نوجوانوں کے مسائل

شاعر مشرق ڈاکٹر علامہ اقبال کا نوجوانوں کے متعلق ایک شعر ہے۔
محبت مجھے ان جوانوں سے ہے
ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند
نوجوان کسی بھی خاندان، قوم، معاشرے اور ملت کا وہ ستارہ ہوتا ہے جو تاریکی میں چمک کر راہ کو روشن بنا دیتا ہے۔ اگر اس بات کا فکری تنوع میں جانا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ شاعر مشرق نوجوانوں سے محبت رکھتے تھے۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ ایک نوجوان قوم کی تقدیر کیسے بدل سکتا ہے؟
کیونکہ قوموں کا عروج و زوال نوجوانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ وہ چاہے تو قوم کی تقدیر بدل دیں اور چاہیں تو زوال کی داستان لکھ دیں۔
قدرت نے انسان کو بے شمار خوبیوں، لیاقت، صلاحیتوں، کرشموں اور قابلیتوں سے نواز رکھا ہے۔ اس کے اندر خوابیدہ صلاحیتیں قوموں کی کایا پلٹ دیتی ہیں۔ ہمت اور قوت حالات بدل دیتے ہیں۔
بات صرف مصمم ارادے اور قوت ارادی کے جذبات پر مشتمل ہوتی ہے جو انسان کی روح میں تبدیلی کی روح پھونک کر سرفرازی کی طرف گامزن کر دیتے ہیں۔ لہذا ان باتوں کے پس پردہ یہ کہنا واجب ہو گا کہ تعلیم و تربیت ہر بچے کا بنیادی حق ہے۔ اگر آج ہم اپنی قوم کے بچوں کو حق آشنائی سے آگاہ کریں گے تو کل وہ سچائی کا دامن پکڑ کر تبدیلی کا مرکز بن جائے گا۔ ان کی زندگی دوسرے نوجوانوں کے لیے مشعل راہ بن جائے گی۔ ان کا کردار دوسروں کو اپنی مانند بننے پر مجبور کردے گا۔ اگر آج ہم دنیا کی تعمیر و ترقی کا جائزہ لیں تو اس حقیقت کے پیچھے تعلیم و تربیت کے عناصر کی افرادی قوت کار فرما ہے۔
جیسے جیسے دنیا کے نوجوان تعلیم و تربیت کے زیور سے آراستہ ہوتے گئے۔ اسی قدر ترقی قوموں پر ترقی کے راز اور مکاشفے کھلتے گئے۔ عصر حاضر میں دریافتوں، ایجادوں، کرشموں نے قوموں کی کایا پلٹ کر رکھ دی ہے۔ یہی وجہ ہے آج قومیں ترقی کی راہ پر گامزن ہو گئیں ہیں۔ ان کے عروج کی بنیادی وجہ محنت شاقہ، احساس ذمہ داری، وقت کی قدر اور کردار کی قوت کا بڑا ہاتھ ہے۔ جبکہ ہماری حالت زار ناگفتہ درجے تک جا پہنچی بے۔ ممالک ترقی پذیر سے ترقی یافتہ کی طرف چلے گئے۔ جب کہ ہم ترقی پذیر ممالک کی فہرست میں کھڑے ہو گئے۔ اگر آج ہم مجموعی طور پر امریکہ، برطانیہ، جرمنی، کینیڈا، فرانس، سوئزرلینڈ، جاپان، آسٹریلیا اور کئی ایسے ممالک جنہوں نے اپنے لیے ترقی کے اہداف مقرر کیے۔
وہ معاشی طور پر مضبوط اور خوشحال ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی نے انہیں ایسا عروج بخشا ہے جہاں وہ غریب ممالک کو طبی مشینری اور تعلیم جیسی جدید مہارتوں سے روشناس کر رہے ہیں۔ انہوں نے وقت کی قدر کی ہے اور وقت نے انہیں سرخرو کیا ہے۔ شاید دوسروں کی مثال دینا بہت آسان ہوتا ہے جبکہ خود مثال بننا بہت مشکل کام معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ سچ اور کردار کبھی پسپائی قبول نہیں کرتے۔ یہ ہمیشہ فتح سے ہمکنار کرتے ہیں اور زندگی کی قدر و قیمت سے آگاہی دیتے نظر آتے ہیں۔
