کیا کبھی بلوچستان کے لوگ بھی ہنسیں گے؟

پچھلے دنوں مجھے اسلام آباد سے کوئٹہ براہ ڈیرہ اسمعٰیل خان نئی سڑک سے سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر کی ایک وجہ تو کام کی جلدی تھی اور اس دوران کوئی جہاز کوئٹہ کے لئے دستیاب نہیں تھا، دوسری وجہ شوق سفر بھی ٹھہرا۔ جب سفر کرنا مقصود تھا تو سوچا پبلک ٹرانسپورٹ پر کیوں نہ کیا جائے۔ اسلام آباد سے کوئٹہ کے لئے نجی کمپنیاں موٹر کاریں چلاتی ہیں جو چار سواریاں اٹھاتی ہیں اور منزل مقصود تک پہنچا دیتی ہیں۔ ایسی کاریں عموماً شام کو اسلام آباد سے چلتی ہیں اور صبح دم کوئٹہ پہنچ جاتی ہیں مگر مجھے ایسی گاڑی مطلوب تھی جو صبح اسلام آباد سے چلے اور شام کو کوئٹہ پہنچے اس دوران سفر بھی کٹ جاتا ہے اور سیلانیوں کا شوق بھی پورا ہوجاتا ہے۔
ایسی ہی ایک کار میں میرا ہم سفر ایک بلوچ نوجوان تھا جو اسلام آباد آیا تھا اور اب واپس جا رہا تھا۔ نوشکی سے تعلق تھا۔ اس کا باپ بغرض ملازمت کوئٹہ میں مقیم تھا اور یہ نوجوان بھی اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ کوئٹہ پہنچنے تک اس کے باپ کا فون تقریباً ہر تیس منٹ بعد بار بار آتا رہا تو میں نے پوچھا خیر تو ہے، کہنے لگا ”میں اکلوتا بیٹا ہوں ناں، اور پہلی بار گھر سے نکلا ہوں اس لئے باپ پریشان ہے“ ۔
بات شروع ہوئی اسلام آباد آنے کی غرض و غایت سے تو اس نے کہا کہ وہ این ٹی ایس یعنی نیشنل ٹسٹنگ سروس کا ٹسٹ دینے آیا تھا۔ مجھے حیرت ہوئی کہ کیا یہ ٹسٹ کوئٹہ میں منعقد نہیں ہوتے۔ کچھ لیت و لعل کے بعد معلوم ہو کہ اس کو شک تھا کہ کوئٹہ میں یہ ٹسٹ شفاف نہیں ہوتے اس لئے وہ اپنی خالہ کے گھر اسلام آباد آیا تھا تاکہ ٹسٹ بھی دے سکے۔ ملازمت کے مواقع فراہم کرنے میں مقابلہ اور مسابقت کی صحت کے لئے نیشنل ٹسٹنگ سروس کا آغاز کیا گیا تھا اگر اس کے بارے میں نوجوانوں میں ایسے شکوک پائے جاتے ہیں تو یہ انتہائی افسوس ناک امر ہے۔
یہ نوجوان بلوچستان کالج برائے زراعت سے گریجویٹ تھا جو اب یونیورسٹی بننے جا رہا ہے۔ بلوچستان ایک ایسا صوبہ ہے جو پاکستان کے کل رقبہ کا لگ بھگ آدھا تو ہے ہی اس کے ساتھ دنیا کے کئی ممالک سے زیادہ ہے۔ اس کے شمال میں افغانستان، صوبہ خیبر پختونخوا، جنوب میں بحیرہ عرب، مشرق میں سندھ اور پنجاب جبکہ مشرق میں ایران واقع ہے۔ یہ ایک ایسا صوبہ ہے جہاں ایک طرف سے سیب، انگور اور چیری سے بازار بھر جاتے ہیں تو دوسری طرف کھجور اپنی مثال آپ ہیں۔ یہاں زراعت کی ایک ایسی تجربہ گاہ بن سکتی ہے جہاں اس کے ہمسایہ خطوں کے تجربات سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ ایک بار آذربائجان کے ناخچیون صوبے کی یونیورسٹی میں ایک لیکچر کے دوران بتایا گیا کہ وہ بلوچستان میں آزمودہ کاریز کے نظام آبپاشی سے استفادہ کر رہے ہیں۔ مگر آج تک بلوچستان کے کسی ادارے کے بارے میں یہ نہیں سنا کہ وہ بھی کسی اور ملک کے کسی تجربے سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
