آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح: سیر بخارا

مٹی لپے ہوٹل سے نکلے تو صبح کا پہلا پڑاؤ لب حوض سکوائر تھا جہاں اک صدیوں پرانا تالاب تھا جس میں نہر کے ذریعے زرفشاں دریا سے پانی آتا تھا اور لوگ اپنے مشکیزے بھرا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ یہاں صدیوں پہلے آتش پرستوں کا مندر تھا۔ چنگیز خان آیا اور مندر ڈھایا پھر تیمور نے شہر تباہ کیا اور رہی سہی کسر 1920 میں روسیوں کی بمباری نے پوری کردی مگر کچھ بخارا ڈھیٹ ہے اور کچھ

Read more

دوزخ نامہ: ناول، ٹائم مشین یا ادھڑی پھٹی دھرتی کا نوحہ

کیا تقسیم کے بعد برصغیر دوزخ بن گیا تھا؟ کیا 47 کی تقسیم 90 سال پہلے کے غدر کی ایکسٹنشن تھی؟ فتح تو کمپنی بہادر کی تھی ہی ہاں ہندو مسلم پھوٹ سے مزید آسان ہو گئی تھی۔ تقسیم کی اس کہانی کو کئی زاویوں سے فن میں مختلف اصناف میں پرکھا گیا ہے۔ عینی بی بی ہوں، انتظار حسین ہوں یا پھر نسیم حجازی۔ لکھنے والے اس واقعے کو عبرت بھی بنایا کیے ، اس سے سوال بھی اٹھایا

Read more

ایس ڈی برمن اور شمشاد بیگم: کومیلا اور لاہور کیوں اتنے دور ہو گئے؟

  بنگالی جادوگر بابا کی دھن کو دوام بخشتی پنجابی مٹیار کی الہڑ آواز۔ سیاں دل میں آنا رے، آ کے پھر نہ جانا رے۔ موسیقار اور گلوکار کو ایسا ایک گانا بھی نصیب ہو جائے تو سمجھو دونوں گنگا نہا لیے۔ یہاں دھن اور گائیکی کا تکنیکی پوسٹ مارٹم ہر گز مقصد نہیں ہے۔ مقصد اس دوام کو کھنگالنا ہے جو اس اور اس دور کے کئی دوسرے گانوں کو حاصل ہے جس کے پیچھے رنگ و نسل سے

Read more

2اپنے پرائے کی جستجو: نیپال کی سیر۔

  کماری کا گھر دیکھنے پہنچے۔ کماری کون ہوتی ہے نیپالی کلچر میں؟ دلچسپ مگر تکلیف دہ قصہ ہے۔ صدیوں پہلے بادشاہوں، خداؤں اور دیویوں کے جھگڑے کے نتیجے میں کئی نسلوں تک لڑکیاں خدائی راستے میں قربان ہوتی رہی ہیں۔ ہم یہاں بچوں کی ذہنی صحت کی کانفرنس میں مدعو تھے اور پوری دنیا سے لوگ بچوں کی ذہنی صحت پر دو روز مقالے پڑھتے رہے تھے۔ کسی نے مگر بغل میں ہوتی اس رسم کا نہ سوچا جو

Read more

1 :اپنے پرائے کی جستجو: نیپال کی سیر

سرحدوں کی اپنی سائنس ہوتی ہے۔ سائنس ہوتی ہے یا پھر ان دیکھے خدا کے نمائندے ان کو ہر کچھ سال بعد گڈمڈ کر کے اپنے بنائے ہوئے انسانوں کو بے چین رکھتے ہیں۔ مغرب والوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور یورپ دونوں میں سرحدوں کے روایتی تصور کو قریباً مٹا ہی دیا گیا ہے۔ ہاں مشرق پر جبر اور سرحدوں کے ردو بدل کی پالیسی پر مغرب اور ہمارے ہاں کے سامراجی خدا شاید اب بھی ایک صفحے

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ (3)

ایک اور بے حد نازک معاملہ جس کا ڈائریکٹ تعلق تو اب ذہنی صحت سے نہیں رہا کیونکہ اسی کی دہائی کے بعد اسے بیماریوں کی فہرست سے خارج کر دیا گیا تھا وہ ہے جنسی میلان کا۔ چالیس کی دہائی میں اس کو زیر بحث لانے پر عصمت چغتائی کے قلم کو تو لوگ داد دیتے ہیں مگر سینکڑوں سال پہلے اردو شاعری اور دیگر فنون لطیفہ میں اس کے اظہار کو بھول جاتے ہیں۔ مغرب والوں نے تو

