خوش رہنا آپ کے اختیار میں ہے
انسان اپنے شب و روز کے بیشتر لمحات افسردگی کی حالت میں گزار دیتا ہے۔ زندگی ختم ہو جاتی ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ اس نے خوشی کا کوئی دن دیکھا ہی نہیں۔ ہماری زندگی میں روز ہی ایسے واقعات پیش آتے ہیں کہ آدمی اس پر غم نہ کرے تو کیا کرے۔ خوشی کا کوئی پل دروازے پر دستک نہیں دیتا کہ غم اس سے پہلے گھر کے اندر کھڑکی سے داخل ہوجاتا ہے۔ آپ جب تک زندہ ہیں، زندگی طرح طرح سے پریشان کرتی رہے گی۔ اب آپ کے پاس دو ہی راستے ہیں؛ یا تو ساری زندگی پریشان رہیں یا پھر اپنے شب و روز کے واقعات میں ہی خوشی کے پل تلاش کریں اور خوش رہنے کی کوشش کریں۔
خوشی اور غم دونوں اختیاری ہیں۔ یعنی خوش رہنا اور ناخوش رہنا، یہ دونوں آپ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ آپ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر دونوں میں سے کسی ایک کا انتخاب کرتے ہیں، پھر اسی کے مطابق آپ کی زندگی بسر ہونے لگتی ہے۔ جو راستہ آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں، آپ ساری زندگی اسی پر چلتے ہیں۔ دھیرے دھیرے آپ کا یہ عمل آپ کی عادت بن جاتا ہے اور پھر آپ کی عادت آپ کی شخصیت بن جاتی ہے۔ خوشی کے راستے پر چلتے ہوئے ممکن ہے ناخوشگوار واقعات پیش آئیں، لیکن ان سے آپ کی شخصیت پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ کیونکہ خوش رہنا آپ کی شخصیت کا حصہ ہے۔ غم کا لمحہ آتا ہے اور نکل جاتا ہے، آپ کو اس کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ آپ ہمیشہ خوش و خرم نظر آتے ہیں جیسے غم نے آپ کو چھوا ہی نہیں۔ اگر آپ اپنے لیے غم کا راستہ منتخب کرتے ہیں تو اس راہ میں خوشی بھی ملے تو بھی آپ اس کا ویلکم نہیں کرتے۔ آپ کو جس وقت خوشی کا جشن منانا چاہیے، آپ اس وقت بھی ناخوش ہی رہتے ہیں۔ کیونکہ غم کی نفسیات کی یہی خاصیت ہے، ہر حال میں ناخوش رہنا۔ آپ نے یہ مشاہدہ کیا ہوگا کہ بعض لوگوں کے پاس بظاہر خوش رہنے کا کوئی سامان نہیں ہوتا لیکن وہ ہر وقت ہشاش بشاش رہتے ہیں۔ دیکھنے والوں کو لگتا ہے کہ ان کی زندگی میں سب کچھ اچھا چل رہا ہے۔ لیکن جب آپ ان کے قریب جائیں گے تو آپ دیکھیں گے کہ یہ لوگ در اصل غم کو بھلا دیتے ہیں اور خوشی کو انجوائے کرتے ہیں۔ دوسری طرف کچھ لوگ ایسے بھی ہوتے ہیں جن کے پاس خوش رہنے کی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں مگر وہ مایوس رہتے ہیں۔ وہ ہر وقت اکھڑے اکھڑے ہوئے نظر آتے ہیں۔ ان کا مسئلہ بس یہ ہوتا ہے کہ وہ غم کو بھلا نہیں پاتے ہیں۔ پہلی کیٹگری ان لوگوں کی ہے جنہوں نے ہر حال میں خوش رہنے کا ارادہ کر لیا ہوتا ہے۔ برے وقت میں بھی وہ پر امید رہتے ہیں اور یہی چیز ان کو خوش کر دیتی ہے۔ انہیں کوئی ناکامی بھی ہاتھ لگتی ہے تو خود سے یہ کہتے ہیں:
