آئی ایم ایف معاہدہ ’مہنگائی اور عوام؟
وزیر اعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا ہے کہ ملک معاشی طور پر محفوظ ہو گیا اور ہم 15 ارب ڈالر کے زرمبادلہ چھوڑ کر جائیں گے وزیر اعظم اور ان کے اتحادی آئی ایم ایف کے قرض پروگرام کی بحالی کو ملک کی معیشت کی بحالی کی علامت کے طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن حقائق اس کی تصدیق نہیں کر رہے۔ بہر حال معاشی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام سے حکومتوں کو ضرور فائدہ ہوتا ہے لیکن عوام کے لئے اس کے اثرات تباہ کن ہوتے ہیں حکومت اور آئی ایم ایف معاہدے کی شرائط کا نفاذ سامنے آنا شروع ہو گیا ہے بجلی کے نرخوں میں ہوشربا اضافہ کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حکومت اب گیس کے نرخ بھی بڑھانے کی تیاری کر رہی ہے۔
واشنگٹن سے آئی ایم ایف کے دفتر نے پاکستان کے ساتھ کیے جانے والے معاہدے اور شرائط کی تفصیلات بیان کر دی ہیں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے اشاریے مستقبل میں خطرناک دستک دیتے دکھائی دے رہے ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ آئی ایم ایف نومبر 2023 ء اور فروری 2024 ء میں ایک بار پھر پاکستان کی معاشی صورتحال کا جائزہ لے گا اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ پاکستان نے ان کی طے کردہ شرائط پر کس حد تک عمل کیا ہے۔
حکومت نے جو آئی ایم ایف سے اب معاہدہ کیا ہے یہ معاہدہ نو ماہ قبل ہو جانا چاہیے تھا اتنی تاخیر سے معاہدہ کا ہونا وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے معاشی منتظم ہونے کے دعوے پر سوالیہ نشان ہے اور اس معاہدے کی تکمیل کے وزیراعظم نے جو ملاقاتیں کیں اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو شرائط پیش کی گئی ہیں ان کا تعلق اقتصادی معاملات سے ہی نہیں ہے بلکہ سیاسی شرائط بھی عائد کی گئی ہیں۔ آئی ایم ایف نے عام لوگوں کے سامنے بھی بیشتر شرائط بیان کر دی ہیں جن کا براہ راست اثر عام آدمی پر پڑے گا ان شرائط کے مطابق ڈالر کی قیمت بڑھنے ’روپے کی قدر میں کمی کو روکنے کے لئے حکومت کوئی اقدامات نہیں کرے گی گیس‘ بجلی اور پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ جاری رہے گا مطلب مارکیٹ فورس کے نام پر عالمی مالیاتی نظام کے اداروں کو ہی فیصلہ کن کردار کا حق حاصل ہو گا۔
ابتدا میں تو کہا جا رہا تھا کہ گھریلو صارفین پر بوجھ کم ڈالا جائے گا لیکن حکومت بتائے کہ بجلی ’پٹرول‘ گیس ’مہنگائی اور بے روزگاری عوام پر پر کیا کم بوجھ ہیں کیا فرٹیلائزر اور کیپٹو پاور سیکٹر کے نرخ بڑھانے کا اثر عوام پر نہیں پڑے گا؟ پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کم کر کے حکومت نے احسن اقدام کیا ہے اگر حکومت چاہے تو اس کے پاس مزید گنجائش ہے پٹرول مزید سستا کیا جا سکتا ہے لیکن المیہ ہے کہ ایک طرف حکومت تھوڑا ریلیف دیتی ہے دوسری طرف سے حکومت مزید عوام کی جیب پر نقب لگ جاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق بجلی کے نرخوں میں اضافہ سے پانچ سو ارب روپے عوام سے اضافی وصول کیے جائیں گے بجلی پہلے کون سی سستی اور دستیاب ہے لیکن اس کے باوجود بجلی کے بھاری بھر کم بل عوام کی دسترس سے باہر ہو چکے ہیں بجلی‘ گیس ’پانی‘ پٹرول ’خوراک‘ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولیات عوام تک پہنچانا حکومت کی ذمہ داری ہے وزیر اعظم بار بار فرما رہے ہیں کہ عوام نے دوبارہ موقع دیا تو ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے یہ کیسی ترقی ہے جس میں عوام ہی پستی چلی جا رہی ہے۔