Read more

نظر آئے اک شکل مہتاب میں : میر کا خلل دماغ۔ 2

اب آتے ہیں انزائٹی پر۔ بے چینی کہیں تو بیماری کا گماں گزرے۔ اضطراب کہیں تو تخلیقی عمل سے نسبت محسوس ہو۔ جینیاتی عوامل کے بعد بے چینی کے محرکات میں بچپن کی اٹیچمنٹس اور کچھ چیزوں سے خوف کا منسلک ہونا ہے۔ پھر یہ بے چینی دوروں کی صورت میں کبھی کبھار کسی خاص چیز کا سامنا کر کے آئے یا بغیر کسی وجہ کے آئے یا ہر وقت ہی اضطراب کا عالم طاری رہے۔ اس حالت میں دل

Read more

نظر آئی اک شکل مہتاب میں: میر کا خلل دماغ

ذہنی و نفسیاتی صحت، مکمل صحت کا اہم اور بڑا جزو ہونے کے باوجود سٹگما کا شکار ہے۔ وجہ، گرتی ہوئی نفسیاتی صحت کا غماز، انسانی رویے اور برتاؤ میں اتار چڑھاؤ کا ہونا ہے۔ سائیکارٹری کے شروع سے اینٹی۔ سائیکارٹری مہم کا سایہ بن کر ساتھ چلنا ایک دلچسپ بات ہے۔ ایک مکتبہ فکر کہتا ہے کہ سائیکارٹری ایک چھتری ہے، تمام ایسے انسانی رویوں کے لئے جو معمول سے ہٹ کے ہیں۔ انسانی رویوں کے کچھ ماہرین کا

Read more

جنریشن۔ زی اقدار سے عاری یا اقدار ڈھب بدل رہیں : فاصلے کم کیونکر ہوں گے

اک سائکاٹرسٹ کی اک شاعرہ سے گفتگو ڈاکٹر اسامہ بن زبیر اور زہرہ نگاہ ولایت سے آ کر جب میں نے وطن عزیز میں سائیکاٹری کی پریکٹس شروع کی تو بطور مریض نوجوان میرے پاس زیادہ آنے لگے۔ ڈی بی ٹی (برتاؤ کی تھراپی ( سروسز دینے کی وجہ سے بھی 14 سے 30 سال تک کے جذباتی خلفشار کا شکار لوگ میرے زیر علاج رہنے لگے۔ خود مجھے بھی لگتا تھا کہ اس عمر میں ذہنی صحت پر کام

Read more

کبھی ہم بھی خوبصورت تھے: اندرون راولپنڈی اور گنگا جمنی تہذیب

تہذیب، تمدن، ادب، گنگا جمنی ماحول اور ایسے کئی الفاظ کا تعلق لاہور، دلی اور لکھنؤ سے تو بارہا جوڑا گیا مگر راولپنڈی کو ہمیشہ ادیب اور تاریخ دان ایک چھاؤنی کے طور پر ہی پرکھتے رہے۔ کسی قرۃ العین حیدر نے صرافہ بازار کے شیعہ کلچر اور محرم کے مہینوں کی پرسوز چہل پہل میں مختلف مذاہب کی ہم آہنگی کا ذکر نہیں کیا۔ کوئی انتظار حسین بنی اور کرتار پورہ کے مندروں کو دیو مالائی رنگ نہ دے

Read more

لتا منگیشکر۔ حصہ دوم

لتا جی کے آخری دور کے گانوں میں سے ایک میں نے جان بوجھ کر یہاں کے لئے چھوڑا تھا۔ 2010، 82 واں سال لگ چکا سب اصول ساتھ، بڑھتی عمر ساتھ، سب تنازعات ساتھ مگر اچھی دھن، مختلف موضوع اور لتا جی کافی حد تک کلسٹر۔ سی شخصیت کی مالک ہوتے ہوئے بھی عصمت چغتائی جیسا کام کر گئیں۔ ہم جنس پرستی پر متنازع ترین فلموں میں شمار ہونے والی اس فلم کے ہیرو کے والدین نے اسے سرکاری

