خیبرپختونخوا کا نیا سیاسی منظر نامہ
پچھلے کچھ دنوں سے عبوری صوبائی حکومت کی اتحادی جماعتوں اے این پی، مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے جانب سے صوبائی گورنر حاجی غلام علی پر صوبائی معاملات میں بے جا مداخلت اور اپنے پارٹی کو نواز نے کے علاوہ اتحادی جماعتوں کے سرکردہ راہنماؤں پر اثر انداز ہو کر انہیں جمعیت (ف) میں شامل کرنے کے الزامات لگ چکے ہیں حتیٰ کہ گزشتہ دنوں اے این پی کو صوبائی صدر ایمل ولی خان کی جانب سے ان کے خلاف شدید تنقید اور کرپشن کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔
یہاں تک کہ انہیں میڈیا کے ذریعے یہ بھی کہنا پڑا کہ حاجی غلام علی کی بطور گورنر نامزدگی اور اس فیصلے کی تائید ان کی بڑی سیاسی غلطی تھی، دراصل ایمل ولی خان کو یہ بیان اس پس منظر میں دینا پڑا کہ جب خیبر پختونخوا میں گورنر کا عہدہ خالی ہوا تھا تو پہلے پہل اس پر اے این پی کے میاں افتخار حسین کی تعیناتی کا عندیہ دیا گیا تھا لیکن بعد ازاں مولانا کی مداخلت پر اے این پی کے صوبائی صدر ایمل ولی خان نے میاں افتخار حسین کو دست بردار کراتے ہوئے حاجی غلام علی کی نامزدگی کی تائید کر دی تھی۔ یہ اعلان انھوں نے چارسدہ میں ایک بڑے جلسہ عام میں کیا تھا یہ اعلان درحقیقت جمعیت (ف) کی جانب سے عمران خان کے مقابلے میں چارسدہ میں ہونے والے ضمنی الیکشن میں ایمل ولی خان کی بطور امید وار حمایت کے جو اب میں کیا گیا تھا۔
اب تا دم تحریر وزیر اعظم شہباز شریف کی مداخلت سے ایک دوسرے کے خلاف لفظی گولہ باری تو بند کر دی گئی ہے البتہ دلوں میں میل اب بھی موجود ہے جسے وزیر اعظم کی ہدایت پر مسلم لیگ (ن) کے اختیار ولی خان، پیپلز پارٹی کے محمد علی شاہ اور اے این پی کے سردار حسین بابک کی گورنر سے ملاقات کے ذریعے صاف کرنے کی کوشش کی گئی ہے لیکن دوسری جانب یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ عام انتخابات کا وقت جوں جوں قریب آتا جا رہا ہے عبوری سیٹ اپ کی تمام جماعتوں کے درمیان سیاسی تناؤ بڑھنے کے ساتھ ساتھ چونکہ آئندہ الیکشن میں تمام جماعتیں ایک دوسرے کے مد مقابل ہوں گی اس لیے ان میں سے ہر جماعت اگر ایک جانب آئندہ کے سیاسی سیٹ اپ میں اپنا زیادہ سے زیادہ حصہ بٹورنا چاہتی ہے تو دوسری جانب یہ جماعتیں عوامی ہمدردی سمیٹنے کے لئے یہ تاثر بھی دینا ضروری سمجھتی ہیں کہ ان کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے ہیں اور عبوری سیٹ اپ کا حصہ ہونے کے باوجود ان کے پاس کچھ اختیارات نہیں ہیں۔ یہی وہ عوامل ہیں جن کے باعث یہ جماعتیں نہ صرف ایک دوسرے کے خلاف دست گریباں نظر آتی ہیں بلکہ ان کے مخالفین ان کے اس مصنوعی اتحاد کی ہنڈیا عین چوراہے میں پھوٹنے کے بھی منتظر ہیں۔
دوسرے جانب پی ٹی آئی جو پنجاب اور سندھ میں شدید ڈینٹ پڑنے کے باوجود خیبرپختونخوا میں کسی بڑے حادثے سے تا حال محفوظ تھی کے وجود سے پرویز خٹک کی قیادت میں پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز کے جنم لینے کے بعد خیبرپختونخوا میں دس سال تک اقتدار کے مزے لوٹنے کے بعد بالآخر ٹوٹ پھوٹ کی شکار ہو گئی ہے۔ گزشتہ دنوں پشاور اور نوشہرہ کے درمیان جی ٹی روڈ پرایک شادی ہال میں پرویز خٹک کی جانب سے پی ٹی آئی کے منحرف سابق ارکان قومی و صوبائی اسمبلی کے پاور شو جس میں دعویٰ ٰتو 57 ارکان کی موجودگی کا کیا گیا لیکن واقفان حال کے مطابق اس اکٹھ میں 27 ارکان کے قریب باغی ارکان موجود تھے جبکہ یہاں موجودگی کے حوالے سے جو فہرست میڈیا میں گردش کر رہی ہے اس پر بھی تقریباً 20 کے قریب افراد نے اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے اس پاور شو میں شرکت اور پی ٹی آئی پارلیمنٹیرینز سے اپنی لاتعلقی کا اظہار کیا ہے حالانکہ پر ویز خٹک کا دعویٰ ہے کہ پی ٹی آئی کے 100 کے قریب سابقہ ممبران قومی صوبائی اسمبلی ان سے رابطے میں ہیں۔
اس اکٹھ کا ایک حیران کن امر اسے میڈیا سے اوجھل رکھنے کی کوشش تھی حتیٰ کہ جب میڈیا کے بعض افراد نے اس مقام تک رسائی کی کوشش کی تو انہیں پولیس کی حراست اور کیمرے چھینے تک کے واقعات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ اس شو کا ایک اور حیران کن پہلو اس میں عمران خان کے دست راست سابق وزیر اعلیٰ محمود خان جو کل تک عمران خان کا دم بھرتے نہیں تھکتے تھے کی جانب سے شرکت اور پرویز خٹک پر اعتماد کا اظہار ہے۔ بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ صوبے کا سیاسی منظرنامہ کیا رخ اختیار کرتا ہے اور اس کے صوبے کے مستقبل کے سیاسی نقشے پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس سلسلے میں جو بھی پیش رفت ہوگی اس سلسلے میں کم از کم ایک بات تو طے ہے کہ اس سے صوبے کے عوام جو مہنگائی اور بدامنی کے دو پاٹوں میں بری طرح پس رہے ہیں کی زندگیوں میں کسی مثبت تبدیلی کا نہ تو بظاہر کوئی امکان نظر آتا ہے اور نہ ہی اس حوالے سے موجودہ سیاسی لاٹ سے کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔ #


