شہباز ”لا احساسی“ شہباز شریف!
شہباز لامکانی کے بارے تو آپ یقیناً جانتے ہیں جنھیں عرف عام میں لعل شہباز قلندر کہا جاتا ہے جبکہ بھولے بھالے عقیدت مند لعل اور لال میں فرق سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سیہون شریف میں ان کا دربار ہے اور دھمال وہاں کی کافی مشہور ہے۔ لیکن مجھے ان پر نہیں لکھنا بلکہ آج مجھے ”شہباز لا احساسی“ کا تعارف کرانا ہے۔ آپ کا تعلق پنجاب سے ہے اور ”تریکت“ کی منازل طے کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کے نام بھی بدلتے رہے ہیں۔ پہلے آپ کو ”پنجاب سپیڈ“ کہا جاتا تھا۔
مزید منازل طے کرنے کے بعد آج کل ”پاکستان سپیڈ“ کہلاتے ہیں۔ موصوف بھی پاکستان کے سب سے بڑے اسی پیر خانے کے مرید ہیں جہاں سب مرید ہونا چاہتے ہیں لیکن کوئی مقدر والا ہی وہاں سلیکٹ کیا جاتا ہے۔ منازل طے کرنے کے بعد جیسا کہ سلسلہ طریقت کا رواج ہے، موصوف کو پنجاب سے پاکستان بھیجا گیا تاکہ لوگوں کی رشد و ہدایت کا کام کر سکیں۔ چونکہ شہرت اچھی تھی لہذا ساکنان پاکستان نے سکھ کا سانس لیا کہ راہ ”ارادت“ کا سالک پنجاب کی طرح پاکستان میں بھی بہتری لائے گا لیکن ایسا کچھ نہ ہوا۔
شہباز لامکانی کی طرح آپ کی پرواز بھی بہت بلند ہے لیکن فرق یہ ہے کہ انھیں بلند تر پرواز کے باوجود نیچے نظر آتا تھا لیکن شہباز لا احساسی کو آج کل نیچے نظر آنا بند ہو گیا ہے۔ خصوصاً خطہ پاکستان کے شودر جنھیں میڈیا میں غریب کہا جاتا ہے، وہ ان کی نظر کے حدود خمسہ سے غائب ہو گئے ہیں۔ شاعر مشرق ممولے کو شہباز سے لڑانا چاہتے تھے لیکن شاعر مغرب نے شہباز کو ”غریبولے“ سے لڑا دیا ہے۔ سالک راہ ”تریکت“ جناب شہباز لا احساسی کی تمام تر توجہ ہدایت یافتہ طبقے کی بجائے مراعت یافتہ طبقے کی جانب ہے۔ آپ کے قلم جہان کش سے نکلنے والا ہر فرمان مراعت یافتہ طبقے کی دنیا میں جلوہ ہائے نور بکھیر رہا ہے۔
جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ سالک جب تربیت مکمل کر لیتا ہے تو اسے لوگوں کی رہنمائی کے لیے کسی علاقے میں بھیج دیا جاتا ہے جیسا کہ شہباز لامکانی مروند موجودہ افغانستان یا آذربائیجان سے سندھ کی طرف بھیجا گیا، ایسے ہی شہباز لا احساسی نے جب اپنی تربیت مکمل کر لی تو انھیں بھی ان کے پیر خانے نے غریبوں کی تباہی کے لیے پاکستان بھیج دیا۔ آپ کی کرامتوں کی فہرست طویل ہے لیکن حال میں ہی ایک کرامت وجود میں آئی ہے۔ دو تین پہلے آپ کے ایک خلیفہ جناب اسحاق ڈار صاحب نے پٹرولیم مصنوعات سستی کی ہیں کہ روپے کی قدر میں بہتری آئی ہے لیکن آپ کرامت دیکھیں کہ اسی ”روبیۃ القدر“ نے بجلی پر بجلی گرائی اور ایسا دھماکا ہوا کہ غریبوں کے پر پر جل گئے ہیں۔
