لبرلزم اور اسلام


لبرلزم ان تمام نظریات اور تحریکوں کو کہا جاتا ہے جس میں انسان کو اول درجہ دیا جاتا ہے انسانی آزادی کو ترجیح دی جاتی ہے اور انسانی عظمت کو سر پر رکھا جاتا ہے۔ بھائی چارہ، آزادی اور مساوات لبرلزم کے گویا بنیادی عقائد ہیں۔ لیکن اس بوسیدہ معاشرے میں اگر آپ کو کسی کی رائے، بات یا تحریک پسند نہیں ہے تو آپ آسانی سے اس پر لبرل اور سیکولر کا لیبل لگا کر بلیک لسٹ کرسکتے ہیں، چاہے اس تحریک میں انسانی حقوق، عظمت اور امن کی بات ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نظریہ انگلستان کے چارلس اول اور جیمز دوم کے دور میں فلسفیوں نے دنیا کو دیا۔ اس وقت چرچ اور ریاست اتنے طاقتور اور مربوط تھے کہ انفرادیت کا تصور کرنا بھی گناہ شمار ہوتا تھا۔ پندرھویں صدی میں میکیا ویلی نے اخلاقیات اور ریاست کی راہیں الگ کردی۔ چرچ کو پس پشت ڈالنے کے بعد پروٹسٹنٹ ریاستیں انسان کو انسان سمجھنے لگی۔ انفرادیت پر مزید زور جان لاک نے دیا اور ان کے بعد آنے والے فلسفی روسو، بینتھم اور ملز نے دنیا میں انفرادیت اور عالمی منڈی کی بات کو عام کردیا۔ فرد کی قدر اور انسانی بنیادی حقوق کے تصورات حق سمجھنے شروع ہوئے۔ لوگ جو اس سے پہلے بھیڑ بکریاں مانی جاتی تھی، اشرافیہ اور چرچ نے جنہیں دوسرے اور تیسرے درجے کے انسانیت پر رکھتا تھا اب اپنی انفرادیت اور انسانی حقوق کے لیے نکل پڑے تھے۔ ان فلسفیوں کا اثر تھا کہ برطانیہ امریکہ اور فرانس میں عظیم انقلاب آئے۔ اشرافیہ کا تختہ الٹ دیا اور چرچ کی ٹھیکیداری کو پچھلے دروازے سے باہر پھینک دیا۔

اس کے برعکس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انسانی حقوق اور عظمت کی بات ساتویں صدی میں کی تھی۔ خواتین کو وہ مقام دیا تھا جو جانی تاریخ میں قریب قریب کہیں نہیں تھا۔ اسلام کو عالم اسلام کے سکالرز لبرل دین کہتے ہیں جس نے انسان کو گندی کھائی سے نکالا، صاف کیا اور اسے تمام مخلوقات کے تخت پر بٹھایا۔ اسے دوسرے انسان اور مذہب کی قدر سیکھائی۔ ابتدائی دور میں کافر اور مشرک کو بھی ہر طرح سی عزت دی گئی اور تکریم کی گئی یہی وجہ بنی کی آدھی دنیا میں مسلمانوں کی سلطنت قائم ہوئی اور کوئی اسلام سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ اسلام ہر دور ہر طبقے اور ہر قسم نسل کے لئے آیا ہے۔ جیسے چرچ نے یورپ میں اپنا راج قائم کیا تھا اسلام اس کے برعکس ہی ثابت ہوا۔ قرآن خود کہتا ہے کہ وہ آسان زبان میں نازل کیا گیا ہے تاکہ ہر کوئی سمجھ سکے۔ کسی کی اجارہ داری قائم نہ ہو کوئی اس دین کو ئاہجیک نہ کر لیں۔ لیکن تیرھویں صدی میں کچھ واقعات ایسے ہوئے کہ جس نے ساری ٹریجکٹری کو بدل دیا۔ ان واقعات کی وجہ سے مسلمانوں نے جو راہ لی اس پر آج بھی ساری مسلم دنیا بھٹک رہی ہے۔

خیر 1980 کی دہائی میں سعودی عرب، یو اے ای اور امریکہ نے ہمارے اسلامیات کی کتابیں ڈزائن کی، سکول کے نصاب کو اس طرح مرتب کیا گیا کہ روس کے خلاف پروپیگنڈہ کام کر جائے۔ 1947 میں پاکستان میں صرف چند بڑے مدرسے تھے، غالباً ان کی تعداد 136 تھی۔ جہاد کو پروموٹ کرنے کے لیے اور ڈالروں کی عوض اپنے جوانوں کو افغانستان بھیجنے کے لیے اتنے مدرسے بنے اور اتنی ریڈیکلائزیشن ہوئی کہ 2018 میں مدرسوں کی تعداد 36000 تک پہنچ گئی تھی وہ بھی صرف رہجسٹرڈ مدرسے، اس کے علاؤہ بے شمار بغیر رہجسٹرڈ تھے۔ جنرل ضیاء نے بلاسفیمی کو بھی قانونی حیثیت دی۔ 1927 سے 1987 تک بلاسفیمی کے صرف سات کیسز تھے لیکن 2013 تک یہی تعداد 1335 تک پہنچ چکی تھی۔ ہر بندے کے ہاتھ ہتھیار لگا، قریب ہی کئی واقعات ایسے ہوئے ہیں جس میں ویکٹم پاگل تھا یا ذاتی عناد کی وجہ سے سولی پر چڑھایا گیا۔

دینی مدارس اور سکولوں کے نصاب کو ایک خاص مقصد کے لیے پری انجینئرڈ کیا گیا اور اس سب کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہمیں ہر محلے میں عالم اور اسلامی سکالرز اور اسلامی فھم رکھنے والوں کی بجائے کچھ دیسی کھوکلے مولوی ملے۔ جو تبلیغ میں ایک چلا لگا کر آجاتے ہیں تو فتویٰ بازی کرنے لگ جاتے ہیں اور دو چار سال کسی لوکل مدرسے میں گزار دیتے ہیں تو خود کو ان عظیم علماء کے صف میں شمار کرتے ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی اور ایک نسل دین پر صرف کی ہوئی ہیں۔ یہ ایک محلے سے لیکر پورے ملک کے اقدار اور روایات کا فیصلہ کرنے لگ جاتے ہیں۔

پاکستان جیسے تیسری دنیا کے ملک میں کوئی علمی کام نہیں ہوتا نہ کوئی سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں کامیابی نظر آتی ہے، کوئی نیشنل ہیرو پیدا نہیں ہو رہا، کوئی اچھی تحقیقی کتاب نہیں چھپتی، دوستی، رواداری اور بھائے چارے کی بات نہیں ہوتی۔ وجہ جمود ہے، علمی جمود رٹے رٹی باتیں کہنا، سننا اور اپنے دماغ کو استعمال کرنا کفر سمجھنا۔۔۔۔۔۔۔ اس سب کا نتیجہ اندھیر نگر بننے میں نکلا، جہاں بات بات پر جانیں لینا، تکفیر اور امتیاز کا بازار گرم رکھنا معمول بن گیا ہے۔ اس معاشرے میں اخلاقی قدروں کی اہمیت اور وجود کس حد تک ہوگی جہاں سب سے زیادہ گھناؤنے کام مدرسوں اور یونیورسٹیوں میں ہو رہے ہیں۔ سوال ہے اس ملک کو اس نہج تک کس نے پہنچایا؟

Facebook Comments HS