Read more

لتا منگیشکر ۔ حصہ اول

جہاں سے تم موڑ مڑ گئے تھے، وہ موڑ اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ یہ نوحہ نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ لتا منگیشکر کا اس جہاں کو چھوڑ جانا، اُس کی چتا کے شعلے، ان ستاروں کا آخری دیدار کے لئے آنا، ڈینائیل ہی شاید بہترین ڈیفنس ہے۔ یہ قصیدہ بھی نہیں۔ لتا منگیشکر کے گانے اور آواز کی تعریف میرے قلم کی دسترس سے باہر ہے۔ جاوید اختر جن کے گیتوں کو لتا جی امر کر گئیں، نسرین منی کبیر

Read more

ایران میں شناسا (4)

بڑے شعرا کے کلام کی جہتوں کی اچھی اپلیکیشن یہاں۔ حافظ کے کلام سے لوگوں کے نصیب کی فال نکالتے سرزمیں ایران والے۔ نارسیپولس میں مدفون بادشاہوں اور عام لوگوں کی فال اس وقت کے نجومیوں نے نکالی تھی کہ صدیوں بعد ایک ملین تومان کا ٹکٹ خرید کر دنیا ان کی ہڈیوں سے عبرت پکڑے گی۔ نارسی پولس، مردہ لوگوں کی جگہ۔ ہزاروں سال پرانا قبرستان بمعہ کعبۂ زرتشت۔ دارس عظیم بھی ہڈیوں کی صورت یہیں فکس پیاڑ کے

Read more

ایران میں شناسا (3)

سعدی و حافظ کے مسکن کو نہ دیکھا تو ایران میں کیا دیکھا، سو شیراز کی راہ لی۔ لاری اڈہ شہر سے باہر کوہ صفا کے دامن میں تھا۔ کوہ صفا پہ رات کو چوٹی تک ہری بتیوں سے روشن رکھا گیا تھا۔ اندھیروں کو روشن رکھنا، پابندیوں میں خود کو قائم رکھنا۔ ہونے اور رکھنے کا فرق ایرانی قوم نے سمجھ رکھا ہے شاید۔ ڈرائیور نے اڈے میں بس سروس والوں کے حوالے کیا کہ زبان نا آشنائی کسی

Read more

ایران میں شناسا (2)

اصفہان نصف جہان، داخل ہوتے ہی لاہور نما لگا، جیسے شاہد رے سے لاہور داخل ہو رہے ہیں۔ مڈل کلاس سے علاقے اور مارکیٹوں سے ہوتے ہوئے اندرون شہر پہنچے اور پھر اندرون در اندرون کہ ہوٹل پرانے شہر کی تنگ گلیوں میں تھا جہاں گاڑی لانا شیریں کو رجھانے جیسا ہی تھا۔ ’عتیق ہوٹل‘ میں داخل ہوتے ہی یوں لگا جیسے پرانے ایران میں لوٹ آئے ہوں۔ شاید کسی پرانی سرائے کا پرانا پن برقرار رکھتے ہوئے جدید ہوٹل

Read more

ایران میں شناسا-1

انسان کے ماں باپ کی طرح اس کی پیدائش کی سرزمین بھی اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتی۔ ہاں زندگی کے میلے میں کس سٹیج پر رقصاں ہونا ہے، اس کی چوائس کئی مرتبہ تقدیر ضرور انسان کے ہاتھ میں دیتی ہے۔ میرے ہاتھ بھی تقدیر نے یہ موقع دیا۔ اپنی سرزمین چاہے ماں جیسی نہیں بھی تھی، میرا انتخاب ٹھہری۔ کپلنگ نے کہا تھا کہ مشرق اور مغرب کی روح ہی جدا ہے۔ شاید روح کی یہی فرکشن مجھے

Read more

سیر بنگال: مہرباں راتیں، بے مہر صبحوں کے بعد

80 اور 90 کی دہائی گلے ملنے والی تھیں کہ اس دنیا میں مجھے پہلا سانس نصیب ہوا۔ جہاں تک یاد پڑتا ہے، وہاں بھی جنت اور دوزخ کی تقسیم تھی۔ تقسیم کا یہ کیڑا شاید انسان وہاں سے ہی ساتھ لایا ہے۔ پیدائش کے وقت مجھے معلوم نہ تھا کہ آگے چل کے میری پیدائش کا خطہ مجھ سے اٹوٹ رشتہ قائم کر لے گا، شاید سب سے ہی کرتا ہو گا۔ مجھے اس وقت معلوم نہ تھا کہ

Read more