ڈی جی خان کی زینب کا دکھ

ایسی حقیقت ہے کہ مائیں بھی مر جاتی ہیں۔ اداس محرم کی شام غریباں میں اداسی میں گھرا ہوں۔ اداسی کا سبب زینب ہے۔ اک کربلا کی زینب، اک ڈی جی خان کی زینب۔ اس زینب کے دکھ سینکڑوں سال پہلے کربلا کی تپتی ریت پہ قربان ہونے والے خاندان کو بے بسی سے دیکھتی زینب سے ایسی مماثلت رکھتے ہیں کہ میں حیران ہوں۔ میں بارہا خود سے الجھا کہ میں کیوں پریشان ہوں میں نے خدا سے شکایتیں لگائیں کہ میں کیوں بے بس ہوں۔
میں نے خیالات سے فرار کے لیے لمبی نیند لی۔ مطالعے میں غرق ہو کر اندیشوں سے سر چھپانے کی سعی کی۔ دوستوں کے ساتھ گپ شپ کے لیے میسر آیا۔ صبح شام سیر کی غرض سے میلوں پیدل چلا ہوں لیکن اندیشے وسوسے اداسیاں بدستور قائم ہیں۔ بے چینی بے کلی اور اضطراب ہے کہ دماغ پہ شکنجے ڈالے بیٹھا ہے۔ آنکھوں کی سیم خشک نہیں ہوئی۔ مجھے لگتا ہے کہ میں دس سالہ زینب سے پہلے مر جاؤں گا۔ اگر اس معاشرے میں چند لوگ زندہ ہیں تو مجھے بچائیں۔ کہ اس بستی میں کوئی اک شخص بھی زندہ ہے تو آئے اک بار پھر کوفے میں زینب اکیلی کھڑی ہے۔
مجھے یاد ہے میں پڑھائی کے سلسلے میں ڈی جی خان خالہ کے گھر میں مقیم تھا جب میں نے پہلی بار زینب کو دیکھا تھا۔ آنکھوں میں شرارت لبوں پہ مسکراہٹ لیے ماں کی گود میں قلقاریاں مارتی زینب بہت معصوم اور کیوٹ لگی تھی۔ زینب اک کھاتے پیتے گھرانے کی تیسری بیٹی تھی۔ اس کی ماں میری خالہ کے ساتھ مل کر غریب ہمسائیوں کی مدد کیا کرتی۔ کسی کے گھر سالن بھجوا دیا۔ کسی کو عید کے کپڑے دلوا دیے۔ کسی کو جہیز کے لیے کوئی چیز دے دی۔
پھر خالق کائنات کو نجانے کیا سوجھی کہ زینب سے اس کا والد چھین لیا۔ دو بڑی بہنوں کے ساتھ زینب کی ذمہ داری ان کی بیوہ ماں پہ آ گئی۔ حالات بدلنے کی دیر تھی دنیا بدل گئی لوگ بدل گئے۔ کل تک لوگوں کی مدد کرنے والی زینب کی امی خود امداد کی مستحق بن گئی۔ زینب کھلونے کھیلنے کی عمر میں ماں کے سینے سے چمٹی دن گزارتی جو گھر گھر جا کر کسی گھر کے برتن دھوتی کسی گھر کے کپڑے ماں کام کرتی رہتی زینب ٹھنڈے فرش پہ بیٹھی ماں کو تکتی رہتی۔ بھوک لگتی تو ماں چند منٹ کے لیے سینے سے چمٹا لیتی ورنہ صاحب ثروت مالکوں کی ڈانٹ کے ڈر سے آنسو پیتے کام میں لگی رہتی اور زینب روتے روتے وہیں سو جاتی۔
زینب آٹھ سال کی تھی جب اس کی ماں حالات سے شکست کھا گئی۔ بیماری نے یوں جکڑا کہ بستر پہ جا لگی۔ زینب کی سولہ سترہ سال کی بہنیں جو کب سے سکول سے نکالی جا چکی تھیں اور سلائی کا کام سیکھ رہی تھیں نے ماں کی جگہ مزدوری سنبھالی اک بہن کارخانے میں تین ہزار کی مزدوری پہ لگی صبح سے شام خود کو کھا جانے والی نظروں سے محفوظ رکھنے کی سعی کرتی رہتی تو دوسری بہن ماں کے چھوڑے ہوئے گھروں میں کام کرتی۔ ماں نازوں سے پلی بیٹیوں کی یہ حالت زیادہ دیر نہ دیکھ سکی اور دنیا سے آنکھیں موند لیں۔