آج سوچنے کا وقت ہے۔ ہمارا دنیا میں مقام اور کردار کیا ہے؟ ہم نے کن کن شعبہ جات میں ترقی کی ہے اور کن کن شعبہ جات کو نظر انداز کیا ہے۔ یقیناً حقائق، نتائج اور شرح ہمارے سامنے آ جائے گی۔ ہمیں اپنی صلاحیتوں کا خود ہی اندازہ ہو جائے گا کہ ہم نے ابھی تک کون کون سے اہداف حاصل کیے ہیں۔
ہم اپنی ایجادوں اور دریافتوں کا بخوبی جائزہ لے سکتے ہیں۔ یقین نہ آئے تو مندرجہ ذیل دریافتوں پر غور و خوض ضرور کر لیں۔ بلڈ پریشر کا آلہ ولیم ہاروے کی دریافت ہے، موبائل فون جان ایف مچل اور ڈاکٹر مارٹن کی دریافت ہے، بائیسکل کارل ڈی وان کی دریافت ہے، ٹیلی فون الیگزینڈر گرام بل نے ایجاد کیا۔ کیمرہ جارج ایسٹ مین کی دریافت ہے۔ انسولین سر فریڈرک جی بانٹنگ کی دریافت ہے۔ اسٹیم انجن جیمز واٹ کی دریافت ہے۔ بلب ایڈیسن کی دریافت ہے۔
ان سب دریافتوں کا سہرا مغربی سائنس دانوں کو جاتا ہے۔ جنہوں نے محنت کو زندگی کی نصب العین میں شامل کر کے اپنے اپنے ممالک کو ترقی کی راہ پر کھڑا کیا۔ اگر ہم تاریخ کے جھروکوں میں اپنی خدمات اور ایجادوں کا جائزہ لیں تو انصاف ہمارے دروازہ پر دستک ضرور دے گا۔ ترقی کے اہداف میں تعلیم، تہذیب اور تربیت اہم عناصر ہیں۔ ان کا آپس میں چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اگرچہ یہ تین الفاظ معانی و مطالب میں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ اس امر کے باوجود بھی وہ ایک مثلث بنا دیتے ہیں۔ تہذیب یافتہ لوگ ہمیشہ اپنی اقتدار و روایات، ثقافتی اقدار، بزرگوں کی قربانیاں، علم و ادب، ادب و احترام جیسی صفات اور اقدار کو اپنی زندگی کا حصہ بنا کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اچھی تربیت ہمیشہ نیک نامی اور عزت و وقار میں اضافہ کرتی ہے۔ جبکہ غیر تہذیبی عناصر ذلت و رسوائی جھولی میں ڈال دیتے ہیں۔
پاکستان میں ایک محتاط اندازے کے مطابق نوجوانوں کی کی شرح 103 ملین یعنی 63 فیصد ہے جس میں 25 سال سے کم عمر کے نوجوان شامل ہیں۔ جبکہ نیشنل ہیومن ڈیویلپمنٹ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی کل آبادی کا 64 فیصد حصہ اس وقت 30 سال سے کم افراد پر مشتمل ہے۔ جبکہ 29 فیصد 15 سے 29 سال کے افراد پر مشتمل ہے۔
اس وقت حکومت وقت، سول سوسائٹی، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دیگر اداروں کو سر جوڑ کر نوجوانوں کے فکری معاش کے متعلق سوچنا چاہیے۔
ان کے تاریک مستقبل کو روشن بنانا چاہیے۔ وسائل، آبادی اور مسائل پر قابو پانے کے لیے کوئی موثر لائحہ عمل بنانا چاہیے تاکہ خوشحالی، روپے کی قدر میں اضافہ، قوت خرید کی سکت، بین الاقوامی منڈیوں تک رسائی، بے روزگاری کی شرح میں کمی ممکن ہو سکے۔ ملک میں اس وقت نوجوان دوست پالیسیاں بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ ہم اپنا کھویا ہوا وقار اور معیشت کو بحال کر سکیں۔ ہمیں یہ اعداد و شمار بھی اس حقیقت سے آگاہ کر رہے ہیں کہ موجودہ نوجوان نسل سابقہ دور کی دہائیوں سے بلحاظ تعداد سب سے زیادہ ہے۔ فکری معاش نے نوجوانوں کو ایسے دل خراش واقعات نے دل برداشتہ کر رکھا ہے۔ جہاں گناہ، عریانی، شہوت پرستی، زنا کاری،
