ریڈیو پاکستان کا نوحہ


 کٹی ہے عمر بہاروں کے سوگ میں امجد
مری قبر پہ کھلیں جاوداں گلاب کے پھول

اس کی تب سنی گئی جب اس کو سننے والا کوئی نہ رہا۔ ریڈیو پاکستان کے ساتھ بھی یہی المیہ رہا۔ جب تک زندہ رہا، آل انڈیا ریڈیو کی شفقت کا مرہون منت رہا۔ کہیں آل انڈیا ریڈیو کے سگنل کمزور ہوئے تو ریڈیو پاکستان کی سسکتی آواز ابھر آئی اور ٹڑاں ٹڑاں کے شور میں اسلام آباد اسٹیشن کی آواز سنائی دی۔ ہم حیران ہوتے تھے کہ ہزاروں کلومیٹر دور سے انڈیا کے ٹرانسمٹر یوں نشریات سناتے ہیں جیسے کان میں بول رہے ہوں اور ہمارے چند دسیوں درجن کلومیٹر فاصلے پر لگے لاہور اور اسلام آباد کے ٹرانسمیٹر ہماری اکانومی کی طرح سسک سسک کر بلک بلک کر ان کی کمزوری کو اپنی طاقت سمجھ کر چل رہے ہیں۔

ریڈیو کے ڈائل کی سوئیاں گھماتے ہوئے بہت مشکل ہوتا تھا کہ کہیں سے اتنی ونڈو ملے جہاں سے لاہور یا اسلام آباد کا پاکستانی ریڈیو اپنی آواز سنا سکے۔ انڈین اسٹیشنز اور موسیقی کا راج تھا۔ لگتا تھا گویا ہر شہر سے نشریات آ رہی ہوں۔ اس کے مقابلے میں پاکستان محض دو ممناتے اسٹیشنز کے ساتھ چند پروگراموں کے ساتھ بھارتی پروپیگنڈا کا مقابلہ کرتا نظر آتا۔ رات کو 9 بجے یاسمین جمیل کا پروگرام تھا جو کسی قدر شوخ پن کے ساتھ بھارتی پروپیگنڈہ کا جواب دیتا ورنہ ہم ایسے شرفاء مدثر شریف کی شرافت کو ہی پاکستانی ریڈیو کی اصل روح سمجھتے اور اسی پر خوش ہو لیتے۔

اپنی روٹین یہ ہوتی کہ ریڈیو کو سلا کر خود سوتے اور اس کے جاگنے سے پہلے اٹھے ہوتے۔ کچھ عرصہ مشرف دور میں جب وائس آف امریکہ آیا تو اس نے گویا ریڈیو کو ایک میلا بنا دیا۔ اتنی رونق، اس قدر خوبصورت مباحثے پاکستان میں میڈیم ویو پر کبھی نہیں سنے۔ آڈینس تھی کہ کھنچی چلی آتی تھی۔ لائیو کالز، فرمائشیں، خیال آرائیاں اور ادب کے پروگرام جیسے صدا رنگ۔ خالد حمید، گیتی آرا، انجم ہیرلڈ گل، ۔۔۔۔ ایک کہکشاں در آئی اور نوبت یہاں تک آئی کہ بی بی سی لندن کے وسعت اللہ، شفیع نقی جامعی اور  رضا علی عابدی کو آٹھ بجے سوئیاں گھما کر تلاشنے کی جستجو بھی بے معنی ہوئی۔ مگر اس سب رونق افروزی کا نقصان یہ ہوا کہ ریڈیو پاکستان مقابلے کی دوڑ میں مزید پیچھے چلا گیا، سمجھو پاتال میں اتر گیا۔

اب وائس آف امریکہ رخصت ہوا، بی بی سی لندن نے اپنا آخری پروگرام چند سال قبل نشر کیا اور رخصت ہو لئے۔ اب ریڈیو کی سوئیوں پر چائنہ ریڈیو کا راج ہے۔ سگنل اس قدر پاورفل ہیں جیسے وائس آف امریکہ کے ہوتے تھے۔ قریب قریب کسی اسٹیشن کو نہیں چلنے دیتے مگر پاکستانی عوام کیلئے اس میں کچھ نہیں ہے۔ سمجھیے کہ بھارت اور چائنہ کا راج ہے اور اب کہیں قریب سے کوئی پاکستانی اسٹیشن سنائی بھی دیتا ہے تو وہ محض انڈیا اور چائنہ کے درمیان کمینٹیٹر کا کردار ادا کر رہا ہے۔ وہ اس لگن میں ہے کہ بھارت کو شر اور چائنہ کو خیر ثابت کرے۔ پاکستان کی اپنی موجودہ پالیسی اور سابقہ پالیسیوں کے مضمرات میں پیش کرنے کو اس کے پاس کچھ نہیں ہے۔ یہ اسٹیڈیم میں بیٹھا اکیلا تماشائی چائنہ کی سپورٹ میں ہلکان ہو رہا ہے۔

ایسی صورت میں جب ریڈیو کے تمام سننے والے اس سے منہ موڑ چکے ہیں اور نئی نسل فیس بک اور گلیمر سے بھرپور ٹی وی چینلز اور یوٹیوب کی اسیر ہو چکی ہے، ایسے میں ریڈیو پاکستان کے دوبارہ احیا کے لیے کی گئی حکومتی کوششیں ہم جیسے، سینوں پر ریڈیو رکھے تاروں کی چھاؤں میں ڈائل گھماتے اور اسٹیشن تلاشتے ماضی پرستوں کے لیے خوشی سے زیادہ افسردگی کا باعث ہیں۔ بالکل اس شعر کی کیفیت میں کہ

وہ آبدیدہ بیٹھے ہیں بیدم کی لاش پر
اب پانی لے کے آئے ہیں جب پیاس مر گئی

Facebook Comments HS