امریکی سنڈی اور مقامی رائی کے پہاڑ


گزشتہ ایک سال سے وطن عزیر کی سیاست اور میڈیا میں امریکہ سے بھیجے گئے سائفر (cipher) کا بہت چرچا ہے۔ پاکستان میں رائی کا پہاڑ بنانے کا یہ کوئی پہلا یا شاید آخری موقع نہیں۔ بات اگر عوامی شعور کی حد تک ہوتی تو شاید یہ سنجیدہ بات نہ ہوتی مگر جب ملک کی حکمران اشرافیہ اور اہل علم اس طرح سے سوچنا شروع کر دیں تو اس سے مراد یہ کہ معاملہ سنگین اور نتائج بہت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ ویسے تو ہر ملکی حکمران طبقہ کے اپنے علیحدہ علیحدہ سے بھی رائی کے پہاڑ موجود ہیں چونکہ یہ پہاڑ اپنی اپنی رائی کے بنائے گئے ہیں اس لیے ہم آج کے مضمون میں ان کا ذکر نہیں کریں گے بلکہ صرف انہی پہاڑوں کا ذکر کریں گے جو خالصتاً امریکی یا امریکہ سے درآمد شدہ رائی پر قائم کیے گئے ہیں۔

پاکستان کی سیاست میں امریکی رائی کے پہاڑوں والا معاملہ 1990 ء کی دہائی میں عود کر آیا۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ یہ اسی دہائی میں ہی کیوں آیا اس پہلے کیوں نہیں آیا۔ 1992 ء میں امریکہ میں ایک کتاب (End of History and The Last Man) یعنی ”تاریخ کا خاتمہ“ کے عنوان سے شائع ہوئی۔ اس کتاب کے مصنف پروفیسر فرانسس فوکو یاما جو کہ جاپانی نژاد امریکی ہیں۔ یہ کتاب روسی انقلاب اور سویت یونین کے انہدام اور سرد جنگ کے پس منظر میں لکھی گئی۔

مصنف نے اس کتاب میں اپنے نقطہ نظر سے مستقبل میں ہونے والے ممکنہ انقلابات کی نفی، مغربی جمہوریت اور فری مارکیٹ کے نظام کے تسلسل، عروج اور ابدیت پر زور دیا ہے۔ دنیا میں یہ کتاب کوئی بیسٹ سیلر، شہرہ آفاق یا کلاسیک تخلیق کا درجہ حاصل نہ کر پائی۔ کچھ تعریف اور تنقید کے بعد ہزاروں لاکھوں کتابوں کی طرح یہ بھی ایک عام کتاب کی طرح لائبریریوں کے کسی شیلف میں پڑی ہو گی۔

پاکستان میں فکری طور پراس کتاب کو ایک آسمانی صحیفہ کے طور پر لیا گیا اور فرض کر لیا گیا کہ اس کتاب کو سی آئی اے نے چھپوایا ہے اور یہ کتاب مستقبل میں امریکی پالیسیوں کی غماز اور عکاس ہے۔ یاد رہے کہ 1990 ء کی دہائی کی چیمپئن بڑی سیاسی جماعتیں آج کے دن تک فری مارکیٹ اور لبرل جمہوریت کو ہی انسانی اور ملکی ترقی کے لیے مجرب قرار دیتی ہیں۔ باقی رہی تحریک انصاف کی بات تو وہ میگنا کارٹا کی رٹ سے ہی آگے نہ بڑھ سکی۔

پروفیسر فوکو یاماکی یہ کتاب ایک غلط مفروضے کو بنیاد بنا کر لکھی گئی یعنی ”تاریخ کا خاتمہ“ ۔ جس دن سے یہ کائنات بنی یا شروع ہوئی ہے اسی دن سے تاریخ اور تاریخ کو درج کرنے کا عمل بھی جاری و ساری ہے۔ محض سویت انہدام کو بنیاد بنا کر تاریخی عمل اور علم تاریخ پر ہی لکیر پھیر دینا تاریخ کے ساتھ زیادتی ہے۔

1996 ء میں سیموئل پی ہنٹنگٹن کی کتاب تہذیبوں کا ٹکراؤ (Clash of Civilizations and the Remarking of World Order) امریکہ میں شائع ہوئی۔ یہ کتاب بھی سرد جنگ کے خاتمے کے پس منظر میں لکھی گئی۔ اس میں مختلف تہذیبوں مغربی تہذیب، لاطینی امریکہ کی تہذیب، اسلامی تہذیب، افریقی، مشرقی ایشیا بشمول چین، ہندو تہذیب وغیرہ کے مابین مختلف معاشی، کلچر، تاریخی اختلافات، مذاہب کی وجوہات کی بنا پر مستقبل میں جنگوں کے خدشات و امکانات پر زور دیا۔ چین اور مسلم دنیا پر خاص طور پر ذکر کیا کہ ان کے مستقبل میں مغربی تہذیب سے جنگی معاملات ہو سکتے ہیں۔