بد تہذیبی اور بد اخلاقی عروج پر ہے۔ حالیہ واقعہ بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی نے تو بے شرمی اور بے غیرتی کی ایسی حدیں توڑ دی ہیں۔ جہاں والدین سراپا احتجاج بن گئے اور یہ بات سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو تعلیم کے زیور سے آراستہ رکھنے کی بجائے جہالت کے پردے میں رکھنا زیادہ مناسب ہے۔ کیا اساتذہ کیا انتظامیہ سبھی نے اپنے ہاتھوں کو گنہگار بنا رکھا ہے۔ نوجوان طالبات کو زبردستی نمبرز یا گریڈ کی آڑ میں فحاشی پھیلانے پر مجبور کیا گیا۔ ان کی عزتوں کو داغدار کیا گیا۔ ان کی اخلاقیات پر ڈاکا ڈالا گیا۔ انہیں برائی پر اکسایا گیا۔ انہیں بلیک میل کر کے ان کے ساتھ گھناؤنے کھیل کھیلے گئے۔ ان کی عزتیں پامال کی گئیں۔ آج سوچنے کی بات ہے۔ یہ کیسا سماج ہے؟ جہاں جن درسگاہوں میں عیاشی کے اڈے، منشیات جیسی لعنت رقص کر رہی ہو۔ وہاں نوجوانوں سے کیا امید کی جا سکتی ہے۔ ارباب اختیار کا رد عمل یقیناً ماحول کو سازگار بنا لے گا۔ مگر کہتے ہیں کے بد سے بدنام برا۔ آج دنیا کی انگلیاں ہماری طرف اٹھ رہی ہیں۔ ہماری حرکات و سکنات نے ہمارا تمسخر اڑا کر رکھ دیا ہے۔
بے روزگاری نے ہمارے نوجوانان ملت کو آج کہاں کھڑا کر دیا ہے۔ ہماری زندگی کے کیا کیا مقاصد اور کیا کیا اہداف تھے۔ سب کے سب ٹوٹ کر بکھر چکے ہیں۔ مذکورہ باتوں اور واقعات کو دیکھ کر ایسے لگتا ہے۔ جیسے ہمارا تعلیمی، روحانی، اخلاقی تشخص مجروح ہو گیا ہے۔
ان نوجوانوں کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ان کے تعلیمی، معاشی، اخلاقی اور معاشرتی حدود اربع کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے بحران سے نکلنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں۔ انہیں ملازمتیں مہیا کر کے ان کا مستقبل روشن بنائیں۔ لوگوں کو قوانین پر عمل درآمد کروائیں۔ ان کی روحانی جسمانی اور اخلاقی تعلیم و تربیت کا بندوبست کریں۔ محکموں کا چیک اینڈ بیلنس رکھیں۔ یونیورسٹیوں کے طلبہ اور طالبات سے بالمشافہ ملاقاتیں کر کے ان کے مسائل کا تدارک کریں۔ انتظامیہ اساتذہ کی سرگرمیوں پر عقابی نظر رکھے۔ آخر میں میری دلی دعا ہے خدا ہمارے نوجوانوں کو اپنے اپنے خاندان اور ملک و قوم کے سچے، مخلص، ایماندار شہری بنائے تاکہ ہم اپنے ملک کو بحرانوں سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کر سکیں۔ آخر میں احمد ندیم قاسمی کے اس شعر سے اجازت چاہوں گا۔
خدا کرے میری عرض پاک پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو

