ہم،ہمارا معاشرہ اور ہمارے تعلیمی ادارے



تعلیمی اداروں میں ہم کیوں جاتے ہیں؟ سوال جتنا سیدھا سادا ہے، اتنا ہی جواب پیچیدہ ہے۔ کیونکہ ہمارا جواب ہماری توقع کے مطابق ہو گا اور اداروں کا جواب ان کی تخلیق کے مطابق ہو گا۔ ہمارے اداروں کی گئی تخلیقات دیکھ کر یقین نہیں ہوتا کہ ان مردوزن نے تعلیم نام کی کوئی شے حاصل کی ہو گی۔ اگر کی ہوتی تو معاشرہ اس قدر بے ہنگم ہجوم میں نہ ڈھلا ہوتا۔ کل معلوم ہوا کہ کوئی صاحب پکڑے گئے ہیں جن سے نامناسب مواد برآمد ہوا، جس کی تعداد بھی خاصی ہوشربا بتائی گئی۔ لیجیے طالبات کی سیکیورٹی جن کو تھمائی گئی، وہ خود ہوس پرست اور منشیات کا عادی نکلا۔ پورا ملک ایسے اچھل پڑا، جیسے انھوں نے کوئی انہونی بات سن لی ہو یا انھوں نے ایسی بھیانک واردات سوچی تک نہ ہو۔

لیجیے حیران کون ہیں؟ اس ملک کے باشندے، جہاں زینب نامی بچی کو کوئی نعت خوان لے گیا، جہاں قاری صاحبان کے ساتھ بچے اکیلے نہیں چھوڑے جاتے، ان پہ بھی پہرا بٹھانا پڑتا ہے، جہاں حجاب میں ڈینٹسٹ کے پاس اکیلے جانے کے بعد باعصمت واپس آنا محال لگتا ہے، جہاں قبروں میں تازہ لاشیں محفوظ نہیں، جہاں اہل محلہ کمسن تنہا بچیوں کو تحفظ کی بجائے مال غنیمت سمجھ لیتے ہوں، جہاں پارک میں چہل قدمی کرنا بھی دعوت گناہ ہو، جہاں موٹر وے پہ سفر کرنا بھی آبرو کے لیے خطرہ ہو، اس ملک کے لوگوں کو تو اب تک سمجھوتہ کر لینا چاہیے تھا کہ یہ سب تو چلتا ہے۔

وہ چونکتے کس بات پہ ہیں؟ صرف اس بات پہ ”اچھا یہ بھی تھا؟“ واہ کانوں کان خبر نہ ہونے دی بندے نے۔ پکڑے جانے سے پہلے کئی کہتے ہوں گے یار ہے اپنا، بھائی ہے اپنا۔ بڑا یارانہ ہے جی ان سے۔ اب سب ایسے انجان بن جائیں گے کہ اوہو ایسا بندہ تھا، توبہ توبہ، بھئی ہمیں کیا معلوم۔ ہم تو بس دور دور سے جانتے تھے۔ یہ غلیظ درندے ہم نے امپورٹ نہیں کیے ہوتے۔ یہیں پال پوس کر ان کو اپنے بیچ بڑا کیا ہوتا ہے اور سب کو سب پتا ہوتا ہے کہ کون کس قبیل کا ہے۔

یہ تو طے ہے کہ ایسے گھٹن زدہ معاشرے جس میں عورت کا وجود صرف اور صرف مردانہ ہوس کی تسکین کا ذریعہ ہو، وہاں خیر کی امید ہے کس کو؟ وہ چاہے سڑک ہو، دفتر ہو، مدرسہ ہو، سکول ہو، یونیورسٹی ہو یا اپنا گھر یا اپنی قبر، کسی جگہ عورت محفوظ نہیں۔ عورت کے لیے سکون قبر میں بھی نہیں جناب۔

اب بات کیجیے اسلامیہ یونیورسٹی کے تازہ افشا ہوئے راز پہ۔ راز اب کھلا ہے، واقعہ نیا نہیں ہے، بس جامعہ کا نام بدلا ہے۔ یہاں بحث کی اقسام نوٹ کیجیے۔ پہلی؛ تعداد میں حقیقت نہیں لگتی۔ سات سال کو تصاویر پہ تقسیم کر کے حساب لگائیں تو جواب بیس یومیہ نکلتا ہے۔ یہ سچ نہیں ہو سکتا۔

دوسری قسم ملاحظہ ہو؛مارکس کی خاطر لڑکیاں کسی حد تک جا سکتی ہیں۔ بس پھر یہ خود آفریں دیتی ہوں گی۔ اسی لیے تو لڑکیوں کے نمبر لگتے ہیں بھئی۔

تیسری دیکھیے ؛جی لڑکیاں پیسے، یارانے یا دیگر آسائشوں کی خاطر غیر اخلاقی سرگرمیوں کا حصہ بنتی ہیں تو ایسے لوگ سہولت کار بن کر بعد میں بلیک میل کرتے ہیں۔

