کیا ہم واقعی ترقی چاہتے ہیں؟


ایک طرف ہم ترقی چاہتے ہیں تو دوسری طرف ترقی کے عوامل کا سدباب، ایک طرف ہم خوشحالی چاہتے ہیں تو دوسری طرف خوشحالی کے راہ میں رکاوٹیں پیدا کر دیتے ہیں، ایک طرف ہم قانون کی بالادستی چاہتے ہیں تو دوسری طرف اپنی مفادات کو قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ ترقی سارے پاکستانیوں کا صرف تکیہ کلام ہی رہ گیا ہے۔ ہمارے سیاست سے لے کر اداروں تک صرف الزام تراشیوں سے کام لیا جاتا ہے یوں لگتا ہے ترقی الزام تراشیوں سے ملتی ہے۔ ایک سیاستدان ملک کی بدحالی کا ذمہ دار دوسرے کو ٹھہراتا ہے تو دوسرا اس کو۔

ہم عوام بھی ان سے کہی پیچھے نہیں ہیں ہم بھی صرف الزام تراشی کا سہارا لیتے ہیں۔ ہم بھی بڑی آسانی اور فراخدلی سے سیاستدانوں کو کرپٹ اور ملک کی بدحالی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں لیکن خود ان اصولوں کی پیروی نہیں کرتے ہیں جن سے ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔

ہماری یونیورسٹی کا پرووسٹ اصولوں کا انتہائی پابند اور ایک فرض شناس افسر ہیں۔ وہ انتہائی سختی سے قانون کی پیروی خود بھی کرتا ہے اور اپنے سٹاف اور طالب علموں کو پیروی کرنے کا پابند کرتا ہے۔ اس کی وجہ پرووسٹ آفس میں اسٹوڈنٹس کا کام بڑی آسانی سے ہو جاتا ہے ورنہ تو ہماری یونیورسٹی کا ایڈمن اسٹوڈنٹس کو ذلیل کرنے میں بڑا مشہور ہے۔

میں پچھلے سال ہاسٹل رینویل فارم جمع کرانے پرووسٹ آفس گیا تو دیکھا پرووسٹ آفس کے باہر ایک لمبی لائن لگی ہوئی تھیں۔ میں بھی جا کے لائن میں کھڑا ہو گیا۔ ایک ایک ہوکے اندر جاتے تھے اور فارم جمع کر کے رسید لے کے نکلتے تھے۔ جمعہ کا دن تھا اور جمعے کی نماز کے لیے تقریباً ایک گھنٹہ تھا۔ کام اتنی آہستہ ہو رہا تھا میرا کام ہوتا ہوا مشکل دکھائی دیتا تھا۔ آدھا گھنٹے میں صرف دو بندوں کا کام ہو گیا اور مجھ سے آگے کئی لڑکے کھڑے تھے اور پیچھے بھی کافی لڑکے کھڑے تھے۔ نماز کی بریک کے لیے آدھا گھنٹہ رہ گیا تھا پرووسٹ صاحب آ گئے اور آفس کے باہر لائن دیکھ کر لڑکوں سے کہا اندر کیوں نہیں بیٹھتے ہو۔ لڑکوں نے کہا اندر بیٹھنے نہیں دیتے ہیں۔

وہ غصہ ہو کے ہم سارے لڑکوں کو اندر لے گیا اور اندر کرسیوں پر بٹھایا۔ اور اپنے سٹاف کو اندر بیٹھنے کی جگہ ہونے کے باوجود اسٹوڈنٹس کو باہر کھڑا کرنے کی وجہ سے سخت ڈانٹا اور بریک ہونے سے پہلے سارے اسٹوڈنٹس کا کام ہو گیا۔ وہ جو آدھا گھنٹے میں دو اسٹوڈنٹس کا کام کرتے تھے پرووسٹ کے آنے پر آدھا گھنٹے میں سارے اسٹوڈنٹس کام کر لیا۔ وہی سے میں سمجھ گیا کہ اگر پاکستانیوں کو اصولوں کا پابند بنانا ہے تو ان پر پاور کو سختی سے استعمال کرنا ہو گا۔

