احتیاط کریں اور ڈینگی وائرس سے محفوظ رہیں

ڈینگی وائرس ایک مخصوص قسم کے مادہ مچھر کے کاٹنے سے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے جس سے تیز بخار ، جسم میں شدید درد اور قے کی علامات ظاہر ہوتی ہیں۔ خون میں جراثیم کی موجودگی کے سبب پلیٹ لیٹس اور پانی کی مقدار تیزی سے کم ہونی شروع ہوتی ہے۔ ڈینگی وائرس کی تشخیص پر مریض کو ہسپتال منتقل کرکے بخار ، درد اور پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے علاج کیا جاتا ہے تاہم ڈینگی بخار کا مکمل علاج تاحال دریافت نہیں ہوا ہے۔ آٹھ سے دس دن شدید تکلیف برداشت کرنے کے بعد مریض صحتیاب ہو جاتا ہے اور بعض مریضوں کی اموات بھی ہوتی ہیں۔ ڈینگی وائرس ہر عمر کے انسانوں کو متاثر کر سکتا ہے۔ ڈینگی وائرس موسم برسات میں مچھروں کی بہتات سے وبائی شکل اختیار کر لیتا ہے جس سے محفوظ رہنے کے لیے کچھ احتیاطی تدابیر اختیار کر کے اس وبائی مرض کے پھیلائو کو قابو کرنا ممکن ہے۔
ڈینگی بخار کا سبب بننے والی مادہ مچھر کو اپنی نسل بڑھانے کے لیے انڈے دینے سے قبل پروٹین کی ضرورت پیش آتی ہے جو وہ انسانی خون سے حاصل کرتی ہے ۔ مادہ مچھر انسانی خون چوس کر صاف اور کھڑا پانی تلاش کرکے اس میں انڈے دیتی ہے جو انسانی آنکھ سے نظر نہیں آتے چند دنوں میں انڈے سے تین سو کے قریب لاروے نکلتے ہیں جن کو ٹھہرے ہوئے پانی میں تیزی سے حرکت کرتے دیکھا بھی جا سکتا ہے۔ مادہ مچھر کے انڈوں سے اڑنے اور کاٹنے کی صلاحیت رکھنے والے تین سو مچھر تیار ہونے کے لیے صرف بارہ دنوں کا وقت لگتا ہے۔ ایک مچھر یکے بعد دیگرے کئی انسانوں کو کاٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے جس وجہ سے ایک متاثرہ مریض سے وائرس حاصل کر کے کئی صحت مند لوگوں کو منتقل کرتا ہے۔
وائرس کے پھیلائو اور اس کے نتیجے میں وبائی صورتحال کو روکنے کے لیے بنیادی طور پر دو اہم نکات ذہن نشین کر لینے بہت ضروری ہیں ایک تو ہم خود کو اور اپنے بچوں کو مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رکھیں اور دوسرا اس کو افزائش نسل کے لیے کسی جگہ بھی رکا ہوا صاف پانی میسر نہیں آنے دیں۔ مچھروں کے کاٹنے سے محفوظ رہنے کے لیے صبح اور شام معتدل درجہ حرارت کے اوقات میں زیادہ احتیاط کریں۔گھروں اور ارد گرد کے ماحول کو صاف ستھرا رکھیں۔ مکمل لباس زیب تن کریں ہاتھوں ، پائوں اور گردن وغیرہ پر لوشن اور گھروں کے اندر دیگر مچھر مار ادویات کا استعمال معمول بنا لیں۔ گھر کی پوشیدہ جگہوں فرنیچر کے نیچے ، پردوں کے پیچھے گل دانوں ، کاٹھ کباڑ اور سٹورز وغیرہ میں صفائی یقینی بنائیں۔ کھڑکیوں ، دروازوں اور روشن دانوں پر باریک جالی لگوائیں ۔ کوڑا کرکٹ کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگائیں گھر میں موجود روم کولر ، گملوں اور پرندوں و جانوروں کے لیے رکھے پانی کے برتنوں کو روزانہ صاف کرکے پانی تبدیل کریں۔صاف پانی کی ٹینکی اور برتنوں کو ہمیشہ ڈھانپ کر رکھیں۔ گھر کے اندر کھلی جگہوں، باغیچوں، کیاریوں یا کہیں بھی پانی رکا ہوا ہو تو اس کو خشک کریں۔