میرے بلوچ ہمسفر نوجوان نے بھی اگلے دن اسلام آباد میں منعقد گرین پاکستان کے افتتاحی تقریب کی وہ خبر ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ پر دیکھی تھی جس میں ملک کے وزیر اعظم اور سپہ سالار کی طرف سے بتایا گیا کہ پاکستان کا ایک بہت بڑا قابل کاشت رقبہ زیر استعمال نہیں جو اب اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری سے استعمال میں لایا جائے گا۔ بلوچ نوجوان کی حکومت کے اس منصوبے میں دلچسپی کی ایک وجہ اس کی اپنی زراعت کے شعبے میں تعلیم تھی اور دوسری وجہ بلوچستان کا وہ بے اب و گیاہ وسیع رقبہ تھا جو اس زمرے میں آتا تھا جس کا ذکر اس تقریب میں ہوا تھا۔
مجھ سے بلوچ نوجوان نے پوچھا کہ اس منصوبے پر کیسے عمل درآمد ہو گا یہاں پانی کی کمی ہے اور اس صحرا کو نخلستان میں تبدیل کرنا ناممکنات میں سے ہے۔ میں نے بھی تازہ تازہ پڑھی یووال حراری کی مستقبل کی تاریخ سے ایک اقتباس سنایا کہ محدود وسائل میں اضافہ ممکن نہیں مگر مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی نے افادیت میں اضافہ ممکن بنا دیا ہے۔ اپنی علمیت جھاڑتے ہوئے میں نے کہا کہ اب تو فضا میں پانی پیدا کرنے کی مشین بھی آ چکی ہے مگر وہ اس بارے میں مجھ سے زیادہ باخبر تھا کیونکہ زراعت اس کا مضمون اور بلوچستان اس کا گھر تھا جہاں ایسی ٹیکنالوجی کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ نوجوان نے کہا کہ یہاں خشک سالی سے زیرزمین پانی کی سطح مزید گر گئی ہے اور لوگوں کے پاس پیسے نہیں کہ مزید کھدائی کروا سکیں تو فضا میں پانی پیدا کرنا ایک خواب ہی ہے۔
بات اب بلوچستان میں کاشتکاری کی طرف چل نکلی تو بلوچ نوجوان نے کہا کہ یہاں فصل اگانے کے اخراجات زیادہ ہوتے ہیں، چھوٹے کاشتکاروں نے کھیتی تقریباً چھوڑ ہی دی ہے کیونکہ ذاتی ٹریکٹر، ٹیوب ویل اور تھریشر کے بغیر اب یہ کام وارے میں نہیں رہا۔ کھاد، بیچ، ادویات اور مزدوری کا حساب لگاؤ تو درمیانہ درجے کا کاشتکار ہمیشہ نقصان میں ہوتا ہے۔ لوگوں نے زیادہ تر شہروں کا رخ کیا ہے تاکہ کوئی اور کام کرسکیں۔ بڑے زمین داروں کو کھیت مزدور نہیں ملتے جو ہاری تھے وہ بھی موقع ملتے ہیں شہروں اور قصبوں کی طرف نکل جاتے ہیں۔ میں نے پوچھا کہ نوشکی میں بیچنے کے لئے کیا پیدا ہوتا ہے تو اس نے کہا کہ سیب اور انار ہوتے تھے مگر اب ایران اور افغانستان سے یہ بھی بہتر آنے لگے ہیں اس کی وجہ سے مقامی طور پر تو بکتے ہیں جس سے منافع زیادہ نہیں ہوتا۔ باہر بیچنے کے لئے درجہ بندی نہیں ہوتی اور نہ ہی کوئی نظام موجود ہے۔
