ایران میں شناسا (4)


بڑے شعرا کے کلام کی جہتوں کی اچھی اپلیکیشن یہاں۔ حافظ کے کلام سے لوگوں کے نصیب کی فال نکالتے سرزمیں ایران والے۔ نارسیپولس میں مدفون بادشاہوں اور عام لوگوں کی فال اس وقت کے نجومیوں نے نکالی تھی کہ صدیوں بعد ایک ملین تومان کا ٹکٹ خرید کر دنیا ان کی ہڈیوں سے عبرت پکڑے گی۔

نارسی پولس، مردہ لوگوں کی جگہ۔ ہزاروں سال پرانا قبرستان بمعہ کعبۂ زرتشت۔ دارس عظیم بھی ہڈیوں کی صورت یہیں فکس پیاڑ کے اندر۔ وہی 28 فوجی تخت کا بوجھ سنبھالے اور اوپر کراس کا نشان، صلیب نما۔ مقامی لوگوں کا ماننا ہے کہ یسوع مسیح نے اپنے کراس کا آئیڈیا یہاں سے لیا تھا۔ تاریخ اور مذہب کی لگن شاید اتفاقات کو بھی ارادے یہاں تک کہ سازش کا پیراہن اوڑھا دیتی ہے۔

بادشاہوں کی دنیا ہے، پیغمبروں کی دنیا ہے، خداؤں کی دنیا ہے، اسٹیبلشمنٹ کی دنیا ہے۔ ہم، آپ زمیں کا اور ان دنیا کے ٹھیکیداروں کا بوجھ اٹھانے کو بس، ازل سے ابد تک۔ ازل اور ابد بھی کتنی ریلیٹو باتیں۔ دارس ہوں، ساسانی یا مغل، ان کا ابد تو کب کا ہو چکا۔ آج کے ایران کا ازل انقلاب کے ساتھ ہوا۔ سوراخوں والی عظیم الشان قبروں کے سامنے کعبہ زرتشت۔ کچھ کہیں کعبہ نہیں صرف ہولی جگہ۔ کچھ کہیں کہ اندر آگ جلتی تھی، کچھ کا خیال کہ چونکہ یہ مکمل بند لہٰذا آگ نہیں ہو گی، ہولی بک رکھی ہو گی۔

کرتارپور کا دورہ یاد آ گیا جہاں گرنتھ صاحب کو آرام بھی کرایا جاتا تھا۔ ایک مکتب فکر یہ بھی کہتا ہے کہ زرتشی آگ کی پوجا نہیں کرتے تھے صرف اسے مقدس سمجھتے تھے۔ پوجتے وہ ان دیکھے خدا کو ہی تھے۔ ان دیکھے کی دہشت ہی شاید دیر تک محسود و مسحور رکھتی ہے۔ خدا کو شاید ہر دور میں اک گھر بھی درکار ہوتا ہے جو نہ وہ خود بناتا ہے، نہ اس کے فرشتے بلکہ اس کے ماننے والے بغیر مزدوری کے خود بناتے ہیں۔

جب گھر بن جاتا ہے تو آسمانوں والا ان دیکھا خدا وہاں رہنا شروع کر دیتا ہے اور اپنی زمینی رہائش کی قیمت لوگوں کی مرادیں پوری کر کے ادا کرتا ہے۔ نہ بھی کرے تو اسے مکان بنانے والے نوٹس نہیں دے سکتے کہ اب اس کا مالک خدا خود بن جاتا ہے۔ شاید وہ ایک ہی خدا ہے جو سینکڑوں سال ایک جگہ رہتا، جی اوب جاتا تو جگہ بدلنے کو اک قوم فنا ہوتی ہے اور اک جنم لیتی ہے۔ نئی جنمی قوم اک اور جگہ نئے سرے سے نئے ڈیزائن والا کعبہ بناتی اور خدا اس میں آ کر رہتا ہے۔ زرتشی کعبے کا ہمارے قبلہ سے سے مماثلت رکھنا اتفاقی یا وہی خدا کی سکیم۔