چوتھی اور سب سے اعلیٰ قسم، ایسا ممکن ہی نہیں اور ایسا ہونا ہمارے معاشرے میں ممکن ہی نہیں۔ ورنہ کوئی شور شرابا نہ ہوا ہوتا۔ یہ فلاں فلاں اسلامیہ یونیورسٹی کو بدنام کر کے اپنی پرائیویٹ یونیورسٹی کو پروموٹ کرنا چاہتا ہے تاکہ پیسہ کما سکے۔ جو کرا ریا اے، امریکہ کرا ریا اے۔

آخری قسم؛بس طالبان آ جائیں اور اسلامی شریعت نافذ ہو جائے تو سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ مخلوط تعلیم ختم، ہر جرم پہ پھانسی اور لو جی گل مک گئی۔

یہ چند ہیں اگر سب کا ذکر کیا جائے تو معاشرہ مزید عریاں ہو جائے۔ کیا تعداد اتنی اہم ہے کسی بھی واقعے میں؟ وہ ایک ہے یا پانچ ہزار کیا فرق پڑتا ہے۔ ہمارا جانب دار، غیر ذمہ دار اور نا اہل میڈیا، جس قدر ناقابل بھروسا ہے اس سے صحیح معلومات کا ملنا ویسے ہی عبث ہے۔ میڈیا نے ایسی بڑی تعداد کا ذکر کر کے ہزاروں طالبات کی عصمت پہ سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ خدا جانے کتنی اپنی تعلیم، اعتبار، رشتے داری اور نیک نامی سے محروم ہوتی ہیں۔

تعداد ہزاروں ہو گی تو کیا تبھی ہماری غیرت جاگے گی؟ بات یہ ہے کہ ایک تعلیمی ادارے میں ایسی سرگرمیوں کی روک تھام کا کیا طریقہ رائج ہے۔ میرا خیال ہے وہی سسٹم ہے جو ہمارے ملک میں انصاف کا نظام ہے۔ اپنی بات ثابت کرنے سے بہتر ہے خاموش ہو جانا۔ جو ذلت بند کمرے میں جھیلی وہ سربازار کیوں جھیلنی؟ ایک عام سٹوڈنٹ اور ایک با اثر پروفیسر میں سے کس کی بات کا وزن زیادہ ہوتا ہے۔ وہ بھی اس صورت میں درندوں کا نشانہ ہی کمزور طالبات ہوتی ہوں۔

کسی اثر و رسوخ رکھنے والی طالبہ کے تو سائے سے بھی یہ دور بھاگتے ہوں گے۔ جو لوگ ان واقعات سے انکار کرتے ہیں وہ کبھی خود فریبی سے باہر نہیں آنا چاہتے۔ بہتر ہے نہ آئیں اور دعا ہے کہ ان کو اس تجربے سے نہ گزرنا پڑے۔ ویسے کبھی کسی بھی یونیورسٹی یا کالج کا رخ کیجیے، حضور بڑے بڑے نیک ناموں، باریش اور صوفی صورت صاحبان پہ ساتھی خواتین اور طالبات کی جانب سے شکایت درج کی جا چکی ہوں گی۔ جگہ جگہ بورڈ آویزاں ہوں گے کہ ہراسانی کی صورت میں فلاں فلاں سے رجوع کیجیے۔ کبھی معلوم کیجیے شرم سے ڈوب مرنا نہ پڑے تو میں گناہگار۔

ایسے لوگ جن کو لگتا ہے کہ یہ سب مارکس کی خاطر ہوتا ہے تو جان لیں کسی کے لیے نمبر اتنے اہم نہیں ہوتے۔ ہر کسی میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ ہراسانی کا جواب دے یا مقابلہ کرے۔ خوف، شرم، کمسنی، ناتجربہ کاری اور ہراساں کرنے والے سے کم حیثیت کیا کچھ نہیں کراتی ہو گی۔ خاص طور پہ اس معاشرے میں جہاں قصور وار اسی کو ٹھہرایا جانے کا رواج ہو۔ بلیک میل کرنے والے اپنے شکار کے پاس کوئی راہ فرار نہیں چھوڑتے، اگر راہ فرار ہوتی تو وہ کبھی دام رسوائی میں نہ پھنستی۔

مردوزن کی پرورش، تربیت اور ماحول بھی ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ ایسی ہوتی ہیں جن کو اچھائی برائی کی تفریق کرنا ٹھیک سے نہیں آتا۔ کچھ سبق زندگی غلطیوں کے بعد سکھاتی ہے۔ اس لیے دوسروں کی غلطیوں سے سیکھیں اور پیشگی خود کو برے حالات کے لیے تیار رکھیں۔

سب سے آخری بات۔ آپ جو چاہے نظام لائیے یا جو مرضی قانون، بس اس پہ عملدرآمد کرنے کی توفیق مانگیے۔ عورت کو بنیادی حقوق دلوا دیجیے جن کا وعدہ دین، معاشرہ، اخلاق اور قانون یکساں طور پہ کرتا ہے۔ مسئلے کا حل یہ نہیں کہ عورت کو بند کر دو تو مسئلہ ختم۔ مسئلہ تب ختم ہو گا جب عورت کو ہراساں کرنے والے درندوں کو بند کیا جائے گا۔ اس کو تحفظ فراہم کیجیے تاکہ وہ جی سکے، پڑھ سکے، بڑھ سکے اور معاشرے میں اپنا کردار ادا کر سکے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments