دُمانی کے دامن میں


چند سال پہلے کی بات ہے۔ جب پنجاب کے ایک کونے میں صحرائی علاقے کے ایک شخص کی پہاڑوں سے محبت نے جوش مارا تو اس نے اپنے ملک میں موجود اپنی پسندیدہ پہاڑی چوٹیوں کو قریب سے دیکھنے کی ٹھانی کیونکہ انہیں سر کرنا شاید اس کے بس میں نہ تھا۔ قاتل حسینہ عرف مرشد یعنی ”نانگا پربت“ اس لسٹ میں پہلے استھان پہ براجمان تھے سو کسی تیرتھ یاترہ کی طرح کڑی تپسیا کے بعد اس تک پہنچا گیا۔ جب دوسرا نمبر دمانی یعنی قراقرم کے تاج محل کا آیا تو اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اس بار اسے ایک نہیں دو پربتوں کی آغوش میں جگہ ملے گی۔

ایک برف کے سفید برقعے میں سر ڈھانپے راکاپوشی اور دوسری الہڑ اور شوخ دیران پیک۔

ابتدا ہوئی بے وفاوٴں سے وفا کی امید لگانے سے، یعنی کسی ایسے دوست کو ڈھونڈنے کی جو اس سفر میں ہمارا ہمسفر و ہم پیالہ بن سکتا لیکن حیف۔ دل نادان نے سوچا کہ کسی کے آنے یا نہ آنے سے اپنا من کیوں ماروں سو ”اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے“ کے مصداق تیاری شروع کر دی۔ مناپن میں اپنے دوست سلمان سے رابطہ کیا تو انہوں نے یہ ٹریک کروانے کی حامی بھر لی اور جون میں آنے کا کہا۔ سو جون تک صبر کیا۔ کام کیا تاکہ چھٹیاں لی جا سکیں۔ اور دیکھتے دیکھتے 30 جون آ پہنچا جب عید کے دوسرے دن مابدولت بارہ گھنٹے کی ایمرجنسی ڈیوٹی بھگتا کہ تھکے ہارے سامان سمیت لاری اڈہ جا پہنچے۔

آپ کو سب کچھ بہت سیدھا لگ رہا ہے ناں؟ لیکن ٹھہریئے! کچھ مرشد اپنے مریدین سے خراج بھی وصول کرتے ہیں۔ ہم سے بھی کیا گیا، اور ہم نے یہ خراج ادا کیا۔ اور ایسا دیا کہ گھر پہنچنے تک یہ سفر ہم سے کچھ نہ کچھ قربانی مانگتا رہا۔ بس آنے کے ٹائم پہ معلوم ہوا کہ جس بس نے نکلنا تھا وہ تو خراب ہے اور ابھی ورکشاپ میں اپنا میک اپ کروا رہی ہے۔ اب؟

اب یہ کہ بھاگم بھاگ باقی جگہوں سے پوچھا لیکن شہر اقتدار کو جانے کے لیے کوئی بس میسر نہیں۔ کل کی ٹکٹ بھی کروا چکا تھا ہنزہ کے لیے ۔ اللہ پاک نے ایک اور موقع دیا اور مجھے کھاریاں کی بس مل گئی کہ پنڈی سے کچھ ہی دور تو ہے۔ سوتے جاگتے صبح سویرے بس نے کھاریاں پہنچا دیا۔ اب کیا کیا جائے۔ ؟ منہ ہاتھ دھونے کے بعد سوچا جو ملتا ہے اللہ کا نام لے کہ سوار ہو جا، اندر سے آواز آئی۔ اب اس وقت کوئی لگژری بس تو ملنے سے رہی سو پنڈٰی جانے والی ویگن کی آخری سیٹ پہ تین لوگوں میں پھنس کے بیٹھنا پڑا۔ جی ٹی روڈ اور ڈرائیور دونوں نے قسم کھا رکھی تھی کہ میری نیند نہیں پوری ہونے دینی سو جہاں مابدولت کی آنکھ لگتی حضرت ڈرائیور کہیں کوئی کھڈا ڈھونڈ کہ اس میں گاڑی گھسا دیتے۔ دھم کی آواز آتی اور ہم اٹھ بیٹھتے۔ اللہ اللہ کر کہ بس نے ہمیں روات اتار دیا۔

اب آگے میزبان کے گھر کیسے جایا جائے، عید کا تیسرا دن اور کسی گاڑی ٹیکسی کا وجود نہیں۔ دوست کو کال کر کہ بلانے میں جھجک محسوس ہوئی، معلوم تھا کہ وہ سو رہا ہو گا۔ مجبوراً دھوپ میں اپنا سامان لے کہ بیس منٹ بعد اپنے دوست معاذ کے گھر پہنچا اور تین چار کالز کے بعد اسے جگایا۔ بھئی اب ہم سحر خیز ہیں تو اس میں ہماری کیا غلطی ہوئی۔

معاذ کی والدہ (جن سے ہماری کافی دوستی ہے) سے مل کر ڈھیر ساری باتیں کیں تو ذہنی تھکن اتر گئی۔ جسمانی تھکن بھی تو اتارنی تھی سو جب تک نیند قسمت میں لکھی تھی تب تک پلنگ توڑتے رہے۔ عموماً مجھے سفر کے بیچ کہیں زیادہ نیند نہیں آتی، بس دو ڈھائی گھنٹے بعد ہم انگڑائی لے کہ بیدار ہوئے اور پھر سے باتوں میں لگ گئے۔ اتنے میں ہمارے دوست سلمان حیدر خان کی کال آئی :

شاہ جی، ایک دوست کراچی سے آئے ہیں جنہوں نے راکاپوشی سے آگے دیران پیک بیس کیمپ اور کچیلی لیک تک جانا ہے۔ آپ ساتھ چلنا چاہیں گے۔ ؟

اچانک پلان میں تبدیلی کا سن کہ پہلے تو خود کو کول ڈاؤن کیا اور کچھ وقت مانگا۔ فوراً کیلینڈر کھول کہ تاریخیں اور دن دیکھے کہ کتنے دنوں کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ چونکہ دیران میں ایک ڈیڑھ دن اضافی درکار تھا سو سلمان سے بنیادی معلومات لے کہ جھٹ سے ہاں کہہ دی۔ لیکن اس وقت مجھے نہیں معلوم تھا کہ میرا یہ فیصلہ آگے چل کہ مجھے کتنا خوار کرے گا۔

خیر، اب راکاپوشی جائیں اور خواری نہ ہو تو ایسا ممکن ہی نہیں۔

آنٹی فرحت کی مہمان نوازی سے لطف اندوز ہو کہ ہم اس فیملی کے ساتھ بس اڈے چل دیے۔ اسلام آباد کے ہمارے کچھ جاننے والوں میں یہ چھوٹی سی خوبصورت فیملی بھی ہے جنہیں میں گزشتہ دو دہائیوں سے جانتا ہوں اور ان کے خلوص کا قائل ہوں۔

اب بس اڈے پہ پہنچ کے بس کا انتظار شروع ہوا۔ کبھی یہاں تو کبھی وہاں گھوم گھوم کہ آخر نو بجے بس آ گئی جو ساڑھے نو اسلام آباد روانہ ہوئی۔

اب ایک اور امتحان، یہاں سب سے آگے کی سیٹ ہماری تھی جس کے نیچے بڑا سا جنگلا لگا تھا۔ اب ہماری لمبوتری ٹانگیں اس پہ پھیلیں تو کیسے۔ ؟

جن حضرات کو یہ مسئلہ درپیش ہو چکا ہے وہ اس کی نزاکت کو سمجھ سکتے ہوں گے۔ اتنا لمبا سفر کوئی اس سیٹ پہ نہیں کر سکتا تھا۔

دو گھنٹے بعد جب مانسہرہ کے قریب بس ایک ہوٹل پہ رات کے کھانے کے لیے رکی تو ہم نے فوراً کنڈکٹر سے جا کہ یہ مسئلہ بیان کیا، شومئی قسمت پیچھے ایک خالی بچی ہوئی سیٹ ہمیں نواز دی گئی۔ اتنے میں بس میں بیٹھی ایک خاتون غصے سے ڈرائیور کوتڑی لگا چکی تھیں کہ وہ بس بہت خطرناک طریقے سے چلا رہا ہے، اگر اس نے بس ایسے ہی چلائی تو وہ اس کی شکایت حکام بالا تک پہنچا دے گی۔ اس کا اثر یہ ہوا کہ آگے بس بہت آرام و سکون سے چلائی گئی جس سے ہمارا سفر اور بڑھ گیا۔

الحمد للہ پڑھ کہ جب دوبارہ بس میں سوار ہوئے تو کیا دیکھا، ہمارے ساتھ کی سیٹ پہ ایک اچھے خاصے فربہ مائل پٹھان دوست تھے جن سے اپنے حصے کی جگہ وصول کرنا بھی ایک اچھی خاصی اذیت تھی۔ اس سے یہ سبق ملا کہ کبھی بھی آگے والی سیٹ بک نہ کروائیں اور کوشش کریں کہ ونڈو سیٹ پہ بیٹھیں۔

ہزارہ موٹروے پہ سفر شروع ہوا تو نیند کے جھونکے آنے لگ گئے، یہ موٹروے بھی کیا خوبصورت بنائی گئی ہے، پتہ بھی نہیں چلتا اور آپ کو حویلیاں سے بشام لا پھینکتی ہے۔ بشام سے آگے قراقرم ہائی وے پہ بس پہنچی تو جھٹکوں سے آنکھ کھلی اور اندازہ ہو گیا کہ بس اب ہمارا امتحان شروع ہے۔

اگرچہ بشام سے چلاس تک یہ سڑک کافی جگہوں پر اچھی بنی ہوئی ہے لیکن یہاں اتنے موڑ ہیں کہ بس کی اچھل کود سے بندہ بمشکل ہی سو پاتا ہے۔ دیامر بھاشا ڈٰم کی سائیٹ سے گزرے تو بہت خوشی ہوئی کہ کام زور و شور سے جاری تھا اور یہاں کام کرنے والوں کے لیے حکومت نے جنگل میں منگل کر رکھا تھا۔ صبح ناشتے کے لیے ہم چلاس رکے شاہ جی ہوٹل پر جس کے بالکل سامنے ہی وہ ہوٹل تھا جہاں میں نے اپنے گزشتہ سفر میں قیام کیا تھا۔

یہاں سے بس نکلی تو رینگتی رینگتی رائے کوٹ پل تک پہنچی جہاں حسرت سے نگاہ اٹھا کہ میں نے فیری میڈوز کو جاتے راستے کو دیکھا جو گزشتہ سال میری منزل تھا۔

منزلیں بدلتی ہیں اور ساتھ راستے بھی، یہی تو زندگی کا دستور ہے۔

اللہ اللہ کر کہ بس نے ہمیں ساڑھے گیارہ کے قریب گلگت پہنچایا جہاں تازہ دم ہو کہ خود کو آنے والے سفر کے لیے تیار کیا۔ گلگت سے نکلتے ہی کچھ آگے جا کہ بس نے ”جگلٹ گورو“ کے مقام پہ بریک لگایا۔ یہاں جگہ جگہ روایتی پکوان چھپ شورو بنائے جا رہے تھے۔ بھوک بھی لگی تھی اور روایتی کھانے بھی سامنے تھے جھٹ سے ایک چھپ شورو (اسے کچھ لوگ شاپ شورو بھی لکھتے ہیں ) اندر کر لیا۔ کچھ آگے جائزہ لینے گیا تو آلو کے لال چپس کے ساتھ ”ممتو“ (موموز) نظر آئے جو مجھے شروع سے ہی پسند تھے۔ سو آدھا درجن ممتو بھی ڈکار لیے (حیران مت ہوں، مابدولت کب سے بھوکے تھے ) ، چلو یہاں لنچ سے تو فراغت ہوئی۔

ایک اور بات بتاتا چلوں کہ قراقرم ہائی وے پر جگلوٹ نام کی تین جگہیں ہیں۔ پہلا بونجی کے پاس جہاں سے سکردو کو راستہ نکلتا ہے، دوسری یہ جگلوٹ گورو جہاں میں کھڑا تھا اور تیسرا اس سے کچھ آگے جگلوٹ نالے کے پاس۔ چند مقامیوں سے ایک ہی نام کی تین جگہیں ہونے کی وجہ پوچھی تو کسی نے تسلی بخس جواب نہ دیا شاید یہ نام یہاں کے باسیوں کو زیادہ پسند ہو گا۔

