سوشل میڈیا انفلوئنسرز اور ہم



وہ زمانے گئے جب صرف فلمی اور ٹی وی اداکاروں اور اداکاراؤں کے پرستار ہوا کرتے تھے سوشل میڈیا نے اس سارے منظر کو یکسر بدل دیا ہے۔ اب ایک نئی جہت آ گئی ہے جنہیں ”انفلوئنسرز“ ( انفلوئنسرز ) کہا جاتا ہے انفلوئنسرز ( انفلوئنسرز ) یعنی ”اثرانداز ہونے والے“ انسٹا گرام پر کوئی بھی لڑکی (زیادہ تر لڑکیاں اس کیٹگری میں مشہور ہیں اس لیے ان کی بات کر رہی ہوں ) اپنا اکاؤنٹ بناتی ہے اس پر میک اپ، ہیر یا کپڑوں کی ویڈیوز ڈالتی ہے آہستہ آہستہ اس کا کانٹینٹ لوگ دیکھتے ہیں متاثر ہوتے ہیں تو انہیں مختلف کمپنیوں کی طرف سے پی آر پیکجز ملنا شروع ہو جاتے ہیں۔

پھر اپنے اکاؤنٹ پر اس کی اشتہاری مہم چلائی جاتی ہے اور کمپنی کی طرف سے آپ کو پیسہ ملتا ہے۔ اس میں ایفلیٹ مارکیٹنگ بھی ہوتی ہے جس کی فی الحال میں بات نہیں کر رہی۔ سوشل میڈیا ایپلیکیشن ”انسٹاگرام“ نے ایسے لوگوں کو بہت شہرت اور پیسہ دیا یہی وجہ ہے کہ آج ہزاروں کی تعداد میں انفلوئنسرز انسٹا گرام پر پائے جاتے ہیں کیا آپ کو علم ہے کہ انسٹا گرام پر بہت سی لڑکیاں محض میک اپ اور کپڑے دکھانے کے لاکھوں روپے لے رہی ہیں؟

پاکستان میں یہ سب سے مشہور کیٹگری ہے ان کا ایک دوسرا نام بھی ہے جو یوٹیوب پر زیادہ مشہور ہے ”کانٹینٹ کریٹر“ کے نام سے۔ اس کے علاوہ فوڈ بلاگرز، فوٹو گرافرز، شیف، رائٹرز، ویڈیو گرافرز غرض کہ بے شمار لوگ اپنے بزنس کو پرموٹ کر رہے ہیں آج کل کے دور میں سب سے زیادہ ”کانٹینٹ“ کون سا مشہور ہوتا ہے؟ اگر انسٹاگرام کی بات کی جائے تو کامیڈی ویڈیوز، میک اپ اور ہیر ٹیٹوریل، ٹریولر اور فوڈ بلاگز، ہوم ڈیکوریشن اور اپنی عام زندگی کی تصاویر اور عکس بندی سب سے زیادہ نظر آتی ہے۔

خیر ہم سب پسند کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں تو ہی کانٹینٹ بنتا ہے۔ کانٹینٹ بنانا مسئلہ نہیں ہے مسئلہ جس پر میں بات کرنے جا رہی ہوں وہ ہے اس کانٹینٹ کو پوسٹ کرنا اور اس سے پیسے کمانا۔ جب یہ دونوں کام ہو جاتے ہیں آپ کی پوسٹس پہ ڈھیر سارے لائکس اور کمینٹس آرہے ہوتے ہیں تو آپ بے حد خوش ہوتے ہیں۔ لیکن مسئلہ تب بنتا ہے جب پاکستانی عوام اپنی آئی پہ آتی ہے بحیثیت قوم ہم سب کو شوق ہے جب خریداری کر کے آتے ہیں ایک ایک چیز کی قیمت پوچھنے اور بتانے کا ”کتنے کی ہے؟

“ یہ ہمارا پسندیدہ سوال ہوتا ہے۔ اب ہوتا یہ ہے کہ جب یہ انفلوئنسرز اپنے ڈھیر سے پی آر پیکجز میں آئے میک اپ، کپڑے، زیورات اور دوسری چیزوں کی نمائش کر رہی ہوتی ہیں تو ہماری پاکستانی لڑکیاں ان باکس اور کمنٹس میں ہر چیز کا برینڈ اور قیمت پوچھ رہی ہوتی ہیں۔ کچھ تو ان انفلوئنسرز کو یہ چیزیں مفت میں بانٹنے کا مشورہ بھی دے رہی ہوتی ہیں۔ جس پہ بہت غصہ کیا جاتا ہے کہ ہمیں ایسا کرنے کا مشورہ کیوں دیا جا رہا ہے؟

”زندگی صرف وہ نہیں جو آپ سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں“ وغیرہ وغیرہ قسم کے ڈائیلاگ بولے جاتے ہیں۔ جب آپ کسی کو ایک مخصوص پرفیکٹ لائف سٹائل دکھا رہے ہیں تو اس سے یہ کیسے امید رکھ سکتے ہیں کہ وہ اس سے متاثر نہ ہو؟ جب کہ آپ کا کام بھی یہی ہے۔ بہنو! کوئی بھی اپنی حلال اور جائز کمائی میں اتنے پیسے کپڑوں، زیورات اور میک اپ پر نہیں لگائے گا نہ یہ باجیاں لگاتی ہیں۔ یہاں تک کہ ایک بہت مشہور رائٹر جن کو انسٹا گرام پر فالو کرنے سے پہلے میں ان کا بہت بڑا پنکھا رہی ہوں انسٹا گرام پر جرمنی اور ترکی جانے کی سٹوریز لگاتی رہی ہیں اور پھر سوال کرنے پر لوگوں کو بلاک کرتی رہی ہیں۔

میرا ان تمام باجیوں سے سوال ہے کہ آپ جب اپنے اکاؤنٹ پر فالورز بڑھانے کے لیے اتنی محنت کرتی ہیں جب فالورز آتی ہیں کمنٹس کرتی ہیں سوال کرتی ہیں تو اتنا برا کیوں لگتا ہے؟ اور آپ اور ہم سب جو ان کو فالو کرتے ہیں کیا ہماری پاکستانی لڑکیوں کی زندگی میں ہر برینڈ کے مہنگے کپڑے، جوتے، زیور اور میک اپ خریدنے کے علاوہ کوئی بڑا مقصد نہیں ہے؟

Facebook Comments HS