بہاولپور یونیورسٹی: تصویر کا دوسرا رخ


اگر ہم گزشتہ دہائیوں کا آج سے موازنہ کریں تو ہم نے بہت ترقی کر لی ہے، خاص طور پر تکنیکی دنیا میں۔ ہر ہاتھ میں سمارٹ فون ہونا اسی ترقی کی ایک زندہ مثال ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے، جیسے ساری دنیا ہی ہتھیلی میں سما سی گئی ہو۔

لیکن یہاں ’صحیح اور غلط‘ کا فرق سمجھنا بہت ضروری ہے تاکہ ہم اس تکنیکی ترقی کو انفرادی بہتری اور معاشرتی سلجھاؤ کے لیے استعمال کر سکیں نا کہ اس سے نفسیاتی مسائل جنم لیں اور شدت پسندی میں اضافہ ہو۔

میں صدق دل سے اپنی اس غلطی کو تسلیم کرتا ہوں کہ سوشل میڈیا پر منفی رجحان کو فروغ دینے میں میرا بھی کردار رہا ہے۔

اب گزشتہ دنوں بہاولپور یونیورسٹی کے سیکورٹی افسر سے آئس اور فحش وڈیوز کی برآمدگی کے واقعہ کو لے کر میں بھی اس جرم میں حصہ دار ہوں کہ میں نے اسے سوشل میڈیا پر وائرل کیا اور پاکستان کا بدنما چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔

شاید یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہتا اگر اس بابت پاکستان اسٹیبلشمنٹ میں اہم عہدے پر تعینات میرے اک دوست مجھے تصویر کا دوسرا رخ نہ دکھاتے۔

میں نے جب ان کی بات پر غور کیا تو میں اس واقعہ کا دوسرا رخ رکھنے پر مجبور ہو گیا۔

سب سے پہلے میں نے بہاولپور یونیورسٹی میں سابقہ ادوار میں تعلیم حاصل کرنے والی اپنی اک عزیزہ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے جو معلومات مجھے دیں وہ درج ذیل ہیں

اس یونیورسٹی میں 148 مختلف شعبہ جات ہیں جن میں پانچ ہزار سے زائد ٹیچنگ اور غیر ٹیچنگ سٹاف خدمات انجام دیتا ہے۔

یونیورسٹی کے کلاس رومز، برآمدوں، ڈیپارٹمنٹ سے لے کر جگہ جگہ ہزاروں سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے ہیں۔
مذکورہ سیکورٹی انچارج گزشتہ سات سال سے یونیورسٹی میں ملازمت کر رہا ہے
درج بالا تفصیلات کی روشنی میں درج ذیل سوالات جنم لیتے ہیں

1۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اک شخص جس کا تدریس سے دور دور تک کا تعلق بھی نہیں اور وہ اوسطا روزانہ کی بنیاد پر 20 لڑکیوں سے ناجائز تعلق قائم کر کے سات سال میں 5500 لڑکیوں کی غیر اخلاقی وڈیوز بھی بنا لے اور کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو۔

2۔ کیا یونیورسٹی میں ملازمت کرنے والا پانچ ہزار سے زائد ٹیچنگ سٹاف غلاظت میں اس حد تک پست ہو چکے تھے کہ کسی نے بھی اس کے خلاف آواز بلند نہ کی

3۔ کیا ہماری بہن، بیٹیاں اس حد تک اخلاقی گراوٹ کا شکار ہیں کہ ان میں سے کسی نے بھی اس درندہ کے خلاف آواز بلند نہ کی؟

4۔ کیا وجہ ہے گزشتہ سات سال سے تعینات سیکورٹی افسر کے خلاف ایک بھی درخواست نہیں آئی؟

5۔ اگر واقعی ہی سیکورٹی اہلکار کے موبائل سے 5500 وڈیوز اور ایچ او ڈی کے موبائل سے 7200 وڈیوز برآمد ہوئی ہیں تو ابھی تک اعلی سطح کی غیر جانبدار تفتیشی ٹیم تشکیل کیوں نہیں دی گئی؟ جبکہ یونیورسٹی میں چاروں طرف ہر قدم پر ہزاروں سی سی ٹی وی کیمرے بھی نصب ہیں؟ پھر ان کا ریکارڈ ابھی تک کیوں حاصل نہیں کیا گیا؟

من حیث القوم ہم پاکستانی ہمیشہ منفی رجحانات کو فروغ دینے اور اس کے پھیلاؤ کے لئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور رہی سہی کسر سوشل میڈیا نے پوری کر دی ہے جس کے بے دریغ استعمال سے تقریباً ہر بات پر فوری ردعمل کا رجحان بھی بڑھا دیا ہے۔ ہر نئی خبر یا پوسٹ کی صداقت جانے بغیر اس پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اور آگے پہنچانا اب ایک ’فطری عمل‘ بن چکا ہے۔ اس معاشرتی سند کو حاصل کرنے کے لیے ہم اپنی اخلاقی اقدار بھی بھول جاتے ہیں۔ پھر چاہے کسی کی دل آزاری ہو، کوئی غیر اخلاقی بات ہو یا کسی کو مذہب کے دائرے سے خارج کرنا ہو، ہم اس آزادی رائے کو اپنا حق بلکہ کبھی کبھار اپنا فرض سمجھ کر استعمال کرتے ہیں اور اس حد تک ہم ایڈورٹائزمنٹ کے شوقین ہو چکے ہیں کہ بلا سوچے سمجھے نہ صرف ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں بلکہ بعض اوقات ہمارے رویہ معاشرے پر اتنے منفی اثرات چھوڑ جاتے ہیں کہ کوئی لاکھ سدھارنے کی کوشش کرے یا داغ دھونے کی جسارت کرے وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

یہی وجہ ہے کہ شتر بے مہار سوشل میڈیا پر ملنے والی آزادی اب بالخصوص نوجوان نسل میں بہت سے نفسیاتی مسائل میں اضافے کا باعث بھی بن رہی ہے۔ خاص کر ہماری نئی نسل ایک مسلسل ذہنی دباؤ کا شکار رہتی ہے۔ اس ذہنی دباؤ کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا پر دوسرے لوگوں میں مقبولیت حاصل کرنے کی غرض سے رجحانات کی اندھی تقلید کی جاتی ہے۔ ایسے رجحانات جو کبھی کبھار ذہن قبول نا بھی کرے تو بھی اس وقتی واہ واہ کے لیے انسان یہ سب کر گزرتا ہے۔

مختصر یہ کہ سوشل میڈیا پر اس آزادی رائے میں کوئی پابندی نہ ہونے کی وجہ سے ہم اظہار میں اچھے، برے کی تمیز کیے بغیر شدت پسندی کی حد کو چھو رہے ہیں۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری ہمارے قانون پر عائد ہوتی ہے جو با اثر کے لئے موم کی ناک ثابت ہوا ہے۔

ہمیشہ وہ معاشرے ترقی کرتے ہیں جہاں قانون سب کے لئے یکساں اور انصاف کی فراہمی تیز ترین ہو۔ اس لیے خدارا قانون پر عمل درآمد کی عادت اپنائیں اور ملک اور بیرون ملک پاکستان کا مثبت پہلو سوشل میڈیا پر اجاگر کریں۔

Facebook Comments HS