شاید یہی وجہ کہ عظیم الشان سلطنتیں جن کا فنا ہونا کاغذوں میں ممکن نہ تھا، فنا ہو گئیں۔ ہمارا مقدر بھی یہی۔ بس خدا کہ ہم سے اوب جانے تک۔ ہمیں اگر لگتا کہ ہم جدید تو وہ قومیں اس وقت ہم سے زیادہ جدید اور طاقتور تھیں۔ ہماری اگر خوش فہمی کہ ڈیجیٹل آلات، آرٹیفیشل ذہانت، اور صحتمند رہنے کے نسخے ہمیں دوام بخش دیں گے تو انتظار کریں خدا کے اوب جانے کا، ہمارے حصے کی قیامت آنے کا۔ ان تہذیبوں کو بھی ان کے حصے کی قیامت نے ہی کھایا اور مٹایا تھا۔ رستم جو فردوسی کا ہیرو تھا، ساسانیوں نے اس کی شبیہ مٹا کر اپنی بنانے کی کوشش کی کہ ہم سے بڑھ کر کون۔

وقت میرے ساسانیو، وقت۔ تاج کی تبدیلی کا نقش دیکھ کر ہاکی سٹیڈیم راولپنڈی میں چھڑی کی تبدیلی یاد آئی۔ ابھی ان بھائیوں کا وقت۔ واپسی پر اک تہرانی نوجوان سے صحبت رہی۔ کہنے لگا کہ وہ بائی پولر ہے اور اپنا غصہ آئس کریم سے ٹھیک رکھتا ہے۔ ہم سے تائید چاہی۔ ہم نے کہا بھائی آئس کریم تک ٹھیک، ہیش براؤنی نہ استعمال کر لینا اس مقصد کے لیے۔ واپسی پر ابوالکلام آزاد کے نام پہ چوک دیکھ کر گائیڈ کو ان کی کارگزاریوں کا بتایا، کاش محمد حسین آزاد کی ایران یاترا کی یاد میں ایک چوک اور ہوتا۔

حافظ کے ہاں جاتے ہوئے کیفیت یہ تھی کہ عظیم صوفی شاعر کے ہاں حاضری ہے جس نے ہمارے شاعروں اور زبان کو بن مانگے بہت کچھ دیا۔ سعدی کے ہاں پہنچتے ہی نجانے کیوں آنکھیں نم ہو گئیں اور لگا کہ کوئی بہت اپنا سو رہا یہاں۔ پھر عینی یاد آ گئیں جنہوں نے یہاں سعدی کو چچا کہہ کر مخاطب کیا تھا۔ آپ کر سکتی تھیں بھئی۔ ہمارا بچپن سعدی کے ساتھ ہی مکمل۔ گلستان، بوستان کے قصے، حکایات سعدی کی قاعدہ نما کتابیں۔ جھوٹے سچے سبق آموز قصے شیخ سعدی سے منسوب۔ وہی ایک مشرقی روح اور اس کی ضرورتیں پوری کرتے لوگ جو زندگی کا، لاشعور کا اٹوٹ اور پنہاں حصہ جس کو کھوج کر شاید ہم اپنی بے چینی کم کر سکتے۔

سات آرچز سعدی کے باہر، سات آسمان ظاہر کرتیں۔ مختصر مگر مسحورکن آرام گاہ۔ اک شاعر کے شایان شان جس کی رعایا لفظ تھے، لوگوں کا لاشعور تھا۔ شفاف پانی کے رنگ کا گنبد اور ارد گرد درخت اور سبزہ۔ لوکل اور فارن سیاحوں کا رش۔ مزار کے اندر گلستان بوستان کے حصے لکھے، اور باہر موسیقی چل رہی۔ صد شکر کہ ایران کی مذہبی گورنمنٹ نے ان شاعروں اور موسیقی کو لوگوں کی ذہن و دل سے خارج کر کے انہیں خود سے اور خدا سے جنگ میں مبتلا نہیں کیا۔

