اقلیتوں کے حقوق اور سپریم کورٹ کے احکامات


2013 میں آل سینٹ چرچ میں ہونے والے خود کش دھماکے کے نتیجے میں 81 لوگوں کی ہلاکت اور سینکڑوں زخمیوں کے واقعہ پر چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے آئین پاکستان کے آرٹیکل ( 3 ) 184 کے تحت سو موٹو نوٹس لیا اور کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اسی کارروائی کے دوران معزز سپریم کورٹ نے اقلیتوں کے حقوق پر عملدرآمد کی زیر سماعت دیگر نو درخواستوں کو بھی اسی کارروائی میں یکجا کر کے سو موٹو کیس کا حصہ بنا دیا۔

ایک سال 40 پیشیوں کے نتیجے میں 19 جون 2014 کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے معزز ججز نے چیف جسٹس پاکستان تصدق حسین جیلانی کی سربراہی میں ایک تاریخی فیصلہ دیا (ایس ایم سی 01۔ 2014 ) ، جس میں جامع انداز میں اہم امور کو واضح کرتے ہوئے لکھا کہ آئین پاکستان کے مطابق مذہبی آزادی کو یقینی بنانے کے ادارہ جاتی عملی اقدام کئے جائیں تاکہ اقلیتوں کے حقوق کا دفاع کیا جائے۔

2015 سے ادارہ برائے سماجی انصاف دیگر سول سوسائٹی کی تنظیموں کے ساتھ بطور فریق عدالتی احکامات پر عملدرآمد کی کارروائی کا حصہ اور عدالتی کارروائی کی سالانہ بنیادوں پر جائزہ پیش کر رہا ہے۔ اس ضمن میں ادارہ برائے سماجی انصاف نے عدالتی احکامات پر عمل درآمد کے لئے عدالتی کارروائی کی موثر عملدرآمد کے جائزے کی 4 رپورٹس 2016، 2019، 2021 اور 2022 شائع کی ہیں۔ 2019 سے ادارہ برائے سماجی انصاف عدالت کے قائم کردہ ون مین کمیشن کی معاونت بھی کر رہی ہے۔ ادارہ برائے سماجی انصاف کی اشاعت ہذا سال جون 2022 سے جون 2023 تک عدالتی کارروائی کے جائزہ فراہم کرتی ہے۔

2۔ عدالتی احکامات:

اقلیتوں کے حقوق کی فراہمی کی بابت سپریم کورٹ احکامات بنیادی طور پر آٹھ احکامات پر مشتمل تھے۔
مذہبی رواداری کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے ٹاسک فورس کی تشکیل، ) i
تعلیمی اداروں میں مذہبی اور سماجی رواداری کو فروغ دینے کے لیے نصاب کی تیاری، ) ii
سوشل میڈیا میں نفرت انگیز تقاریر کی حوصلہ شکنی اور مجرموں کی قرار واقعی سزا کو یقینی بنانا، ) iii
اقلیتوں کے حقوق کے لیے قومی کونسل کا قیام، ) iv
عبادت گاہوں کی حفاظت کے لیے ایک خصوصی پولیس فورس کی تشکیل، ) v
اقلیتوں کے لیے مختص جاب کوٹہ سے متعلق پالیسی پر عملدرآمد، ) vi

قانون نافذ کرنے والے ادارے اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری فوجداری کارروائی یقینی بنائیں، اور، ) vii

فیصلے پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے علیحدہ بنچ کا قیام۔ ) viii

جون 2023 تک عملدرآمد کے اہم حقائق:

یہ تحریر 30 جون 2022 اور 19 جون 2023 کے درمیان سپریم کورٹ کے بینچ کی طرف سے کی گئی سماعتوں کے نتائج/حقائق بیان کرتی ہے۔ اس میں عدالت/بنچ کی طرف سے جاری کردہ بنیادی اور ضمنی احکامات کی تعمیل کی تعداد اور معیار کا احاطہ کیا گیا ہے۔