دو دن قبل سوشل میڈیا پر ایک دردناک وڈیو دیکھی معلوم نہیں ہو سکا یہ کس شہر میں ایسا خون رلا دینے والا واقعہ پیش آیا جہاں کی زمیں غربت نے اتنی تنگ کر دی تھی کہ وہ خاتون اپنی سانسوں کو روانی دینے سے بھی قاصر ہو گئی تھی نوجوان خاتون نے غربت سے تنگ آ کر عمارت کی پانچویں منزل سے پہلے اپنے چار سالہ بیٹے کو پھینک دیا اور اس کے بعد خود بھی چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی آخر اس جانی نقصان کا ذمہ دار کون ہے یہ کوئی پہلا افسوسناک واقعہ نہیں بہت سے ایسے واقعات اس دھرتی کو دہلا چکے ہیں لیکن حکمران اس بات کا ادراک نہیں کر پا رہے کہ ملک کے ابتر معاشی حالات کیسے انسانی بحران کو جنم دے رہے ہیں۔
حکمران طبقہ تو پر تعیش زندگی گزار رہا ہے لیکن عوام کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جہاں عوام مسائل کی گرداب میں دھنستی چلی جا رہی ہے وہاں قیمتی گاڑیاں افسران کو نوازا جا رہا ہے عوام ’عوام کی رٹ لگانے والے یہ کیسے سخت گیر حکمران ہیں جو عوام کو کسی قسم کا ریلیف دینے کو تیار نہیں ہیں شرم کا مقام ہے جس عوام کے کندھوں پر سوار ہو کر یہ اقتدار کی مسند پر براجمان ہوتے ہیں اسی عوام پر عوام کش فیصلوں سے ان پر عرصہ حیات تنگ کر دیتے ہیں۔
اب الیکشن کا بگل بج چکا ہے اب انہیں عوام کا درد محسوس ہونا شروع ہو جائے گا عوام کو چاہیے کہ انہیں ان کے وعدے یاد دلائے جائیں ان سے حساب مانگا جائے کہ عوام پر مسائل کا بوجھ لاد کر ان کی زندگی اجیرن کیوں کر دی گئی لیکن افسوس پوچھے گا کون یہی عوام چند دن کے راشن ملنے پر انہی سیاستدانوں کو مسیحا کہے گی اور حکمرانی کا حق انہیں سونپ کر اپنی غلطی کے پچھتاوے کی لکیر کو پیٹتی رہے گی۔ وزیر اعظم جس آئی ایم ایف پروگرام پر عوام کو طعنے دے رہے ہیں کہ یہ کوئی لڈو پیڑا نہیں چیلنج ہے تو اس چیلنج پر بغلیں بجانے اور خوشیاں منانے کی کیا ضرورت ہے لڈو پیڑے حکمران خود کھائیں اور ٹیکس عوام دے شاید حکمرانوں کے نزدیک اتنی نا سمجھ ہے کہ ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی تقدیر سے کھیلنے والے پہلے بھی یہی حکمران تھے اور اب بھی ہیں۔
اسحاق ڈار ملک کے ابتر معاشی مسائل کا حل نکالنے آئے تھے لیکن قوم کو آئی ایم ایف کے چیلنجنگ پروگرام میں پھنسا دیا ابھی تو یہ اسٹینڈ بائی معاہدہ ہے جس کے تحت ملک کو تین ٹکڑوں میں تین ارب ڈالر ملیں گے اور اس کے نتیجے میں بجلی کے نرخ بڑھا کر عوام کو مزید معاشی پستی میں دھکیل دیا گیا ہے ۔ بہر حال معاشی ماہرین کے اس اتفاق سے میں بھی متفق ہوں کہ آئی ایم ایف قرض پروگرام سے حکومت تو مضبوط ہو جائے گی لیکن عوام کی تقدیر نہیں بدلے گی فیصلہ سازوں کو اب ادراک کر لینا چاہیے کہ اب عوام میں مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں ہے خدا را اس بے بس عوام پر رحم کریں۔


