ہیگل ایک فلسفیانہ معما (3)


آسکر وائلڈ نے کہا تھا: ”زندگی میں دو قسم کے المیے ہوتے ہیں، ایک المیہ یہ ہے کہ آپ کو زندگی میں وہ نہ مل سکے جس کی آپ خواہش کرتے ہیں اور دوسرا المیہ یہ ہے کہ آپ کو وہ سب کچھ مل جائے جس کو حاصل کرنے کی آپ کو شدید خواہش رہی ہو۔“

ہیگل کو دوسری قسم کا المیہ درپیش تھا۔ اپنا خواب پورا ہونے کے بعد ان پر دو قسم کے جذباتی دباؤ تھے۔ ایک اپنی کتاب کو حتمی شکل نہ دے پانا اور دوسرا ایک متنازع شخصیت بن جانا۔ اسی اثناء میں ہیگل ایک اور غم سے دو چار ہو گئے، ان کو پتہ چلا کہ ان کے شاعر اور فلسفی دوست ہیلڈرن کا نروس بریک ڈاؤن ہو گیا ہے۔ یہ جذباتی صدمے ہیگل کی اعصابی طاقت سے زیادہ تھے۔ وہ ایک دفعہ پھر ڈپریشن میں چلے گئے اور کچھ ہی عرصے بعد اپنے دوست ہیلڈرن کی طرح نروس بریک ڈاؤن کا شکار ہو گئے۔ اپنے ذہنی بحران کے دوران ہیگل گہری غور و فکر میں ڈوب گئے۔ خود احتسابی اور لکھنے کی لگن نے ہیگل کے بریک اؤن کو بریک تھرو (ایک نئی امنگ) میں تبدیل کر دیا۔ اس دوران ان کے اندر کچھ صوفیانہ بصیرت نے جنم لیا جو ان کے فلسفے کی بنیاد بھی بنی۔ اور اس کیفیت کو انھوں نے اپنی شہرہ آفاق کتاب: ”روح کا ظہور“ میں پیش کیا ہے۔ اگر انھوں نے اپنی اس کیفیت کو کسی جگہ ”دریافت کا سفر“ لکھا ہے تو اچنبھے کی کوئی بات نہیں ہے۔

چند برس بعد ہیگل نے اپنی اعصاب شکنی اور نئی زندگی کی کیفیت کو اپنے کیتھولک طبیب اور صوفی دوست کارل ونڈش مین کو ایک خط میں تحریر کیا۔ ہیگل کے سوانح نگار پنکارڈ نے لکھا ہے : ”ہیگل اپنی زندگی کے ایک تاریک دور کی بات کرتے ہیں جب ان کا مزاج عقل و شعور سے زیادہ روح کے زیر اثر تھا۔ اس دوران ان کو خود معلوم نہیں تھا کہ وہ کس سمت میں سفر کر رہے ہیں۔ اس کیفیت کو انھوں نے“ ہائپو کونڈریا ” (یاسیت کی ایک قسم) کا نام دیا ہے۔ جس میں مریض ہر وقت اس خوف میں مبتلا رہتا ہے کہ وہ شدید بیمار ہو جائے گا۔ وہ اس بیماری میں اس قدر مبتلا ہوئے کہ تھک گئے۔ اور بیماری کی یہی انتہا ان کے لیے اہم موڑ ثابت ہوئی۔ کیونکہ ان کی خود اعتمادی کی دوبارہ سے نمو ہوئی۔ ہیگل نے کارل کو یہ بھی بتایا کہ تخلیقی شخصیات کا تخلیقی کام ہی ان کے ’بریک ڈاؤن‘ کو ’بریک تھرو‘ میں بدل سکتا ہے۔ پنکارڈ نے لکھا:

” 1810 ء میں روح کی تاریک رات میں ہیگل کے لیے کم از کم نہ مذہب نہ ہی خدا، بلکہ علمی کام کے لیے وقف ہو جانا ہی وہ جذبہ تھا جو، ان جیسی شخصیات کے لیے راہ نجات ہے۔ میں بطور ایک نفسیات داں اس بات پر حیران ہوتا ہوں کہ ہیگل کے ڈپریشن کے لیے کس قسم کا طبی اور نفسیاتی علاج ان کو میسر تھا اور ان کی تخلیقیت، دیوانگی اور روحانیت کے بیچ کس قسم کا پراسرار رشتہ تھا؟ ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جوں ہی وہ اپنے ڈپریشن سے باہر آئے، انھوں نے لکھنا شروع کر دیا۔

اس دور میں جب ہیگل ایک فلسفی بن کر لوگوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے کا خواب دیکھ رہے تھے ان کے ذہن میں ایک نئے مذہب کا بانی بننے کا خیال بھی جاگزیں ہو رہا تھا۔ پنکارڈ نے لکھا ہے :

