند و پاک کا موازنہ کرنے نہیں بیٹھا۔ بس اصلاح کے لیے اور محض اپنے آپ کو آئینہ دکھانے کے لیے چند گزارشات کر رہا ہوں۔
میری ریاست مجھے سب سے مقدم ہے۔ لیکن بطور شہری میرا بنیادی حق بھی ہے کہ میں اپنی اصلاح کروں۔ یہاں پر لفظ ”اپنا“ پوری پاکستانی عوام کے لیے کر رہا ہوں۔ کیونکہ ہم سب ایک وجود ہیں۔ ہم ایک ہی بندھن میں بندھے ہوئے ہیں۔ ہم جو دن رات بھارت دشمنی کے لیے ایک کر رہے ہیں اور ہر بات پہ بھارت کو کوستے ہیں، کہ مسلمانوں پر ظلم ہو رہا ہے وغیرہ وغیرہ۔ اصل میں یہاں بھی اور بھارت میں بھی ہمیں ایک دوسرے کے خلاف میڈیا بھڑکاتا ہے۔
بات کا بتنگڑ بنا کر۔ جہاں تک ظلم اور عدم رواداری کا سوال ہے تو ہندوؤں پر تقریباً ہزار سال حکومت کر کے ہندوؤں پر تسلط ہم اب بھی چاہتے ہیں۔ اگر یہ ہماری خواہش نہ ہوتی تو ہمارے جعلی دانشور غیر معتبر روایات کا سہارا لے کر ہمیں غزوہ ہند کا بیانیہ نہ بیچتے۔ اگر ہندوؤں کو ملیا میٹ کرنے کی خواہش ہماری نہ ہوتی تو کاہے کو ہمارے بجٹ کا آدھے سے زیادہ حصہ دفاع پر خرچ ہوتا؟ ہمارے ملک میں کوئی غیر مسلم صدر یا وزیراعظم نہیں بن سکتا۔
جبکہ بھارت کے قانون کے مطابق ایک مسلمان بھارت کا وزیراعظم صدر آرمی چیف چیف جسٹس بن سکتا ہے۔ بھارت کے تین صدر مسلمان رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر خارجہ سلمان خورشید رہے ہیں۔ بھارت کے وزیر داخلہ ایک کشمیری مسلمان رہے ہیں۔ مولانا آزاد کی بھانجی، بھارتیہ جنتا پارٹی کی طرف سے ماضی میں نائب صدر (چیئرمین سینیٹ) کی امیدوار رہ چکی ہیں۔ بھارتی فوج میں میجر جنرل تک مسلمان رہ چکے ہیں۔ ڈاکٹر عبدالکلام بھارت کے مسلمان میزائل ساز سائنسدان تھے۔ جو بھارت کے صدر بنے۔ بھارت میں آسام جیسے ہندو اکثریتی صوبہ میں عبدالغفور نام کے مسلمان وزیراعلی رہ چکے ہیں۔ جی جی یہ بھارت کا مکروہ چہرہ ہے۔ ہمارے ہاں اگر اس طرح کے اہم عہدوں پر کسی غیر مسلم کا چناؤ بھی کیا جائے تو اتنا احتجاج ہوتا ہے کہ وہ بیچارہ خود ہی پیچھے ہٹ جاتا ہے۔
یہ یوگی اور مودی تو اب آئے ہیں۔ جنہیں ہم شدت پسند کہتے ہیں۔ مودی کو رہنے دیجیے فی الحال اگر میں یوگی کی بات کروں تو یوگی اس ہندو کو بھی اتنی ہی سزا دیتا ہے جتنی وہ ایک مسلمان کو دیتا ہے۔ اگر کوئی ہندو یا مسلمان ریاستی عدم استحکام کی کوشش کرے تو یوگی دونوں کے لیے برابر ہے۔ اگر کوئی دنگا کرے تو اس کا گھر مسمار کیا جاتا ہے چاہے وہ کوئی ہو، کسی مذہب سے ہو۔ پچھلے دنوں ویکاس دوبے نامی ایک ہندو گینگسٹر پر جب یوگی کا ہاتھ پڑا تو وہ مندر میں چھپ گیا اور وہ پوچا پاٹ میں مصروف ہو گیا، تاکہ لوگ نیک سمجھیں۔ لیکن یوگی نے اسے مندر کے اندر گھس کر اٹھوایا اور وہ جس گاڑی میں تھا اسے پلٹ پلٹ کر سزا دی۔ یہ کچھ سخت قسم کی باتیں ہماری صبح شام ہندو دشمنی کی مالا جپنے پر تھیں۔ محض یہ بتانے کے لیے کہ ہم رواداری میں بھی بھارت سے پیچھے رہ گئے۔ باقی جنگوں کی تو بات ہی نہ کیجیے۔