یہاں سے نکل کہ ہم دو ڈھائی بجے راکاپوشی ویو پوائنٹ اترے جہاں سلمان بھائی اپنی گاڑی پہ ہمیں لینے آن پہنچے۔ بہت پیار سے ملے اور اپنے دوست وجیہہ قریشی سے بھی ملوایا جو ہمارے اس پورے سفر کے ہم سفر بھی تھے۔

مناپن میں ہمارا قیام ”دی کیسل ہوٹل“ میں تھا۔ تھکے ہارے ہم دونوں جاتے ہی بستر پہ ڈھیر ہو گئے اور ڈیڑھ دن کی نیند پوری کی۔

شام کو تازہ دم ہو کہ جب میں کمرے سے باہر نکلا تو اس جگہ کی خوبصورتی دیکھ دل خوش ہو گیا۔ پکی ہوئی خوبانی سے لدے درختوں سے گھرا یہ ہوٹل دریائے مناپن کے کنارے واقع تھا جہاں ایک اونچی جگہ دھنک رنگوں کے تخت پوش سے مزین لکڑی کا خوبصورت تخت پوش رکھا تھا جس کے بالکل سامنے دریا کے پار، نگر کے چٹیل پہاڑ تھے۔ چائے کا کپ ہاتھ میں لیے ، دریا کی شوریدہ موسیقی کو سنتے سنتے میں ان پہاڑوں کو دیکھتا رہا یہاں تک کہ شام کے سائے گہرے ہونے لگ گئے تو ہم باتیں کرتے کرتے اندر آ گئے۔

گھر فون کر کہ خیریت کی اطلاع دی اور اپنے آنے والے سفر کے دوست وجیہہ سے گپ شپ میں لگ گیا۔
ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ کیا چیز زیادہ اہم ہوتی ہے، راستہ یا منزل؟
دانا شخص بولا: تمہارا ہم سفر۔

اسی قول کے مصداق میں نے وجیہہ سے ایک دوستانہ تعلق استوار کر لیا جس میں چنداں مشکل نہ ہوئی کہ یہ شخص خوش مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ میچور بھی تھا۔

رات کو دریا کنارے اہتمام سے ڈنر لگا دیا گیا جس کے بعد ہم نے ایک چکر اسرار بھائی کے مشہور ہوٹل اوشو تھنگ کا لگایا، مارکیٹ سے ٹریکنگ کے لیے خشک خوبانی و دیگر لوازمات خریدے اور واپس اپنے ہوٹل آ گئے۔

سلمان کی کہانیاں اور مناپن کا ڈیم ؛

3 جولائی بروز سوموار کو صبح سویرے بیدار ہو کہ گرم پانی سے غسل کیا جس سے بچی کھچی تھکن بھی اڑ گئی۔ وہیں تخت پہ ناشتہ سرو کیا گیا۔ ٹریکنگ کو دھیان میں رکھتے ہوئے میں نے پراٹھوں سے پرہیز کیا اور تین ٹوسٹ کے ساتھ ہلکے تیل میں بنے فرائی انڈے کو ترجیح دی۔ یاد رکھیں، ٹریکنگ کے دوران ہلکا پھلکا اور کم تیل یا گھی والا ناشتہ کر کے نکلیں البتہ راستے کے لیے پانی، جوس، بسکٹ اور چاکلیٹ جیسی چیزیں ہمراہ ہونا لازمی ہیں۔

ٹھیک چھ چالیس پہ ہم ہوٹل سے نکلے اور اپنا سفر شروع کیا۔ کچھ آگے جا کہ ہمیں نعیم مل گیا، نعیم ہمارا پورٹر تھا جس نے سامان لے کہ کچھ دیر بعد نکلنا تھا۔

مناپن سے نکلتے ہی دریائے مناپن پہ بنایا گیا دو میگا واٹ کا ”ال پاور پروجیکٹ“ یا ڈیم ہمارے سامنے آ گیا۔ اوپر سے آنے والے تیز پانیوں سے یہ ڈیم بھرا جاتا ہے جس سے بنائی جانے والی بجلی نیچے تک سپلائی کی جاتی ہے۔ سلمان نے ہی بتایا کہ مناپن کے قریبی علاقوں کو بجلی یہیں سے فراہم کی جاتی ہے۔

