دیوالیہ پاکستان اور اس کے شہزادے


پاکستان بہ مشکل یقینی دیوالیہ پن کو جل دینے میں کامیاب ہوا ہے لیکن ادائیگیوں میں ملنے والی دوستانہ توسیع، ظالمانہ انداز میں حاصل کیے جانے والے قرضے، سیاسی عدم استحکام میں اضافہ، بڑھتی ہوئی شرح سود اور آسمان کو چھوتی ہوئی مہنگائی برقرار ہے۔ اس وقت بھکاری کے کشکول میں چند سکے ڈال دینے کے آئی ایم ایف کے معیاری طریقہ کار سے ہٹ کر یہ ملک کچھ نئے امکانات کی کھوج میں ہے۔

ہر طرف سے جکڑ لینے والی آئی ایم ایف کی بندشوں کو کچھ ڈھیلا کرنے کے لیے، ہماری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو ملک میں رائج ٹیکس نظام میں درکار بنیادی اصلاحات کرنے کے لیے کسی غیر روایتی (آؤٹ آف دی باکس) حل کھوجنے کی اشد ضرورت ہے۔

آئیے ملک پاکستان کے کروڑ پتی شہزادوں کو ذہن میں رکھ کر وطن عزیز کے پاس دستیاب امکانات پر اک نظر ڈالتے ہیں۔ ڈیٹا جمع کرنے والے ایک بین الاقوامی ادارے Statista کے تخمینوں کے مطابق پاکستان میں ڈالروں میں کروڑ پتی اشخاص کی تعداد 26 ہزار سے زیادہ ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں سے ہر شہزادہ 30 کروڑ روپے یا اس سے زیادہ کی مالیت کا حامل ہے۔ کیا یہ سب لوگ ٹیکس ڈھانچے میں موجود ہیں؟

دبئی لینڈ اتھارٹی کے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق دبئی کی جائیدادوں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کی فہرست میں پاکستان تیسرا سب سے بڑا سرمایہ کار ہے، 16 ہزار سے زائد پاکستانی دبئی میں 11 ارب ڈالر مالیت کی جائیدادوں کے مالک ہیں جو 30 کھرب سے زیادہ روپے بنتے ہیں، لیکن ہمارے لیے پھندا یہ ہے کہ فیصلہ سازوں کی اکثریت کا تعلق تو انہی شہزادوں سے ہے اور، باقی دنیا کی اشرافیہ کی مانند، یہ لوگ ٹیکس ادائیگی کو پسند نہیں کرتے۔ ان فیصلہ ساز شہزادوں کی تازہ ترین مثالیں سابق صدر آصف علی زرداری اور اسحاق ڈار کے بیٹوں کی شکل میں دیکھی جا سکتی ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی تقاریر تو آپ نے سنی ہی ہوں گی جو اشرافیہ کو مخاطب کرتے ہوئے اکثر ورد کرتے سنائی دیتے ہیں کہ اب قربانی کا وقت ہے۔ ان 16 ہزار سے زائد شہزادوں کو آسانی سے قائل کیا جا سکتا ہے کہ یہ لوگ اپنی آف شور جائیدادوں پر دس فیصد کی شرح سے پراپرٹی ٹیکس ادا کریں۔ اس مد میں سالانہ ایک ارب ڈالر جمع کیے جا سکتے ہیں۔ واضح طور پر یہ جائیدادیں bookings۔ com پر کرائے پر دستیاب جائیدادوں سے کچھ زیادہ ہی بنا سکتی ہیں۔

بدلے میں ان شہزادوں کو بڑی سرکاری ملکیت والی اراضی میں مکمل طور پر تیار شدہ پلاٹ صرف لاگت وصول کر کے دیے جائیں اور ان کا رقبہ دبئی میں ان کی ملکیتی جائیداد سے دگنا ہو اور یوں ہر دو فریقین کے لیے جیت ہو سکتی ہے۔ ان کے علاوہ پاکستان میں تحفے اور رعایات کے ساتھ ملنے والی جائیدادوں کی قدر بطور سرمایہ کاری ہر برس بڑھے گی۔ دبئی لینڈ ڈپارٹمنٹ شیخ محمد بن نیہان کی منظوری کے ساتھ اس بندوبست میں سہولت کاری کر سکتا ہے۔ لیکن مالی شفافیت کے حوالے سے متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں کی پالیسیاں بھی اپنی جگہ موجود ہیں۔ تحفے کی صورت میں دیے جانے والے ان پلاٹوں کے رقبے کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کہ اس کے لیے درکار اراضی ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کے ایک فیز سے بھی کم ہوگی کہ جس کا بندوبست باآسانی ہو سکتا ہے۔

