آیا تھا چند روز کو مہمان کی طرح: سیر بخارا
مٹی لپے ہوٹل سے نکلے تو صبح کا پہلا پڑاؤ لب حوض سکوائر تھا جہاں اک صدیوں پرانا تالاب تھا جس میں نہر کے ذریعے زرفشاں دریا سے پانی آتا تھا اور لوگ اپنے مشکیزے بھرا کرتے تھے۔ روایت ہے کہ یہاں صدیوں پہلے آتش پرستوں کا مندر تھا۔ چنگیز خان آیا اور مندر ڈھایا پھر تیمور نے شہر تباہ کیا اور رہی سہی کسر 1920 میں روسیوں کی بمباری نے پوری کردی مگر کچھ بخارا ڈھیٹ ہے اور کچھ
Read more