یاد رہے کہ ٹائر شاپس ، کباڑ خانے ، پودوں کی نرسری، بلاک فیکٹریز اور بند نالے مچھروں کی افزائش نسل کے لیے محفوظ جگہیں اور ان کی پناہ گاہیں ہیں۔ ٹائر شاپس پر لٹکے ہوئے یا ڈھیر لگائے گئے کھلے ٹائروں میں جمع شدہ پانی میں مچھروں کی آبادی تیزی سے بڑھتی ہے۔ ایسے پرانے ٹائروں کو تلف کریں یا پلاسٹک و ترپال وغیرہ سے ڈھانپ کر رکھیں۔ پودوں کی نرسری میں رکھے گملوں کا روزانہ مشاہدہ کریں اگر پانی میں لاروے موجود ہوں تو اس پانی کو ہرگز نالی میں نہ بہائیں بلکہ دھوپ میں خشک جگہ گرائیں تاکہ لاروے مچھر بننے سے پہلے ہی مر جائیں اور گملوں سمیت پانی جمع ہونے والے دیگر برتنوں کو الٹا رکھیں تاکہ ان میں بارش کا پانی نہ رکے۔ نرسری ، بلاک فیکٹریز، کارخانوں، ہوٹلز اور دوکانوں و گوداموں وغیرہ میں پانی کے ٹینکوں کو ڈھانپ کر رکھیں اور روزانہ بغور مشاہدہ کریں اگر لاروے دکھائی دیں تو پانی ضائع کریں یا اس میں ادویات وغیرہ ڈال کر انھیں تلف کریں۔
موسم برسات میں راستوں کے کنارے کھڑے پانی کو مناسب طریقے سے بہائیں بند نالوں کو چالو کریں اور صفائی میں ہرگز کوتاہی نہ برتیں۔
اگر خدانخواستہ کسی مریض میں ڈینگی بخار کی علامات طاہر ہوں یا وائرس کی تشخیص ہو جائے تو اسے فوری طور پر ہسپتال منتقل کریں تازہ پھلوں کے رس ، پانی اور دیگر مشروبات کا زیادہ استعمال کروائیں۔ مریض کو مچھر دانی میں رکھیں تاکہ مچھر کے ذریعے وائرس کے پھیلائو کا سبب نہ بنے۔ مریض کے اردگرد علاقے میں مچھر مار ادویات کا سپرے کیا جائے اور مریض کی دیکھ بھال کرنے والے افراد اور قریبی علاقے کے رہائشی بھی مچھر مار ادویات اور مچھر دانیوں کا استعمال یقینی بنائیں۔
ان ڈور یا فوگ اسپرے سے صرف اڑنے والے مچھر مر سکتے ہیں انڈہ اور لاروے تلف نہیں ہوتے۔ اگر فوگ اسپرے کرکے مچھر مار بھی دیں تو چند دنوں بعد ہزاروں مچھروں کی نئی فوج تیار ہو جائے گی۔ پھیپھڑوں اور سانس کی دیگر بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے لیے اسپرے مضر بھی ہے اس لیے بہت زیادہ فوگ اسپرے کرنا بھی مناسب نہیں اور ادویات کے چھڑکائو یا اسپرے کے عمل کو پیشہ ور و تجربہ کار ٹیم کی زیر نگرانی ہی سر انجام دینا ضروری ہے۔
یاد رہے کہ ڈینگی بخار لاعلاج بیماری ہے جس سے مریض کی موت بھی ہو سکتی ہے۔ اپنی اور اپنے پیاروں کی زندگیوں کو محفوظ بنانے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرکے مسائل و پریشانیوں سے بچا جا سکتا ہے۔ وبائی مرض کسی بھی انسان کو کسی وقت لاحق ہو سکتا ہے ہر شہری خود کو اور اپنے پیاروں کو محفوظ رکھنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرے ۔ ہر مسئلے میں حکومت یا انتظامیہ کو ہی ذمہ دار ٹھہرانا انتہائی غیر ذمہ دارانہ رویہ ہے۔ انتظامیہ کے لیے ہر علاقے ،گائوں،گلی محلے اور گھر کو صاف کرنا یا مچھر مار ادویات کا اسپرے کرنا خاصا مشکل ہے۔ بحیثیت ذمہ دار شہری احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اور دوسروں کو ترغیب دے کر حکومت اور انتظامیہ کا ساتھ دیں تاکہ ڈینگی وائرس جسے موذی امراض کو شکست دی جا سکے۔

