نواز شریف چوتھی بار شیروانی پہننے کے لئے تیار
جیسے جیسے حکومت کی مدت پوری ہونے کا وقت قریب آ رہا ہے اتحادی جماعتوں کی حکومت ہر روز ڈنکے کی چوٹ پر مختلف چیزوں کی قیمتوں میں اضافے کر رہی ہے۔ بجلی کی قیمتوں میں سات روپے پچاس پیسے اضافہ اس کی تازہ مثال ہے۔ شہباز حکومت نے جیسے ہی آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا دو دن باقاعدہ حکومتی سطح پر جشن کا سماں رہا۔ حکومت کا موقف تھا اگر آئی ایم ایف سے معاہدہ نہ ہوتا تو ملک ڈیفالٹ ہو سکتا تھا اس لیے اس معاہدے کا طے پانا ان کی واحد بڑی اچیومنٹ ہے اس کے علاوہ تیرہ جماعتی حکومت کے کریڈٹ پر کوئی بڑا کام نہیں ہے۔
ہاں وقتی طور پر شہباز شریف نے طلبہ کو لیپ ٹاپ اور قرضے دے کر کچھ حد تک ہمدردیاں حاصل کی ہیں لیکن بجلی کی قیمت میں اضافہ اور پیمراء ترمیمی بل نے دونوں اچھے کام کھوہ کھاتے میں ڈال دیے ہیں۔ بجلی مہنگی ہونے سے لیگی ووٹرز بھی پریشان ہیں اور پیمراء بل سے پورا میڈیا پریشان ہے۔ شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی سربراہ سے تین ملاقاتیں کی جس میں ان کے تمام تحفظات دور کیے گئے جو شرائط معاہدے میں طے پائی جائیں گی وہ ہر صورت پوری ہوں گی کیونکہ آئی ایم ایف کو خدشہ تھا کہ پاکستان نے 2019 میں بھی معاہدہ کیا پھر اس کی خلاف ورزی کی۔
اس معاہدے کی خلاف ورزی عمران خان نے عدم اعتماد کے جن کو دیکھ کر کی تھی تاکہ عوام میں اپنی قبولیت کو برقرار رکھ سکیں اس لیے آئی ایم ایف نے پہلی مرتبہ دنیا کے کسی ملک کو قرض دینے سے قبل اتنی کڑی شرائط پوری بھی کروائیں اور مزید ایسی ہی شرائط نافذ کر دیں۔ شہباز شریف آئی ایم ایف سے معاہدہ کر کے اسٹبلشمنٹ کا بھی اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے ہیں اس لیے دھڑلے سے مزید مشکل فیصلے کر رہے ہیں۔ چین کی جانب سے پانچ ارب ڈالر کے قرضے رول اوور کرنے اور سعودی عرب سے دو ارب ڈالر کی امداد جبکہ یو اے ای سے ایک ارب ڈالر کی امداد دلوانے میں نواز شریف نے مرکزی رول ادا کیا ہے اس معاملے میں آرمی جنرل عاصم منیر کی بیک ڈور ڈپلومیسی کو بھی نظر انداز نہیں کیا کیونکہ جنرل عاصم منیر آرمی چیف تعینات ہونے سے قبل کچھ عرصہ عرب ممالک میں بھی اپنی فرائض سرانجام دے چکے ہیں ان کے عربوں کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔
نواز شریف لندن کے بعد دبئی اور سعودی عرب میں پاکستانی بزنس مینوں سے ملاقاتیں اور غیر ملکی ماہرین معیشت سے بھی لندن میں تفصیلی ملاقات کرچکے ہیں۔ بظاہر لگ رہا ہے نواز شریف اس مرتبہ اقتدار حاصل کرنے سے قبل ہوم ورک مکمل کرچکے ہیں۔ پاکستان پر جو دیوالیہ پن کی تلوار لٹک رہی تھی وہ اب ختم ہو چکی ہے۔ اب نواز شریف کا اگلا مشن ایک مضبوط اور عوامی حمایت سے بھرپور حکومت کا قیام ہے جس میں وہ نئی اصلاحات کے ساتھ اپنے ویژن کو آگے بڑھا سکیں۔
نواز شریف الیکشن سے قبل عدالت سے ریلیف حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو وہ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے وزیراعظم کے امیدوار ہوں گے ۔ اگر نواز شریف مکمل کلین اپ ہو کر کیمپین چلاتے ہیں تو مسلم لیگ (ن) 150 کے قریب قومی اسمبلی کی سیٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکتی ہے۔ پنجاب میں مسلم لیگ (ن) سب سے بڑی جماعت بن کر ایک مرتبہ پھر سامنے آ سکتی ہے۔ نواز شریف پاکستان کے سب سے با اثر، مضبوط اعصاب اور جادوائی شخصیت کے مالک سیاسی لیڈر ہیں جبکہ ان کے مدمقابل عمران خان اور آصف زرداری اقتدار کے خصوصی کے لئے ہمیشہ اسٹبلشمنٹ کی طرف ہی دیکھتے ہیں لیکن نواز شریف عوامی طاقت سے ہی راج کرنے کے حامی ہیں۔
اگر نواز شریف اسٹبلشمنٹ کے کندھوں پر ہی سوار ہوتے تو راحیل شریف کو توسیع دیتے اور 2017 میں نا اہل ہونے کی بجائے 2018 میں دوبارہ وزیر اعظم بن جاتے لیکن نواز شریف نے نا اہلی کے بعد وزیراعظم ہاؤس سے نکلنے کے بعد اسلام آباد میں ڈیرے لگانے کی بجائے عوامی عدالت میں آنے کا فیصلہ کیا۔ اگر نواز شریف ڈیل کے متلاشی ہوتے تو نا اہلی کے بعد اسلام آباد ہی رہتے کیونکہ ان کی نا اہلی کے بعد الیکشن ابھی ایک سال بعد ہونے تھے اس دوران وہ اپنے جماعت کی حکومت کا اثر رسوخ استعمال کر کے اپنی سزا بھی ختم کروا سکتے تھے لیکن نواز شریف ڈیل یا ڈھیل والی سوچ سے ذہنی طور پر آزاد ہوچکے ہیں۔ الیکشن میں ابھی چار ماہ باقی ہیں لیکن ابھی سے نظر آ رہا ہے نواز شریف چوتھی بار شیروانی پہننے کے لئے تیار ہیں کیونکہ عمران خان کو یقین ہے مجھے الیکشن سے قبل سیاسی میدان سے آؤٹ کر دیا جائے گا جبکہ آصف زرداری دبئی ملاقاتوں کے بعد سیاسی منظر نامے سے غائب ہیں۔