چونکہ پرووسٹ کوئی غیر قانونی کام کرنے دیتا نہیں اور قانون پر سختی سے عمل کرواتا ہے تو سارے اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن اور سٹاف اس کے خلاف ہیں۔ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن غیر قانونی طور پر اسٹوڈنٹس کو ہاسٹل میں ٹھہراتے تھے اور ان سے پیسے لے خود کھاتے تھے۔ پرووسٹ کی وجہ سے ان کے کاروبار ٹھپ ہو گیا تو وہ دوسرے اسٹوڈنٹس کو لے ان کے خلاف ہو گئے۔ اور سارے اسٹوڈنٹس میں یہ بات مشہور ہو گئی ہے کہ وہ بد اخلاقی کرتا ہے اور ان کو بدتمیز اور بد اخلاق کہتے ہیں۔ اور ہر وقت لگے رہتے ہیں کہ ان کو کسی طرح سے ہٹایا جائے۔

ہم ترقی چاہتے ہیں لیکن جہاں ہماری مفادات آتے ہیں وہیں ہم ترقی بھول جاتے ہیں اور ترقی کو اپنے مفادات پر قربان کر دیتے ہیں۔ ہم سب ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں اس طرح پاکستان کیسے ترقی کرے گا۔ اچھا یہی ہے کہ ہم ترقی لفظ ہی کو اپنے زبان سے مٹا دیں۔

گزشتہ سال اسلام آباد کے پولی کلینک ہسپتال میں کسی کو ڈاکٹر سے چیک اپ کروانے کے لیے لے گیا تو وہاں ڈاکٹر سے ملنے کے لیے ٹوکیں لینا پڑا۔ تقریباً دو گھنٹے ٹوکیں لینے کے لیے لائن میں کھڑا رہا لیکن عین میری باری آئی تو بریک کے لیے دس منٹ تھا لیکن اس نے ٹوکیں دینے سے انکار کیا اور گھنٹے بعد آنے کو کہا۔ ہم اس گرمی اسی لائن میں کھڑا رہا اور گھنٹہ بھی گزر گیا اور بریک کا ٹائم بھی ختم ہو گیا لیکن ان کا کوئی پتہ نہیں ہوا۔ مکمل پندرہ منٹ گزرنے کے بعد تشریف لائیں۔

اگر ہماری پرووسٹ کی طرح کوئی افسر ان کے اوپر ہوتا تو وہ ٹائم پر بریک کرتے اور ٹائم پر واپس آتے۔ اس طرح سب کا کام ٹائم پر ہوتا۔

ہم ان لوگوں کو پسند نہیں کرتے ہیں جو قانون کے معاملے میں کسی سے کوئی کمپرومائز نہیں کرتے ہیں، خود بھی قانون کی پابند رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی قانون کا پابند بناتے ہیں۔ وہ ان لوگوں پر غصہ کرتے ہیں جو قانون توڑتے ہیں، اور وہ قومی مفادات کو لوگوں کی ذاتی مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ ہم ان لوگوں کی قدر نہیں کرتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت ان کو عہدے سے ہٹوانے کی کوشش کرتے ہیں، تو پھر یہ ملک کیسے ترقی کرے گا، کیسے ہمارے ادارے ٹھیک ہوں گی۔

ہم ترقی نہیں چاہتے ہیں، ہم صرف ترقی کے رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ ترقی کے لیے ہمیں قومی مفادات کو ذاتی مفادات پر ترجیح دینے ہوں گے اور قانون پر سختی سے عمل پیرا ہونا ہو گا اور دوسروں کو بھی قانون کے تحت کام کرنے دینے ہوں گے ، اور مل کر ترقی کے لیے کام کرنے ہوں گے ۔

Facebook Comments HS