اس کے بعد ہمارا اصل ٹریک شروع ہوا۔ مناپن گاؤں سے ہاپاکن تک لگ بھگ چار ساڑھے چار گھنٹوں کا ٹریک ہے (جسے پہاڑی لوگ دو گھنٹے میں آرام سے کر لیتے ہیں ) جسے میں نے تین حصوں میں تقسیم کیا تھا۔

پہلا حصہ ایک زک زیک چوڑے اور پتھریلے ٹریک پر مشتمل ہے جو قریباً ایک سوا ایک گھنٹے میں ہو جاتا ہے۔ دوسرا حصہ قدرے ہموار ہے جہاں آپ کو درخت اور نالے ملیں گے جبکہ آخری حصہ چڑھائی ہے جو بتدریج بڑھتی جاتی ہے۔

اس ٹریک کے دوران ہمارے گائیڈ اور دوست سلمان حیدر خان سے بہت سی باتیں ہوئیں اور انہوں نے اپنی شادی کی روداد سنائی۔ نوجوان سلمان حیدر خان کا تعلق میرے ہمسائے ضلع راجن پور کی تحصیل روجھان سے ہے اور ہم ایک دوسرے کو ایک ادبی گروپ کے توسط سے کئی سال پہلے سے جانتے تھے۔ ایک پسماندہ علاقے کی روایتوں کو پس پشت ڈال کر سلمان نے مناپن کو اپنا ٹھکانہ بنایا اور یہیں پہ اپنی جیسی ایک سیاح سے شادی کی جو اپنے آپ میں ایک دلیرانہ قدم تھا۔

اب وہ اور ہماری بھابھی مساء (جن کا تعلق سندھ سے ہے ) یہاں ہنسی خوشی سیاحت کو فروغ دے رہے ہیں اور ہم ایسوں کی خدمت کر رہے ہیں۔

بنگی داس اور دلتر ؛

اتنے میں چلتے چلتے ہم ”بنگی داس“ پہنچ گئے جو ایک چراگاہ کا قطعہ ہے۔ یہاں چرواہوں نے اپنی چھوٹی چھوٹی جھونپڑیاں بنا رکھی ہیں۔ ہاپاکن کے راستے میں یہ آخری آبادی نما علاقہ ہے جہاں تک بائیک پہ بھی آیا جا سکتا ہے۔

یہاں ایک درخت کے سائے میں نالے کے ساتھ ہم سستانے لیٹے تو سلمان نے ہمیں دلتر کا بتایا اور پلایا۔

دلتر یہاں کی دیسی لسی ہے جسے ٹریکرز کے لیے سٹنگ جیسے انرجی ڈرنک کا متبادل کہا جاتا پے۔ یہ بھیڑ کا تازہ اور گاڑھا دودھ ہوتا ہے جس کا ذائقہ کھٹا اور نمکین سا ہوتا ہے۔ میں نے اپنی پوری زندگی میں لسی کا شاید ایک یو دو گھونٹ پیئے ہوں لیکن ٹریکنگ کی وجہ سے میں آدھے سے زیادہ مگ پی گیا بقیہ میں نے سلمان کو دے دیا۔

چلتے چلتے ہم ٹھیک سوا چار گھنٹے بعد ہاپاکن کیمپ سائیٹ پہنچ گئے جسے دیکھ کہ میں نے اللہ کا شکر ادا کیا اور ہم جوتے اتار کہ ایک کھلے سے ٹینٹ میں بیٹھ گئے۔

ہپاکن یا ہاپاکن ایک خوبصورت سی سرسبز جگہ ہے جہاں لگے سفید رنگ کے خیمے ازبک چرواہوں کے گھروں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس جگہ سیاحوں کے لیے ایک ہی باتھ روم ہے جس کا دروازہ ہوا سے ایسا بجتا ہے کہ انسان کی نظریں بس اسی پہ جمی رہیں۔ یہاں ہم نے چائے نوش کی اور ٹھنڈے ٹھار پانی سے منہ دھویا۔ اس کے بعد گرما گرم سوپی میگی نوڈلز پیش کیے گئے۔ ایک گھنٹہ خیمے میں لیٹنے کے بعد ظہر کی نماز پڑھی اور ٹھیک ڈیڑھ بجے تغافری کے لیے اپنا سفر شروع کیا۔

جاری ہے

Facebook Comments HS