اردو ادب کا عظیم اثاثہ: ڈاکٹر توصیف تبسم
"توصیف تبسم نے کلاسیکل غزل کی روایت پر عصر حاضر کے نئے اور بیدار شعور کو شامل کر کے ایسی بھرپور غزل کہی ہے جس میں میرو غالب سے ناصر و شکیب کی مثبت روایات کا نچوڑ بھی ہے اور ان روایات سے آگے بڑھ کر سوچنے کی حوصلہ مندی بھی۔ ” (احمد ندیم قاسمی)
پاکستان کی اردو ادب کی تاریخ میں سے اگر ہندوستان کے شہری علاقوں سے ہجرت کر کے آنے والے ادباء اور شعرا ء کو نکال دیا جائے تو اردو ادب کا ورثہ بہت محدود ہو جائے گا۔ ڈاکٹر توصیف تبسم بھی قیام پاکستان کے بعد جاگیردارانہ نظام اور جہالت میں ڈوبی اس سرزمین کو علم کی شمع سے روشن کرنے والے ان سینکڑوں شاعروں اور ادیبوں میں سے ایک ہیں جنھوں نے ہجرت کی راہ اختیار کرتے ہوئے نوزائیدہ مملکت کے نونہالوں کو بہت زرخیز اور قیمتی روایات منتقل کیں۔ یوں تو شعر و ادب سے اپنے تھوڑے بہت تعلق کی بنا پر ڈاکٹر صاحب کے نام سے شناسا تھا لیکن حسن اتفاق سے بحریہ یونیورسٹی اسلام آباد میں ایم ایس میڈیا سٹڈیز کے دوران ان کی پوتی محترمہ کرن توصیف کے ذریعے نہ صرف ان کے بارے میں مزید جاننے کا موقع ملا بلکہ ملاقات کا شرف بھی حاصل ہوا۔ ڈاکٹر صاحب کے خاندان کے تمام افراد میں ان کی شخصیت کی جھلک پائی جاتی ہے اور علم دوستی، انسان دوستی اور تہذیب ان کے خمیر کا حصہ ہے۔ ڈاکٹر توصیف تبسم ایک منجھے ہوئے قادر الکلام شاعر، کہنہ مشق ادیب، ممتاز سکالر اور معروف دانشور ہیں۔ نظم اور غزل دونوں مقبول اصناف سخن میں انھوں نے طبع آزمائی کی اور شاہکار ادب تخلیق کیا ہے۔ ان کا شمار نہ صرف معتبر ناقدین اور ادباء میں سے ہے بلکہ دنیائے اردو اب میں ان کا تذکرہ تعظیم و تکریم کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر توصیف تبسم بلا شبہ اردو ادب کا عظیم اثاثہ ہیں اور ان کا کلام ہمارا گراں قدر سرمایہ ہے۔
”ہتھیلی پر لکھی نظمیں“ ڈاکٹر توصیف تبسم کی شاہکار نظموں کا مجموعہ ہے۔ اور یہاں ان کے شعری مجموعے ”کوئی اور ستارہ“ کا تذکرہ نہ کرنا یقیناً کوتاہی ہو گی۔ ڈاکٹر توصیف تبسم کا اصل نام محمد احمد توصیف، جبکہ تخلص توصیف ہے۔ احمد فراز کے مشورے سے انھوں نے توصیف تبسم کا قلمی نام اختیار کیا۔ 3 اگست 1928 کو اتر پردیش میں واقع بدایوں کے ایک تاریخی قصبے سہوان میں پیدا ہوئے جو اپنے کیوڑے، چنبیلی کے باغات اور حکیموں کی وجہ سے خاص شہرت رکھتا ہے۔ تقسیم ہند کے بعد راولپنڈی آ گئے۔ گورڈن کالج راولپنڈی سے ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ کلاسیکی اردو ادب کے ایک بڑے نام منیر شکوہ آبادی پر مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اس علمی مقالہ میں انھوں نے منیر شکوہ آبادی کی فن اور شخصیت کے چھپے ہوئے گوشوں کو خالص تحقیقی انداز میں دریافت کیا ہے۔ منیر شکوہ آبادی نہ صرف عملی طور پر جنگ آزادی میں شریک رہے، بلکہ اس جرم میں گرفتار بھی ہوئے۔ ان پر مقدمہ چلا اور انھوں نے پانچ سال جزائر کالا پانی میں قید و بند کی صعوبتیں بھی کاٹیں۔
انھوں نے نظم، نعت اور مناقب بھی پر بھی سخن آزمائی کی ہے مگر غزل ان کی محبوب صنف سخن ہے 1952 سے مقتدر ادبی رسائل میں آپ کا کلام چھپ رہا ہے۔ ان کی شناخت ایک مبصر کی حیثیت سے بھی ہے۔ ”کوئی اور ستارہ“ کے نام سے ان کے شعری مجموعے پر انھیں علامہ اقبال ہجرہ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ ”مثنویات دہلی کا تہذیبی و معاشرتی مطالعہ“ کے موضوع پر بھی تحقیقی مقالہ لکھ کر ادبی دنیا میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔ ڈاکٹر شیر علی نے ”توصیف تبسم: فن اور شخصیت“ کے عنوان سے ان کی سوانح نگاری کی ہے جسے پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز نے ”پاکستانی ادب کے معمار“ نام کے ایک سلسلے سے اپنی پبلی کیشنز میں شائع کیا۔ یہ کتابی سلسلہ اکیڈمی کی طرف سے ایک انتہائی اہم علمی کاوش ہے جس میں اردو زبان و ادب سے وابستہ ایک سو ستر نابغہ روزگار شخصیات پر کتب شائع کی جا چکی ہیں۔ اس کتاب کا پیش نامہ چیئرمین پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز ڈاکٹر یوسف خشک نے تحریر کیا۔ انھوں نے بڑی فصاحت و بلاغت کے انداز میں ڈاکٹر توصیف تبسم کی ادبی خدمات پر روشنی ڈالی ہے۔ ڈاکٹر توصیف تبسم ایک اہم اور ہمہ جہت تخلیق کار ہیں جن کی تخلیقی شخصیت کا بنیادی حوالہ شاعری ہے۔
