ادب: اخلاقیات کا عکاس؟
انسانی ذہن نے ارتقاء کے ہر مرحلے کی تکمیل پر حقیقت کا مطلق ادراک کرنے میں اپنے آپ کو بے بس پایا ہے۔ اس کی ایک وجہ تو شاید یہ ہے کہ اب تک ذہن یا اسے فہمِ محض کا نام دے لیجے، اس بات کا فیصلہ بھی نہیں کر پایا کہ ‘کیا حقیقت مطلق ہے؟’ اس سے بھی بنیادی الجھن یہ کہ ‘کیا حقیقت واقعی وجود رکھتی ہے یا محض یہ ایک بہلاوا ہے!’ دوسری وجہ یہ کہ ہر دفعہ اس زعمِ باطل میں گرفتار ہوجاتا ہے کہ یہ ترقی پزیر ہے۔ حقیقت کے معمے کے پیشِ تصور ذہن بہت حد تک کامیاب بھی ہوا ہے۔ اس امر میں ڈیکارٹ کا مشہور کارنامہ ایک وقت میں مددگار ثابت ہوا جب ‘میں’ اور ‘ہونے’ کے ربطِ ناگزیر کو اذعانی ارتقاء کا ایک وجوبی جزو مان لیا گیا تھا۔ مگر موجودہ حالت میں ادراک کے معروضات خارجی ہونے کے ساتھ مبہم بھی ہو چکے ہیں کیونکہ اب اجتماعی شعور اس قدر آزاد ہے کہ اسے اپنے با اختیار ہونے کا بھی احساس نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب کسی بھی انفرادی جہد کا نتیجہ تخلیقی صورت میں سامنے آتا ہے تو بجاۓ اس کے کہ عملی کردار کو پرکھا جاۓ اس کو ادعائ خلا پر کرنے کے لیے ادب کے سپرد کر دیاجاتا ہے۔ اور پھر ادب کو یہ سند عطا کی جاتی ہے کہ ‘یہ معاشرے میں اخلاقیات کا عملی مظہر ہے’۔ اس کے بر عکس مذہب ‘عملی مظہر’ ہونے کا حق محفوظ رکھتا ہے ( حالانکہ ان دو میں تصادم کی کوئی علت بنتی ہی نہیں مگر یہ بھی جدید ذہن کے تراشیدہ معروضیت کے غلط مفہوم کا نتیجہ ہے)۔
اول تو یہ طے کرنا ضروری ہے کہ اخلاقیات کا معیار ہے کیا؟ سطحی تنقید یہاں ایک بنیادی سوال پیدا کرتی ہے کہ ہمیں کیسے یہ پیمانہ اٹھانے کا استحقاق حاصل ہوا؟ تو یہ کہنا بجا ہوگا کہ اگر قوانینِ فطرت کی تسخیر و نمو کا حق انسان کو حاصل ہے تو سماجی حیوان کہلانے پر سماج کو سماج بنانے کی ذمہ داری بھی اسی حیوان کے سپرد ہونی چاہیے۔ اور اس کو قبل تجربی استخراج کا نام دینا بالکل بے معنی ہے۔ اخلاقیات نے خوف کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ بالکل اسی نقطے سے جب جنگل کے باسی انسان نے ساۓ کو دیوتا ماننا شروع کیا۔ اس کے بعد عقائد، نظریات، تھیوریز، اور فسلفہ وغیرہ کی بنیاد پر (جو اس وقت بے نام تھے) اچھائ برائ، صحیح غلط کے قاعدوں نے سماج کے اندر میل جول کے اسلوب وضع کیے۔ مگر یہ صرف اس وقت تک تھا جب خارجیت میں فرد کا ضم ہو جانا بے معنی ہوتے ہوئے ایک مقدس اجتماعی مقصد کی صورت میں اثر پزیر تھا۔ اسی لیے ادب کو وہ اصول تراشنے کی اجازت نہیں تھی۔ شاعری نے اسی خوف اور جبلت کے ٹکراؤ (جو ان دو کا نقطہء اتصال بھی تھا) کے مقام پر اپنی وضع تخلیق کی جسے آج کا ذہن استغناء کا نکتۂ عروج سمجھتا ہے۔ The Epic of Gilgamesh اس کی مستند مثال ہے۔ پھر میدانِ جنگ کے مناظر کو رزمیہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا۔ جس میں فقط یہ دکھانا مقصود ہوتا کہ کون کس طرح لڑا۔ یہ ادب کی ابتدائی صورتیں ہیں جس میں عشق اور محبت و رقابت ایسے موضوعات ابھی پنپنے کے عمل میں تھے۔ اسی ادب کی ترقی یافتہ (تاحال) صورت آج کا ادب ہے۔ یاد رہے کی تماثیل کا گودا مذہب کی مجسمہ سازی میں استعمال ہوتا رہا ہے۔ ادب کے ساتھ اس کا اتنا ہی تعلق رہا ہے جتنا عام ذہن کا مابعدالطبیعیات کے ساتھ۔
اخلاقیات کمیّتی اور کیفیتی اعتبار سے موضوعی میکانزم رکھتی ہے جو فرد اور سماج کے مابین وہ توازن پیدا کرتا ہے جس سے دونوں کی جبلت تسکین حاصل کرتی ہے۔ جہاں پر یہ مشتعل ہونے لگے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اخلاقیات کے کچھ ایسے قضیے بھی ہیں جو بدیہی ہیں۔ اور بدیہی ہونے سے مراد یہ نہیں کہ وہ پہلے سے لاشعور میں حلول کیے ہوۓ ہیں بلکہ یہ فی الاصل ایک شدید متحرک قوت ہونے میں ناگزیر ہیں۔ چنانچہ اچھائی، برائی ایسے سطحی اور عام تصورات اسی اشتعال یا توازن کے نتیجے میں نمودار ہوتے ہیں۔ یہاں پر کئی دیگر سوالات سر اٹھاتے نظر آتے ہیں جو بنیادی بھی ہیں اور دقیق بھی۔ ہماری بحث بوجہِ اختصار انہیں نظر انداز کرتی ہے۔ دقت یہ نہیں ہے کہ بدیہی ہونا دراصل ان کے مطلق ہونے کی دلیل ہے۔ اس کے برعکس معاملہ یہاں پیچیدہ نظر آتا ہے جب ایک وجود کو خود سے مختلف وجود کے ساتھ ہمہ گیریت پیدا کرنا ہو۔ کوئی سماج آج تک آہنگ سے بغیر خود کو قائم نہیں رکھ سکا۔ فرد فرد کے ساتھ، فرد سماج کے ساتھ، اور سماج فرد کے ساتھ ایک ربط قائم کیے ہوۓ ہیں اور یہی ربط ہر دو کو ایک دوسرے کی تقویت کا باعث ہونے پر مجبور کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ اخلاقیات موضوعیت کی اسیر ہوتے ہوئے اس ربط کے مرہون ہے جو اس کا معیار طے کرتا ہے۔تو آخر اخلاقیات کو بھی انہیں اضدادی جوڑوں کی کٹیا میں پناہ لینا پڑی جن میں سے ایک موضوعیت بھی یے۔
ادب اپنا معیار تخلیق کے عمل کے دوران بناتا ہے۔ فکشن حقیقت کا پرتو ہے۔۔۔ ہوگی ۔۔۔ مگر اپنے آپ میں ایسی کامل ہے کہ مقابل میں کوئی دوسرا وجود نہیں برداشت کر سکتی۔ گوئٹے کی نظم ‘Authors’ اس کی خوب صورت مثال ہے۔ پھول توڑنا، پھول کو دیکھ کر محظوظ ہونا، اس کی نشوونما میں اپنی قوت صرف کرنا، یہ سب قریب قریب ایک ہی کیفیت کی مادی صورتیں ہیں۔ مگر معیار کے اعتبار سے مدارج میں بٹ جاتی ہیں۔ مگر ان کی مقبولیت معیار کے رہن نہیں ہے۔ نطشے کے مطابق ہر تصنیف مصنف کی خودنوشت ہے۔ چنانچہ یہ ضروری نہیں کہ قاری کی ذہنیت ان معروضات کا ادراک کرنے میں کامل ہو جس کا اصرار تخلیق کار کرتا ہے۔ مطلب یہ کہ ادب بھی موضوعیت کا شکار ہے مگر یاد رہے یہاں مچان خالی ہے۔
ادب اور اخلاقیات دونوں انسانی ذہن کی تخلیق ہیں، کوئی الہامی نزول نہیں۔ (الہام بھی تو ادراک کا پیدا کردہ ہے!) سماج کے ساتھ دونوں کا تعلق احتمالی بھی ہے اور وجوبی بھی۔ قبل تجربی حسیات، اخلاقیات کو ترکیبی تصدیقات کے سپرد کرتی ہے جب کہ ادب تحلیلی تصدیقات کے ذریعے پرکھا جاتا ہے۔ تو کیا ادب اخلاقیات کا عکاس ہے؟ بالکل ہے۔۔۔ چونکہ سماج میں حلول کیے ہوۓ عوامل ادب پر اسی تناسب سے اثر انداز نہیں ہوتے جیسے اخلاقیات پر، اس لیے تکمیلیت کی راہ میں یہ خلیج عبور کرنے کے لیے ادب اخلاقیات کا پل بناتا ہے۔ اور اکثر اوقات تو یہ عوامل مسلسل تکرار کے نتیجے میں خود اخلاقیات کے اصول وضع کرنے لگتے ہیں جو انتہائی سطح پر عقیدہ یا روایت بن جاتے ہیں۔ ادب اخلاقیات کا عکاس یقیناً ہے مگر اس کا عملی مظہر بالکل نہیں ۔ کانٹ نے اپنی شاہکار تصنیف کے دیباچے میں تحصیلِ علم کے لیے کوشاں جلد باز اور ٹھوس علم کے لیے درکار قوت اور وقت ضائع کر دینے والے نوجوانوں کو تنبیہ کرتے ہوۓ لکھا ہے:
"اس مابعدالطبیعیات کے لیے، جو تنقیدِ عقلِ محض’ کے مطابق مدون کی گئی ہو، کچھ مشکل نہیں کہ آنے والی نسلوں کے لیے ایک ترکہ چھوڑ جاۓ اور اس کا تحفہ کوئی حقیر چیز نہیں۔ خوہ ہم عقل کی تربیت کو دیکھیں جو اسے علمِ صحیح کی راہ اختیار کرنے سے حاصل ہوتی ہے اور اس کا مقابلہ اس بے راہروی اور سرگشتگی سے کریں جس میں وہ تنقید کے بغیر مبتلاء تھی۔ یا علم کے شائق نوجوانوں کے بہتر مصرف اوقات پر نظر ڈالیں جو بہت کم سنی میں مروجہ اذعانیت کہ شہ پا کر ان چیزوں کے متعلق جن کو وہ مطلق نہیں سمجھتے اور جنہیں وہ کیا کوئ بھی نہیں سمجھ سکتا، بے تکلف موشگافیاں کرتے ہیں بلکہ خود بھی نئے نظریے گھڑتے ہیں اور اس طرح ٹھوس علم کی تحصیل کا موقع کھو دیتے ہیں۔ مگر اس کا سب سے گراں قدر فائدہ یہ ہے کہ مخالفینِ مذہب و اخلاق کے اعتراضات کا سقراطی طریقے سے یعنی حریف کی جہالت ثابت کر کے ہمیشہ کے لیے سدِ باب کر دیا جاتا ہے۔”
اگر کانٹ کی اس تنقید میں اخلاق کے ساتھ ادب بھی منسلک کیا جاۓ تو ‘معیار’ کی بحث کسی ایک رخ کی طرف جھکتی دکھائی دیتی ہے۔ بصورتِ دیگر:
"Faith is a fine invention” (Emily Dickinson).