خطہ پاکستان کو شوگر کے موذی اور لاعلاج مرض سے نجات دلانے کے لیے آپ نے ”شوگر“ کو مزید مہنگا کر دیا ہے اور وہ اس بات کو بھی یقینی بنا رہے ہیں کہ ضرورت کی ہر چیز پر لکھ دیا جائے کہ ”غریبوں کی پہنچ سے دور رکھیں“ ۔ آپ کی کرامتوں کے کیا کہنے، جبکہ پورے خطہ میں لوگ روزی روٹی کے لیے ترس رہے ہیں، موصوف کے دولت اقدس، ان کے پیر خانے بلکہ ان کے حواریوں تک کے لنگر خانوں میں ہر چیز وافر مقدار میں ہے بلکہ کتوں تک کے لیے ایسی ایسی غذائیں دستیاب ہیں کہ شاید اصحاب کہف کا کتا بھی رشک کرتا ہو گا۔
شہباز لا احساسی نے تریکت کی تمام منازل طے کر لی ہیں بلکہ امتیازی حیثیت میں ”تہہ“ کر دی ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں تصوف کی راہ میں چھ لطائف ہوتے ہیں جنھیں طے کرنے کے بعد سالک ولایت کی اعلیٰ منزل پا لیتا ہے۔ ایسے ہی جناب شہباز لا احساسی ان چھ لطائف سے گزر گئے ہیں بلکہ ایسے گزرے ہیں کہ ان چھ لطائف کو ہی لطیفہ بنا دیا ہے۔ آپ نے ”لطیفہ فنسی“ کو یوں تہہ کیا ہے کہ ہر طرف نفسی نفسی کا سماں نظر آتا ہے۔ دوسرے لطیفے ”لطیفہ قلبی“ کو ایسے تہہ و بالا کیا ہے کہ ہر کسی نے ہاتھ دل پر رکھ لیے ہیں۔
جب سے آپ نے ”لطیفہ روحی“ کو سر کیا ہے تب سے لوگ جینے کی بجائے روح کا نکلنا آسان محسوس کر رہے ہیں۔ لطیفہ سر ی میں آپ کی شان کا کیا کہنا، آسان معنوں میں یوں سمجھ لیں کہ آپ نے اسے ”بھین دی سری“ بنا دیا ہے۔ لطیفہ خفی کے تحت آپ غریبوں کو غائب جبکہ لطیفہ اخفیٰ کے تحت ان کے ممکنہ ظہور کو بھی ناممکن بنا رہے ہیں۔ نور کا ایسا سیلاب آ رہا ہے جو غریبوں کے باطن کو ”تن“ کر دے گا لیکن بدخواہ حاسد اسے مہنگائی کا سیلاب کہہ رہے ہیں۔
سنجیدہ دم : آپ کا کہنا ہے کہ ضروریات زندگی اور بجلی وغیرہ اس لیے مہنگی کی ہے کہ ملک نازک حالت میں ہے اور عمران خان نے چار سالوں میں اس کا حشر نشر کر دیا ہے۔ حضور والا! اس اخبار کے صفحات گواہ ہیں کہ آپ نہ بھی کہیں ہم تب بھی مانتے ہیں کہ سب کیا دھرا اسی کا ہے لیکن اس کی سزا غریبوں کو کیوں؟ آپ عجیب ہیں کہ جس نے جرم کیا اس کی سیکورٹی پر آج بھی کروڑوں روپے خرچ کر رہے ہیں اور ہمارا خون تک نچوڑنے پر تلے ہیں۔
ملک نازک دور سے گزر رہا تھا تو کچھ ریٹائروں کو دو دو ہزار یونٹس فری کیوں؟ ان کی تنخواہوں اور پنشن میں لاکھوں کا اضافہ کیوں؟ ان کی سفر، گیس، دوا اور دیگر مراعات مفت کیوں اور ان میں اضافہ کیوں؟ رو رو کر آئی ایم ایف سے قرضہ اس لیے لیا تھا کہ تمام افسران کو دس دس کروڑ کی گاڑیاں لے کر دی جائیں گی؟ خدا کا خوف کریں