میں نے کہا کہ شاید یہی وجوہات ہیں جس کی وجہ سے حکومت کارپوریٹ فارمنگ کا سوچ رہی ہے کیونکہ کاشتکاری اب افراد کا نہیں مشینوں کا کام رہ گیا ہے جو زیادہ بہتر ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے بہتر اور زیادہ پیدا وار حاصل کرتا ہے۔ اس نے پوچھا مقامی لوگوں کو کیا ملے گا میں نے کہا ان کو جتنا وہ فصل اگا کر کما رہے ہیں اس سے زیادہ پیسہ بغیر کاشتکاری کیے ملے گا اور یہاں ٹیکنالوجی بھی ٹرانسفر ہوگی جس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ جو چھوٹے چھوٹے کاشتکار ہیں ان کی زمینیں کرائے پر لے کر بڑا رقبہ بنا کر کاشت کیا جائے تو مشینوں کے استعمال میں آسانی ہوتی ہے شاید اس لئے کارپوریٹ فارمنگ کو ترجیح دی جا رہی ہے۔
بلوچ نوجوان نے سوچتے ہوئے کہا جب اپنی زمین سے بڑے عرصے کے لئے کرایہ آنے لگے تو لوگ ان دیہاتوں میں بھلا کیوں رہنے لگے وہ تو شہروں میں جاکر اپنے بچوں کو پڑھائیں گے جیسا اس کے باپ نے اس کو اور اس کی بہنوں کو نوشکی سے کوئٹہ میں آ کر پڑھایا۔ پھر تو ہمارے دیہاتوں میں لوگوں کے بجائے مشینیں اور کمپنیاں ہی نظر آئیں گی یا پھر گاڑیاں۔ میں نے کہا ”شاید“ ۔
میں نے اس موضوع سے ہٹنے کے لئے پوچھا اس کا اسلام آباد اور پنجاب کا سفر کیسا رہا اور اس کو کیا فرق محسوس ہوا۔ اس نے کہا کہ بہت فرق محسوس ہوا اور ایسا لگا کہ وہ کسی اور دنیا میں آ گیا ہے۔ گھر میں مذہبی ماحول کی وجہ سے اس نے کوئی فلم نہیں دیکھی تھی اور ٹیلی ویژن کا بھی کوئی پروگرام سوائے انٹرنیٹ کے نہیں دیکھا تھا۔ وہ کہنے لگا کہ اسلام آباد، مری، راولپنڈی میں وہ جہاں بھی گیا لوگ ہنس رہے تھے، گا رہے تھے اور خوش تھے جبکہ کبھی بلوچستان کے لوگوں کو آج تک ایسے ہنستے گاتے نہیں دیکھا تھا جو اس نے پنجاب میں آ کر دیکھا۔ اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا ”کیا بلوچستان کے لوگ بھی ہنسیں گے، گائیں گے اور خوش نظر آئیں گے؟“ ۔ میرے پاس اس سوال کا کوئی جوب نہیں تھا اس لئے چپ رہا۔
میں نے اس کی عمر پوچھی تو کہنے لگا کہ وہ پچیس سال کا ہوا ہے۔ میں نے دل میں حساب لگایا کہ جب نواب اکبر بگٹی کا قتل ہوا تو وہ آٹھ سال کا تھا اور بلوچستان میں موجودہ کشیدگی اس بھی پانچ سال پہلے شروع ہو چکی تھی تو اس نے واقعی بلوچستان میں لوگوں کو خاص طور جہاں سے وہ تعلق رکھتا تھا ہنستے گاتے نہیں دیکھا ہے۔ یہ کیسا المیہ ہے کہ ایک نسل کشیدگی میں ہی جوان ہوئی جس کے لیے خوشی اجنبی ہے۔