”ہیگل کچھ دیر اس خیال کے ساتھ کھیلتے رہے۔ وہ کھوج لگا رہے تھے کہ ایک اور مذہب بنا دینے سے دنیا میں کیا تبدیلی آ جائے گی؟ اس کے لیے کیا کرنا ہو گا؟ اس کی کی کیا قیمت چکانی ہو گی؟ یہ کیسا مذہب ہو گا؟

اور کیا یہ ممکن بھی ہے؟ حتیٰ کہ ایک جگہ انھوں نے اختصار کے ساتھ ایک اشتعال انگیز فقرہ لکھا: ”ایک مذہب ایک اور مذہب کو جنم دے رہا ہے۔“

وقت گزرنے کے ساتھ ہیگل کے ذہن پر ’انسانی شعور‘ سوار رہنے لگا۔ بالآخر انھوں نے انسانی شعور کی تعریف یوں کی کہ ”انسانی شعور درحقیقت انسان کی روح اور جسم کے درمیان ثالثی کا کام کرتا ہے۔“

ہیگل ایک صوفیانہ بصیرت کے حامل تھے مگر وہ حقیقت سے زیادہ خام خیالی اور واہموں سے زیادہ قریب تھے۔ دراصل ہیگل اصل سچ اور موضوعاتی سچ میں تفریق نہیں کر پاتے تھے۔ گویا وہ معروضی حقیقت اور موضوعی حقیقت میں فرق کرنے سے قاصر تھے اور نہ ہی وہ شاعرانہ حقیقت اور عملی حقیقت میں تفریق کر سکتے تھے۔ اس کیفیت میں ہیگل کے لیے یہ ایک فطری امر تھا کہ وہ اپنی زندگی کی شاعرانہ اور فلسفیانہ بصیرتوں کو فکری رنگ دیں۔ کیونکہ وہ تجرید اور عمومیات کے استاد بن چکے تھے۔ ہیگل کا روح پر یقین انسانیت اور الوہیات کے درمیان پل بن گیا۔ ہیگل کو ”مطلق خدا“ کے الفاظ پسند تھے۔ جو کہ الوہیت کی فکری توجیہہ کے لیے نہایت کم فہم اور تجریدی اصطلاح ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہیگل کا فلسفہ مابعد الطبیعات کی طرف راغب ہونے لگا۔ اب ان کو ’تنوع میں یکجہتی‘ نظر آنے لگی تھی۔ پنکارڈ نے لکھا: ”مابعد الطبیعات ایک ایسا نظریہ ہے جس میں بظاہر مختلف نظر آنے والے عناصر گہرائی میں ایک دوسرے کے ساتھ فطری طور پر منسلک ہوتے ہیں کیونکہ فطرت میں موجود عناصر کا آپس میں گہرا اتحاد اور تعلق ہے۔“

ایسے صوفیانہ نظریات یوں تو صدیوں سے مختلف مذہبی اور روحانی روایات میں چلے آتے ہیں۔ مگر ہیگل، وحدت الوجود اور وحدت الشہود جیسے صوفیانہ نظریات کو فلسفیانہ اور سائنسی روایات کے ذریعے اجاگر کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ اپنے شاعر اور فلسفی دوست ہونڈرلین سے متاثر تھے۔ یوں ہیگل اس طبعی دنیا کی وضاحت مابعد الطبیعات کے تناظر میں کرنے لگے تھے۔

ہیگل کی شاہکار کتاب : روح کا ظہور 1807 ء میں مکمل ہو کر شائع ہو گئی۔ اس وقت ان کی عمر 37 برس تھی۔ اس کتاب میں انھوں نے ”فلسفۂ نظام“ کی بنیاد رکھی۔ یہ وہ فلسفہ تھا جس کی ترویج وہ عمر بھر کرتے رہے۔ اسی کتاب میں انھوں نے عام شعور سے ذاتی شعور کی طرف انسانی سفر پر توجہ دی اور روح کے تصور کو اجاگر کیا۔ ہیگل کا ماننا تھا کہ جدید دور کے خواتین و حضرات کو ایک جدید مذہب کی ضرورت ہے اور چونکہ وہ خود ثقافتی اور سماجی طور پر مذہب کے سانچے میں ڈھلے ہوئے تھے لہٰذا ان کے نزدیک پروٹسٹنٹ عیسائیت جدید مذہب تھا۔ ہیگل نے اپنی کتاب میں کیتھولک عیسائیوں کے شخصی خدا پر سوالات ضرور اٹھائے مگر وہ خود پروٹسٹنٹ عیسائیت پر ایمان رکھتے تھے۔ البتہ ہیگل نے کوشش ضرور کی کہ وہ مذہب کی تازہ تعریف کریں۔ جس میں مطمح نظر الہیات کی بجائے انسانیت ہو۔ پنکارڈ نے ہیگل کے جدید مذہبی نظریے کو یوں پیش کیا ہے : ”مذہب الوہیت کا ایک جامع عکس ہے جس کا اظہار علامات عبادات اور مناجات کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ یہ خدائی کا اظہار ہے نہ کہ نظریات کا انضمام۔ خدائی عکس عقائد کی ایک ایسی قسم ہے جو تاریخی طور پر زندگی کے طریقہ کار کی صورت نمو پاتی ہے اور چلتی آ رہی ہے۔ مختلف قسم کی مذہبی رسومات اور عقائد جو آج موجود ہیں کسی اور شکل میں زمانہ قدیم میں بھی موجود تھے مگر ارتقائی عمل میں پرانے نظریات اپنی موت آپ مر گئے اور نئے اور جدید نظریات وجود میں آ گئے۔