وقت اچھا بھی آئے گا ناصر
غم نہ کر زندگی پڑی ہے ابھی
دوسری کیٹگری ان لوگوں کی ہے جو ہر حال میں مایوس ہی رہتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ یہ دنیا کانٹوں سے بھری ہے۔ یہاں کسی بھی صورت میں سکون میسر نہیں۔ زندگی بے معنی اور بے رنگ ہے۔ ان کو دنیا کی رنگینی میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی۔ ان کی زندگی میں کوئی برا واقعہ پیش آجائے تو وہ ساری زندگی اسی سے چمٹے رہتے ہیں۔ ماضی کی ناکامیوں کا رونا روتے ہیں اور مستقبل سے مایوس ہو جاتے ہیں۔ وہ ساری زندگی غم کو شمار کرتے ہیں اور خوشی کے پل کو یاد نہیں کرتے۔ ان کو ہمیشہ یہ شکایت ہوتی ہے:
زندگی دی حساب سے اس نے
اور غم بے حساب لکھا ہے
وقتی طور پر مایوس ہوجانا کوئی بری بات نہیں ہے لیکن مایوسی کی کیفیت میں رہنا نقصان دہ ہے۔ اگر آپ ہر وقت مایوس رہتے ہیں تو آپ خوشی کے پل کو کبھی انجوائے نہیں کر سکتے۔ غم کا احساس آپ کی شخصیت پر غالب ہوجائے تو آپ کے نزدیک خوشی کے لمحات کی قدر نہیں ہوتی۔ آپ کو بڑی سی بڑی خوشی بھی چھوٹی معلوم ہوگی اور رنج و غم کا چھوٹا سا واقعہ بھی مصیبت کا پہاڑ نظر آئے گا۔
امریکہ کی ییل یونیورسٹی میں علم نفسیات اور علم ادراک کی پروفیسر لوری سینٹوس کا کہنا ہے کہ سائنس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ خوشی دانستہ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ خوش رہنا یونہی نہیں آتا ہے اس کے لیے آپ کو مشق کرنی ہوتی ہے، ٹھیک ویسے ہی جیسے موسیقار اور ایتھلیٹ مسلسل بہتر کرنے اور کامیاب ہونے کے لیے ریاض اور مشق کرتے ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ خوش رہیں تو سب سے پہلے خود کو یہ سمجھانا ہوگا کہ زندگی امیدوں، چیلنجوں اور غیر متوقع ناکامیوں اور حیرتوں سے بھری ہوئی ہے۔ یہی زندگی کی سچائی ہے اور سچ کو تسلیم کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ آپ اپنے اندر مندرجہ ذیل خوبیاں پیدا کریں، آپ ہمیشہ خوش و خرم رہیں گے۔
امید پرست بنیں:
کسی بھی طرح کی صورت حال درپیش ہو، آپ ہر وقت پر امید اور مضبوط رہیں۔ اگر آپ کی جاب چلی جاتی ہے تو آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ یہ سوچیں کہ اس سے اچھی نوکری آپ کی منتظر ہے، جہاں آپ کو پیسہ بھی اچھا ملے گا اور عہدہ بھی پہلے کے مقابلے میں بہتر ہوگا۔ اگر آپ کسی چیز میں ناکام ہو جاتے ہیں تو اس سے دل برداشتہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ آپ اپنی ناکامی سے یہ سبق حاصل کریں کہ جس ڈگر پر چل کر آپ کامیاب ہونا چاہتے تھے، وہ غلط ہے۔ آپ مزید انرجی وہاں پر خرچ نہ کریں۔ آپ کو اپنے تجربے سے کامیاب نہیں ہونے کے ایک راستے کا علم ہو گیا۔ آپ اپنے اس تجربے کو لوگوں کے ساتھ ساجھا کرسکتے ہیں۔ دوسروں کو آگاہ کرنے سے آپ کو خوشی ملے گی اور لوگ آپ کے شکر گزار ہوں گے۔
خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کریں:
اگر آپ خود کو مصروف نہیں رکھتے ہیں تو آپ منفی چیزوں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔ تحقیق نے یہ ثابت کیا ہے کہ جو لوگ مصروف رہتے ہیں وہ بیکار رہنے والوں سے زیادہ خوش ہوتے ہیں. اگر آپ سارا دن خالی رہتے ہیں تو یہ آپ کو افسردہ کرنے کے لیے کافی ہے۔ آپ مصروف رہیں، اس کے لیے سب سے پہلے ضروری ہے کہ آپ اپنا مقصد حیات متعین کریں۔ آپ کی زندگی کا مقصد آپ کو خالی بیٹھنے نہیں دیگا۔ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر آپ تگ ودو کرتے رہیں گے ۔ فرانسیسی ناول Candide کے کردار ناول کے آخر میں بہت سارے نشیب و فراز اور دنیا کا چکر لگانے کے بعد جب ترکی کے ایک مقام پر اکٹھا ہوتے ہیں تو کاندید، ناول کا مرکزی کردار، پنگلوس سے کہتا ہے۔
"Il faut cultiver notre jardin”
ہمیں اپنے باغ کی دیکھ بھال کرنا چاہیے، بالفاظ دیگر ہمیں اپنے کام میں مصروف رہنا چاہیے۔ یہ در اصل ایک بزرگ ترک کی پر سکون اور پر مسرت زندگی کا راز ہے جو کاندید کو اس سے دریافت کرنے پر معلوم ہوتا ہے۔ اپنے گارڈن کی دیکھ بھال کے بعد بھی آپ کے پاس وقت بچتا ہے تو آپ ان تمام چیزوں کے بارے میں سوچیں جو آپ کر سکتے ہیں۔ آپ خالی بیٹھے ہیں تو کسی اچھی کتاب کا مطالعہ کریں۔ آپ اپنے پسندیدہ موضوع پر یوٹیوب پر ویڈیوز دیکھ سکتے ہیں۔ اسی طرح آپ اپنے شہر میں ہونے والے پروگرام اور کانفرنس میں شرکت کر سکتے ہیں۔ نئے مقامات پر سیر و تفریح کے لیے بھی جا سکتے ہیں۔
اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزاریں:
اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ وقت گزارنے سے آپ زیادہ خوش رہتے ہیں۔ آپ اپنا دکھ سکھ ان سے ساجھا کرتے ہیں۔ آپ ہر چیز اپنے دل میں دبا کر نہیں رکھ سکتے۔ اپنے مسائل اور دل کی بات شئیر کرنے سے آپ کا ذہنی تناؤ کم ہوتا ہے۔ جو لوگ اپنے اہل خانہ سے کٹے کٹے رہتے ہیں اور دوستوں کی محفلوں میں نہیں جاتے ہیں وہ اپنے احساسات و جذبات اپنے اندر دبا دیتے ہیں۔ ان کا دم گھٹتا ہے تو فیس بک، انسٹاگرام اور دوسری سوشل سائٹس پر، جہاں سب کچھ جھوٹ ہوتا ہے، خوشی تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوشل سائٹس سے خوشی نہیں ملتی بلکہ آپ کا وقت گزر جاتا ہے جو بعد میں ڈیپریشن کو جنم دیتا ہے۔
معاف کرنا سیکھیں:
