آخر کار: عشق میں نے بھی کیا ہے مرے اجداد نے بھی


جیسے کوئی اپنے دھیان میں چل رہا ہو۔ ادھر ادھر سے بے نیاز اور اچانک روشنی کا جھپاکا ہو اور وہ کچھ دیر کے لیے ہک دک دیکھتا رہ جائے ؛ تو یوں ہے کہ اشفاق ناصر سے میرا تعارف بھی ان جھپاکوں میں ہوتا رہا ہے۔ پہلی بار چنیوٹ جاتے ہوئے، سفر کے دوران۔ ہمیں شکیل جاذب کی کتاب ”نمی دانم“ کی تقریب میں شرکت کے لیے چنیوٹ جانا تھا اور ہمیں کہا گیا تھا کہ ڈاکٹر اشفاق ناصر کے ساتھ جانا ہو گا۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کی طرف دیکھا تھا۔

ایک وجیہہ شخص میرے سامنے کھڑا مسکرا رہا تھا۔ وہ یقیناً اچھے ڈاکٹر ہوں گے مگر میں ایک الجھن میں پڑ گیا تھا کہ جانے ایک ڈاکٹر کے ساتھ سفر کیسے کٹے گا۔ تب تک میں نہیں جانتا تھا کہ وہ محض معالج نہیں ایک شاعر بھی ہیں۔ یہ تو انہوں نے راستے میں بتایا تھا کہ ان کی ایک کتاب 27 برس پہلے آ چکی تھی۔ محض شوق کی خاطر شاعری کرنا اور اوائل عمری میں کتاب لاکر ایک طرف رکھتے ہوئے اپنے اور دھندوں کو ترجیح اول پر لے آنا معمول کا عمل رہا ہے جو میرے دیکھنے میں آتا رہا تھا لہٰذا میرے لیے اس میں چونکانے والی بات نہ تھی۔ چونکا تو میں تب تھا جب انہوں نے اسی سفر کے دوران میری خواہش پر اپنی ایک غزل سنائی تھی۔ پھر جب جب انہیں سنا، ایک چوندھ اور ایک خیرگی مجھ تک منتقل ہوتی رہی۔ ”آخرکار“ کے مقابل ہونا، اس سلسلے کی اب تک کی آخری کڑی ہے۔

دو دن پہلے کتاب ملی؛ دو اڑھائی کتابوں کے برابر، تین سو بیس صفحات کی ایک کتاب۔ اس میں ایک سو ساٹھ غزلیں ہیں اور ہر غزل لگ بھگ سات اشعار کی؛ گویا کہیں سے تقلیل مواد کی شکایت نہیں ہوتی؛ سونے پر سہاگہ یہ کہ ہر شعر دامن پکڑ کر روکنے والا۔ کوئی مضامین کا مجموعہ ہوتا یا شاعری کی عام سی کتاب جس میں ٹھہر ٹھہر کر سوچنے یا لطف لینے کو کچھ نہ ہوتا تو تین چار گھنٹوں میں پڑھ پڑھا کر ایک طرف رکھ چکا ہوتا مگر یہ اشفاق ناصر کی کتاب تھی؛ آخر کار اور مجھے جمالیات کے لطیف جھپاکے خیرہ کیے دیتے تھے :

گراتا آیا ہوں میں اشک سارے رستے میں
دعا کرو کہ نشانی سمجھ میں آ جائے

ایک عمدہ تخلیق اپنے تخلیق کار کے وجود کی شناخت کی سمت لے جانے والے راستے پر بکھری پڑی نشانی ہو جایا کرتی ہے۔ میں یہ نشانیاں چنتا رہا اور جتنا اشفاق ناصر کے کلام کو پڑھ سمجھ پایا ہوں اس میں دو تین باتیں بہت نمایاں ہو کر سامنے آتی رہی ہیں۔ یہ باتیں میں یہاں عرض کیے دیتا ہوں :

1۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ وہ اپنا پوئٹک ڈکشن بنانے اور دکھانے کو کوئی الگ سے حیلہ نہیں کرتے۔ تاہم بات کہنے کو ایسے پہلو کا انتخاب کرتے ہیں کہ اس میں جذبے کی تندی بھر جاتی ہے۔ یوں جیسے انگور کا دانہ پکنے پر رس سے بھر جاتا ہے اور اس کی جلد تن کر ایک چمک اچھال دیتی ہے۔ یہ چمک وہ نہیں ہے جو ہمارے کچھ ذہین اور حد درجہ محتاط شاعر رگڑ رگڑ کر اپنے مصرعوں کے اوپر ایک چھلکے کی صورت پیدا کرتے ہیں اور جو اپنی طرف متوجہ کرنے، مرعوب کرنے اور پھر پرے دھکیلنے کا عمل ایک ساتھ کرنے لگتی ہے کہ اشفاق ناصر کے ہاں یہ تخلیق کے نامیاتی عمل کی زائیدہ ہوتی ہے اور تاثیر میں اضافہ کرتی ہے۔ جس چمک کی میں بات کر رہا ہوں وہ یہاں اس ایک آنسو میں دھیان کا حصہ ہو رہی ہے۔

یہ تجھ کو ڈھونڈتا آخر کہاں سے آتا ہے
میں روز پوچھتا رہتا ہوں ایک آنسو سے

2۔ دوسری بات یہ ہے کہ شاعر کو بہر حال زبان سے ہی معاملہ کرنا ہوتا ہے، وہ نئے نئے مرکبات بناتا ہے کہ معنویت میں اضافہ ہو اور مصرع بھی چست رہے۔ وہ اجنبی یا متروک الفاظ ڈھو ڈھونڈ کر ٹانکتا ہے۔ یہ ایک خوبی ہے اور اگر قرینے سے آئے تو شعر کے لطف میں اضافہ ہو جایا کرتا ہے۔ ایسے مرکبات اور الفاظ زبان میں ایک شکوہ بھی پیدا کر دیتے ہیں۔ شاید یہی سبب رہا ہو گا کہ سہل پسند شاعروں کے ہاں ان کے استعمال کا مظاہرہ اہتمام سے ہوتا ہے ؛ اتنے اہتمام سے کہ ساری توجہ یہی مرکبات اور الفاظ کھینچ لیتے ہیں۔

ایسے میں یہ لفظی مرصع کاری، معنیاتی توسیع کاری بن پاتی ہے نہ جمال کاری کہ اس سے شعر کے معنیاتی اور جمالیاتی بہاؤ میں رخنے پڑنے لگتے ہیں۔ اشفاق ناصر کے ہاں ایسا نہیں ہوتا۔ لفاظی اور زبان سازی کے ذریعے لسانی ہیبت کاری اس شاعر کا مسئلہ نہیں ہے۔ کہیں بھی وہ متروک الفاظ یا انوکھی تراکیب سے توجہ کھینچتے نظر نہیں آتے۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ شعر کہنا ہمارے اس شاعر کے ہاں جیسے مصوری کا سا عمل ہو جاتا ہے ؛ ایسا کہ کہیں بھی رنگوں کے گہرے، اوچھے اور ابھرواں چھینٹے نہیں پڑتے اور شعر کے کینوس پر زبان کے سارے رنگ ایک توازن اور تہذیب سے برتے جاتے ہیں۔