اب اگر ہم اس پہلو کی طرف دیکھتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں بھی ہمارے ان شہزادوں کی آف شور جائیدادیں موجود ہیں تو بڑی آسانی کے ساتھ تخمیناً، یہ آف شور سرمایہ کاری، 20 ارب ڈالر کو پار کر جاتی ہے۔ ان لوگوں کو ٹیکس کے دائرے میں لا کر ان سے ٹیکس وصول کیا جائے۔

آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ (او ای سی ڈی) کے شائع کردہ ڈیٹا کے مطابق ہزاروں پاکستانیوں کے آف شور بینک اکاؤنٹس میں تقریباً سات ارب ڈالر موجود ہیں۔ او ای سی ڈی کا دائرہ کار اکثر ترقی یافتہ دنیا تک پھیلا ہوا ہے مگر اس میں خلیجی ممالک شامل نہیں۔

ان شناخت شدہ پاکستانی شہزادوں کو راغب کرنے کے لیے فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آئی) کے ماڈل کا سہارا لیا جا سکتا ہے اور اس کے لیے ریاستی ضمانتیں مہیا کی جائیں اور 20 برس تک کا ٹیکس وقفہ برآمدی شعبے کو دیا جائے تاکہ زر مبادلہ کی ایک مستقل دھارے کو جنم دیا جا سکے۔

ان شہزادوں کو مکمل طور پر تیار شدہ صنعتی و رہائشی پلاٹ صرف لاگت کے عوض دیے جائیں۔ مختلف شہروں کے ترقیاتی ادارے مثلاً ایل ڈی اے، سی ڈی اے اور کے ڈی اے کے پاس اس طرح کی فراہمی کے لیے کافی تجربہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ ایک لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے پر ان لوگوں کو استعمال شدہ گاڑیاں بغیر کسی ڈیوٹی کے درآمد کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ اس آف شور سرمائے کو مستقبل میں زر مبادلہ کے حصول کا مستقل آلہ بنانے کے لیے گہری ترغیب دیے جانے کی ضرورت ہے۔

ایک اور چیز جس کے متعلق ہم میں سے بہت کم لوگوں کو علم ہو گا یہ ہے کہ پاکستان میں کرپٹو کرنسیوں میں ہونے والا سالانہ لین دین 25 ارب ڈالر یعنی 70 کھرب سے زائد روپوں کو پہنچتا ہے اور اس مد میں سرمایہ کاری کرنے والوں میں سے اکثر کی عمریں 18 سے 39 برسوں کے درمیان ہیں۔ عموماً یہ شعبہ ان افراد کے ہاتھوں میں ہے جن میں سے ہر ایک کی انفرادی سرمایہ کاری پچاس ہزار روپوں سے کم ہے۔

اب چونکہ کرپٹو کرنسیوں کی ابھرتی ہوئی منڈی گزشتہ برس عالمی سطح پر شدید حملوں کی زد میں رہی تو سٹیٹ بینک آف پاکستان فی الوقت باوقار راستہ اپنا رہا ہے کہ وہ اپنی کرپٹو کرنسی لانچ کر رہا ہے جس کی ضمانت سٹیٹ بینک آف پاکستان دے گا تاکہ زر مبادلہ گھر واپسی کی راہ دیکھے اور زر مبادلہ کی ذخائر کی صورت حال بہتر ہو، ان کرپٹو ذخائر سے حاصل ہونے والے بڑے منافع کو ہائی ٹیک اور آئی ٹی کے شعبوں سے بڑا نفع حاصل کرنے پر صرف کیا جا سکے گا۔

گھریلو محاذ پر صورت حال یہ ہے کہ لاہور چیمبر آف کامرس (ایل سی سی آئی) کے صدر کاشف انور کے مطابق 12 ارب ڈالر گھروں میں یا بینکوں کے لاکروں میں یا برآمد کنندگان نے روک رکھے ہیں، عمومی ایمنسٹی اور مراعات دے کر اس سرمائے کو مرکزی دھارے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اس پیسے کو اولین ترجیح دے کر استعمال میں لانا چاہیے کہ کرنسی کی ڈالر کے مقابلے میں روزانہ کی بنیادوں پر ہونے والی جنگلی قسم کی اتھل پتھل کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے، کرنسی کے اس اتار چڑھاؤ کے نتیجے میں باقی ہر شے تہس نہس ہو جاتی ہے۔ ان لوگوں کو سپیشل اکنامک زونوں (ایس ای زی، رئیل سٹیٹ اور آئی) کی طرف راغب کرنے کی ضرورت ہے۔ سرمائے کی گردش معیشت کے لیے عمومی رحمت ثابت ہوتی ہے۔

