شب تنہائی


چہ لازم با خِرَد ھم خانہ بُودَن
دو روزے می تواں دیوانہ بُودَن
بیدل
شکستہ مرد جب خامشی کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو وہ ہر چیز سے کنارہ کشی اختیار کرلیتا ہے اور اس میں اولین چیز کسی سے مخاطب ہونا ہے دوسری تمام فانی خواہشات سے آزاد ہونا جب کوئی اس مقام پر پہنچتا ہے اس کو زندگی اور موت کے درمیان دم توڑتی ہوئی اور تھکی ہوئی سانس ہوا کے سوا کچھ نہیں لگتی دانا لوگ کہتے ہیں کہ اس کفیت میں رو لینا چاہیے وگرنہ یہ درد ایک زخم کی شکل اختیار کر لیتا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ناسور بن جاتا ہے اور یادوں کے نشتر اسے وقتاً فوقتاً کرید کر آپ کو لہو لہان کر سکتے ہیں اور انساں خون تھوکنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
اور یہی سب کچھ جب ایک سادہ اور عام فہم رکھنے والے شخص کے ساتھ ہوتا تو وہ کھتارس کرنے کےلئے مختلف چیزوں کا سہارا لیتا ہے جب انسان اندر سے ٹوٹ جائے تو اس کی آواز رب اور اس کے درمیان مکالمہ کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ خیر یہ تو ولیوں کی صفت ہے جو ایک عام سادہ انسان ٹوٹا ہے تو وہ کتابوں اور اس سے جڑی دیگر چیزوں کو اپنا لیتا ہے کتاب سے تعلق مثبت سوچ اور نظریات کو جنم دیتا ہے مگر اگر انسان کتاب سے دور ہوجاے تو گمراہ ہو جاتا ہے اور پھر مقدر اسکا سڑکیں بن جاتی ہیں۔۔
آپ کسی بھی زبان کے شعر و ادب کو دیکھ لیجئے ناکامی ،مایوسی آسودگی اور نظر انداز ی سے تنگ آکر انہوں نے کتابوں سے سہارا لیا اور شعر و ادب میں ایک نئے باب کا اضافہ کرتے ہیں جس کی تلاش آنے والی نسلیں کرتی ہیں جن کو گزشتہ صدی سے شغف ہوتا ہے۔
گزشتہ لوگ زیست کے سفید پنوں پر گہرے نقوش مثل خطِ میخی کی طر ح چھوڑ تے ہیں جو ہزاروں سال گزارنے کے بعد بھی ان کے ہونے کا پتہ دیتے ہیں اور یہ اِس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ کے اس نقش کی گہرائی کی طر ح گزشتہ لوگ گہرے تھے جہنوں نے لوگوں کو دیکھا پرکھا اور محبت کا لبادہ اوڑھ کر سو گئے مگر محبت کے نام پر انسانیت کو رسوا نہیں کیا اور اس نقش کی تلاش نیم پاگل شخص ہی کرے گا جس نے اپنی جوانی کے قیمتی ترین سال اجداد کی رسم کہن کا بھرم رکھنے کےلئے گزار دی ہوگی اگر کوئی اس جدیدیت کے دور میں ہوا تو مگر بہت ہی مشکل ہوگا جس دور میں لوگوں کے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوگا
بعقول غالب
رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معاف
آج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

Facebook Comments HS