کاش یہ کوئی کہانی ہوتی کاش یہ کوئی فسانہ ہوتا تو میں اس سے آگے اس شہر کے کسی حاجی صاحب کسی شیخ صاحب کسی بڑے تاجر کسی سیاستدان جن کے بیٹوں کے ولیموں پہ ست رنگی کھانے بنتے ہیں جن کے پوتے کے عقیقوں پہ درجنوں بیلوں کی قربانی ہوتی ہے جو ہر سال عمرے پہ جاتے ہیں جو جنت میں محل کے لیے ہزاروں روپے مسجد کا چندہ دیتے ہیں جن کا لاکھوں روپے کا روز کاروبار ہوتا ہے جن کی شہر میں کروڑوں کی پراپرٹی ہے میں سے کسی کو ہیرو بنا کر ان بچیوں پہ دست شفقت رکھوا دیتا۔ کاش فسانے میں ان بن ماں باپ کی بچیوں کی آنکھوں کی وحشت اور چہرے کی ویرانی جگمگاہٹ میں بدل دینا کاش میں جادو کی چھڑی سے بھوکی نظروں خشک ہونٹوں والی ان بچیوں کو دو لحاف دو دریوں اک کرسی اک ٹوٹے پلنگ اور اندھیری کوٹھڑی سے شیخ حاجی اور سردار صاحب کی رہائش گاہ میں پہنچا دیتا کہ ان کے کمرے میں اے سی لگ جاتا ان کی خواب گاہ خوشبووں سے مہکتی ان کے وارڈ روب نئے کپڑوں اور جوتوں سے بھر جاتے ان کے کچن سے نت نئے مرغن کھانے برامد ہوتے مگر افسوس یہ حقیقی دنیا ہے۔ یہ مشیت الہی ہے۔ یہ خدا ہی تو ہے جس نے ان کو آسمان سے زمین پہ پٹخا ان کے ماں باپ چھین لیے اور زینب کی الٹی جانب دل لگایا اسے بیمار کر دیا اسے کمزور کر دیا وہ دن رات تڑپتی ہے تکلیف میں ہے شاید یہ ہمارا امتحان ہے شاید زینب کے بعد یہ آسمان یہ زمین یہ ندی نالے یہ ہریالی یہ خوشحالی یہ ذائقے ہم سے ضرور پوچھیں گے ہمارے بچے ہماری مائیں ہمارے والد ہماری بہنیں ہماری جیبیں ہمارے اکاؤنٹ ہماری رقم ہماری جائیداد ہماری دکانیں ہمارے کاروبار ہمیں قلق پہنچائیں گے۔ اگر آسمان پہ کوئی خدا ہے جو کہ ضرور ہے وہ ہم سے پوچھے گا کہ یہ ہم ہی تھے جنہوں نے زینب کو بیمار کیا اس کی بہنوں کو مصیبت میں ڈالا انہیں بھوک سے نڈھال رکھا ان کا باپ چھینا ان کی ماں چھین لی انہیں اس دشت میں تنہا چھوڑ دیا اب یہ بہنیں اچھی خوراک نہیں کھا سکتیں۔ زینب کے لیے دوائیں نہیں خرید سکتیں پھل دودھ اور انڈے لینے کے لیے جتن کرتی ہیں کہ میں دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سے کون ہے جب یہ بچیاں اس شہر میں دربدر پھر رہی تھیں اپنی کمزور باہوں میں اک دوسرے کو چھپا رہی تھیں خشک پتوں کی مانند کپکپا رہی تھیں کس کا دل پگھلا کس نے ان کے آنسو پونچھے کس نے ان کو سہارا دیا کس نے ان کی مدد کی۔ کیا اس محرم میں اک اور کربلا بپا نہیں ہو رہی کیا اس محرم میں اک اور زینب مصائب کا شکار نہیں کون ہے جو اس کوفی معاشرے میں حسینی کردار ادا کرے گا یا اس کوفے میں سب بے حسی لالچ اور حرص کے ہاتھوں بیعت کر چکے ہیں کوئی ہے جو زینب کی چیخ کو آواز دے کوئی ہے جو اس کوفے کو خدا کے قہر سے بچائے۔

