ہٹلر کی آتما بھٹک رہی ہے
پہلی جنگ عظیم کے بعد معاہدہ ورسیلیز پر اس وقت کی بڑی یورپی طاقتوں نے دستخط کیے جس کے تحت جرمنی کو جنگ کی بڑی وجہ قرار دیتے ہوئے بھاری جرمانہ کیا گیا تھا۔ ساتھ ہی ساتھ اس کے کچھ حصوں کو علیحدہ کر دیا گیا، جرمن فوج اور ہتھیاروں میں اضافے پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
اس بھاری جرمانے کی وجہ سے جرمنی پر بہت برا وقت آ گیا۔ نہ صرف یورپ میں جرمنی کے وقار کو نقصان پہنچا بلکہ ٹیکس میں خوفناک حد تک اضافہ ہوا اور مہنگائی بھی بہت بڑھ گئی۔ معاہدہ ورسیلیز پر دستخط کرنے کی وجہ سے لوگ اپنے حکمرانوں سے نالاں تھے۔ حالانکہ حکمرانوں کے پاس کوئی اور آپشن موجود ہی نہیں تھا۔
ایسے میں 1921 میں ہٹلر نازی پارٹی کے لیڈر بن گیا۔ ہٹلر نے حکومت کے خلاف لوگوں کو ابھارا اور اپنی تقاریر میں جرمنی کے تمام دکھ گنواتے ہوئے اپنے آپ کو خالصتاً اسی مقصد کے لیے دھرتی پر بھجوایا ہوا مسیحا بتلایا۔ 1929 میں جب کساد بازاری The آئی تو پہلے سے کمزور جرمنی مالی طور پر بکھر گیا۔ ہٹلر اپنے نعروں کے ساتھ اور مقبول ہو گیا۔ اس نے سیاست میں پنجے گاڑے اور 1933 میں جرمنی کا چانسلر بن گیا۔
ہٹلر کے اقدام میں کمیونسٹوں کی مخالفت، یہودیوں سے غیر انسانی سلوک، جرمنی کی سرزمین میں اضافہ اور جرمن نسل کو ہی اصل انسانی نسل کے طور پر لے کر چلنا وغیرہ شامل ہیں۔ مذہب کا کارڈ بھی کھیلا گیا۔ پروٹسٹنٹ چرچ کے پادری نازی پارٹی منتخب کرتی تھی جو کہ نازی پارٹی کے تمغے پہنتے تھے اور نازی مارچ میں بھی شرکت کرتے تھے۔
ہٹلر نے نازی پارٹی کے ایجنڈے سے ذرا سی بھی مخالفت رکھنے والے لوگوں اور لٹریچر کو بہت نقصان پہنچایا۔ جرمنی کے تمام مسائل کی وجہ یہودیوں اور کمیونسٹوں کو قرار دے کر ان کا جینا محال کر دیا۔ کئی انسانوں کو نظریاتی اختلاف پر موت کے گھاٹ اتار دیا۔ آریان نسل کی برتری اور باقی تمام نسلوں اور اقوام کو کمتر ثابت کرنے پر زور دیا۔
یکم ستمبر 1939 میں جب ہٹلر نے پولینڈ پر حملہ کیا تو باقی یورپی طاقتیں جو ہٹلر کی طرف سے German Expansion گزشتہ برسوں سے دیکھ رہی تھیں اب برس پڑیں۔ برطانیہ اور فرانس نے ہٹلر کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا اور یوں دوسری جنگ عظیم شروع ہوئی جس نے دنیا کو خون میں نہلا دیا۔ جرمنی کی مکمل ہار سے چند دن قبل اپریل 1945 میں ہٹلر نے خود کشی کر لی۔ جنگ عظیم دوم تو ختم ہو گئی مگر ہٹلر کی روح بھٹکتی رہ گئی۔
آج بھی اس طرح کے ’لیڈر‘ دنیا کے مختلف ممالک میں موجود ہیں جو ملک کے مسائل گنواتے ہیں، پھر اپنے آپ کو خدا کی طرف سے آیا ہوا مسیحا بتلاتے ہیں، ملک میں اپنا زور قائم رکھنے کے لیے لوگوں کو رنگ و نسل اور مذہب کی بناء پر تقسیم کرتے ہیں اور اپنی طاقت بڑھانے کے لیے لوگوں کو برین واش کرتے ہیں اور حدود سے تجاوز کرتے ہیں۔


