عورت اور سماج


جب ہم سماجیات کہ بات کرتے ہیں تو سماج مختلف اکائیوں سے مل کر وجود میں آیا ہے۔ سماج میں دنیا کی تمام مخلوقات، انسان، جانور، چرند پرند و مختلف اقسام کی چیزیں شامل ہیں۔ لیکن ان سب کا محور انسان ہیں اور انسان کو ہم مختلف صنفی بنیادوں پر تقسیم کرتے ہیں۔ انسانوں میں صنفی بنیاد پر، مرد، عورت کی ایک واضح تفریق پائی جاتی ہے اور وقت فوقتا ان کو ان کے کام و حیثیت کی بنیاد پر مختلف انداز میں دیکھا جاتا ہیں۔ آج کی اس تحریر کا مرکزی خیال ”صنف عورت“ کی سوچ کو لاشعوری طور پر غلامانہ رکھنے کے محرکات کو پرکھنا اور ان کی پس پردہ وجوہات کا پائیدار حل تلاش کرنا ہے۔

ہمارے معاشرے میں ایک وہ خواتین ہے جو تعلیم یافتہ ہیں ایک وہ خواتین ہے جو خود تو تعلیم یافتہ نہیں پر جس گھر میں وہ زندگی بسر کر رہی ہیں وہ تعلیم یافتہ گھرانا ہیں اور ایک وہ خواتین ہیں جو نا خود تعلیم یافتہ ہیں اور نہ ہی جس گھرانے میں زندگی بسر کر رہی ہیں وہ تعلیم سے اشنا ہیں. میں نے سوچا کo کیوں نہ ہم ان خواتین کی سوچ و فکر ان کی پسند و نا پسند کو سنیں اور ان سے ان کی مرضی پوچھہں کہ وہ خود سے کیا کرنا چاہتی ہیں؟

کیا وہ گھر پر ساری زندگی گزارنا چاہتی ہیں؟
کیا وہ تعلیم کے زیور سے خود کو آراستہ نہیں کرنا چاہتی؟
کیا وہ معاشی ترقی کرنا چاہتی ہے؟
کیا وہ سماج میں ایک خودمختار و آزاد مقام کی طلب رکھتی ہیں یا نہیں؟
کیا وہ سیاست میں حصہ لینا چاہتی ہیں؟
کیا وہ ایک رہنما بننا چاہے گی یا وہ بس ایک عام سی لاشعور، خاندانی، گھریلو زندگی گزارنا چاہتی ہیں؟
یہ سوالات سب سے پہلے میں نے اپنے آپ کے سامنے رکھے
تو میں کبھی نہیں چاہو گی کہ میں قید کی زندگی گزاروں
تعلیم حاصل کرنا بحیثیت عورت میرا بنیادی حق ہیں جو دنیا کے ہر قانون نے مجھے اصل کرنے کا حق دیا ہیں

چاہے معیشت ہو یا سیاست ہو اپنے وطن کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہتی ہوں میں چاہتی ہوں ایک خودمختار زندگی جیو اپنے فیصلے خود کر سکو میں ایسی رہنما بنا چاہتی ہو کے ہر دور میں مجھے لوگ فخر سے یاد کریں

اور پھر یہی سوالات میں نے ان تمام خواتین کے سامنے رکھے جو مختلف ماحول میں گزر بسر کر رہی ہیں۔ ان سب کے جوابات سنے کے بعد میں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ

اگر خاتون اپنے بنیادی حقوق سے باخبر بھی ہو تب بھی با اختیار اور خودمختار نہیں اس کے تعلیم کا فیصلہ پدرسری نظام ہی طے کرتی ہیں کہ وہ کہاں تک پڑھے گی

باشعور خاتون معاشی ترقی میں حصہ لے گی یا نہیں یا کب تک لے پائے گی اس کا فیصلہ بھی پدرسری نظام ہی کرے گا۔ باشعور خاتون سیاست میں حصہ لے سکتی ہے یا نہیں اس فیصلہ کا اختیار بھی پدرسری نظام ہی کو حاصل ہے وہ ووٹ کس کو دے گی اس کا فیصلہ بھی پدرسری نظام ہی کرے گا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک باشعور خاتون بھی اپنے حق کے لیے آواز اٹھاتے وقت پدرسری نظام کی اجازت کی محتاج ہوتی ہے۔

ہم ایسے خواتین کے پاس بھی گئے جو اپنے حقوق سے بھی بے خبر تھے جن کی زندگی کا مقصد پدرسری نظام نے گھر تک ہی محدود رکھا ہے جنہوں نے نہ معیشت کا لفظ سنا تھا نہ سیاست نہ خودمختاری کا۔ میں نے ان کی پسماندگی اور غلامانہ سوچ کی حد کو دیکھتے ہوئے ان کے سا،منے یہ سوال رکھا کہ زندگی کیسے گزارتی ہو؟ تو کہا جیسے ہمارے مرد کہتے ہیں ویسے ہی گزارتے ہیں