معاف کرنے کا مطلب ہے جو ماضی سے تعلق رکھتا ہے اسے ماضی کے حوالے کر دینا۔ اگر ماضی میں کسی نے آپ کے ساتھ برا برتاؤ کیا ہے تو اس کو وہیں دفن کردیں۔ ماضی کے برے تجربات کو ڈھونے سے آپ کا حال پریشان اور مستقل خراب ہو سکتا ہے۔ اگر آپ اپنے اندر دوسروں کو معاف کرنے کی طاقت رکھتے ہیں، یہاں تک کہ وہ جو اس کے مستحق نہیں ہیں یا آپ جن کو معاف کرنا نہیں چاہتے ہیں، تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایسے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں۔ دوسروں کو معاف کرنا آپ کے تناؤ کی سطح کو کم کردیتا ہے اور آپ کے دل کی دھڑکن کو تیز نہیں ہونے دیتا ہے۔
آپ کے پاس جو ہے اس کا شکر ادا کریں:
اکثر لوگ ان نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے جو ان کے پاس ہوتی ہیں۔ وہ اپنی نعمتوں کا شمار نہیں کرتے، بلکہ وہ دوسروں کی جھولی پر نظر رکھتے ہیں، ان سے اپنا موازنہ کرتے ہیں اور غم میں ڈوبے رہتے ہیں۔ وہ ساری زندگی یہی شکایت کرتے رہتے ہیں کہ ان کے پاس فلاں کی طرح گاڑی اور بنگلہ نہیں ہے۔ یہ بھی ایک عجیب بات ہے کہ انسان اپنے سے اوپر کی طرف دیکھتا ہے، نیچے کی طرف نہیں۔ اگر آپ اپنے سے غریب لوگوں کو دیکھنا شروع کر دیں تو جو کچھ آپ کے پاس ہے اس کا شکر ادا کریں گے۔ موجود نعمتوں کا شکر گزار ہونے سے آپ کو طمانیت کا احساس ہوگا۔ خوشی اطمینان کا ہی دوسرا نام ہے۔
اچھی اور گہری نیند ضرور لیں:
یہ پڑھنے میں عجیب لگ سکتا ہے لیکن یہ حقیقت ہے کہ جب آپ اچھی اور گہری نیند لیتے ہیں تو آپ کے ڈیپریشن میں جانے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ نیند مکمل کرنے کے بعد جب آپ بیدار ہوتے ہیں تو آپ خود کو تروتازہ پاتے ہیں اور آپ کے اندر مثبت رویہ پیدا ہوتا ہے۔ دن بھر خوش نظر آنے کے لیے رات میں اچھی اور گہری نیند لینا ضروری ہے۔
میں نے اوپر جن نکات کی طرف اشارہ کیا ہے اگر آپ ان پر عمل کرتے ہیں تو آپ کے سامنے حالات چاہے جیسے بھی ہوں آپ خوش رہ سکتے ہیں۔ گاربیل گارشیا مارکیز کی ایک بات یاد رکھیں:
No medicine cures what happiness cannot
کوئی دوا اس مرض کا علاج نہیں کرتی جو خوشی نہیں کر سکتی ہے۔ اگر آپ خوش رہتے ہیں تو اس سے نہ صرف آپ کی شخصیت سنورتی ہے بلکہ آپ کے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والے سارے لوگوں پر اس کا مثبت اثر پڑتا ہے۔ آپ کو خوش رہنا ہے، اس کا فیصلہ آپ کو خود ہی کرنا ہے کیونکہ اس کا فائدہ براہ راست آپ کو ملتا ہے۔ فرانسیسی فلسفی والٹیئر نے بڑی اچھی بات کہی ہے:
J’ai décidé d’être heureux parce que c’est bon pour la santé.
میں نے خوش رہنے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ یہ صحت کے لیے اچھا ہے۔ آج کے دور میں دوسرے لوگوں کو کوئی پروا بھی نہیں ہے کہ آپ خوش کیوں نہیں ہیں۔ زندگی کا مزہ خوش رہ کر گزارنے میں ہے۔ اس لیے زندگی کا ایک ایک لمحہ خوش رہ کر گزاریں۔