2014 جون میں عدالتی حکم کے بعد سے، عمل درآمد کروانے والے بنچ نے گزشتہ سالوں میں کل 32 سماعتیں کیں جو اوسطاً تقریباً چار سماعتیں سالانہ بنتی ہیں۔ تاہم، قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ معزز سپریم کورٹ دسمبر 2015 سے جون 2018 ( 30 ماہ) تک عمل درآمدی بینچ تشکیل دینے میں ناکام رہی، جس بنا پر اوسطاً ہر سال تقریباً پانچ سماعتیں بنتی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کی حیثیت سے چیف جسٹس ناصر الملک نے اپنے نسبتاً مختصر دور کے دوران سات سماعتیں کیں۔ جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس گلزار احمد بطور چیف جسٹس متعدد سماعتوں کا حصہ رہے۔ جبکہ جسٹس اعجاز الاحسن تقریباً تمام بنچوں پر کام کر چکے ہیں، اور ان میں سے کئی سماعتوں کی سربراہی کے ساتھ ساتھ 2014 کا فیصلہ بھی سنا چکے ہیں۔

2014 کے بعد سے، سات سماعتیں ملتوی/ڈی لسٹ کی گئیں، جن میں 2018 میں 2، 2020 میں 4 اور 2023 میں 1 شامل ہیں۔

یکم جولائی 2022 سے 19 جون 2023 تک تقریباً 12 ماہ کے عرصے کے دوران، سپریم کورٹ کے بینچ نے چار سماعتیں کیں اور وفاقی اور صوبائی حکومتوں بشمول جی بی (گلگت بلتستان) کو کل نو ہدایات جاری کیں۔ ان ہدایات میں سے صرف ایک ہی اہمیت کی حامل تھی، جس میں معزز عدالت نے تیرہ مندر پر حملے کے مجرموں کو دی گئی سزاؤں کو واپس لینے کا حکم دیا، اور باقی آٹھ میں مقدمہ جاتی کارروائی کو آگے بڑھایا گیا۔ مثال کے طور پر، احکامات کی تعمیل کی رپورٹ کرنا، یکساں قومی نصاب آئین کے آرٹیکل 22 ( 1 ) کی پاسداری کرتا ہے، نیز اقلیتی جائیدادوں کے بارے میں پوچھ گچھ کا جائزہ لیا گیا۔

ون مین کمیشن نے گزشتہ سال کے دوران سپریم کورٹ میں چار رپورٹیں پیش کیں، جس سے 2019 میں اس کے قیام سے لے کر اب تک پیش کی جانے والی رپورٹوں کی کل تعداد 14 ہو گئی۔ یہ رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ون مین کمیشن نے سخت محنت کی اقلیتوں کے اداروں کے واجبات کے روپے اور متروکہ ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ کے تحت ہزاروں ایکڑ زمین لاکھوں کی رقم کی واپسی میں اہم کردار ادا کیا۔ مزید اقلیتوں کے لیے ملازمت کے کوٹہ کا نفاذ، اقلیتوں کی عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے پولیس یونٹس کا قیام اور مذہبی امتیاز کے مختلف مظاہر کو روکنے میں کام کیا۔ اس کے علاوہ سرکاری محکموں میں 5 فیصد اقلیتی کوٹے کے تحت مختلف گریڈوں کی ٹوٹل 30866 خالی آسامیاں جس کی تفصیل وفاقی حکومت (3،943)، پنجاب ( 18،914) ، سندھ ( 3،165 ) ، کے پی ( 3،670) ، بلوچستان (827) اور جی بی (347) کی نشاندہی کی۔

مذکورہ بالا پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ معزز سپریم کورٹ کے بنیادی آٹھ میں سے سات احکامات کے حوالے سے کسی بھی حکم کی مکمل تعمیل نہیں کی گئی۔ تاہم، مشترکہ درخواستوں سمیت مجموعی کارروائیوں پر غور کرتے ہوئے، تعمیل کی مجموعی شرح گزشتہ 9 سال میں 24.71 فیصد ہے اور اسی رفتار کے ساتھ احکامات کو یقینی بنانے کے لئے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو مزید 27 سال لگیں گے۔

Facebook Comments HS