سنگ سیاہ، اندرون پرانے شہر کا نام جہاں سے ہو کر ابن سبوعیہ سے ملنا تھا۔ یہاں تک آنے کا عینی بی بی کا بھی کوئی ذکر نہیں ملتا۔ لاہور اور قرطبہ کی گلیوں کا امتزاج لگا۔ صاف ستھری پیٹرنڈ گلیاں، کچے پکے مکان، سب کے باہر مگر گاڑی موجود۔ وہی اندرون شہر کا سماں۔ ایک طرف ایک بوڑھی اماں نیم وحشی، ہر آتے جاتے پر آوازیں کستی تو اک طرف محلے کے بچے چھوٹی سی جگہ پر فیفا ورلڈ کپ کھیلتے۔ ابن سبعویہ نے میزبانی باران رحمت سے کی۔ ہلکی بارش، اندرون شہر کا پرفسوں ماحول۔ ابن سبعویہ کا مجسمہ، قبر اور گھر۔ ہم کم علموں کے لیے خدا کا انعام۔ قبر عوام الناس کی زیارت کے لیے بند تھی، خادم کو دو ہزار تومان دیے تو قبر بھی دیکھی اور گھر بھی۔

ابن سبوعیہ نے بغداد و بصرہ کے سفر بھی کیے اور عجمی ہو کر عربی گرامر پر کام کیا۔ حساب کے کچھ اصول بھی ان سے منسوب۔ علمی بحثوں اور علمی ترویج کا اہم نام سنگ سیاہ میں قدرے گمنامی کی نیند سو رہا۔ کچھ دیر کو اس پرانے اصل شیراز میں خود کو علم کا داعی سمجھا جو سفر کی کٹھنائیاں اٹھا کر ابن سبوعیہ سے صرف و نحو سیکھنے آیا ہے۔ کاش یہ زندگی اتنی مہلت و اجازت و توفیق دے۔

دوسرے ملکوں کے ہوائی اڈوں سے اندرون ملک پرواز لینا بھی پر مغز تجربہ ہوتا ہے۔ شیراز کا ہوائی اڈہ بہت بڑا نہ سہی مسافر دوست ضرور تھا۔ گئے دنوں میں جب مولانا آزاد آئے تھے، اونٹوں، گھوڑوں، بحری جہازوں کی اکانومی کلاسوں میں تو کتنا مشکل کام تھا، خیر آج 2023 میں چھ فٹ قد کے ساتھ جہاز کی اکانومی کلاس میں سفر کرنا بھی آسان نہیں۔

مشہد ٹیکسی ڈرائیور انگریزی سے نا آشنا تھا مگر ہمارے بیٹھتے ہی فارسی کم ہندی میں لہک لہک کر یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے گانے لگا۔ مولانا آزاد جب ایران آئے تھے تو سب سے لمبا قیام مشہد کیا تھا۔ میزبان بھی خوب امیر اور مہمان نواز تھے ان کے، سو لمبا قیام بنتا تھا۔ ہمارے ساتھ تو پاکستانیوں نے ہوٹل کے سٹینڈرڈ میں گڑبڑ کی تھی سو اس معاملے کو نپٹاتے رہے، کچھ دیر پہلے نیند سے۔

صبح امام رضا کے حرم میں حاضری تھی۔ شیعہ روحانیت کا سلسلہ ہوتا تو ہم یہی مانتے کہ دراصل امام رضا کا بلاوا ہمیں یہاں لایا ہے۔ روحانی سلسلہ جو بھی ہو ہم اس کو سچ مانے لیتے ہیں کہ خطے کہ سب سے برگزیدہ اور ہردلعزیز شخص کا مہمان بننے میں کوئی مضائقہ نہ تھا۔ ایکڑوں پر پھیلا حرم مطہر، لوگوں کو روحانی کنکشن دیتا ہوا۔ اک رابطہ بناتا ہوا کمزوریوں اور طاقتوں کا۔ اسلامی جمہوری صحن، صحن غدیر، صحن رضاوی، صحن انقلاب اور نجانے کتنے صحن۔ اندر ہی دو میوزیم بھی۔ ایک قرآن کے نسخے لیے اور اک حرم کا ارتقا دکھاتے ہوئے۔

باب شفا سے مختلف قصے ماضی قریب اور ماضی بعید کے۔ اب بقول عینی بی بی میٹا فزکس کو فزکس کی آنکھ سے دیکھنا عبث کام ہے۔ گوہر شاد مسجد سے گزر کر امام رضا کے پاس پہنچے۔ گوہر شاد مسجد میں شیشے کا کام ایسا کہ الفاظ ان شیشوں سے منعکس نور کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے۔ شاید تصاویر بھی نہیں۔

اس کے لیے آپ کو بنفس نفیس جانا پڑے گا حرم مطہر میں۔ سبز فانوس کے نیچے شیشوں میں گھرے، چاندی کی گرلوں کے اندر اسٹیبلشمنٹ کی سازشوں کی نذر ہو کر امر ہو چکے ہوئے امام رضا۔ اسٹبلشمنٹ کا آسمانی استعارہ شاید وہ شیطان ہے جس نے آدم کو جنت سے نکلوایا، پھر اس کے بیٹوں کو لڑوایا۔ پھر اپنے دنیاوی چیلوں سے اس دنیا میں اسٹبلشمنٹ کی داغ بیل ڈالی۔ اسی اسٹیبلشمنٹ نے پیغمبر دریا میں بہائے، آگ میں جلوائے، سولی پر چڑھوائے۔ قصہ تھما نہیں۔ اہل بیت کی نسلیں اسی اسٹبلشمنٹ کی انسیکیورٹی کی بھینٹ چڑھ گئیں۔ امام رضا کو مامون نے خود بلوایا، حکومتی عہدہ دیا، مگر انجام زہرآلود۔ طوس مشہد بن گیا۔ تاریخ کڑوی کرنے والے ہم میں سے ہی ہوتے ہیں۔ امام کو مار کر اہل بیت کو سسٹم سے آؤٹ کرنے کا خواب ادھورا ہی رہا۔ حرم مطہر خود پورا سسٹم بن چکا ہے۔ اپنا سٹاف، اپنی ٹیم، اپنا فنڈ۔ لوگوں کی مرادوں کو مربوط طریقے سے اوپر پہنچایا جاتا ہے۔ خادم ایسے نفیس اور شائستہ کہ ہمارے خادم اور خادم اعلیٰ کو ان کے ساتھ انٹرن شپ کروانی بنتی۔ امام کا دسترخوان بھی اک معجزاتی شے۔

وہ معجزہ جو امام کے خادموں نے برپا کر رکھا۔ ایپ کے ذریعے ایپلائی کریں۔ شام تک آپ کے نام کا قرعہ نکلے گا۔ وہ دکھائیں اور پاسپورٹ دکھائیں اور امام کے مہمان بنیں۔ سال میں ایک ہی دفعہ آپ یہ سعادت حاصل کر سکتے مگر ہمارے بہت سے بھائی جگاڑ کر کے ہر دوسرے ہفتے یہ کر رہے ہوتے۔ اپنی باری پر ہم دسترخوان والی جگہ پر داخل ہوئے تو گمان کسی لنگر نما ماحول کا تھا جہاں قطار میں کھانے کا پیکٹ مل رہا ہو گا۔ مگر یہ تو دنیا ہی اور تھی۔ ٹاپ کلاس ریسٹورنٹ والا ماحول تھا۔ مناسب فاصلے سے کرسیاں اور میز لگے ہوئے۔ ہر میز پر منرل واٹر کی بوتل۔ فینسی ٹرے میں چاول، مرغ اور سلاد۔ روٹی اور دہی ڈبہ بند۔ ساتھ ہی پیک کرنے کے لیے ڈبہ۔ مسکرا کر امام کے مہمان کو خوش آمدید کہتے اور اس کی خدمت کرتے سوٹڈ بوٹڈ خادم۔ کوئی خواب کا سا ماحول۔

ایک شام نادر شاہ کے نام کی۔ نادر شاہ اک اور مطلق العنان مخلوق۔ ایسی مختلف ہستیوں کو نجانے کیوں انسان کہنا عجیب لگتا، انسان تو ہم جیسے عام لوگ ہوتے۔ ان کی مٹی تو خدا کے ہاں فرق ہوتی اور کبھی کبھی ہی گندھ کے کسی مخلوق میں ڈھلتی۔ بخدا نادر شاہ کا ذکر منفی انداز میں نہیں ہو رہا۔ مولانا آزاد صاحب نے بھی یہاں آ کر ہرگز غلط نہ سوچا تھا۔ ہمیں بھی بالکل فرق نہیں پڑتا کہ اس نے خوفناک حملوں سے ہمارے خطے میں لہو کی مہک رچا کر ہمیں زیر دام کر لیا تھا۔ مغل کون سا اس مٹی کے بیٹے تھے یا احمد شاہ کون سا سرزمیں ہند کی کوکھ سے پھوٹا تھا بلکہ پاک سرزمیں سے۔ مقبرے کی عمارت بالکل بھی ایرانی طرز کی نہیں تھی۔ سلیٹی رنگ کے بڑے بڑے بلاک رکھ کے اندر ایک جنگجو کو بند کر ڈالا ہے۔ ہاں ساتھ جنگوں اور اسلحے کا میوزیم بنا دیا کہ شاہ صاحب تسلی سے سوئے رہیں۔ باہر سب کے دل کی تسلی کو سیاہ رنگ کے گھوڑے پر نادر شاہ کا فاتح پوز بھی نصب۔ سیاست، بادشاہت، فتح، شکست کتنی ریلیٹو باتیں۔ ہمسایوں کو روند ڈالا، کمر توڑ ڈالی پورے خطے کی اور آج قبر کھودو تو ہڈیاں سرمہ ڈالنے کو بھی نہ ملیں۔ رات کو حرم امام رضا کی چھب ہی نرالی تھی۔ حرم کا سنہری گنبد روشنیوں میں نہایا ہوا، اہل بیت جانے کے بعد بھی روشن و معطر۔ کیوں نہ ہوں، آخری نبی کی لڑی کوئی عام لڑی تو نہی۔ عید کا دن تھا سو مختلف رنگوں کے قمقمے میناروں اور زائرین کے چہروں کو مزید پر نور بنائے دے رہے تھے۔ نماز کے بعد امام کا جھولی بھر بھر کے سرعام امریکہ، یوکے اور اسرائیل کو بددعائیں دینا اور نعرے لگوانا بڑا غیر متوقع مگر دلچسپ عمل تھا۔

اگلے روز نیشاپور روانگی تھی۔ راستے میں دور سے ایرانی ٹرین بھی دیکھا کی۔ پہلا پڑاؤ قدم گاہ امام رضا پر تھا۔ امام نے مدینہ سے آتے ہوئے یہاں قیام کیا اور اس پتھر پر کھڑے ہو کر خطاب بھی کیا۔ لوگوں کے پانی نہ ہونے کی شکایت پر دعا کی اور چشمہ جاری ہو گیا۔ پتھروں اور پانیوں کا نصیب بھی انسان سا ہی ہوتا۔ بہت سارے عام جگہ پڑے رہ کر یا بہہ کر گمنام رہتے مگر کچھ کی نسبت اتنی خاص ہو جاتی یا کردی جاتی کہ وہ پارس تصور کیے جانے لگتے۔ وہی پتھر جو دیوانوں کو مارنے کے کام آتا ہے کسی فرزانے کو چھو جائے تو نسلیں اس کی پوجا کرتیں یا معتبر جان کر زیارت ضرور کرتیں۔ ان عناصر کی کونوٹیشن ہی مختلف ٹھہر جاتی۔ یہاں چشمے اور قدموں پر ایسا ہی سماں تھا۔ ایک اور اچھی بات ایرانیوں کی جو پہلے بھی بیان ہوئی کہ یہ مقدس مقامات پر پکنک منانے کو کفر یا قریب الکفر حرکت نہیں گردانتے اور چھٹی والے دن چادر، چولہے اور بچے لے کر پکنک منانے پہنچ جاتے۔ قدم گاہ کہ ساتھ مدتوں پرانے انتہائی بنیادی مسافر خانے بھی انہی پکنک منانے والوں نے آباد کر رکھے ہیں جو کسی عقلمند نے صدیوں پہلے مسافروں اور زائرین کی سہولت کے لیے بنوائے تھے۔ اس مبارک جگہ سے شہد اور فیروزے لیے اور نیشاپور میں سوئے اہل علم و فن کو سلام کرنے چل دیے۔