طلسم شعر گری ہے مصوری اشفاق
میں ایک شخص دکھاؤں غزل کے جادو سے

3۔ تیسری بات کی ذیل میں مجھے یہ کہنا ہے کہ کچھ الفاظ ہیں جو اشفاق ناصر کے ہاں تواتر سے آتے ہیں۔ انہی سے وہ فضا بنتی ہے جو شعر کے تخلیقی عمل میں ان کے وجود پر اترنے والے موسموں کو نشان زد کر رہی ہوتی ہے۔ عملی زندگی میں وہ جہاں کہیں ہوں مگر شعر کہتے ہوئے وہ اسی فضا کی ناغول میں جا بیٹھتے ہیں۔ صحرا، دشت، آنکھ، آنسو، شام، عشق اور ان جیسے دوسرے الفاظ جن مشرقی شعری روایت میں اپنی تہذیبی معنویت بھی ہے۔ آپ اشفاق ناصر کی غزلیں پڑھتے جائیں ؛ یہ الفاظ پلٹ پلٹ کر آئیں گے ؛ یوں جیسے سرد پہاڑی علاقوں میں بادل آتے ہیں اور ایک دھند سی بناتے ہیں ؛ ان الفاظ سے وہ قاری کے دل کو گداخت کرتے ہوئے اس کے جذبوں کی تہذیب کرتے ہیں۔ لطف یہ ہے کہ ان کا بار بار آنا کھلتا نہیں ہے کہ ہر بار یہ نئے معنیاتی انسلاکات کے ساتھ آتے ہیں۔ مثلاً شام کے لفظ کو ذہن میں رکھیے اور سلام کا یہ شعر دیکھیے :

میں کیسے تجھ کو بتاؤں کہ کیا ہے یوم الدین
یہ ایسا دن ہے جو ہوتا ہے شام سے آغاز
اور غزل کے دو تین اشعار:
اس میں تم ہوتے ہو اور ایک دیا ہوتا ہے
عمر بھر ہم نے یہی شام کا مطلب سمجھا
۔
تمام بچھڑے ہوئے میری آنکھ میں آ جائیں
ہے ناؤ چلنے کو تیار شام ہو گئی ہے
ایک خرد بحر کی غزل کا سادہ مگر تاثیر سے لبالب شعر دیکھیے :
پھر وہ شام پلٹ آئی ہے
سوگ منایا جا سکتا ہے

کہنے کو بہت باتیں ہیں اور ایسے ایسے اشعار ہیں جو شاعر نے بہ ظاہر سہولت سے کہہ لیے ہیں مگر خوبی کے اعتبار سے ایسے ہیں کہ ذکر چھڑ گیا تو بات اطالت پکڑ لے گی۔ یہاں بس ایک شعر جو عشق کے باب میں ہے اور اس موضوع پر کہے گئے بیسیوں شعروں پر بھاری۔ اشفاق ناصر کا شعری مجموعہ پڑھتے جائیں عشق کا جذبہ وہ یوں برتتے نظر آئیں گے جیسے یہی جنوں ان کے لیے زندگی موت کا سا مسئلہ ہو گیا ہو۔ لیجیے شعر کا لطف اٹھائیے :

عشق میں نے بھی کیا ہے مرے اجداد نے بھی
نسل در نسل کیا ہے تو یہ کام آیا ہے

آخر میں اس غزل کا ذکر کرنا چاہوں گا ( مکمل غزل کا نہیں اس کے پہلے چار اشعار کا) جو میں نے پڑھی تو جیسے پھر سے روشنی کا جھپاکا ہوا تھا۔ میں نے کتاب بند کر کے رکھ دی اور بہت دیر ان اشعار کی بابت سوچتا رہا۔ پھر کچھ وقفہ دے کر اور پہلے تاثر سے نکل کر پڑھنے کو، سب سے الگ ہوا اور اپنی اسٹڈی کے ایک کونے میں اتر گیا۔ ہر بار بہتے آنسوؤں کے بیچ مجھے یوں لگا تھا، جیسے میں وہاں تھا اور نہیں تھا۔ جیسے وہاں سب کچھ تھا اور کچھ نہیں تھا۔ وہ اشعار سنیے اور مجھے اجازت دیجئے :

وہ گھر میں ہی موجود ہے اور گھر نہیں موجود
کیا دوہری اذیت ہے میسر نہیں موجود
اک ایسے بھنور میں ہوں کہ اب ڈوبا کہ ڈوبا
اور یہ بھی خبر ہے کہ سمندر نہیں موجود
اک شخص جو رہتا ہے ہمہ وقت مرے ساتھ
کیوں لوگ یہ کہتے ہیں کہیں پر نہیں موجود
اس واسطے اب میرا کہیں دل نہیں لگتا
جو آنکھ میں موجود ہے منظر نہیں موجود

Facebook Comments HS