جب ہم کسی شے کو مقدس اور خدائی سمجھتے ہیں تو ہمیں یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ لوگوں کی کس ضرورت کے تحت وہ شے مقدس و معتبر بن گئی ہے۔ عیسائیت کو جدید مذہب بالخصوص لوگوں کے مذہب کے طور پر پیش کرنے کے لیے ہیگل نے کوشش کی کہ وہ حضرت عیسیٰ کی زندگی اور موت کی دوبارہ تشریح کریں جو کہ روایتی کیتھولک تشریح سے مختلف ہو۔ پنکارڈ نے یوں تشریح کی:

”حضرت عیسیٰ کی موت، خدا کی موت تھی، چونکہ خدا انسان کی صورت زمین پر آیا تھا۔ ہیگل نے دلیل دی کہ گویا خدا ایک با شعور، خود آشنا روح کی صورت میں تھا اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ بندہ خدا بن گیا۔ ہیگل نے کہا کہ عیسائی مذہب میں ہم تسلیم کرتے ہیں کہ ہم اپنی عبادت نہیں کرتے کیونکہ یہ لغو بات ہے۔ ہاں ہم خدائی قوانین کی پرستش ضرور کرتے ہیں جو ہمارے اندر موجود ہیں۔“ یہ دعویٰ بعد میں ہیگل نے اپنی کتاب ”فطرت کا فلسفہ ’کے باب میں بھی اجاگر کیا۔ ہیگل نے مذہب کو عقلی دلیل کا حامل، روحانیت کو فکر آمیز اور الوہیات کو فلسفہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کا ماننا تھا کہ جدید مردوزن کو جدید فلسفے کو سمجھنے اور اپنانے کی ضرورت تھی اور ان کی کتاب:“ روح کا ظہور ”ایسے فلسفے کی کنجی تھی۔ جب ہیگل یہ کتاب لکھ رہے تھے تو مالی مشکلات کا شکار ہو گئے۔ یونیورسٹی میں بطور ایک جونئیر ٹیچر ان کی تنخواہ معقول نہیں تھی۔ ایک وقت آیا جب غربت نے ان کے گھر پر ڈیرہ ڈال لیا۔

اور جن دنوں ہیگل اپنی شاہکار کتاب کو آخری شکل دینے کی کوشش کر رہے تھے وہ ایک جنگ کی لپیٹ میں آ گئے۔ نپولین نے جینہ پر حملہ کر دیا تھا اور سینکڑوں گھر جلا کر راکھ کے ڈھیر بنا دیے تھے۔ ہیگل نے نہ صرف اپنی زندگی بچانی تھی بلکہ اپنی متاع زندگی یعنی کتاب کا مسؤدہ بھی بچانا تھا۔ جنگ کا آنکھوں دیکھا حال انھوں نے اپنے دوست ’ایمانوئیل نیتامر‘ کو ایک خط میں ان الفاظ میں کیا: ”جس طرح ہم نے جنگ کو کھلی آنکھوں سے دیکھا کوئی اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔“

غربت اور جنگ کے آلام و مصائب کچھ کم نہ تھے کہ ان کو ایک اور مصیبت نے آ گھیرا۔ ان کی گھریلو ملازمہ کرسٹینا برخات نے ان کے ناجائز بچے کو جنم دے دیا، جس کا نام ”لڈوگ“ رکھا گیا۔ اب ہیگل بدحالی کا شکار ہو گئے۔ کیونکہ نہ ان کے پاس معقول رقم تھی نہ کوئی اچھی تنخواہ والی نوکری، اور گھر میں بچہ اور ملازمہ تھے۔ وہی ملازمہ جس کو حال ہی میں اس کے شوہر نے چھوڑ دیا تھا۔ اس کسم و پرسی سے باہر نکلنے کے لیے 1807 ء میں ہیگل نے فرینکفرٹ چھوڑ کر نیورمبرگ جانے کا فیصلہ کیا اور ایک ایڈیٹر کی نوکری کر لی۔ ہیگل ایڈیٹر تو بن گئے مگر انھوں نے وہاں جا کر بھی اپنا یونیورسٹی کا پروفیسر بننے کا خواب ترک نہیں کیا۔ (جاری ہے )

بحوالہ کتاب :CREATIVE MINORITY
مصنف : ڈاکٹر خالد سہیل

Facebook Comments HS