عطار نیشا پوری اور مصور کمال الملک کی آرامگاہ ایک ہی احاطے میں ہے۔ منطق اطیر کے خالق، صوفی منش شاعر اور طبیب۔ گئے دنوں میں سائنس اور آرٹس ہاتھ میں ہاتھ ڈالے چلتی تھیں۔ شاعروں کا طبیب، فزٹسٹ، ریاضی دان، ماہر فلکیات یا انجینئر وغیرہ ہونا اچنبھے کی بات نہ ہوتی تھی۔ ایک عظیم دماغ کے لیے وسیع میدان ہوتا تھا اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے۔ معاشرہ اسے سائنس یا آرٹس کے خانے میں بند کر کے حد بندیاں نہیں کرتا تھا۔ کمال الملک کو زندگی میں تو قاچاروں کی آخری لڑی نے ایران میں تنگ ہی رکھا۔ یہ الگ بات کہ انہوں نے یورپ یا عراق جاکر اپنے فن کو اور نکھارا ہی۔ ایران کو اپنا پہلا عشق رکھا اور عطار نیشا پوری کے پہلو میں تا ابد نیند کا لبادہ اوڑھ لیا۔ مزار کی محراب در محراب اور اندر نیلا ایرانی آرٹ۔ کمال الملک کے فن کی طرح الگ اور مکمل۔ احاطے کہ ارد گرد کھڑے پہاڑ ماحول کو ایک اور ہی رنگ دیے ہوئے ہیں۔ صدیوں سے ایستادہ، ہر موسم میں، ہر ماحول میں، ہر دور حکومت میں بس خاموش تماشائی۔ عطار نیشا پوری کو منطق الطیر لکھتے بھی دیکھا، کمال الملک کو مصوری کے شاہکار تخلیق کرتے بھی۔ عمر خیام کے ساغر و مینا کی قصے بھی سنے اور امام غزالی کے دین کے مسئلے بھی۔ ان کو کھود کر صدیوں پرانے پتھر یا نقش تو نکالے جا سکتے مگر کاش کوئی آرکیالوجسٹ ان تخلیقی لمحوں کو بھی کھوج کے نکال سکتا ان کے اندر سے جن کے یہ پہاڑ عینی شاہد۔ کیا شہر ہے نیشاپور بھی، لاہور اور لندن اور سینٹ پیٹرس برگ کی طرح بڑا نہیں مگر کیا کیا گنج گراں مایہ ہوئے یہاں۔ اپنے وقت سے بہت پہلے عمر خیام بھی یہیں گزرے۔ شاید بعد میں بھی پیدا ہوتے تو بھی وقت سے پہلے ہی ہوتے۔ ان بڑے لوگوں کے دماغوں میں شاید کوئی آگے کا وقت دیکھنے والا ٹیلیسکوپ نصب ہوتا ہے اور یہ اسی کو استعمال میں رکھ کے خود بھی تنگ رہتے ہیں اور اپنے وقت کی اسٹیبلشمنٹ کو بھی رکھتے ہیں۔ مگر آنے والی نسلوں کے لیے خزانے چھوڑ جاتے۔ عمر خیام کے ہاں جو ہیئر اینڈ ناؤ (ابھی اور یہاں ) کا فلسفہ ہے، صدیوں بعد ہمارے بہت سے مریضوں کے علاج کی بنیاد ٹھہرتا ہے۔ ایک دوسرے سے گلے ملتے ستون اوپر مختصر سے گنبد میں ضم ہو جاتے ہیں۔ ہلکے نیلے رنگ کا کام ساتھ ساتھ ماحول کو بوجھل ہونے سے بچاتا ہے۔ یہاں پھر مولانا آزاد اپنا کتب اکٹھی کرنے اور فارسی دسترس میں اضافہ کرنے والے دورے کے ساتھ یاد آ گئے۔ کیسے وہ قبروں کے کتبوں کی نقل کرتے رہے تھے اور اب ایک کلک بہت سب کچھ محفوظ کرنے کو۔ ہوا نے جسم کو چھوا تو ماضی کا دھندلکا چھٹا۔ ”ابھی اور یہاں“ ، عمر خیام ان لمحوں کو بھی جی رہے ہوں گے اپنے فلسفے کے عین مطابق۔ کیا شاعر ویسے عمر خیام صاحب بھی۔ بہت سے شاعروں کا کلام اور نفسیات کی بیشتر تھراپیز کے اصول لگتا ان کے کلام سے پھوٹتے۔ سرزمین ایران کی خوش نصیبی کہ ایسا شاعر یہاں جنما۔

