اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا حالیہ سکینڈل
بہاولپور میں بہت سی تعلیمی ادارے قائم ہیں۔ جن میں صادق پبلک اسکول، گورنمنٹ صادق کالج ویمن یونیورسٹی، قائداعظم میڈیکل کالج اور اسلامیہ یونیورسٹی اہم ہیں۔ اس شہر کی شرح خواندگی بہت زیادہ ہے۔ اس وجہ سے ملک بھر سے طالب علم یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آتے ہیں۔ اس شہر میں ایک قدیم کتب خانہ ”سینٹرل لائبریری بہاولپور“ کے نام سے موجود ہے جس میں ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کتابیں موجود ہیں۔ یہ کتب خانہ پنجاب کا دوسرا بڑا کتب خانہ ہے اور پاکستان کے قدیم ترین کتب خانوں میں سے ایک ہے جو اس وقت کی ریاست بہاولپور کے نواب کی کاوشوں سے بنایا گیا ہے۔ ایس ای کالج 1886 میں قائم ہونے والا کالج نوابوں اور انگریزوں کا مشترکہ یاد گار ہے۔ اس کالج سے کئی مشہور ہستیوں نے تعلیم حاصل کی۔ ہم انتہائی افسوس سے اس شہر کی اسلامیہ یونیورسٹی کے بارے میں خواتین کے جنسی اسکینڈل کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے انتہائی شرمندہ ہیں۔ مالی ہی باغ اجاڑ دے چوکیدار ہی چوری کرنا شروع کر دے تو کیا ہو؟ والدین بچوں کو تعلیم کی غرض سے بے فکر ہو کے تعلیمی اداروں میں بھیجتے ہیں اور مطمئن رہتے ہیں۔ لیکن اگر یہاں ہی بچے اور خاص طور پے لڑکیاں محفوظ نہ ہوں تو والدین کیا کریں
یوں تو ہمارے یہاں بہت سے واقعات ہر آنے والے دن میں رونما ہوئے رہتے ہیں ہم انہیں چند روز یاد رکھتے ہیں اور پھر بھلا دیتے ہیں مگر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے مبینہ اسکینڈل جس میں طالبات کے ساتھ جنسی ہراسانی، کرسٹل آئس سمیت موبائل فونز سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی نازیبا ویڈیوز تصاویر اور جنسی ادویات برآمد ہوئی تھیں یہ ایک انتہائی شرمناک اور دلخراش واقعہ ہے جو دل و دماغ کو ہلا دینے کے لئے کافی ہے کہ ہمارے معاشرے میں جامعات میں ایسے اساتذہ بھی پائے جاتے ہیں جو طالبات کو ہراساں کر کے اور بلیک میل کر کے ان کی عزتوں کو پامال کرنے پر تلے ہوئیے ہیں۔ جبکہ ہمارا مذہب ان اساتذہ کو ماں باپ کا درجہ دیتا ہے۔
اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور ڈرگ اور جنسی کیس میں یونیورسٹی انتظامیہ اور بہاولپور پولیس نے ایک دوسرے پر الزامات عائد کرنا شروع کر دیے ہیں۔ پولیس نے یونیورسٹی انتظامیہ کا دعویٰ مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ طالبات سے غیر اخلاقی مطالبات کیے جاتے تھے اور انہیں ڈرگز کی طرف مائل کر کے انہیں بلیک میل کیا جاتا تھا۔ ادھر پنجاب حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لیے تین رکنی کمیٹی بنا دی ہے۔ ادھر بہاولپور پولیس نے اسلامیہ یونیورسٹی کے 3 افسران کو منشیات کیس میں گرفتار کر رکھا ہے، گرفتار افسران سے کرسٹل آئس سمیت موبائل فونز سے یونیورسٹی میں زیر تعلیم طالبات کی ان گنت نازیبا ویڈیوز تصاویر اور جنسی ادویات برآمد ہوئی ہیں جو ہمارے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
پولیس تھانہ بغداد الجدید نے ڈائریکٹر فنانس ابوبکر چیف سیکیورٹی افسر اعجاز شاہ جبکہ ٹرانسپورٹ انچارج محمد الطاف سے منشیات کرسٹل آئس برآمد کر کے ملزمان کو گرفتار کیا تھا، پولیس کا کہنا ہے کہ اس گھناونے جرم میں جلد مزید گرفتاریاں بھی متوقع ہیں۔
یونیورسٹی کے وائس چانسلر اطہر محبوب اور یونیوسٹی کے لیگل ایڈوائزر نے بہاولپور پولیس کی کارروائیوں کو بے بنیاد اور جھوٹی قرار دیا ہے۔ دو روز قبل وائس چانسلر نے نگراں انسپکٹر جنرل آف پولیس کو تمام تر معاملے کی جوڈیشل انکوائری کروانے کے لیے لیٹر لکھا تھا۔ دوسری جانب ڈی پی او بہاولپور عباس شاہ نے یونیورسٹی کے الزامات کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو کسی ادارے سے تعصب نہیں، جو چاہے جوڈیشل، ڈویژنل یا صوبائی سطح پر تحقیقات کروا سکتا ہے۔
پاکستان علما کونسل کے چیئرمین مولانا طاہر محمود اشرفی نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے معاملے پر کہا ہے کہ یونیورسٹی کی طالبات اور ان کے والدین سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم سے سخت پریشان ہیں۔ اور اپنی بچیوں کے مستقبل کے بارے میں خوفزدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو شخص قصور وار ہے تو اسے سخت سے سخت سزا دی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پروپیگنڈا مہم بند کی جائے اور تعلیم کے لیے جانے والی طالبات اور ان کے والدین کو پریشان نہ کیا جائے۔ تحقیق کے بعد اگر کوئی بھی اس واقعے میں ملوث پایا جائے تو ہمارا مطالبہ ہو گا کہ بہاولپور یونیورسٹی اسکینڈل میں جو بھی ملوث ہے اسے سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے شرمناک واقعات رو نما نہ ہوں
حکومت اور نجی تعلیمی ادارے کوشش کریں کہ خواتین۔ کے لیے علیحدہ اداروں کا قیام عمل میں۔ لائیں۔ ہو سکتا ہے کہ ان تجاویز پے عمل کے بعد اس قسم کی شکایات ختم ہو جائیں۔