اس کتاب کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ مصنف ”تہذیب“ کے بنیادی عناصر اور ارتقاء سے ہی ناواقف ہیں۔ مختلف ممالک کو ایک دوسرے میں غلط ملط کر کے تہذیب قرار دیا گیا۔ اس کتاب کا عنوان بھی غلط ہے تہذیبیں اپنے دفاع میں تو لڑ سکتی ہیں مگر وہ کسی دوسری تہذیب پر حملہ آور نہیں ہو سکتیں اور نہ ہی ہوتی ہیں۔ انسانی تاریخ میں تہذیب ہمیشہ دوسری تہذیبوں سے سیکھ کر اور تعاون سے آگے بڑھی ہے۔ مسلح جتھوں، سامراجیت، متحارب ریاستوں یا ممالک کو تہذیب قرار دینا شاید تہذیب سے زیادتی ہے۔

ایک دفعہ پھر پاکستان میں اس کتاب کو فکری سطح پر ہاتھوں ہاتھ لیا گیا اور اسے سی آئی اے کا شاخسانہ بنا کر پیش کیا گیا۔ عوام بیچاروں کا کیا ذکر کریں البتہ ہماری حکمران اشرافیہ اس کتاب پر من و عن یقین رکھتی ہے۔ اس کتاب کی بدولت ہماری خاص طور پر سیاسی اشرافیہ فکری اور عملی طور پر دہشت گردی کے خلاف جنگ کو امریکہ کی اپنی ہی تیار کردہ سازش اور معاملہ تصور کرتی ہے۔ اس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ گزشتہ 22 سالوں کے دوران کوئی بھی ملکی بڑی سیاسی پارٹی دہشت گردی کے خلاف کوئی واضح یا دو ٹوک موقف بنا ہی نہیں سکیں اور نہ ہی کسی سیاسی حکومت یا سیاسی جماعت نے اسے سنجیدہ لیا ہے۔

1990 ء کی دہائی کے کسی سال میں امریکہ کے کسی جریدے یا اخبار میں ٹوٹے ہوئے پاکستان کا نقشہ شائع ہوتا ہے۔ ویسے یہ موضوع اس کے بعد کے برسوں میں بھی قسط وار جاری رہتا ہے اور شاید اب تک جاری ہے۔ اسے دنیا میں کسی نے سنجیدہ لیا ہو یا نہ لیا ہو مگر پاکستان کی تمام سیاسی اشرافیہ اسے بھی صحیفہ آسمانی سمجھتی ہے اور اسی کے مطابق اپنا سیاسی لائحہ عمل تیار کرتی رہی ہے۔ 1990 ء کی دہائی کی قومی سیاسی جماعتیں بتدریج صوبائی سطح تک محدود ہو چکی ہیں اور دوسرے کے صوبائی معاملات میں بالکل دخل نہیں دیتیں۔

اسی امریکی شائع شدہ نقشہ کے جواب میں کراچی کی ایک سیاسی جماعت نے نہایت بے صبری کے ساتھ ”جناح پور“ نامی ایک آزاد اور خود مختار ملک کا نقشہ پیش کر دیا تھا۔ آج بھی کبھی کبھی اخبارات میں سکھر کا پل، اٹک کا پل بند کرنے کی دھمکیوں والی خبریں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ ہر جانے والے وزیر اعظم کو شیخ مجیب الرحمٰن اور مشرقی پاکستان ضرور یاد آ جاتا ہے۔ اس طرح کے خیالات رکھنے والے افراد اپنے دفاع میں پاکستان توڑنے والی ”امریکی سازش“ اور سقوط ڈھاکہ کی مثال ضرور پیش کرتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں کہ کسی دن بس اعلان ہو جانا ہے۔ کبھی کبھی تو ایسے لگتا ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ آپس میں ملک کی بندر بانٹ کر چکی ہے اور اب کسی ”اشارے“ کے انتظار میں ہے۔

ایک سیاسی کارکن کے طور پر ہم بھی یہ سمجھنے کوشش کرتے رہے ہیں کہ پاکستانی سیاست پر اثر انداز ہونے والے بڑے ممالک یعنی امریکہ، چین، سعودی عرب، برطانیہ، یورپین یونین کو پاکستان ٹوٹنے سے آخر کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔ حقیقت حال یہ ہے کہ ایک مضبوط پاکستان ہی ان ممالک کے فائدے میں ہے حتیٰ کہ انڈیا کے سنجیدہ سیاسی و سماجی حلقے بھی مضبوط پاکستان کو مضبوط انڈیا کی ضمانت سمجھتے ہیں۔

امریکہ یا اور دنیا میں بھی تھنک ٹینک، ادارے، پروفیسرز، ریسرچ کے ادارے وغیرہ ممالک یا معاشروں کے متعلق مختلف اعداد و شمار، ریسرچ رپورٹس، مختلف پروجیکشنز وغیرہ شائع کرتے رہتے ہیں اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں ہم انہیں ابدی حقائق یا فلسفہ حیات تصور کر کے اپنی زندگیوں کے راستے ہی متعین کر لیں۔ منطق، تاریخ اور زمینی اور مادی حقائق کی روشنی میں البتہ معاملہ کی چھان پھٹک کا عمل ہمہ وقت جاری رہنا چاہیے۔

Facebook Comments HS