عمر خیام سے نکلے تو اگلا پڑاؤ طوس تھا۔ ایران آئیں اور فردوسی کے ہاں حاضری نہ دیں، جچتا نہیں۔ رستم و سہراب کے قصے تو ہماری گھٹی میں پڑے ہوئے۔ ناننیاں دادیاں ایران کے پاس سے بھی نہیں گزری ہوں گی، مگر انتظار صاحب کی نانی کی طرح اس خطے کی نانیوں کا اجتماعی لاشعور شاید ہندو دیو مالاؤں سے لے کر فارسی لوک داستانوں تک سب لیے ہوئے ہے۔ طوس کے شہر میں سب سے نمایاں مقام فردوسی کی آرامگاہ ہے۔ سب شاعروں اور بادشاہوں اور مذہبی پیشواؤں کے مزاروں سے مختلف۔ ایرانی روایتی آرٹ سے مختلف۔ فردوسی کے شایان شان۔ سفید، دودھیا عظیم الشان عمارت اور سامنے لمبا تالاب۔ فردوسی کے کلام کی تاثیر تو اپنے گھر بیٹھ کر محسوس کی جا سکتی مگر آخری آرامگاہ کی عظمت کو جذب کنے کے لیے طوس آنا ضروری۔ شاہنامے کا خالق شاہوں کی طرح سویا ہوا۔ بیسمنٹ میں قبر اور ارد گرد شاہنامے کے کرداروں کے نقش۔ ہم خود کو کبھی رستم سمجھا کیے تو کبھی افراسیاب۔ یہ ایران کے دورے کی آخری سائٹ تھی۔ اور شاید سب سے دلکش۔ اٹھنے کو دل نہ کرتا تھا۔ فردوسی کا کردار بن کر کاش یہیں امر ہو جاتے۔ واپسی پر ہارونیا بریک لگائی۔ کچھ کہیں ہارون الرشید کی سرائے تھی کوئی کہیں جیل تھی۔ باجو میں قبر، کچھ کہیں امام غزالی کی۔ تھکن اور مبہم تاریخ نے زیادہ دیر رکنے نہ دیا۔

فارس اور خراسان کی سیر نے ختم تو ہونا تھا، مسافروں نے لوٹ کر سرزمین پاک پر جانا تھا۔ مگر یہ 10 دن جیسے بہت سے کانسیپٹ کلیئر کر گئے۔ شیعہ سنی حقیقت، ایران کی قدامت پسندی، ایران پر پابندیاں، اصفہان و شیراز میں بہت کچھ اپنا سا تھا۔ کسی نے ائرپورٹ پر اترتے ہی ہمیں زنجیر نہ پکڑائی تھی۔ کسی نے ہمارے انگریزی لباس اور سفر میں روزہ نہ رکھنے کو ایشو نہ بنایا تھا۔ کوئی بے امنی اور رجواڑے کی سی کیفیت نظر نہ آئی تھی۔

یوں لگتا تھا کہ ہم پہلے بھی ملے تھے، آشنائی زبان میں ہی نہیں بیان میں بھی تھی۔ نماز پڑھنے کا مختلف طریقہ یا مختلف مذہبی شخصیتوں سے خاص عقیدت؛ مذہب، زبان، ہمسائیگی اور سب سے بڑھ کر انسانیت کو ہضم نہیں کر سکتی۔ فطرت اور فطری رویوں کو معاشرے کے ٹھیکیدار بہت عرصے تک روک نہ پائیں گے اور پھر ہم دیکھیں گے کہ انسانیت اور انسان دوستی سرحدوں کے منفی رول اور تقسیم کو نگل لے گی، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے۔

Facebook Comments HS