اس کے بعد باری آتی ہے ہمارے ان لکھ پتی شہزادوں کی جو ہر برس چار ارب ڈالر یعنی 12 کھرب روپے سے زیادہ صرف کریڈٹ کارڈوں کی ادائیگیوں پر صرف کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کسی اور نے نہیں بلکہ فارن ایکس چینج ڈیلر ایسوسی ایشن کے صدر ملک بوستان نے دیے ہیں۔ کیا پاکستان دیوالیہ ہے؟ اس انبار کو چھلنی میں سے گزار کر ایف بی آر کی لگژری ٹیکس کیٹیگری میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اس طریقے سے سالانہ ایک ارب ڈالر جمع کیے جا سکتے ہیں۔

یہی نہیں بلکہ یہ بھی یاد رکھیں کہ پاکستانی ہر برس قربانی اور حج کی مد میں، محتاط اندازے کے مطابق، دو ارب ڈالر کے مساوی رقم خرچ کر دیتے ہیں جو پاکستانی کرنسی میں 5 کھرب سے زیادہ رقم بنتی ہے، کیا یہ دیوالیہ ہوتے ملک کی علامات ہیں؟

سو یوں ثابت ہوا کہ ہمارے شہزادوں کے پاس 60 ارب ڈالر ( 165 کھرب سے زائد) سے زیادہ وسائل کا ایسا ذخیرہ موجود ہے جس سے ابھی فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔

گھریلو محاذ پر، اس وقت تقریباً 120 ارب ڈالر بینک ڈپازٹ کی شکل میں اور تقریباً 25 ارب ڈالر سٹاک ایکس چینج میں سرمایہ کاری کی شکل میں موجود ہیں۔ ایف بی آر آسانی کے ساتھ سالانہ ایک کروڑ ٹرن اوور والے اکاؤنٹس کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ لازماً ایسے لوگوں کا بینک ریکارڈ چھلنی کے ذریعے شناخت کرنا چاہیے اور انہیں ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر فرخ سلیم، ایک نمایاں ماہر معیشت، کے دلائل کو یہاں بار دگر دہرانا ضروری ہے۔ ان کے بقول، نیپرا ریکارڈ سے تصدیق ہوتی ہے کہ اس وقت پاکستان بھر میں بجلی کے 40 لاکھ سے زائد کمرشل میٹر اور چار لاکھ صنعتی میٹر چل رہے ہیں، اس کے علاوہ زرعی میٹروں کی تعداد تین لاکھ ستاون ہزار ہے۔ یہ تینوں اقسام کے صارفین وہ ہیں جو خالصتاً کاروباری صارف ہیں اور اس قابل ہیں کہ ان سے ٹیکس وصول کیا جائے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس وقت ان پچاس لاکھ کاروباروں میں سے صرف ایک لاکھ ٹیکس فائلر ہیں جو کہ ممکنہ ٹیکس دہندگان کا 2 ٪ بنتے ہیں جب کہ 98 ٪ اب بھی ٹیکس نیٹ سے باہر ہیں۔

کیا کسی کے تصور میں بھی یہ بات آ سکتی ہے کہ ہمارے 80 ٪ صنعتی یونٹ ابھی تک ہمارے ٹیکس نیٹ میں ظاہر ہی نہیں ہوتے، نری بیہودگی! وہ تین لاکھ فیکٹریاں جو اس وقت ٹیکس چوری کر رہی ہیں انہیں لازماً، فی الفور، ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جانا چاہیے۔ بعد ازاں 43 لاکھ کمرشل و زرعی میٹر مالکان کو بھی ٹیکس نیٹ میں شامل کیا جائے۔

اس بات کی قطعی ضرورت نہیں کہ ایپکس سپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل (ایس آئی ایف سی) کی شکل میں تصویر کشیاں اور بلند و بانگ دعوے کیے جائیں۔ یاد رہے کوئی نجی بیرونی سرمایہ کار اس وقت تک یہاں نہیں آئے گا جب تک ہم اپنا گھر درست نہیں کرتے اور اس کے لیے ہمیں جی ڈی پی کی نسبت سے ٹیکس کی شرح کو ممکنہ حد تک لے جانا ہو گا، سیاسی استحکام پیدا کریں اور امن و امان کی صورت حال میں بہتر بنائیں۔ بات ختم۔

مترجم: ثقلین شوکت

عمران باجوہ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) کے ایوارڈ یافتہ لکھاری ہیں اور انھوں نے یہ مضمون بزبان انگریزی لکھا ہے۔

Facebook Comments HS

عمران باجوہ

مصنف کو تحقیقی صحافت کے لیے اے پی این ایس کی جانب سے ایوارڈ مل چکا ہے۔

imran-bajwa-awon-ali has 17 posts and counting.See all posts by imran-bajwa-awon-ali