پھر میں نے پوچھا بچیاں سکول کب تک جاتی ہیں؟ تو ایک مایوسی کا قہقہ لگا کر کہا دنیاوی تعلیم تو دور کی بعد ہیں جب بچی کا قد تھوڑا سا بڑھنے لگے تو دینی تعلیم سے بھی محروم کردی جاتی ہیں تو میں نے پوچھا کیوں؟ کہنے لگے محلے کے لوگ باتیں کرتے ہیں پھر کہا یہاں حالات ایسے ہیں کہ لڑکی کا ہاتھ دیتے وقت جو ولور کے طور پر جو پیسے لیے جاتے ہیں وہ پیسے تک لڑکی کے ضروریات کے لیے نہیں بلکہ بیٹے کی شادی کروانے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں بیٹے کو بچانے کے لیے بیٹی کی قربانی دیتے ہیں۔

ان خواتین سے خودمختاری کا سوال کرنا بے جا تھا اس بنیاد پر میں ان کے سامنے یہ سوال نہیں رکھا۔ ان سب خواتین کے خیالات اور حالات جاننے کے بعد یہ لکھنے پے مجبور ہوہی کہ
یہ کہتا ہے ہم معاشرہ، تم عورت ہو
مر مر کے جینا سیکھو تم
گھٹ گھٹ کے جینا سیکھو تم
تمہیں حق نہیں کچھ کہنے کا
تمہیں حق نہیں حق کہنے کا
ماں باپ نے تم کو اگر حق لینا اپنا سکھایا
تو کیا ہوا
مشکل تھوڑی ہیں اس سیکھ کو تم سے چھین لینا
اگلے دن سسرال جانا ہے
ہر ظلم وہاں کا سہنا ہو گا
اور چپ بھی تم کو رہنا ہو گا
ایک مرد کی عزت کی خاطر
ایک مرد کا ہر ظلم سہنا ہو گا
جس گھر میں شادی ہوئی تمہاری
اس گھر سے ہی جنازہ نکلے تمہارا
یہ کہتا ہیں ہمیں معاشرہ
تم عورت ہو تم عورت ہو
مر مر کے جینا سیکھو تم
گھٹ گھٹ کے جینا سیکھو تم

پدرسری نظام میں ایک عورت کی پسماندگی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ پدرسری نظام اپنے نسلوں کی بربادی پر غور کرنے کے بجائے اس بات پر زیادہ وقت برباد کرتے ہیں کہ لوگ کیا کہیں گے۔ انسانی ماحول انسانی زندگی پر کافی حد تک اثرانداز ہوتا ہے۔ اگر فرد کسی ترقی پسند ماحول میں رہنے لگے تو ان کی سوچ و فکر میں کافی بدلاؤ آ سکتا ہیں اگر ہم اپنے اردگرد دیکھیں تو جو لوگ گاؤں سے شہر کی طرف نقل حرکت کرتے ہیں یا کسی بھی ایسے علاقے میں نقل حرکت کرتے ہیں جن کی سوچ ترقی پسند ہو تو ان کی پسماندہ سوچ ترقی پسند ہونے لگتی ہے۔

ہم دو قسم کی قوتوں سے لڑ رہے ہیں بحیثیت مظلوم قوم ہم سامراجی قوتوں سے اپنے بنیادی حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں اور بحیثیت عورت ہم پدرسری سماج کے پسماندہ سوچ سے لڑ رہے ہیں تو جب تک عورت انفرادی طور پر آزاد اور خود مختار نہیں ہوتی اس وقت تک وہ بحیثیت قوم آزادی خودمختاری اور بنیادی حقوق کی جدوجہد میں حصہ نہیں لے سکتی تو جب عورت آزادی کی تحریک میں حصہ نہیں لے پائے گی اس وقت تک تحریکیں اپنے منزل تک نہیں پہنچ پائے گی۔

اس غلامانہ سوچ کے خاتمے اور اپنے نسلوں کو بربادی سے بچانے کے لیے پدرسری نظام کو اپنے اصول بدلنے ہوں گے۔ ان پسماندہ روایات جو سامراجی قوتوں نے بحیثیت قوم ہمیں پسماندہ رکھنے کے لیے مذہب کارڈ کے ذریعے ہم پے مسلط کی ان روایات کو بدلنا ہو گا عورت کی با اختیاری اور خودمختاری تسلیم کرنی ہوگی

Facebook Comments HS