”بند گلی میں شام“ کے نام سے انھوں نے اپنی آپ بیتی تحریر کی ہے اور ”خلوت کہانی“ نام سے شائع ہونے والے اپنے ادبی شہ پاروں میں انھوں نے ادبی محاوروں کے پس منظر کو بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ ان کی کتاب ”یہی آخر کو ٹھہرا فن ہمارا“ شعر اور فن شعر کی باریکیوں اور جزئیات پر ایک اہم ادبی اور تنقیدی کاوش ہے۔ ڈاکٹر شیر علی ان کی شاعری کے حوالے سے یوں رقم طراز ہیں : ”توصیف تبسم کی نظموں میں ان کا وسیع تجربہ، مشاہدہ اور تخلیقی حسن فنی اور فکری دونوں حوالوں سے متاثر کرتا ہے۔ معاملہ حسن و عشق، عصری مسائل، انسانی رشتوں کی قدر، نئی نسل کے خواب، پرانی یادوں کی سرگم، قدرتی مناظر، موضوعات کی رنگا رنگی، الفاظ کا چناؤ، جذبات کا لحاظ، احساسات کی دنیا، درد کا شہر، جدید انسانی اضطراب اور جستجو کا سفر جو کہیں لفظوں میں ڈھل کر سامنے آتا ہے کہیں مصرعوں کی صورت میں پوری نظم میں پھیل جاتا ہے جس سے ان کے ہاں فن شاعری کی باریکیوں کا احساس ہوتا ہے۔“ حمد، نعت، سلام اور شہدائے کربلا اور صحابہ کرام کی منقبت پر مشتمل ان کا شعری مجموعہ ”سلسبیل“ کے عنوان سے 2011 میں عکاس پبلی کیشنز، اسلام آباد نے شائع کیا۔
توصیف تبسم نے بچوں کے لئے بھی شاعری کی۔ ان کی بچوں کے لئے نظموں کا مجموعہ ”آؤ کھیلیں، آؤ گائیں“ کے عنوان سے 2008 میں نیشنل بک فاؤنڈیشن اسلام آباد سے شائع ہوا۔ جہاں اردو بولی، پڑھی اور سمجھی جاتی ہے، وہاں آپ کو ڈاکٹر توصیف تبسم کے چاہنے والے ضرور ملیں گے۔ ادب کے جو چاہنے والے خوبصورت اشعار اپنی ڈائریوں میں محفوظ رکھنے کے عادی ہیں، ان کی ڈائریوں میں آپ کو ڈاکٹر توصیف تبسم کے اشعار بھی ملتے ہیں۔ زندگی کی پچانویں بہاریں دیکھنے والے توصیف تبسم درس و تدریس اور تصنیف و تالیف سے کئی دہائیوں تک وابستہ رہنے کے بعد آج کل اسلام آباد میں ریٹائرڈ مگر توانا زندگی گزار رہے ہیں۔ تین اگست کو ان کی 95 ویں سالگرہ کی مناسبت سے اکادمی ادبیات پاکستان، اسلام آباد میں ”شام توصیف“ منائی جا رہی ہے جس میں ملک کی نامور ادبی و علمی شخصیات شرکت کریں گی جبکہ کراچی سے خواجہ رضی حیدر مہمان خصوصی ہیں۔ اس طرح کی خوبصورت محفلوں کے ذریعے ان جیسے لیجنڈز کو خراج تحسین پیش کرنے کا یہ ایک بہترین اور عمدہ طریقہ ہے۔ چھوٹا منہ بڑی بات، ایسی شخصیات کی خدمات کو محض ایک مضمون میں نہیں سمویا جا سکتا لیکن یہ چند بے ترتیب، ٹوٹے پھوٹے الفاظ ان کے فن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی سالگرہ پر ایک چھوٹا سا تحفہ ہے۔ کیا ہی بہتر ہو تا اگر حکومت پاکستان کے ارباب اختیار ان کی تعلیمی و ادبی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے انھیں کسی اعلیٰ سرکاری ایوارڈ سے بھی سرفراز کرتے۔ میری طرف سے ڈاکٹر توصیف تبسم، ان کے بیٹے عارف توصیف، ڈاکٹر نجیبہ عارف، سعد عارف توصیف، پروفیسر کرن عارف توصیف اور خاندان کے دیگر تمام افراد کو اس دعا کے ساتھ دل کی اتھاہ گہرائیوں سے سالگرہ مبارکباد کہ اللہ پاک ڈاکٹر صاحب کو صحت، تندرستی اور زندگی سے نوازے۔ آمین! آخر میں ڈاکٹر توصیف تبسم کی غزل گوئی کا ایک نمونہ پیش خدمت ہے :
دل کی بات نہ مانی ہوتی عشق کیا کیوں پیری میں
اپنی مرضی بھی شامل ہے اپنی بے توقیری میں
شکر ہے جتنی عمر گزاری نان و نمک کی فکر نہ تھی
ہاتھ کا تکیہ خاک کا بستر حاصل رہے فقیری میں




